Connect with us
Friday,23-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

تبدیلی مذہب کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت کی ضرورت نہیں، گجرات ہائی کورٹ کا ’لوجہاد قانون‘ پرفیصلہ برقرار

Published

on

Gujarat High Court

جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے ریاست کے ‘لو جہاد قانون’ کی اہم دفعات (3، 4، 5 اور 6) پر روک لگا دی تھی۔ اس روک کو ہٹانے کے لیے جمعرات کو دوبارہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، اور کورٹ نے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے دفعہ 5 پر اسٹے ہٹانے کی درخواست خارج کر دی، اور کہا کہ تبدیلی مذہب کے لیے مجسٹریٹ کی اجازت ضروری نہیں ہے۔

جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق سرکاری درخواست کی جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ مہر جوشی نے شدت سے مخالفت کی، اور کہا کہ سرکار لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر رہی ہے، وہ چاہتی ہے کہ جب کوئی شادی کرے تو اسے جیل میں بند کر دیا جائے، اور اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک سرکار کو اطمینان نہ ہو جائے کہ شادی میں کوئی زبردستی یا لالچ نہیں تھی، یعنی شادی کی ابتدائی زندگی کو سرکار جہنم بنانا چاہتی ہے۔ ایڈوکیٹ مہر جوشی نے یہ بھی استدلال کیا کہ اگر ایکٹ کی دفعہ 5 پر حکم امتناعی باقی نہیں رکھا گیا، تو عدالت کا مکمل فیصلہ بے معنی اور بے حیثیت ہو کر رہ جائے گا۔

ایڈوکیٹ جنرل نے دعوی کیا کہ سیکشن 5 کا شادی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ یہ جنرل حکم ہے کہ ہر کوئی شخص جو مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے، اسے اجازت کی ضرورت ہوگی، عدالت نے جواب دیا کہ 19 اگست کو منظور کردہ آرڈر تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کیوں کہ ہم نے اسے محض شادی کے تناظر میں دیکھا ہے، اور اس کے مطابق ہی فیصلہ دیا ہے۔

عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ عیسی حکیم اور محمد طاہر حکیم بھی موجود تھے، اس مقدمہ کی مکمل پیروی جمعیۃ علماء گجرات کررہی ہے، جمعیۃ علماء گجرات کے جنرل سکریٹری پروفیسر نثار احمد انصاری اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

عدالت کے آج کے فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اصل لڑائی آئین میں حاصل شخصی آزادی کی بقاء کی ہے۔ اگر اس فیصلے کے خلاف گجرات سرکار، سپریم کورٹ جائے گی، تو ہم بھی جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین میں اپنے مذہب اور عقیدے کے ساتھ ہر شخص کو جینے کا حق حاصل ہے، لیکن حال میں کچھ ریاستوں نے اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف گجرات سرکار کے ’لو جہاد قانون‘ کی دستوری حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، بلکہ اس کا اثر تمام متعلقہ ریاستوں پر پڑے گا، سرکار نے اس قانون میں ایسی شقیں رکھی ہیں جن سے فرقہ پرست عناصر کو موقع ملتا ہے کہ ہر کسی ایسے شخص کو ڈرائے جس نے مرضی سے شادی کی ہے، کیوں کہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بوجھ بھی ملزم پر ہے۔

(جنرل (عام

این آر آئی لون فراڈ پر ای ڈی کا کریک ڈاؤن! دہلی-این سی آر سمیت تین علاقوں میں 13 مقامات پر چھاپے مارے۔

Published

on

نوئیڈا : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعہ 23 اکتوبر کو این آر آئی ہاؤسنگ لون فراڈ کیس کے سلسلے میں ایک بڑی کارروائی شروع کی۔ جانچ ایجنسی کی الگ الگ ٹیموں نے دہلی-این سی آر سمیت تین علاقوں میں کل 13 مقامات پر تلاشی لی۔ اس آپریشن میں نوئیڈا کے وہ مقامات بھی شامل ہیں، جہاں ای ڈی ٹیم دستاویزات اور دیگر ممکنہ شواہد کی چھان بین کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ فرضی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی) کے نام پر ہاؤسنگ لون حاصل کرنے سے متعلق ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ای ڈی کی ٹیمیں دہلی-این سی آر کے علاوہ بنگلورو اور چنڈی گڑھ میں بھی تلاشی لے رہی ہیں۔ ایجنسی کا بنیادی مقصد دستاویزات، مالیاتی لین دین، اور مبینہ دھوکہ دہی سے متعلق دیگر اہم شواہد کی جانچ کرنا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات میں این آر آئی کی ملکیت والی دو رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں: انتارکش پروموٹرز اینڈ ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور سنشائن انفراول پرائیویٹ لمیٹڈ۔

ای ڈی کی کارروائی کے سلسلے میں، ان کمپنیوں کے کردار اور مبینہ مالی لین دین کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔ تفتیشی ایجنسی کی ٹیمیں تلاشی کے دوران ملنے والے دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہیں۔ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کا استعمال کیسے کیا گیا اور ان کی بنیاد پر ہاؤسنگ لون حاصل کرنے کے عمل میں افراد اور ادارے شامل تھے۔ این آر آئی ہاؤسنگ لون فراڈ سے متعلق اس معاملے میں ای ڈی کی کارروائی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ تلاشی کے دوران جمع ہونے والے شواہد کی بنیاد پر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے نقطوں کو جوڑنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

تفتیش میں دستاویزات کی صداقت، قرض سے متعلق ریکارڈ اور مالیاتی لین دین جیسے پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ فی الحال، نوئیڈا اور دیگر مقامات پر ای ڈی کی کارروائیوں اور ممکنہ قبضوں کی تفصیلات کے بارے میں سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔ تفتیشی ایجنسی کی جانب سے مزید کارروائی کے حوالے سے معلومات جاری ہونے کے بعد کیس کی تصویر واضح ہو جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی ہیڈکوارٹر میئر دفتر کو اڑانے کی دھمکی، خالصتانی نیشنل آرمی اور ببر خالصہ کے نام پر دھمکی آمیز ای میل کے بعد پولس الرٹ

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی ہیڈکوارٹر سمیت فلم اداکار کے بنگلہ و ممبئی و نئی ممبئی کے اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد ممبئی پولس نے بی ایم سی سمیت دیگر مقامات کی تلاشی لے کر جانچ کی، لیکن کسی بھی قسم کا کوئی مشتبہ سامان برآمد نہیں ہوا اتنا ہی نہیں بی ڈی ڈی دستہ اور ڈاگ اسکواڈ نے مئیر کے دفتر سمیت بی ایم سی کی تلاشی لی۔ ۲۷ سے ۳۱ اکتوبر کو امیتابھ بچن کو نشانہ بنانے اور ۱۹۸۴ میں نسل کشی اور خون کا بدلہ خون سے لیا جائے گا، ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوا تھا جس میں ممبئی بامبے بولے گا خالصتان زندہ باد۔ مہالکشمی ریس کورس میں ۲۷ نومبر کوبم نصب کر کے دھماکہ کی دھمکی بھی دی ہے، یہ ای میل خالصتان نیشنل آرمی اور ببر خالصہ نے دی ہے۔ اس متعلق ممبئی پولس تفتیش کررہی ہے اس دھمکی آمیز ای میل کے بعد ممبئی میں الرٹ جاری کیا گیا ہے، ای میل ممبئی میئر کے آفیشل میل پر بھیجا گیا تھا، ممبئی پولس اس متعلق ای میل آئی ڈی ٹریس کر رہی ہے۔ ممبئی، نئی ممبئی، تھانہ کی متعدد اسکولوں کو بھی خالصتانی نیشنل آرمی نے دی ہے، میئر آفس کو ۳ بجے نشانہ بنانے اور اسکولوں کو ۱ بجکر ۱۱ منٹ پر نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے، اس میں ای میل میں دھمکی دے کر باخبر کیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کو بچاؤ ۔۔۔ اس دھمکی آمیز میل کے بعد پولس نے تلاشی لی اور تلاشی میں کوئی بھی شیشے اور سامان اور دھماکہ خیز مادہ برآمد نہیں ہوا حالات کنٹرول میں ہے اس لئے افواہ پر توجہ نہ دے یہ اپیل ممبئی پولس نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا ڈیزیڈ فورڈ اینڈ ہاسپٹیالیٹی دہلی ذائقہ پر ایف ڈی اے کی کارروائی، لائسنس معطل

Published

on

Delhi-Zaika-Kurla

ممبئی : کرلا میں فورڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن ایف ڈی اے نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ڈیزیڈ فوڈ اینڈ ہاسپیٹالیٹی (دہلی ذائقہ) کا لائسنس معطل کر کے ہوٹل میں تیار شدہ اجناس اور غذا کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو ایف ڈی اے غذائی تحفظ ایکٹ کے مطابق کارروائی کرے گا۔ کارروائی کے دوران ایف ڈی اے نے مشاہدہ کیا کک دیواریں، چھت، دروازے پر رنگ/پلاسٹر اکھڑا ہوا، گرم، ٹھنڈا، فریج، فریزنگ کی سہولت ناکافی ہے۔ دروازے کیڑوں سے بچاؤ کے لیے مناسب نہیں برتن اور کنٹینر صاف کرنے کے قابل نہیں۔ فرش میں دراڑ، پھسلن نہیں، ڈھلان غلط ہے مال کی اسٹوریج درجہ حرارت کے مطابق نہیں، فیفو/ایف ای ایف او پر عمل نہیں۔ کھانے کا تیل مناسب نہیں، چیکنگ نہیں۔ کچا، پکا، ویج، نان ویج کھانے کوئی علیحدگی نہیں، برتن صاف نہیں، کھانا حفظان صحت کے معیار کے مطابق نہیں ہے سپلائر کے ریکارڈ، ختم شدہ تاریخ دستیاب نہیں پکوان کے معیار میں غیر مناسب انتظام اس کے ساتھ باورچی خانے و اطراف میں گندگی، فرش اور نالیوں کی صفائی نہیں ان تمام مشاہدہ کے بعد ایف ڈی اے نے اصول و ضوابط کی خلاف وزری پر لائسنس معطل کر دیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان