Connect with us
Monday,02-November-2026

(جنرل (عام

جمعیۃ کی قانونی چارہ جوئی سے دہلی فساد سے متعلق ڈیرھ سو سے زائد مقدمات میں ضمانت

Published

on

Jamiat-Ulema-i-Hind

شمال مشرقی دہلی فساد کے الزام میں دس ماہ سے قیدِ افراد میں سے کل گزشتہ مصطفی باد کے شاہ رخ (ایف آئی آرنمبر 113/2020 گو کل پوری تھانہ) اسی طرح محمد طاہر (ایف آئی آر نمبر 138/2020 گو کل پوری تھانہ) کو کر کر ڈوما کورٹ میں جسٹس ونود یادو نے ضمانت پر رہا ہونے کا حکم دیا۔ یہ اطلاع جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق عدالت نے صاف لفظوں میں کہا کہ ان کے خلاف بادی النظر میں کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ دہلی کورٹ نے اسی ہفتے متعد دبے قصور لوگوں کو ضمانت پر رہانے کرنے کا حکم دیا ہے جس میں خالد مصطفی، اشرف علی، محمد سلمان سمیت بڑی تعداد میں بے قصور لوگ ہیں۔ یہ سارے افراد جمعیۃ علماء ہند کی قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔

دریں اثناء جمعیۃ علماء ہند کے مقرر کردہ وکلاء ایڈوکیٹ محمد نوراللہ، ایڈوکیٹ شمیم اختراور ایڈوکیٹ سلیم ملک کی پیروی سے مختلف عدالتوں سے تاحال 161 مقدمات میں ضمانت ملی ہے، ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں عدالتوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ان کے خلاف پولس کوئی قابل توجہ ثبوت جمع کرنے میں کامیاب نہیں رہی ہے، ان لوگوں کو خانہ پری کے لیے فساد کے دو دو ماہ بعد ان کے گھروں سے جبریہ اٹھایا گیااور جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔

دہلی فساد سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے قا نونی معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ پچھلے ماہ کردم پوری کے رہنے والے 28 سالہ شاہ رخ کو ضمانت ملی، وہ رکشہ چلا کر اپنے گھر کا خرچ اٹھاتا ہے، دہلی فساد کے بعد ۳/ اپریل کو اسے کردم پوری پلیہ سے پولس نے اٹھا لیا تھا اور اس پر قتل سمیت متعدد مقدمات عائد کردیے تھے، وہ دس ماہ تک بند رہا، اس کے اہل خانہ جمعیۃ علماء کے دفتر آتے تھے، ان کے پاس یہاں آنے تک کا کرایہ نہیں ہو تا تھا۔ شاہ رخ کو 31/دسمبر ۰۲۰۲ء کو دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سریش کیٹ نے اپنے فیصلہ میں ضمانت دیتے ہوئے کہا وہ نہ تو وہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہا ہے اور نہ ہی اس کی کال ڈیٹیل ریکارڈ جائے وار دات میں ہونے کو بتلار ہا ہے، اسے محض ایک شخص کی گواہی پر پکڑ لیا گیا۔

ایڈوکیٹ نیاز فاروقی نے بتایا کہ ہمارے پاس جتنے بھی مقدمات ہیں ان میں زیاد ہ تر افراد نہ صرف بے قصور ہیں بلکہ انتہائی غریب اور حالات کے مارے ہیں، آج ان کے گھروں میں چراغ جلانے جیسے حالات نہیں ہیں، انکے گھر کا تنہا کمانے والا دہلی پولس کی غلط سوچ کی بنیاد پر مہینوں سے بندہیں جس نے مزید حالات ابتر کر دیے۔ جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا عزم ہے کہ ضمانت حتمی منزل نہیں ہے بلکہ ان کو مقدمات کے چنگل سے آزاد کرانے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی نہور میں دعوت طعام میں باراتی غذائی سمیت کا شکار، پولس تفتیش جاری، ایف ڈی اے نے نمونہ حاصل کیا

Published

on

ممبئی نہور شادی کی تقریب میں دعوت طعام کے دوران ۷۰ سے ۸۰ باراتی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے اس معاملہ میں ایف ڈی اے نے غذا کا سیمپل نمونہ حاصل کر لیا ہے اور پولس نے اس بھی اس معاملہ میں تفتیش شروع کرتی ہے غذائی رپورٹ کے معاملہ پولس اس معاملہ میں مقدمہ درج کرے گی اس کی تصدیق یہاں ڈی سی پی ابھئے سنہا دیشمکھ نے کی ہے یکم نومبر 2026 کو ناہور ویسٹ میں واقع نالندہ بدھ وہار ہال میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں تقریباً 400 سے 500 افراد نے شرکت کی۔شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 70 سے 100 کے درمیان افرادجنہوں نے کھانے کے آخری دور میں شرکت کی تھی فوڈ پوائزننگ (غذائی زہر) کا شکار ہو گئے۔ علامات ظاہر ہونے پر انہیں طبی علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ ان میں سے 22 افراد کو ملنڈ کے اگروال ہسپتال، 4 بچوں کو ملنڈکے ہی کامگار ہسپتال، اور 5 افراد کو وکھرولی کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ تمام مریضوں کی حالت فی الحال مستحکم ہے اور وہ زیرِ علاج ہیں۔ متعلقہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضروری کارروائی کر رہے ہیں۔پولس اس معاملہ میں جلد ہی ایف آئی آر درج کرے گی ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں پولس کی مستعدی سے ایک نوجوان کو سمندر سے بحفاظت باہر نکالا گیا

Published

on

ممبئی میں ایک مستعد پولیس سب انسپکٹر (پی ایس آئی ) نے خودکشی کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو بچا لیاپولیس افسر کی بروقت مداخلت سے ایک قیمتی جان بچانے میں مدد ملی۔ ۲ نومبر کو سمندر میں خودکشی کی کوشش کرنے والے ایک شخص کی ممبئی پولس نے جان بچائی ہے ۲ نومبر کو رات ۱۲ بجے کے بعد، ممبئی پولیس کنٹرول روم کے ذریعے ایک اطلاع موصول ہوئی کہ ورلی کولیواڑا (ورلی کولیواڑا) کے علاقے میں ایک شخص خودکشی کی نیت سے سمندر میں اتر گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی، پولیس کانسٹیبل نمبر پوار (بیٹ مارشل1) اور سب انسپکٹر فوری طور پر ورلی کولیواڑا میں مذکورہ مقام پر پہنچے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے دیکھا کہ ایک شخص سمندر میں موجود ہے۔ اس بات کا احساس ہوتے ہوئے کہ اس شخص کی جان خطرے میں ہے، کانسٹیبل پوار اور میں پانی میں اترے اور اسے باہر نکالنے کے لیے کارروائی کی۔ ہماری کوششوں کے نتیجے میں، اس شخص کو بحفاظت سمندر سے نکال لیا گیا۔ بعد ازاں، ہم نے اس شخص کی شناخت معلوم کی اور واقعے سے متعلق ضروری تفصیلات جمع کیں۔ اس شخص کی جسمانی حالت کا بھی جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے کہ اسے فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔ ہماری بروقت آمد اور فوری کارروائی کی بدولت ایک ممکنہ جانی نقصان کو روکا جا سکا۔ یہ اطلاع سینئر پولیس انسپکٹر،بالکرشنا گھڈی گاؤنکر،
دادار پولیس اسٹیشن، ممبئی نے دی ہے ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بنگلہ دیش میں 274 کم سن لڑکے جنسی زیادتی کا شکار: زیادہ تر واقعات مدارس میں پیش آئے

Published

on

پیرس : بنگلہ دیش بھر میں 199 واقعات میں کم از کم 274 نابالغ لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے زیادہ تر متاثرین مدرسے کے طالب علم تھے، انسانی حقوق کی ایک سرکردہ بین الاقوامی تنظیم نے ملک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے خطرناک پیمانے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔ اپنی دس ماہ کی مانیٹرنگ رپورٹ میں، جسٹس میکرز بنگلہ دیش ان فرانس (جے ایم بی ایف) نے بتایا کہ یکم جنوری سے 31 اکتوبر 2026 کے درمیان ریکارڈ کیے گئے واقعات کلاس رومز، رہائشی اداروں، گھروں اور محلوں میں پیش آئے، بچوں کے ساتھ اکثر ایسے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کا نشانہ بنتے ہیں جنہیں وہ جانتے تھے یا جن پر اعتماد کیا جاتا تھا۔ اس نے نوٹ کیا کہ بہت سے بچوں کے تجربات کبھی عوامی نہیں ہوتے ہیں، اور اصل پیمانہ کافی حد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔

نتائج کے مطابق، 183 واقعات میں عصمت دری کے الزامات شامل ہیں جن میں 257 بچوں کو متاثر کیا گیا، جبکہ بنگلہ دیش کے تمام 8 ڈویژنوں کے 61 اضلاع میں 17 بچوں کے خلاف 16 واقعات میں زیادتی کی کوشش کی گئی۔ مبینہ طور پر جنسی تشدد کے بعد بچوں کی موت کے نتیجے میں پانچ واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 67 واقعات میں 136 بچوں کو بار بار زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ ریکارڈ کیے گئے متاثرین میں سے تقریباً نصف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 121 واقعات میں مدرسے کے طلباء نے 180 متاثرین کا حصہ بنایا، جو کہ ریکارڈ کیے گئے متاثرین کا 65.7 فیصد بنتا ہے۔ 100 واقعات میں مدارس کو زیادتی کے مقامات کے طور پر شناخت کیا گیا جن میں 158 متاثرین شامل تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مدرسہ کے اساتذہ کو 93 واقعات میں ملزم نامزد کیا گیا جن میں 131 متاثرین شامل تھے۔ اس نے 115 ملزمان کے اندراجات درج کیے جن میں مدرسہ کے اساتذہ شامل تھے، جو تمام ملزمان کا 49.4 فیصد بنتے ہیں۔ مزید برآں، مدرسہ کے اساتذہ، طلباء اور مذہبی رہنماؤں کو اجتماعی طور پر 107 واقعات میں مبینہ طور پر مجرم قرار دیا گیا جن میں 150 متاثرین شامل تھے۔ جے ایم بی ایف کے بانی صدر شاہنور اسلام نے کہا، “ان میں سے ہر ایک بچہ محفوظ رہنے کا مستحق ہے۔ جو بچہ بدسلوکی کے بارے میں بات کرنے کی ہمت رکھتا ہے اسے سنا اور محفوظ کیا جانا چاہیے — اسے دھمکیاں، خاموش یا خطرے میں نہیں بھیجا جانا چاہیے۔ یہ انتہائی پریشان کن ہے کہ کچھ لوگوں کو بچوں کی تعلیم اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی،” جے ایم بی ایف کے بانی صدر شاہنور اسلام نے کہا۔

“کسی بھی ادارے کی ساکھ بچے کی حفاظت سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ جو بھی بچے کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، جرم چھپاتا ہے یا خاندان پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے، اسے تفتیش کا سامنا کرنا چاہیے اور جہاں ذمہ داری قائم ہو، قانونی احتساب ہو۔ گرفتاریاں ردعمل کا خاتمہ نہیں ہو سکتیں۔ بچوں کو علاج کی ضرورت ہے، جس پر وہ بھروسہ کر سکیں، اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے تعاون کریں اور انصاف کے عمل سے انھیں مزید نقصان نہ پہنچے”۔ جے ایم بی ایف نے بنگلہ دیشی حکام پر زور دیا کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں، مکمل تحقیقات کو یقینی بنائیں اور بدسلوکی یا اسے چھپانے کے ذمہ داروں کے لیے جوابدہی یقینی بنائیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان