Connect with us
Monday,05-October-2026
تازہ خبریں

سیاست

آسام : سی ایم او کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ کی جعلی اور تبدیل شدہ اے آئی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

Published

on

گوہاٹی : آسام کے وزیر اعلی کے دفتر (سی ایم او) نے سوشل میڈیا پر وزیر اعلی ہمنتا بسوا سرما کی مبینہ طور پر جعلی اور ڈیجیٹل طور پر ہیرا پھیری والی تصویر کی گردش پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور کہا ہے کہ یہ مواد مصنوعی طور پر تیار کیا گیا تھا اور جان بوجھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ وزیر کے دفتر، آسام نے سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر @ہمنتابسوا کی مکمل طور پر جعلی اور مورف شدہ تصویر کی گردش کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تصویر پوری طرح سے من گھڑت ہے اور اس کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے،” سی ایم او نے بیان میں کہا۔ وزیر اعلیٰ کی تصویر۔

سی ایم او نے کہا کہ واقعہ کے سلسلے میں ایک مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور یہ کہ من گھڑت تصویر بنانے اور پھیلانے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔ “من گھڑت مواد بنانے اور پھیلانے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔” بیان میں کہا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے متنبہ کیا کہ ہیرا پھیری کے ذریعے ڈیجیٹل مواد کی تخلیق اور پھیلاؤ سنگین طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن ڈیجیٹل مواد کو غلط طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔ اس طرح کے مواد کو عوام میں غلط تاثر پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سی ایم او نے کہا کہ مبینہ مہم میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ مواد کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ، حکام نے صارفین پر تیزی سے زور دیا ہے کہ وہ معلومات کو شیئر کرنے یا دوبارہ پوسٹ کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔

آسام کے سی ایم او نے سوشل میڈیا صارفین سے بھی اپیل کی کہ وہ احتیاط برتیں اور وزیر اعلیٰ یا ریاستی حکومت سے متعلق غیر تصدیق شدہ مواد کو بڑھانے سے گریز کریں۔ اس نے خاص طور پر ان لوگوں پر زور دیا جنہوں نے پہلے ہی اس تصویر کو شیئر یا دوبارہ پوسٹ کیا ہے کہ وہ اس کی صداقت کی تصدیق کریں اور مواد کی مزید گردش سے گریز کریں۔ سی ایم او نے برقرار رکھا کہ اس طرح کے من گھڑت مواد کو بغیر کسی حقیقت کی بنیاد کے الجھن پیدا کرنے اور عوامی تاثرات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دفتر نے شہریوں سے اپنی اپیل کا اعادہ کیا کہ وہ تصدیق شدہ ذرائع پر بھروسہ کریں اور مواد کو آن لائن استعمال اور شیئر کرتے وقت صوابدید کا استعمال کریں۔ حکام اس معاملے میں قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، سی ایم او کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر من گھڑت تصویر بنانے اور پھیلانے کے ذمہ دار پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی جعلی اے پی کے فائلس کے ذریعے بزرگ شہریوں اور دیگر شہریوں کو دھوکہ دینے والا گرفتار

Published

on

ممبئی ۱۳ اگست کو 72 سالہ بزرگ شہری سن رسیدہ کو نامعلوم موبائل ہولڈر نے فون کرکے بینک آف انڈیا کا سینئر منیجر دنیش کمار ہونے کا جھانسہ دے کر اور سینئر سٹیزن کارڈ بنا کر بنانے کا وعدہ کر اعتماد حاصل کر شکایت کنندہ کے واٹس ایپ پر سینئر سٹیزن کارڈ http://Verification.apk نام کی اے پی کے فائل بھیج کر اس میں شکایت کنندہ کی ذاتی اوربینک کے ڈیبٹ کارڈ کی معلومات بھرنے پر مجبور کرکے شکایت کنندہ کے کل 5,62,000/- روپے کی دھوکہ دہی کرکے غبن کرنے کے معاملے میں بھائیکلہ پولیس اسٹیشن 497/26 دفعہ 318(4)، 319(2) بی این ایس دفعہ 66(ک) (ڈ) انفارمیشن و ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت جرم درج کیاتھا۔ مذکورہ جرم کی متوازی تفتیش پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کر رہی تھی سینئرز کے حکم کے مطابق مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کرائم برانچ کو منتقل ہو کر 927/2026 کے تحت دوبارہ درج کر جرم کی تفتیش کی گئی۔مذکورہ جرم میں مذکورہ اے پی کے فائل کی گہری تکنیکی تفتیش کی گئی اور ملزم کا سراغ لگایا گیا اور جعلی APK فائل ڈیولپ کرنے والے ایک مرد ملزم عمر36 سال، سافٹ ویئر ڈیولپر، رہائشی ریاست مدھیہ پردیش سے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جرم میں گرفتار ملزم کے مدھیہ پردیش کے دفتر میں چھاپہ کارروائی کے دوران ملزم سے 1 پین ڈرائیو، 1 سی-پی-یو، 3 ہارڈ ڈسک، ایک وائی-فائی راؤٹر، 3 موبائل فون برآمد کرکے ان کی ابتدائی تکنیکی تفتیش میں ملزم مختلف سرور سروس پرووائیڈر کمپنی سے مختلف کمپنیوں کے سرور استعمال کر رہا تھا ایسا نظر آیا۔ جرم میں گرفتار ملزم نے بنائی ہوئی کل 2805 نقصان دہ اے پی کے فائلیں دیگر سائبر مجرموں کے گروہ کو فروخت کی ہیں ایسا تفتیش میں ثابت ہوا ہےمذکورہ 2805 اے پی کے فائلوں کے ذریعے بھارت میں کل 9673 لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ ان میں سے سائبر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر بھارت میں 1074، مہاراشٹر میں 143، ممبئی میں 36 شکایات درج ہیں اور ان کے کل 15,75,00,000/- روپے کی دھوکہ دہی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سے بھارت میں 88، مہاراشٹر میں 08، ممبئی میں 05 درج جرائم کا پردہ فاش ہو رہا ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی دیوین پولس کمشنر جوائنٹ پولس کمشنر انل کنبھارے، اور ایڈیشنل کرشنا کانت اپادھیائے، ڈی سی پی (جرائم)، راج تلک روشن، وکرائم برانچ نے اہم کارکردگی انجام دی ہے۔ڈی سی پی راج تلک روشن نے بتایا کہ بزرگوں کو بزرگوں کے کارڈ سازی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے کے معاملہ میں یہ کارروائی کی گئی ہے اس لئے وقتا فوقتا پولس اس متعلق بزرگوں میں بیداری بھی پیدا کرتی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پولیس سرکار اور معاشرہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں ، ممبئی پولیس کمشنر کے ہمراہ میٹنگ کے بعد وجیا راہٹکر کا دعوی

Published

on

ممبئی : خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سرکار پولیس اور معاشرہ کی ہے اس کیلئے قومی خواتین کمیشن بھی کوشاں ہے اس لئے آج ممبئی میں خواتین کمیشن نے دورہ کر کے ممبئی میں خواتین کے مسائل اور ان سے متعلق کیسوں اور اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے خواتین کمیشن کی قومی سر براہ وجیا راہٹکر نے کہا کہ ممبئی میں خواتین کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ویمنس اور چائلڈ ڈیسک کے ساتھ خواتین سے متعلق شکایات کے ازالہ کیلئے خواتین ہیلپ لائن کا بھی قائم عمل میں لایاگیا ہے۔ کمپیوں اور دیگر اداروں میں خواتین کی ہراسائی سے متعلق شکایت کیلئے پوس ایکٹ تیار کیا گیا ہے اس ایکٹ سے متعلق بھی بیداری کی ضرورت ہے دیگر ریاستوں کے مقابلے ممبئی اور ریاست میں خواتین زیادہ محفوظ ہے یہ دعوی وجیا راہٹکر نے کیا ہے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی اور پولیس کے اعلی افسران بھی اس اہم میٹنگ میں موجود تھے۔ وجیا راہٹکر نے کہا کہ ریاستی خواتین کمیشن اور دیگر کمیشنوں سے بھی مشترکہ میٹنگوں کا دورہ قومی کمیشن کا جاری رہتا ہے ایسے میں خواتین کے مسائل اور ان کو درپیش دقتوں سے متعلق بھی ممبئی پولیس سے تفصیلات طلب کی گئیں۔گھریلو حالات اور گھریلو ایکٹ سے متعلق بھی پولیس کی شکایات کے تصفیہ کے طریقہ کار پر بھی غور و خوص کیا گیا کیونکہ گھریلو معاملات میں اگر پولیس نے صحیح رہنمائی کی تو گھر محفوظ ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی سائبر جرائم میں خواتین سے متعلق ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق بھی تشویش کا اظہار خواتین کمیشن نے کیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے شکایت پر وجیا راہٹکر نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملات ہیں ایسے میں خواتین کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنانے کی ذمہ داری سرکار اور پولیس کی ہے اور معاشرہ کو بھی اس متعلق بیدار ہونا ہوگا انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات تشویشناک ہے یہ پوچھنے پر کہ پولیس پر بھی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں اس پر خواتین کمیشن نے اب تک کیا ایکشن یا کارروائی ہے جس پر وجیا راہٹکر نے کہا کہ دلی میں خواتین سے متعلق شکایت کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے اس لئے اس پر خواتین کمیشن کوئی تبصرہ کر نے سے قاصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس کی کارگزاریوں سے وجیا راہٹکر نے اطمینان کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ممبئی میں خواتین سے متعلق معاملات زیادہ نہیں ہے اور شکایات کا بھی ازالہ کر نے کا دعوی ممبئی پولیس کمشنر نے کیا ہے۔

Continue Reading

سیاست

ایم پی اودھیش پرساد کا دعویٰ: ’’صرف سماج وادی پارٹی ہی بی جے پی کو شکست دے سکتی ہے۔‘‘

Published

on

ایودھیا : سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے منگل کو کہا کہ واحد پارٹی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے سکتی ہے وہ سماج وادی پارٹی ہے، اور واحد لیڈر جو یہ کر سکتا ہے، وہ پارٹی کے سپریمو اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو تھے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرساد نے کہا، “یہ پوری طرح سے واضح ہو گیا ہے کہ اگر بھارت میں کوئی بھی پارٹی ہے تو صرف بھا رت پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے اور بھا رت پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کی صلاحیت ہے۔ وہ سماج وادی پارٹی ہے، اکھلیش یادو کے علاوہ، ملک میں کوئی دوسری پارٹی یا لیڈر نہیں ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے سکے۔ سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کوئی پریشانی یا کسی قسم کی بے چینی نہیں ہے تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہے۔

“انڈی اتحاد ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہے، اور ہمارے لیڈر اکھلیش یادو سیٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت بنتی ہے، تو وہ سیٹوں کی تعداد پر مبنی ہوگی جو ہم جیتتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ سبھی اس سے متفق ہوں گے؛ کوئی تنازعہ نہیں ہے،” انہوں نے مزید کہا۔ پرساد نے کہا کہ تقریباً ہزاروں ایس پی کارکنان اور یو ایس پی کے حمایتی ‘سی ای سی’ پردیش میں استعفیٰ دینے کا مطالبہ کریں گے۔ گیانیش کمار منگل کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اکھلیش یادو کی قیادت میں بدھ کو دہلی میں پارلیمنٹ کے مکر دوار سے الیکشن کمیشن تک مارچ بھی کریں گے۔”جمہوریت خطرے میں ہے، ایک ہی طریقہ یہ ہے کہ کوئی قوم کتنی مضبوط ہے، جمہوریت کتنی مضبوط ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک کا الیکشن کمیشن کتنا آزاد ہے، الیکشن کمیشن کتنا شفاف اور ایماندار ہے۔” الیکشن کمیشن جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا.

Continue Reading
Advertisement

رجحان