Connect with us
Sunday,30-November-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

آج 6 دسمبر یوم سیاہ پر بابری مسجد مسلمانوں کو آواز دے رہی ہیں

Published

on

babri-masjid

(وفا ناہید)
بابری مسجد قطعہ اراضی پر فیصلہ آئے آج 28 دن ہوگئے. حالانکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا. ناہی انصاف پر مبنی تھا. یہ فیصلہ سراسر آستھا کی بنیاد پر تھا. سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بھی جمہوریت کا قتل تھا. جمہوریت کا ایک بار قتل اس وقت ہوا تھا جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا. اتنا تو سب کو پتہ تھا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آئے گا. پھر بھی سپریم کورٹ پر , قانون پر مسلمانوں کو بھروسہ تھا. آخر مسلمانوں کے دل میں جلی آس کی وہ ننھی سی چنگاری بھی بجھ گئی. حالانکہ جمعیت علماء (ارشد مدنی) نے ریویو پٹیشن داخل کی ہے. مگر اس کا بھی وہی حشر ہوگا یہ ہم سب جانتے ہیں. جس ملک میں مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کیا جارہا ہے. اس ملک میں اس کی عبادت گاہوں کی حفاظت چہ معنی دارد. جس ملک کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں نے خون کی ندیاں بہا دی تھی. آج اسی ملک میں اس سے حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے. ان کی قدیم بابری مسجد پر ایک شازش کے تحت دھیرے دھیرے اس طرح شکنجہ کسا گیا کہ 6 دسمبر 1992 کے منحوس دن ایک منصوبہ بند شازش کے تحت بابری مسجد شہید کردی گئی. بابری مسجد شہادت کے بعد 92 ,93 کے فسادات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا. ان کی ماں بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا. اس جمہوری ملک میں جس طرح پرامن احتجاج پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا. وہ جمہوریت کی دھجیاں اڑانے کے لیے کافی تھا. آج پھر 6 دسمبر ہے یعنی یوم سیاہ. بابری مسجد شہادت کے بعد سے مسلمان 6 دسمبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں. مالیگاؤں میں مرحوم بزرگ رہنما ساتھی نہال احمد بازوؤں پر کالی فیت باندھ کر یوم سیاہ پر احتجاج کرتے تھے. مرحوم نے وصیت کی تھی کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے اس احتجاج کو بابری مسجد کی بازیابی تک جاری رکھا جائے . آج نہال احمد تو ہمارے درمیان نہیں ہے مگر بابری مسجد بچاؤ کمیٹی آج 6 دسمبر کو کالی فیت باندھ کر شہر میں 3 بج کر 45 منٹ پر اذان دے گی اور اپنا پرامن احتجاج کریں گی. یہاں ایک سوال قابل غور ہے کہ کچھ سیاسی و غیر سیاسی افراد اور کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہمیں قبول کرلینا چاہئے. ریویو پٹیشن سے صرف وقت ضائع ہوگا. اب ان احمقوں کی جنت میں رہتے والوں سے کون بولے کہ مسلمان جس جگہ مسجد بناکر نماز پڑھ لیں وہ جگہ تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے. مسجد اللہ کا گھر ہے. اب بابری مسجد میں لوگوں نے شیلانیاس کی یا مورتیاں رکھیں مگر ہے تو وہ مسجد ہی اور اس کی ایک اینٹ پر بھی کسی کا حق نہیں ہے. شاید خدا ہم سے ناراض ہیں اسی لئے آج ہم بابری مسجد کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہے. اگر ہم سچے دل سے تائب ہوکر بارگاہ خدا وندی میں بغیر کسی تفریق کے ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں تو ہمارا یہ اتحاد ہی اس زعفرانی ٹولے کے حوصلے پست کرے گا. کہتے ہیں کہ جب ہمارے گناہ بڑھ جاتے ہیں تو خدا ہم پر ایک ظالم حکمراں کو مسلط کردیتا ہے. مسلمانوں اپنے ایمان, اپنے دین کے لیے ایک ہوجاؤ تو پھر کسی شرپسند عناصر کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ تمہاری بابری مسجد تم سے چھین سکے. آقائے رحمت صلعم کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو اپنے دلوں سے کینہ کو نکال کر ایمان کی روشنی سے بھر دو اور متحد ہوجاؤ کہ تمہاری بابری مسجد تم کو آواز دے رہی ہے.

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com