Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

لاک ڈاؤن کی حالت میں مسجد کو بالکل بند نہ کریں اور پڑوس اور محلہ میں کوئی غریب بھوکا نہ سوئے: مولانا ارشد مدنی

Published

on

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے ملک کے تمام شہریوں سے یہ اپیل کی کہ اس وبائی بیماری سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، مساجد کو بالکل بند نہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پڑوس اور محلہ میں کوئی غریب بھوکا نہ سوئے۔ یہ اپیل انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”کورونا وائرس“جیسی بیماری نے اس طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ وہ اس کے سامنے بالکل بے بس نظر آتی ہے اس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ انسان اپنی تمام تر علمی اور سائنسی ترقی کے باوجود اس عظیم طاقت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا جو ہر شے کی خالق ہے۔انہوں نے اسی کے ساتھ ہی ملک کے تمام شہریوں سے یہ اپیل کی کہ اس وبائی بیماری سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اور اس کو لیکر عالمی تنظیم برائے صحت (WHO) اور مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جو ہدایات جاری ہوئی ہیں ان پر نہ صرف خود عمل کریں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی تحریک دیں۔
مولانا مدنی نے مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ کورونا وائرس کو لیکر جن مقامات پر لاک ڈاؤن کیاگیا ہے اور بھیڑبھاڑ وغیرہ سے سختی سے منع کیا ہے ایسے مقامات پر ذمہ داران مساجد کو چاہئے کہ باجماعت نمازکے لئے ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے قانون کی پاسداری اور وزارتِ صحت کی گائڈ لائنس پر عمل ہوسکے اور مساجد بھی آباد رہیں اس کے لئے بہتر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جن مقامات پر لاک ڈاؤن یعنی بھیڑبھاڑ سے منع کیا جارہا ہے وہاں امام وموذن اور خادم مسجد میں پانچوں وقت اذان کے ساتھ نماز باجماعت ادا کریں لیکن دیگر اہل محلہ اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کریں، جہاں ایسی صورت حال نہیں ہے وہاں نماز باجماعت ادا کریں، صاف ستھرائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے ڈاکڑوں کی گائڈ لائنس اور احتیاطی تدابیر کا پورا خیال رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے پوری دنیا خاص طور سے ہمارے ملک میں خوف اور ڈر کی جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کی وجہ سے کاروبار اور دوسری سرگرمیاں بھی تقریباً بند ہوچکی ہیں ایسے میں ان غریب اور محروم طبقات کے سامنے زندگی اور موت کا سوال کھڑا ہوسکتا ہے جن کے پاس آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ہے اور جو روزانہ کی محنت سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں اس سلسلہ میں مرکزاور صوبائی حکومتوں کو ہنگامی سطح پر غورکرنا چاہئے، ایسے لوگوں کا باقاعدہ سروے کرکے مالی مدد پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ محلہ اور پڑوس میں موجود غریب اور معاشی طور پر کمزور افراد کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ یہ اللہ کے غصہ سے نجات حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ حسن سلوک بھی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان