Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی

Published

on

بے شک اسلام ایک بہترین مذہب ہے اور مسلمان ایک بدترین قوم. مذکورہ جملہ شکسپئر نے کہا تھا. آج جو حالات ہمارے سامنے ہیں. اس سے مسلمانوں کی بدبختی ظاہر ہورہی ہیں. ایک ہمارے اجداد تھے جن کے کردار و عمل سے غیر قوم مشرف بہ اسلام ہوتے تھے. آج ہم کردار کے غازی نہیں ہے. جس کا سراسر الزام والدین پر عائد ہوتا ہے. آج والدین کے پاس اولاد کے لئے وقت نہیں ہے. موبائل انٹرنیٹ سے منسلک ہوکر ہم نے بے حیائی کے سمندر کو اپنا مسکن بنالیا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج ہماری اولاد بھی فحاشیت اور گندگی کے اسی دلدل میں دھنستی جارہی ہیں. پہلے لوگ اپنی تسکین کے لئے کوٹھے پر جایا کرتے تھے جہاں طوائفیں ان کی دلجوئی کرتی تھیں مگر ہمیں یہ لکھتے ہوئے عار محسوس ہورہی ہیں کہ مغربی کی اندھی تقلید میں ہمارے نوجوان اور بنت حوا نے کوٹھے کی طوائف سے زیادہ خود کو سستا کردیا ہے. یہ طوائفیں پیسے کے لئے اپنے جسم کا سودا کرتی تھیں مگر آج ابن بنت حوا اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لئے ابن آدم کو اپنا جسم سونپتی ہیں. قارئین اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ بھیونڈی شہر جو کہ مہاراشٹر کا مانچسٹر کہلاتا ہے. اس شہر کی ایک ادبی شناخت ہیں. اس شہر کے ایک بیٹے اور بیٹی نے آج امت مسلمہ کو شرمسار کردیا ہے. واقعہ یوں ہے کہ کلمب گاؤں کے سابق سرپنچ فائق بھائی احمد خان کی بھانجی “انشاء” کا رشتہ بھیونڈی بھوسار محلہ کے ساکن “تمثیل انور کھوٹے” کے ساتھ طے ہوا تھا. مگر تقدیر کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں. عین نکاح کے ایک دن قبل ایک فون کال نے کلمب گاؤں میں دلہن کے گھر ہلچل مچادی. بات ہی اتنی شرمناک تھی کہ کسی کو یقین ہی نہیں ہورہا تھا.

دلہن کے گھر والوں کے مطابق لڑکے تمثیل کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز رشتہ تھا, اور بات حدسے آگے بڑھ گئی تھی. اس خبر کو سن کر سب پریشان تھے. کیونکہ انشاء کے ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن کا رشتہ تلوجہ کے ساکن ذیشان شریف خان سے طے ہوا تھا, اور والدین دونوں بیٹیوں کے فرض سے ایک ساتھ سبکدوش ہونا چاہتے تھے. دونوں بہنوں کی مہندی رسم بھی ہوچکی تھی. اہل خانہ کشمکش میں تھے تبھی جس لڑکی سے تمثیل کھوٹے کے ناجائز تعلقات تھے اس لڑکی کا فون آیا اور وہ ڈرانے دھمکانے لگ گئی. اب کوئی آنکھوں دیکھی مکھی نگھل نہیں سکتا ایک بیٹی کی زندگی کا سوال تھا. جو بسنے سے پہلے اجڑ رہی تھی. ایک تو ہمارے سماج کا قاعدہ ہی غلط ہے اگر کسی لڑکی کا رشتہ یا منگنی ٹوٹ جائے تو چاہے غلطی لڑکے کی ہو سارا الزام لڑکی کے سر منڈھ دیا جاتا ہے. یہ تو سراسر بارات لوٹانے والی بات تھی. مگر سابق سرپنچ فائق خان کے گھر والوں نے ہر بات کو بالائے طاق رکھ کر بارات روکنے اور رشتہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا-

جس کے بعد گاؤں میں ہر طرف سناٹا چھاگیا. اب تک جہاں شہنائیاں بج رہی تھیں. وہاں اب ماتمی لہر پھیل گئی. دکھ سبھی مہمانوں, رشتےداروں اور گاؤں کے نوجوانوں کے چہروں پر صاف جھلک رہا تھا. جس منڈپ میں کھڑے تھے وہاں پر ہر طرف مایوسی اور غم کے بادل چھائے تھے.

اچانک گاؤں کے نوجوانوں نے اور ذمہ داران نے فیصلہ کیا کہ گاؤں سے جو بھی لڑکا اس بچی سے نکاح کرنے کو تیار ہو جائے اس نکاح کے لیے گھر والوں کو راضی کیا جائے گا اور کل صبح جامع مسجد کلمب گاؤں میں نکاح منعقد کیا جائے گا-

کسی کو بھی پتہ نہیں تھا جس منڈپ میں چائے پان کی محفل میں جو لڑکا مہمانوں کو چائے بانٹ رہا تھا اسی نوجوان کے گھر والوں کو نکاح کے لیے راضی کر لیا جائیگا اور آج صبح اللہ کے رحم و کرم سے اور سب کی دعا سے اس بچی کا نکاح اس لڑکے سے ہوگیا. کلمب گاؤں کی مشہور شخصیت اور تنٹا مکت سمیتی کے صدر “ایوب کوئلکر” کے صاحبزادے “معراج” اور “انشاء” رشتہ ازداج میں بندھ گئے.

اللہ رب العزت اس جوڑے کو اور اس نکاح کو قبول کریں اور انہیں اپنے رحم و کرم سے نوازے….
اس کار خیر میں جن نوجوانوں نے اور ذمہ داروں نے اس رشتے کو جوڑنے کی کوشش کی ہے اللہ ان سبھی کی جائز حاجتوں کو پورا کریں..
اللہ امت کے اتفاق اور اتحاد کو قبول کریں. آمین

نامہ نگار نے جب دلہن انشاء کے اہل خانہ سے اس پورے معاملے کے بارے میں جاننا چاہا تو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فائق خان نے کہا کے بیشک الله سب سے بہتر پلانر ہے. الله جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے. اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے اگر ہم نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہوتا تو ہماری معصوم بچی کی زندگی جہنّم بن جاتی. ہمارے احساسات کا کھلواڑ کرنے والوں پر سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہئے جس سے سبق لیکر کوئی بھی کسی کی اولاد کے ساتھ ایسا کھلواڑ ناکر سکے-

“دلہن کے دادا نے اپنی بات رکھتے ہوئے نم آنکھوں سے سماج سے اپیل کی ہے کہ اپنی پھول جیسی اولاد کا نکاح کرتے وقت دولت, شہرت, تعلیم سے زیادہ دینی معاملات کو مدنظر رکھے اگر وہ لڑکا دینی خیالات سے وابستہ ہوتا تو الله اور آخرت کے ڈر سے حرام کاری کی طرف مائل نہ ہوتا”
ساتھ ہی ساتھ انہوں نے حکومت سے ذمے دار افراد کے خلاف سختی سے نپٹنے کی مانگ کی-

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان