Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

قرآن کے تراجم اور اسلامی لٹریچرکو ہندی زبان میں منتقل کیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت : مولانا ارشد مدنی

Published

on

arshad madni

قرآن کی اہمیت اور اسے اپنی زندگی میں اتارنے پر زور دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ ہماری نئی نسل اردو زبان سے نابلد ہوتی جا رہی ہے، اس لئے اب اسلامی لٹریچر کو ہندی زبان میں منتقل کیا جانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان سے جب فارسی زبان بھی رخصت ہونے لگی تو علماء نے قرآن کے ترجمہ اور اسلامی لٹریچر کو اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ ادا کیا، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحبزادے اور اس وقت کے دوسرے بڑے علماء نے قرآن کے تراجم اور اسلامی لٹریچر کو اردو زبان میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے آگے کہا کہ اب جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اردو زبان بھی ہندوستان میں زوال پذیر ہے، اور ہماری نئی نسل میں ایک بڑی تعداد اردو زبان سے ناآشنا ہو چکی ہے، تو ہم نے ضروری سمجھا کہ اسلامی لٹریچر کو ہندی زبان میں بھی منتقل کیا جائے۔ تاکہ عام مسلمان اسلام کی تعلیمات سے واقف ہو جائے، یہی وہ بنیادی سبب ہے کہ ہم نے قرآن کا ہندی میں ترجمہ منتقل کرنے کا کام شروع کیا۔

انہوں نے واضح طور پر یہ بات کہی کہ ہمارے سامنے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ جو بچے اردو زبان سے ناواقف ہیں، انہیں کس طرح اپنا مذہب سکھایا جائے، اس پر ہم سب کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کا شکر ہے کہ آٹھ سال کی محنت کے بعد قرآن کا ترجمہ ہندی زبان میں منتقل ہو گیا۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے قرآن کی بعض آیات پر طرح طرح کے اعتراضات بھی ہمارے سامنے آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا قرآن کے مفہوم کو اس کے سیاق وسباق میں نہیں سمجھنے کی وجہ سے ہو رہا ہے، چنانچہ ہم نے قرآنی آیات کے سلسلہ میں صحیح رخ اپنایا تاکہ اس طرح کے اعتراضات کا بھرپور طریقہ سے ازالہ کیا جا سکے۔

انہوں نے آگے کہا کہ اس ترجمہ اور تفسیر کی نوے فیصد بنیاد حضرت شیخ الہند کا ترجمہ اور تفسیر ہے، شیخ الہندؒ کے ترجمہ کا امتیازیہ ہے کہ ہر عربی لفظ کے نیچہ اس کا ترجمہ آ گیا ہے اور یہ سلیس زبان میں ہے، لیکن ہندی زبان میں یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ ہندی زبان بائیں طرف سے لکھی جاتی ہے، چنانچہ ہر لفظ کے نیچہ اس کا ترجمہ نہیں آ سکتا تھا، اس کے پیش نظر ہندی میں آج کے زمانہ کے اعتبار سے کلمات کی جو ترتیب ہونی چاہئے ہم نے اس ترتیب کا خیال رکھا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندی میں ترجمہ کرتے وقت دس فیصد ترجمہ کے لئے حضرت تھانوی ؒ کے ترجمہ سے استفادہ کیا گیا ہے، مولانا مدنی نے آخر میں کہا کہ اس ترجمہ اور تفسیر سے ہمارے غیر مسلم بھائی بھی استفادہ کر کے قرآن کے تعلق سے اپنی غلط فہمیاں دور کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ آٹھ سال کی محنت ِشاقہ کے بعد مولانا سید ارشد مدنی کا کیا گیا قرآن کا ہندی میں ترجمہ نہ صرف شائع ہو چکا ہے، بلکہ انہوں نے اس کی تفسیر بھی (ہندی میں) سادہ اور سلیس زبان میں لکھی ہے، تاکہ تھوڑی بہت بھی ہندی جاننے والا قرآن کی ہدایات واحکامات سے کماحقہ استفادہ کر سکے، اس پس منظر میں انہوں نے یہ وضاحت کی کہ قرآن کے ترجمہ کی اصل بنیاد عربی ہے، لیکن جب اسلام ہندوستان میں آیا تو یہاں فارسی زبان کا چلن تھا، اس وقت کے علماء نے اپنی ضرورت کے مطابق عربی زبان کا فارسی زبان میں اسلامی لٹریچر اور قرآن کے ترجمہ کو منتقل کیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈونگری میں موٹرسائیکل چوری کرنے والا پیشہ ور چور گرفتار

Published

on

ممبئی : ڈونگری علاقہ سے موٹر سائیکل چوری کرنے والے چور کو پولس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ ہے اور اس کے قبضے سے مسروقہ موٹرسائیکل بھی برآمدکرلی گئی ہے۔ ڈونگری پولیس تھانہ میں 12 ستمبر کو مذکورہ بالا جرم درج کیا گیا ہے اور مذکورہ جرم کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ، مذکورہ جرم میں شکایت کنندہ وشنو نامدیو فڈترے، عمر60 سال کی ملکیت کی استعمال کی یاماہا آرایکس 100 موٹرسائیکل نمبر ایم ایچ 01 سی 7815 جو پودار بلڈنگ، نمبر 09 ڈاکٹر میشیری روڈ، ڈونگری، ممبئی اس جگہ پر پارک کی تھی وہ کسی نامعلوم چور نے چوری کرلی ۔ مذکورہ جرم کی تفتیش کرتے ہوئے پولس افسر جادھو اور کرائم ڈٹیکشن ٹیم کے اہلکاروں نے ڈونگری پولیس تھانہ کی حد میں آنے والے سینڈہرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی تو دو نامعلوم افراد ایک موٹرسائیکل پر آ کر شکایت کنندہ کی پارک کی ہوئی موٹرسائیکل کو پیدل دھکا دے کر لے جاتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد ملزم کے آمدورفت کے راستے کی جانچ کرکے کی گئی تکنیکی تفتیش میں ملزم کا سراغ شیواجی نگر، گوونڈی علاقے میں میں ملا۔

مذکورہ جگہ پر مخبر کے ذریعے معلومات لی تو جرم میں چوری ہوئی یاماہا آرایکس 100 موٹرسائیکل نمبر ایم ایچ 01 سی 781 یہ پلاٹ نمبر 34 میں رہنے والا شخص فیروز اس کے پاس ایک یاماہا موٹرسائیکل کی معلومات ملی۔ مذکورہ شخص محمد فیروز ناصر خان، عمر32 سال، رہائشی پلاٹ نمبر 34، لائن بی، روم نمبر 25، 5 نمبر روڈ، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی اس کے رہائشی پتے پر جا کر اسے مزید پوچھ گچھ کے لیے پولیس تھانے لایا گیا۔ اس کے پاس کی گئی تفتیش میں اس نے مذکورہ موٹرسائیکل اپنے ساتھی دلشاد شاہد علی خان عرف ببلو، عمر40 سال، رہائشی روم نمبر 33، پلاٹ نمبر 29، سی لائن، روڈ نمبر 05، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی اس کے ساتھ اس نے مذکورہ موٹرسائیکل سینڈہرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے چوری کرکے لے جانے کی معلومات دی۔مذکورہ جرم میں ملزم محمد فیروز ناصر خان، عمر32 سال، رہائشی پلاٹ نمبر 34، لائن بی، روم نمبر 25، 5 نمبر روڈ، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسے 22 ستمبر تک پولیس حراست سنائی گئی ہے۔مذکورہ جرم کے ملزم محمد فیروز ناصر خان، عمر- 32 سال کے پاس کی گئی تفتیش میں اس نے اپنے ساتھی دلشاد شاہد علی خان عرف ببلو، عمر- 40 سال کے ساتھ مل کر کل 04 جگہوں سے موٹرسائیکل چوری کی ہے اس کی گرفتاری سے چوری کا معمہ حل ہو گیا ہے اس کے خلاف 01) ڈونگری پولیس تھانہ، 625/2026 دفعہ 303(2)، 3(5) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔پنت نگر پولیس تھانہ، 959/2026 دفعہ 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔کوپرکھیرنے پولیس 598/2026 دفعہ 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔گوونڈی پولیس تھانہ، 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔ مذکورہ جرم کی مزید تفتیش ایڈیشنل کمشنر شلیش بلکاوڈ، ڈی سی پی زون 01، منیش کلوا نیا ڈونگری محکمہ، جناب تنویر شیخ ڈونگری پولیس تھانہ ساگر ٹلیکر کی رہنمائی میں ڈٹیکشن عملہ نے اس معمہ کو حل کر لیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی : خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا، ۶ ماہ قید بامشقت اور ۵۰۰ جرمانہ کی سزا

Published

on

Police

۲۱ ستمبر کو ایڈیشنل سیشن کورٹ، کورٹ نمبر 34، ممبئی گوونڈی پولیس 216/2018 دفعہ 353, 509, 354(ا) بی این ایس کے تحت جرم میں ملزم نامہ سروج پیشہ ڈرائیور، رہائشی کمپاؤنڈ کے سامنے، منزلہ، 11 واں روڈ، چمبور ممبئی کو قصوروار ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔ ۲۱ اگست ۲۰۱۸ کو شکایت کنندہ خاتون پولیس اہلکار ٹریفک کو رواں رکھنے کی ڈیوٹی کر رہی تھیں اس دوران ملزم نے شکایت کنندہ کو نشانہ بنا کر فحش اشارے کرکے اور فحش گالی گلوچ کرکے شکایت کنندہ سے ناروا سلوک کیا اس کے بعد متاثرہ شکایت کنندہ نے گوونڈی پولیس تھانے میں شکایت کی 216/2018 دفعہ 353, 354(ا), 509 بی این ایس کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم میں ۲۱ ستمبر ایڈیشنل سیشن عدالت، کورٹ نمبر 34 ممبئی نے ملزم سروج کو دفعہ 353 تعزیری کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ، دفعہ 354(ا) کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ نیز دفعہ 509 دفعہ کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ اور جرمانہ نہ بھرنے پر 1 مہینے کی اضافی قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ معاملے میں تفتیشی افسر سپودن پرینکا پاٹل نے کی گئی گہری تفتیش، سائنسی اور مؤثر تفتیش، مضبوط شواہد کا مجموعہ اور اس کی صحیح طریقے سے دستاویزی کارروائی، نیز سرکاری وکیل جیوتی ساونت اور پیروی افسر سب انسپکٹر اجے یادو نے عدالت کے سامنے مؤثر پیروی کر مذکورہ معاملے کا عدالتی کام کاج دیکھنے والے افسران نے سرکاری فریق کے ساتھ مناسب تال میل رکھنا اور مسلسل اور نتیجہ خیز پیروی کرنا اس کی وجہ سے ملزم کے خلاف جرم بغیر کسی شک کے فائدے کے ثابت ہو کر اسے عدالت نے سخت سزا سنائی ہے۔ مذکورہ قابل ذکر کارکردگی جناب پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر نظم و نسق منوج کمار شرما، دھننجے کلکرنی،ڈی سی پی زون 01 سمیر شیخ، کی رہنمائی میں انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان