(جنرل (عام
فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں تمام طقبات کو شامل اور نفرت کے خاتمے کیلئے اب ہمیں متحد ہوکرمیدان عمل میں آنا ہوگا۔ مولانا ارشد مدنی
فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں تمام طقبات کو شامل کرنے اور نفرت کے خاتمے کیلئے متحد ہوکرمیدان عمل میں آنے کی اپیل کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور نو منتخب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں ہم تنہا کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہمیں نہ صرف ان طبقے کو بلکہ سماج کے تمام ہم خیال افراد کو اپنے ساتھ لانا ہوگا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار کانپور میں منعقد ہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ستائیسویں اجلاس میں بورڈ کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعدکیا اور انہوں نے اپنے خطا ب میں سب سے پہلے بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں مختلف عوارض اور عمر کے تقاضے کی وجہ سے اب زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرپاتا لیکن آپ کے حکم کی تعمیل میں مجھے جو ذمہ داری دی گئی ہے اس کی ادائیگی کی حتی المقدور کوشش کروں گا۔ مولانا مدنی نے ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ بورڈ کے اجلا س میں ملک میں بڑھتی ہوئی خطرناک فرقہ پرستی کے تعلق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں اور جس پر گفتگو ہورہی ہے ان باتوں کو لیکر حکومت کا جو نظریہ اور رویہ ہے اور جس طرح ان چیزوں کو پورے ملک میں پیش کیا جارہا ہے وہ نفرت اور تعصب پر مبنی ہے، احکام شرعیہ میں مداخلت درحقیقت اسی نفرت وتعصب کی سیاست پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان چیزوں کو روکنے کے لئے ہمارے پاس بظاہر کوئی طاقت نہیں ہے اور جولوگ ایسا کررہے ہیں ان کے پاس اقتدار کی طاقت ہے جسے آج کی دنیا میں سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے مایوس کن حالات میں بھی امید اور یقین کے چراغ روشن ہیں،ملک کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو ملک کی موجودہ روش کو غلط سمجھتا ہے اور ایک مخصوص طبقے کے خلاف پچھلے کچھ برسوں سے جو کچھ ہورہا ہے اسے وہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس طرح کی چیزیں ملک کے لئے انتہائی خطرناک اور نقصاندہ ہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں ہم تنہا کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہمیں نہ صرف اس طبقے کو بلکہ سماج کے تمام ہم خیال افراد کو اپنے ساتھ لانا ہوگا۔ منافرت اور فرقہ پرستی کی اس آگ کو بجھانے کے لئے ہمیں مل جل کر آگے آنا ہوگا اگر ہم ایسا کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ فرقہ پرست طاقتو ں کو سکشت نہ دے سکیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فرقہ پرستی اور منافرت کا یہ کھیل جنوب کے مقابلے میں شمالی ہندوستان میں اپنے شباب پر ہے،اس کی بنیادی وجہ سیاسی مفاد ہے۔اشتعال انگیزیوں اور اوٹ پٹانگ بیانات سے سماجی سطح پر فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی سازش ہورہی ہے تا کہ اکثریت کو اقلیت سے بالکل الگ تھلگ کر کے اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیابی حاصل کرلی جائے۔ اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اکثریت کے ان تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لانا ہوگا جو ان باتوں کو غلط سمجھتے ہیں اور جن کا ماننا یہ ہے کہ اس طرح کی سیاست ملک کے اتحاد، سا لمیت اور ترقی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے آگے کہا کہ منافرت اور فرقہ پرستی کی آگ بھڑکانے والے مٹھی بھر لوگ ہی ہیں لیکن وہ طاقتور اس لئے ہیں کہ انہیں اقتدار میں موجود لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لئے قانون کے ہاتھ بھی ان کے گریبان تک نہیں پہنچ پاتے۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں کیا جاسکتا ہے، آگ سے آگ کو بجھانے کی کوشش نادان لوگ ہی کرسکتے ہیں، اس کے مقابلے میں ہمیں اخوت، ہمدردی اور اتحاد ومحبت کو فروغ دینا ہوگا جو ہماری اور اس ملک کی پرانی تاریخ بھی رہی ہے۔ اس تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بلا شبہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ملک کے اندر ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس نفرت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے،ایسے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ڈر اور خوف کے اس ماحول میں بھی فرقہ پرستی اور منافرت کے خلاف مضبوطی سے لڑ رہے ہیں۔ یاد رکھیں جس دن ہم فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف تمام طبقات کو متحد کرنے اور اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہوگئے،یہ طاقتیں اسی روز دم توڑ دیں گی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس کے لئے ہمیں ایک مظبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور میدان عمل میں آنا ہوگا، ورنہ کل تک بہت دیر ہوسکتی ہے۔ برادران وطن کو خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے کو چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں، بشرطیکہ وہ اس نفرت کے خلاف ہوں انہیں ساتھ لیکراس نفرت کے خلاف مہم چلانی چاہیے تب جاکر ان مسائل کا حل ہوگا ورنہ تمام طبقات کو متحد کئے بغیر فرقہ پرستی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اخیر میں مولانامدنی نے دعوی کیاکہ”اس وقت ہندوستان کے حالات جس قدر تشویشناک ہیں اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے۔ فرقہ پرست اور انتشار پسندقوتوں کا بول بالا ہوگیا ہے، جس نے ہر ایک محبِ وطن کو فکرمند کر دیا ہے“۔
جرم
ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
