Connect with us
Sunday,20-September-2026

(جنرل (عام

فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں تمام طقبات کو شامل اور نفرت کے خاتمے کیلئے اب ہمیں متحد ہوکرمیدان عمل میں آنا ہوگا۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

Arshad-madni

فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں تمام طقبات کو شامل کرنے اور نفرت کے خاتمے کیلئے متحد ہوکرمیدان عمل میں آنے کی اپیل کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور نو منتخب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں ہم تنہا کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہمیں نہ صرف ان طبقے کو بلکہ سماج کے تمام ہم خیال افراد کو اپنے ساتھ لانا ہوگا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار کانپور میں منعقد ہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ستائیسویں اجلاس میں بورڈ کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعدکیا اور انہوں نے اپنے خطا ب میں سب سے پہلے بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں مختلف عوارض اور عمر کے تقاضے کی وجہ سے اب زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرپاتا لیکن آپ کے حکم کی تعمیل میں مجھے جو ذمہ داری دی گئی ہے اس کی ادائیگی کی حتی المقدور کوشش کروں گا۔ مولانا مدنی نے ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ بورڈ کے اجلا س میں ملک میں بڑھتی ہوئی خطرناک فرقہ پرستی کے تعلق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں اور جس پر گفتگو ہورہی ہے ان باتوں کو لیکر حکومت کا جو نظریہ اور رویہ ہے اور جس طرح ان چیزوں کو پورے ملک میں پیش کیا جارہا ہے وہ نفرت اور تعصب پر مبنی ہے، احکام شرعیہ میں مداخلت درحقیقت اسی نفرت وتعصب کی سیاست پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان چیزوں کو روکنے کے لئے ہمارے پاس بظاہر کوئی طاقت نہیں ہے اور جولوگ ایسا کررہے ہیں ان کے پاس اقتدار کی طاقت ہے جسے آج کی دنیا میں سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے مایوس کن حالات میں بھی امید اور یقین کے چراغ روشن ہیں،ملک کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو ملک کی موجودہ روش کو غلط سمجھتا ہے اور ایک مخصوص طبقے کے خلاف پچھلے کچھ برسوں سے جو کچھ ہورہا ہے اسے وہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس طرح کی چیزیں ملک کے لئے انتہائی خطرناک اور نقصاندہ ہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں ہم تنہا کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہمیں نہ صرف اس طبقے کو بلکہ سماج کے تمام ہم خیال افراد کو اپنے ساتھ لانا ہوگا۔ منافرت اور فرقہ پرستی کی اس آگ کو بجھانے کے لئے ہمیں مل جل کر آگے آنا ہوگا اگر ہم ایسا کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ فرقہ پرست طاقتو ں کو سکشت نہ دے سکیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فرقہ پرستی اور منافرت کا یہ کھیل جنوب کے مقابلے میں شمالی ہندوستان میں اپنے شباب پر ہے،اس کی بنیادی وجہ سیاسی مفاد ہے۔اشتعال انگیزیوں اور اوٹ پٹانگ بیانات سے سماجی سطح پر فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی سازش ہورہی ہے تا کہ اکثریت کو اقلیت سے بالکل الگ تھلگ کر کے اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیابی حاصل کرلی جائے۔ اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اکثریت کے ان تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لانا ہوگا جو ان باتوں کو غلط سمجھتے ہیں اور جن کا ماننا یہ ہے کہ اس طرح کی سیاست ملک کے اتحاد، سا لمیت اور ترقی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے آگے کہا کہ منافرت اور فرقہ پرستی کی آگ بھڑکانے والے مٹھی بھر لوگ ہی ہیں لیکن وہ طاقتور اس لئے ہیں کہ انہیں اقتدار میں موجود لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لئے قانون کے ہاتھ بھی ان کے گریبان تک نہیں پہنچ پاتے۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں کیا جاسکتا ہے، آگ سے آگ کو بجھانے کی کوشش نادان لوگ ہی کرسکتے ہیں، اس کے مقابلے میں ہمیں اخوت، ہمدردی اور اتحاد ومحبت کو فروغ دینا ہوگا جو ہماری اور اس ملک کی پرانی تاریخ بھی رہی ہے۔ اس تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بلا شبہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ملک کے اندر ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس نفرت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے،ایسے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ڈر اور خوف کے اس ماحول میں بھی فرقہ پرستی اور منافرت کے خلاف مضبوطی سے لڑ رہے ہیں۔ یاد رکھیں جس دن ہم فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف تمام طبقات کو متحد کرنے اور اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہوگئے،یہ طاقتیں اسی روز دم توڑ دیں گی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس کے لئے ہمیں ایک مظبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور میدان عمل میں آنا ہوگا، ورنہ کل تک بہت دیر ہوسکتی ہے۔ برادران وطن کو خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے کو چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں، بشرطیکہ وہ اس نفرت کے خلاف ہوں انہیں ساتھ لیکراس نفرت کے خلاف مہم چلانی چاہیے تب جاکر ان مسائل کا حل ہوگا ورنہ تمام طبقات کو متحد کئے بغیر فرقہ پرستی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اخیر میں مولانامدنی نے دعوی کیاکہ”اس وقت ہندوستان کے حالات جس قدر تشویشناک ہیں اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے۔ فرقہ پرست اور انتشار پسندقوتوں کا بول بالا ہوگیا ہے، جس نے ہر ایک محبِ وطن کو فکرمند کر دیا ہے“۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پاسپورٹ کی میعاد کے لیے قوانین میں تبدیلی : نئے اصول کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کا پاسپورٹ 18 سال کا بچہ نہیں ہو جاتا کارآمد رہے گا۔

Published

on

Passport

نئی دہلی : حکومت نے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے پاسپورٹ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب اس عمر سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جانے والا 36 صفحات پر مشتمل معیاری پاسپورٹ پانچ سال یا جب تک بچہ 18 سال کا نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو، کارآمد رہے گا۔ وزارت خارجہ نے پاسپورٹ (ترمیمی) قواعد، 2026 کو مطلع کیا ہے، جو جمعرات کو گزٹ آف انڈیا میں شائع ہونے کے بعد نافذ ہوا تھا۔ اگر کسی بچے کو 12 سال کی عمر میں پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کا پاسپورٹ پانچ سال تک کارآمد رہے گا، یعنی جب تک کہ وہ 17 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ تاہم، اگر کوئی بچہ 14 سال کا ہے، تو اس کا پاسپورٹ اس وقت تک کارآمد رہے گا جب تک کہ وہ 18 سال کا نہ ہو جائے۔ یہ تبدیلی پاسپورٹ رولز، 1980 کے رول 12(1اے) میں کی گئی ہے۔

اس سے قبل، حکومت نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں بھی نظر ثانی کی تھی، جو 1 جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل عام بالغ پاسپورٹ کی نئی درخواست یا تجدید کی فیس اب 2,500 ہے، جو کہ پہلے 1,500 تھی۔ 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے سے بڑھا کر 3500 روپے کر دی گئی ہے۔ تتکال سروس کے تحت 36 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 5,000 اور 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 6,000 کر دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان