Connect with us
Monday,22-June-2026

جرم

بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی

Published

on

بے شک اسلام ایک بہترین مذہب ہے اور مسلمان ایک بدترین قوم. مذکورہ جملہ شکسپئر نے کہا تھا. آج جو حالات ہمارے سامنے ہیں. اس سے مسلمانوں کی بدبختی ظاہر ہورہی ہیں. ایک ہمارے اجداد تھے جن کے کردار و عمل سے غیر قوم مشرف بہ اسلام ہوتے تھے. آج ہم کردار کے غازی نہیں ہے. جس کا سراسر الزام والدین پر عائد ہوتا ہے. آج والدین کے پاس اولاد کے لئے وقت نہیں ہے. موبائل انٹرنیٹ سے منسلک ہوکر ہم نے بے حیائی کے سمندر کو اپنا مسکن بنالیا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج ہماری اولاد بھی فحاشیت اور گندگی کے اسی دلدل میں دھنستی جارہی ہیں. پہلے لوگ اپنی تسکین کے لئے کوٹھے پر جایا کرتے تھے جہاں طوائفیں ان کی دلجوئی کرتی تھیں مگر ہمیں یہ لکھتے ہوئے عار محسوس ہورہی ہیں کہ مغربی کی اندھی تقلید میں ہمارے نوجوان اور بنت حوا نے کوٹھے کی طوائف سے زیادہ خود کو سستا کردیا ہے. یہ طوائفیں پیسے کے لئے اپنے جسم کا سودا کرتی تھیں مگر آج ابن بنت حوا اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لئے ابن آدم کو اپنا جسم سونپتی ہیں. قارئین اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ بھیونڈی شہر جو کہ مہاراشٹر کا مانچسٹر کہلاتا ہے. اس شہر کی ایک ادبی شناخت ہیں. اس شہر کے ایک بیٹے اور بیٹی نے آج امت مسلمہ کو شرمسار کردیا ہے. واقعہ یوں ہے کہ کلمب گاؤں کے سابق سرپنچ فائق بھائی احمد خان کی بھانجی “انشاء” کا رشتہ بھیونڈی بھوسار محلہ کے ساکن “تمثیل انور کھوٹے” کے ساتھ طے ہوا تھا. مگر تقدیر کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں. عین نکاح کے ایک دن قبل ایک فون کال نے کلمب گاؤں میں دلہن کے گھر ہلچل مچادی. بات ہی اتنی شرمناک تھی کہ کسی کو یقین ہی نہیں ہورہا تھا.

دلہن کے گھر والوں کے مطابق لڑکے تمثیل کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز رشتہ تھا, اور بات حدسے آگے بڑھ گئی تھی. اس خبر کو سن کر سب پریشان تھے. کیونکہ انشاء کے ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن کا رشتہ تلوجہ کے ساکن ذیشان شریف خان سے طے ہوا تھا, اور والدین دونوں بیٹیوں کے فرض سے ایک ساتھ سبکدوش ہونا چاہتے تھے. دونوں بہنوں کی مہندی رسم بھی ہوچکی تھی. اہل خانہ کشمکش میں تھے تبھی جس لڑکی سے تمثیل کھوٹے کے ناجائز تعلقات تھے اس لڑکی کا فون آیا اور وہ ڈرانے دھمکانے لگ گئی. اب کوئی آنکھوں دیکھی مکھی نگھل نہیں سکتا ایک بیٹی کی زندگی کا سوال تھا. جو بسنے سے پہلے اجڑ رہی تھی. ایک تو ہمارے سماج کا قاعدہ ہی غلط ہے اگر کسی لڑکی کا رشتہ یا منگنی ٹوٹ جائے تو چاہے غلطی لڑکے کی ہو سارا الزام لڑکی کے سر منڈھ دیا جاتا ہے. یہ تو سراسر بارات لوٹانے والی بات تھی. مگر سابق سرپنچ فائق خان کے گھر والوں نے ہر بات کو بالائے طاق رکھ کر بارات روکنے اور رشتہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا-

جس کے بعد گاؤں میں ہر طرف سناٹا چھاگیا. اب تک جہاں شہنائیاں بج رہی تھیں. وہاں اب ماتمی لہر پھیل گئی. دکھ سبھی مہمانوں, رشتےداروں اور گاؤں کے نوجوانوں کے چہروں پر صاف جھلک رہا تھا. جس منڈپ میں کھڑے تھے وہاں پر ہر طرف مایوسی اور غم کے بادل چھائے تھے.

اچانک گاؤں کے نوجوانوں نے اور ذمہ داران نے فیصلہ کیا کہ گاؤں سے جو بھی لڑکا اس بچی سے نکاح کرنے کو تیار ہو جائے اس نکاح کے لیے گھر والوں کو راضی کیا جائے گا اور کل صبح جامع مسجد کلمب گاؤں میں نکاح منعقد کیا جائے گا-

کسی کو بھی پتہ نہیں تھا جس منڈپ میں چائے پان کی محفل میں جو لڑکا مہمانوں کو چائے بانٹ رہا تھا اسی نوجوان کے گھر والوں کو نکاح کے لیے راضی کر لیا جائیگا اور آج صبح اللہ کے رحم و کرم سے اور سب کی دعا سے اس بچی کا نکاح اس لڑکے سے ہوگیا. کلمب گاؤں کی مشہور شخصیت اور تنٹا مکت سمیتی کے صدر “ایوب کوئلکر” کے صاحبزادے “معراج” اور “انشاء” رشتہ ازداج میں بندھ گئے.

اللہ رب العزت اس جوڑے کو اور اس نکاح کو قبول کریں اور انہیں اپنے رحم و کرم سے نوازے….
اس کار خیر میں جن نوجوانوں نے اور ذمہ داروں نے اس رشتے کو جوڑنے کی کوشش کی ہے اللہ ان سبھی کی جائز حاجتوں کو پورا کریں..
اللہ امت کے اتفاق اور اتحاد کو قبول کریں. آمین

نامہ نگار نے جب دلہن انشاء کے اہل خانہ سے اس پورے معاملے کے بارے میں جاننا چاہا تو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فائق خان نے کہا کے بیشک الله سب سے بہتر پلانر ہے. الله جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے. اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے اگر ہم نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہوتا تو ہماری معصوم بچی کی زندگی جہنّم بن جاتی. ہمارے احساسات کا کھلواڑ کرنے والوں پر سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہئے جس سے سبق لیکر کوئی بھی کسی کی اولاد کے ساتھ ایسا کھلواڑ ناکر سکے-

“دلہن کے دادا نے اپنی بات رکھتے ہوئے نم آنکھوں سے سماج سے اپیل کی ہے کہ اپنی پھول جیسی اولاد کا نکاح کرتے وقت دولت, شہرت, تعلیم سے زیادہ دینی معاملات کو مدنظر رکھے اگر وہ لڑکا دینی خیالات سے وابستہ ہوتا تو الله اور آخرت کے ڈر سے حرام کاری کی طرف مائل نہ ہوتا”
ساتھ ہی ساتھ انہوں نے حکومت سے ذمے دار افراد کے خلاف سختی سے نپٹنے کی مانگ کی-

تفریح

فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے زیورات چوری ہو گئے۔

Published

on

ممبئی میں فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے کرائے کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کی شکایت کے مطابق ریا کپور کے میک اپ آرٹسٹ کے ہینڈ بیگ سے ₹ 1.35 کروڑ مالیت کی ہیروں سے جڑی بالیاں اس وقت چوری ہوئیں جب وہ نیویارک میں ایک فیشن شو میں جا رہی تھیں۔ بالیاں ممبئی کے مہتا اینڈ گوینکا جیولرز سے کرائے پر لی گئی تھیں۔ ممبئی کے معروف میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ نے گزشتہ سات سالوں سے ریا انیل کپور کے ساتھ کام کیا ہے۔ ریا کپور کو 29 اپریل کو نیویارک میں ہونے والے ’’نیٹ گالا‘‘ فیشن شو ایونٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔

ممبئی کے مہتا جیولرز اور گوینکا جیولرز سے ریا کپور کے ساتھ ان کی میک اپ ٹیم کے ساتھ مہنگی بالیوں کے دو جوڑے کرائے پر لیے گئے تھے۔ سویلین سنگھ نے ان ڈبوں کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا تھا۔ سبھی نے 27 اپریل کی رات 10:25 بجے ایمریٹس کی پرواز سے ممبئی سے اڑان بھری۔ یہ ٹیم 28 اپریل کی شام 5:30 بجے ممبئی سے نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پہنچی۔ وہاں سے سب ہوٹل پیئر نیویارک میں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

جب سویلین سنگھ نے ٹیم کی ایک رکن شیریں کو بالیاں دینے کے لیے ڈبوں کو کھولا تو انھیں خالی پایا۔ مہتا جیولرز سے زمرد کے پتھر کی ہیرے کی سونے کی بالیاں، جن کی مالیت 6.6 ملین روپے ہے، اور گوئنکا جیولرز سے زیمبیائی پتھر کی گولڈ بارڈر والی بالیاں، جن کی مالیت ₹6.9 ملین تھی۔ ممبئی واپس آنے پر، سویلین سنگھ نے سہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ ریا کپور کی ٹیم کے ساتھ نیویارک جا رہا تھا جب 1.35 کروڑ روپے کی کرائے کی بالیاں چوری ہو گئیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کی پوری ٹائم لائن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ممبئی پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری ممبئی کے ہوائی اڈے پر، فلائٹ میں ہوئی یا نیویارک پہنچنے کے بعد۔

Continue Reading

تفریح

سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

Published

on

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔

اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔

4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔

تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔

Continue Reading

تفریح

دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔

فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔

اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔

’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان