Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

دہلی فساد میں ملوث مزید چارنوجوانوں کی ضمانت منظور، اب تک92 کی ضمانت، جمعیۃعلماء ہند کا مقصد باعزت بری کرانا ہے۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

maulana-arshad-madni

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مزید چار مسلم ملزمان کی ضمانت کے ساتھ اب تک مجموعی طور پر 92 افراد کی ضمانتیں نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے منظور ہوچکی ہیں۔ جمعیۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ کا مقصد صرف ضمانت پر رہا کرانا نہیں، بلکہ ان لوگوں کو باعزت بری کرانا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کی کوششوں سے گزشتہ کل مزید 4 افراد کی ضمانت کی عرضیاں منظور ہو گئیں، جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل 92 افراد کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں، ضمانت منظور ہونے کے بعد چاروں ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے، جس سے ملزمین کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی ہے، عید سے عین قبل ملزمین کی جیل سے رہائی سے ملزمین لے اہل خانہ نے جمعتہ علماء ہند کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق دہلی ہائی کورٹ اور کار کا ڈومہ سیشن عدالت نے گذشتہ کل دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار ملزمین راشد سیف، محمد عابد، محمد شاداب اور شمیم لالہ کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ ان ملزمین کو ایف آئی آر نمبر 101/2020 پولس اسٹیشن کھجوری خاص مقدمہ میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان اور ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگر نے کی، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147،148،149،436، 427 (فسادات برپا کرنا، گھروں کو نقصان پہنچانا، غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا) اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

سماعت کے بعددہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سریش کمار کیت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ استغاثہ ملزمین کے کردار کو ثابت نہیں کرپایا ہے، نیز اس معاملے میں تفتیش مکمل ہوچکی اور چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے لہٰذا ملزمین کو مزید جیل میں رکھنا ضروری نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے اور ان کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے، جس سے ان کا بیان مشکوک لگتا ہے۔ عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے، اور پولس اسٹیشن اور عدالت میں ضرورت پڑھنے پر حاضر رہیں گے، عدالت نے ملزمین کو موبائل میں اروگیہ سیتو اپلیکشن بھی ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے، امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی، اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔

ہائیکورٹ اور سیشن کورٹ سے چارملزمین کو ملی ضمانت کا صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد تمام ملزمین کو پہلے جیل سے رہا کرایا جائے، اور پھر اس کے بعد ان کے مقدمات لڑ کر انہیں باعزت کرایا جائے، لیکن کورونا کی وجہ سے عدالتی کام کاج نہایت سستی سے ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علمائے ہند کا مقصد اور اس کی اولین ترجیح ملزمین کی باعزت بری رہی ہے اور اس سمت میں جمعیۃ دل و جان سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالتیں خود یہ کہہ رہی ہیں کہ ملزمین کو مزید جیل میں رکھنا ضروری نہیں ہے، اس کے باوجود دہلی پولس ملزمین کی ضمانت کی عرضداشتوں کی سخت لفظوں میں مخالفت کر رہی ہے، جس سے دہلی پولس کی جانبداری واضح ہوتی ہے، دہلی فسادات میں دہلی پولس کی کار کردگی ویسے ہی جانبدارانہ رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے جیل کی بھیڑ بھاڑ کم کرنے کے لئے عدالت کہہ رہی ہے، لیکن پولیس کا رویہ مثبت نہیں ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو منصفانہ انداز میں سوچنا چاہئے۔

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان