Connect with us
Thursday,23-July-2026

(جنرل (عام

طالبان کی نئی حکومت سے حقوق انسانی کے احترام اور ہندوستان سے خوشگوار تعلقات کی امید، مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا محمود مدنی جمعیۃ علماء ہند کے مستقل صدر منتخب

Published

on

Maulana Mahmood Madani

طالبان سے اسلامی اقدار اور نبوی کردار کی روشنی میں حقوق انسانی کا احترام کی امید کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقات کے ساتھ منصفانہ معاملہ کریں گے، نیز خطے کے تمام ممالک بالخصوص ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو خوش گوار اور مستحکم بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ یہ بات جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق انہوں نے طالبان سے امید ظاہر کی کہ اپنی سر زمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو نے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں افغانستان کے ساتھ ہندستان کے قریبی، تہذیبی روابط رہے ہیں، اور نئے افغانستان کی تعمیر و ترقی میں ہندستان کا بہت اہم کردار ہے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت افغانی پارلیامنٹ کی جدید عمارت، ملک کے طول و عرض میں چلنے والے ترقیاتی منصوبے اور وسیع شاہ راہیں ہے، ایسی صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں تا کہ گزشتہ چالیس سال سے جنگ و خوف کے سایے میں زندگی بسر کرنے والے افغان عوام سکون کی سانس لے سکیں اور ہر طرح کے بیرونی خطرات سے محفوظ رہیں۔

واضح رہے کہ مجلس عاملہ میں ملک میں طویل عرصے سے جاری کسانوں کی تحریک پرتفصیل سے تبادلہ خیال ہوا، اور مولانا محمود مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں مزید کہا کہ جمہوریت کی طاقت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے مطالبات اور مسائل پر احتجاج کا حق رکھتا ہے، کسانوں کو بھی اپنے حق کے لیے تحریک چلانے کا بنیادی وآئینی حق حاصل ہے، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ موجودہ سرکار ایسی تحریکوں کو ایڈریس کرنے بجائے اسے کچلنے پر یقین رکھتی ہے، حالاںکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا ہے، جس کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ سبھی پہلوؤں پر غور و خوض کے بعد مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ کسانوں کی حسب سابق حمایت کی جائے گی۔

مجلس عاملہ نے اصلاح معاشرہ کی زمینی تحریک کو موجودہ دور میں سب سے اہم فریضہ متصور کرتے ہوئے اس سلسلے میں شعبہ اصلاح معاشرہ کی طرف سے تحریر کردہ رہ نما اصول کو منظوری دی اور سماج و برادری کے بااثر افراد کو جوڑ کر بامعنی و بامقصد تحریک چلانے کو اولین ذمہ داری قرار دیا۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند ۲۲۹۱ء سے معاشرتی اصلاح کی تحریک چلا رہی ہے، بالخصوص ۱۹۹۱ء میں اس وقت کے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ نے اسے ایک تحریک کی شکل دی تھی، اور بیل گاڑیوں پر گاؤں گاؤں سفر کرکے سماج سدھار کا کام کیا تھا، ان کی اتباع میں ملک میں بہت ساری ایسی تحریکیں شروع ہوئیں، وہ اپنے اپنے انداز میں جاری ہیں، جمعیۃ علماء ہند نے جدید صورت حال میں ایک منظم اور نئے انداز میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے نتیجہ خیز بنا یا جا سکے۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی صدارت کے لیے سبھی اکیس ریاستوں کی مجالس عاملہ کی طرف سے متفقہ طور سے مولانا محمود اسعد مدنی کے نام کی تجویز آئی ہے جسے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹر ی مولانا حکیم الدین قاسمی نے مجلس عاملہ میں پیش کیا۔ مجلس عاملہ نے منظور کرتے ہوئے اگلے ٹرم کی صدارت کے لیے ’مولانا محمود مدنی‘ کے نام پر مہر ثبت کی، اس طرح مولانا مدنی نے تجاویز پر دستخط کر کے عہدہ صدارت کا چارج سنبھال لیا۔

اجلاس میں صدر جمعۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ بطور رکن مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیرا لہند مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری، مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی، مولانا شوکت علی ویٹ، مفتی محمد جاوید اقبال قاسمی، مولانا نیاز احمد فاروقی اور مفتی افتخار قاسمی کرناٹک شریک ہوئے، مدعو خصوصی کے طور پر مولانا محمد سلمان بجنوری دارالعلوم دیوبند، مفتی احمد دیولہ گجرات، مفتی محمد عفان منصور پوری، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت، مولاناعلی حسن مظاہری، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات، مولانا عبدالقدوس پالن پوری، ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی، حاجی محمد ہارون بھوپال، ڈاکٹر سعید الدین قاسمی،قاری محمد ایوب اعظمی، مولانا عبدالقادر آسام جب کہ بذریعہ زوم مولانا ندیم احمد صدیقی، مولانا حافظ پیر شبیر احمد، مولانا محمد رفیق مظاہری، مفتی حبیب الرحمن الہ آباد، قاری محمد امین راجستھان شریک ہوئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہر یونیورسٹی پر یوپی سرکار کی کارروائی پر عوامی تحریک کا انتباہ! اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور دانشوروں کا اجلاس، ریاستی گورنر سے مداخلت کی اپیل

Published

on

Abu-Asim

ممبئی رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم پر ممبئی میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف آج ممبئی کے معروف ‘اسلام جم خانہ’ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شرکاء نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مراکز قائم کرنے کے بجائے ایک ایسے ادارے کو تباہ کر رہی ہے جو ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، تعلیمی نظام اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یونیورسٹی کے آپریشنز یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی تکنیکی بے ضابطگی تھی تو حکومت کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ادارے کو بچانا چاہیے تھا۔ کوئی تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کارروائی صرف اور صرف سیاسی انتقام کے جذبے سے کی جارہی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس غیر منصفانہ پالیسی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد فوری طور پر مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کرے گا، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اتر پردیش حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر حکومت نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف مزید کارروائی کی تو ممبئی میں زبردست عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی، یوسف ابراہانی، معراج صدیقی، مولانا انیس اشرفی، عامر ادریسی، سلیم الوار، سعید حامد، سرفراز آرزو، اور ڈاکٹر زیبا ملک سمیت ممبئی کے ممتاز علمائے کرام، سماجی کارکنان، اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بند کا اثر : ممبئی میں طلبا کے احتجاج میں شدت، چمبور اور کرلا میں سڑک روکو آندولن، پولس الرٹ، وزیر اعلیٰ کی کارروائی کا حکم

Published

on

bandh

ممبئی : ممبئی شیواجی پارک سمیت کرلا، چمبور، چونا بھٹی، مانخورد، و دیگر مضافاتی علاقوں میں مہاراشٹر بند کے سبب ونچت بہوجن اگھاڑی وی بی اے نے مورچہ نکال کر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اسی دوران پولس نے چمبور کرلا اور دیگر علاقوں سے مظاہرین کو زیر حراست لیا اور بعد ازاں مظاہرین کو رہا بھی کردیا گیا۔ ممبئی میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر رہا لیکن اسکول، کالج، اور عوامی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق ہی رواں دواں تھے اس کے ساتھ ہی ممبئی کے کرلا علاقہ میں خواتین مظاہرین نے سڑکوں پر اتر کر نیٹ پرچہ لیک کے معاملہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک جام کردیا جس کے سبب ٹریفک نظام متاثر ہو گیا بعد ازاں پولس نے خواتین کو سڑک پر ہٹایا اور معمولات زندگی پٹری پر آگئی۔ ممبئی کے مختلف علاقوں میں مہاراشٹر بند سے عام نظام متاثر ہوا شیواجی پارک میں ٹھاکرے برادران اور امیت اور ادیتہ ٹھاکرے نے بھی احتجاجی مظاہرین کی حمایت کی ہے جبکہ اب ٹھاکرے براداران نے پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ ۲۶ جولائی کو مارچ کریں گے اگر اس دوران کسی نے بھی گڑبڑی پیدا کرنے یا دلی کے طرز پر پتھراؤ یا تشدد برپا کرنے کی کوشش کی تو انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایم این ایس اسے جواب دے گی اس کے ساتھ ہی راج ٹھاکرے نے پرامن احتجاج نکالنے کا اعلان کیا ہے اور سرکار کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس احتجاج میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ آج احتجاجی مظاہرہ کے دوران کئی مظاہرین اور لیڈران کو زیر حراست لیا گیا۔

طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی پولس ڈرائیور کی دھمکی :
طلبا کو ڈرگس کیس میں پھنسانے کی شیواجی پارک میں دھمکی کی ویڈیوُ وائرل ہونے کے بعد اس معاملہ میں کانسیٹل کے خلاف انکوائری شروع ہو گئی ہے اور اس معاملہ میں وزیر اعلیٰ دیویندرفڑنویس نے کہا ہے کہ کانسٹبل کے انکوائری جاری ہے اور اسے یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے اس معاملہ میں ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ افسوسناک ہے۔ دیویندرفڑنویس نے کہا کہ اس احتجاجی مظاہرہ کی آڑ میں ادھو ٹھاکرے اپنے وجود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی ادھو ٹھاکرے کی سرکار میں پرچہ لیک ہوا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی مودک ساگر جھیل بھی چھلک گئی، تمام 7 جھیلوں میں 69.74 فیصد کی گنجائش کے ساتھ پانی کا کل ذخیرہ ہے۔

Published

on

Modak Sagar Lake

ممبئی : مودک ساگر جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (23 جولائی 2026) کو صبح 2:07 بجے بہنا شروع ہوئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ جھیل کا ایک گیٹ کھول دیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے جھیلوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل، شدید بارش کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مودک ساگر جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی گنجائش جو آج رات سے بہنے لگی 12,892.5 کروڑ لیٹر (128,925 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سالوں میں مودک ساگر جھیل 9 جولائی 2025، 25 جولائی 2024 اور 27 جولائی 2023 کو بہنے لگی۔

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والے سات ڈیموں کی کل زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 1,44,736.3 کروڑ لیٹر (1,447,363 ملین لیٹر) ہے۔ آج صبح 6:00 بجے پڑھنے تک، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ 1,00,943.2 کروڑ لیٹر (1,009,432 ملین لیٹر) ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ جھیلوں کی زیادہ سے زیادہ پانی رکھنے کی صلاحیت کا 69.74 فیصد ہے، جو کہ 1,447,363 ملین لیٹر ہے۔

اضافی معلومات
1) مودک ساگر پروجیکٹ، تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں دریائے ویترنا پر تعمیر کیا گیا، ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کی پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والا ایک کلیدی پانی کا ذریعہ ہے۔
2) اس پروجیکٹ کی تعمیر 1954 میں مکمل ہوئی تھی، اور اس کا انتظام ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتظامیہ کرتا ہے۔
3) ممبئی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس پروجیکٹ کے ڈھانچے کی لمبائی 548.64 میٹر اور اونچائی 82.296 میٹر ہے۔
4) کل کیچمنٹ ایریا 450.625 مربع کلومیٹر ہے، اور یہ ممبئی کو فراہم کی جانے والی کل پانی کی فراہمی میں 11.22 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔
5) بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے مودک ساگر جھیل آج سے بہنے لگی ہے۔ اس مون سون کے موسم سے پہلے، تانسا جھیل 22 جولائی، 2026 کو صبح 8:51 پر بہنا شروع ہوئی۔ ‘وہار’ جھیل 7 جولائی، 2026 کو رات 9:00 بجے چھلکنا شروع ہوئی، اور ‘تلسی’ جھیل بھی اسی دن رات 11:43 پر بہنے لگی (2026) اس طرح، 23 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے چار بھری ہوئی اور بہہ چکی ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان