Connect with us
Wednesday,09-September-2026

(جنرل (عام

آج 6 دسمبر یوم سیاہ پر بابری مسجد مسلمانوں کو آواز دے رہی ہیں

Published

on

babri-masjid

(وفا ناہید)
بابری مسجد قطعہ اراضی پر فیصلہ آئے آج 28 دن ہوگئے. حالانکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا. ناہی انصاف پر مبنی تھا. یہ فیصلہ سراسر آستھا کی بنیاد پر تھا. سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بھی جمہوریت کا قتل تھا. جمہوریت کا ایک بار قتل اس وقت ہوا تھا جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا. اتنا تو سب کو پتہ تھا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آئے گا. پھر بھی سپریم کورٹ پر , قانون پر مسلمانوں کو بھروسہ تھا. آخر مسلمانوں کے دل میں جلی آس کی وہ ننھی سی چنگاری بھی بجھ گئی. حالانکہ جمعیت علماء (ارشد مدنی) نے ریویو پٹیشن داخل کی ہے. مگر اس کا بھی وہی حشر ہوگا یہ ہم سب جانتے ہیں. جس ملک میں مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کیا جارہا ہے. اس ملک میں اس کی عبادت گاہوں کی حفاظت چہ معنی دارد. جس ملک کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں نے خون کی ندیاں بہا دی تھی. آج اسی ملک میں اس سے حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے. ان کی قدیم بابری مسجد پر ایک شازش کے تحت دھیرے دھیرے اس طرح شکنجہ کسا گیا کہ 6 دسمبر 1992 کے منحوس دن ایک منصوبہ بند شازش کے تحت بابری مسجد شہید کردی گئی. بابری مسجد شہادت کے بعد 92 ,93 کے فسادات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا. ان کی ماں بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا. اس جمہوری ملک میں جس طرح پرامن احتجاج پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا. وہ جمہوریت کی دھجیاں اڑانے کے لیے کافی تھا. آج پھر 6 دسمبر ہے یعنی یوم سیاہ. بابری مسجد شہادت کے بعد سے مسلمان 6 دسمبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں. مالیگاؤں میں مرحوم بزرگ رہنما ساتھی نہال احمد بازوؤں پر کالی فیت باندھ کر یوم سیاہ پر احتجاج کرتے تھے. مرحوم نے وصیت کی تھی کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے اس احتجاج کو بابری مسجد کی بازیابی تک جاری رکھا جائے . آج نہال احمد تو ہمارے درمیان نہیں ہے مگر بابری مسجد بچاؤ کمیٹی آج 6 دسمبر کو کالی فیت باندھ کر شہر میں 3 بج کر 45 منٹ پر اذان دے گی اور اپنا پرامن احتجاج کریں گی. یہاں ایک سوال قابل غور ہے کہ کچھ سیاسی و غیر سیاسی افراد اور کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہمیں قبول کرلینا چاہئے. ریویو پٹیشن سے صرف وقت ضائع ہوگا. اب ان احمقوں کی جنت میں رہتے والوں سے کون بولے کہ مسلمان جس جگہ مسجد بناکر نماز پڑھ لیں وہ جگہ تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے. مسجد اللہ کا گھر ہے. اب بابری مسجد میں لوگوں نے شیلانیاس کی یا مورتیاں رکھیں مگر ہے تو وہ مسجد ہی اور اس کی ایک اینٹ پر بھی کسی کا حق نہیں ہے. شاید خدا ہم سے ناراض ہیں اسی لئے آج ہم بابری مسجد کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہے. اگر ہم سچے دل سے تائب ہوکر بارگاہ خدا وندی میں بغیر کسی تفریق کے ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں تو ہمارا یہ اتحاد ہی اس زعفرانی ٹولے کے حوصلے پست کرے گا. کہتے ہیں کہ جب ہمارے گناہ بڑھ جاتے ہیں تو خدا ہم پر ایک ظالم حکمراں کو مسلط کردیتا ہے. مسلمانوں اپنے ایمان, اپنے دین کے لیے ایک ہوجاؤ تو پھر کسی شرپسند عناصر کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ تمہاری بابری مسجد تم سے چھین سکے. آقائے رحمت صلعم کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو اپنے دلوں سے کینہ کو نکال کر ایمان کی روشنی سے بھر دو اور متحد ہوجاؤ کہ تمہاری بابری مسجد تم کو آواز دے رہی ہے.

(جنرل (عام

ساکی ناکہ اسلم شیخ مین ہول سانحہ : امدادی رقم ۱۰ لاکھ بینک اکاؤنٹ میں جمع، مرحوم کی اہلیہ انجم شیخ نے مئیر کا کیا شکریہ ادا

Published

on

Ritu-Tawde

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے 10 لاکھ کی مالی امداد انجم شیخ کے حوالے کی گئی ہے، مرحوم اسلم شیخ کی اہلیہ جو ساکی ناکہ (یادو نگر) کے رہنے والے ہیں جو خیرانی روڈ، کرلا میں ایک مین ہول کے سانحے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ انجم شیخ نے ایک خط بھیجا جس میں میئر، تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں اور میونسپل انتظامیہ کو اس بحران کے دوران ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی طرف سے فراہم کردہ فوری مدد اور کارپوریشن کی طرف سے بروقت فراہم کی جانے والی مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔ 2 جولائی 2026 کو پیش آنے والے سانحے کے بعد، مئیر ریتو تاوڑے شیخ خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچی خاندان کی ضرورت مند حالات کو تسلیم کرتے ہوئے، اس نے فوری طور پر 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کارپوریشن کے ‘ایل’ وارڈ (کرلا) دفتر نے اس معاملے کی پیروی کی، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور وراثت کے دستاویزات سے متعلق ضروری رسمی کارروائیوں کی تکمیل کو یقینی بنایا۔

4 اگست 2026 کو، 10 لاکھ کی رقم براہ راست انجم شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی میونسپل کارپوریشن کو امداد کا تحریری اعتراف جمع کرواتے ہوئے، انجم شیخ نے اپنے خط میں کہا میئر کی طرف سے ہمارے خاندان کے لیے اس انتہائی مشکل وقت میں کیا گیا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ میں تمام جماعتوں کے عوامی نمائندوں، عہدیداروں، میئر، اور میونسپل افسران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سارے عمل میں رہنمائی اور تعاون کیا خاندان کے والد کفیل اسلم شیخ کے سانحہ ارتحال سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ تاہم، اس سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض تھا۔ انجم شیخ کے خط میں ظاہر کیے گئے جذبات میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو زیادہ حساسیت کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ پی ایم او دفتر کا اہلکار بتا کر تقریب میں داخلہ کی کوشش دو زیر حراست

Published

on

ممبئی : وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ممبئی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اس وقت ہلچل مچ گئی جب ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع نیتا امبانی کلچرل سینٹر (این ایم اے سی سی) میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے اہلکار کے طور پر ظاہر کر کے داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نوجوان کے ساتھ آنے والے ایک اور شخص کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوان کی شناخت 24 سالہ روہن پاریکھ کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روہن کے پاس ایک شناختی کارڈ تھا جس میں وزیر اعظم کے دفتر سے وابستگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی چیک کے دوران معائنہ کرنے پر کارڈ جعلی نکلا۔پی ایم او آفیشل ہونے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع کے مطابق روہن پاریکھ نے خود کو وزیر اعظم کے دفتر کا اہلکار بتایا۔ وہ اس دعویٰ شدہ شناخت کی بنیاد پر تقریب کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وزیر اعظم کے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے جائے وقوعہ پر تعینات سیکورٹی ایجنسیاں اور ممبئی پولیس پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھی۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی نقل و حرکت مشکوک معلوم ہوئی اور اس کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جانچ کے دوران اس کے قبضے میں پی ایم او شناختی کارڈ مشکوک پایا گیا۔ چنانچہ اسے حراست میں لے لیا گیا، اور پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ باڈی گارڈ اس کے ساتھ قبضے سے بندوق برآمدہوئی ۔کیس کا ایک خاص طور پر سنگین پہلو یہ ہے کہ روہن پاریکھ تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک فرد بھی تھا جو اس کے محافظ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس شخص سے ایک بندوق برآمد ہوئی۔پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے سرکاری معلومات جاری نہیں کی ہیں کہ بندوق لائسنس یافتہ ہے یا غیر قانونی۔ حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کے پاس اسلحہ لے جانے کے لیے ایک درست لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ کرائم برانچ نے تفتیش شروع کر دی ہے واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ روہن پاریکھ نے مبینہ طور پر جعلی پی ایم او شناختی کارڈ کیوں بنایا اور اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی اس کی بھی تلاش کر رہی ہے کہ روہن نے شناختی کارڈ کہاں سے حاصل کیا، اس کے ساتھ آنے والے مسلح فرد سے اس کا تعلق اور اس واقعہ سے قبل دونوں نے کن مقامات کا دورہ کیا تھاسیکیورٹی ایجنسیاں بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ وزیر اعظم کی شرکت سے متعلق ایک تقریب کا ہے، سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس پورے واقعہ کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ پولیس فی الحال حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ان کے موبائل فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان کی جانچ کر رہی ہے مزید قانونی کارروائی اور الزامات کی تصدیق کے بارے میں تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کے شمالی علاقہ میں منشیات فروشوں کے خلاف پولس کی سخت کارروائی، غیر قانونی گھر و قبضہ جات مسمار : ڈی سی پی گجانن راج مانے

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی پولیس نے منشیات فروشو ں کے خلاف اب سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ منشیات فروشوں پر قدغن لگانے کے لئے پولس نے ان کے غیر قانونی مکانات اور اثاثوں وملکیت کی مسماری اور بلڈورز ایکشن شروع کردیا ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر، شمالی ممبئی 3، ممبئی کے حکم کے مطابق کرار پولیس تھانے کی حدود میں منشیات فروشی کرنے والے ریکارڈ پر موجود جرائم پیشہ مطلوب ملزمین کے گھر پر بی ایم سی اور پولس کی مشترکہ کارروائی میں گھروں اور جنگلات کی زمین پر قائم غیر قانونی قبضہ جات پر بلڈوزر چلایا گیا۔ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں میں 1) سائلہ سبھاش پٹیل عرف شالو عمر 35 سال عرف سائلہ بائی عرف شالو راجو پوار، 2) دھرمندر لوہاری جیسوار عمر 20 سال، 3) سکندر لوہار جیسوار عمر 21 سال، 4) پشپا نارائن تاڈے عمر 36 سال، 5) سبھاش موتی لال پٹیل عمر 49 سال، 6) بھرت عرف سونو رام ناتھ نشاد عمر 27 سال، 7) محمد ابراہیم عبدالعزیز شیخ عرف جون عمر 59 سال، 8) امنہ قدیر محمد انصاری عمر 39 سال، 9) عائشہ سلیم شیخ عمر 40 سال، 10) سنتوش اشوک شرکے عمر 21 سال، 11) غفران علی ممتاز علی خان عمر 35 سال شامل ہے ان کے غیر قانونی ٹھکانوں اور گھروں و مکانات پر پولس نے بی ایم سی کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کر کے مکانات کو ہی بلڈوز کردیا ہے۔ یہ پولیس تھانے کی حدود میں محکمہ جنگلات کے آپا پاڑہ، پالن نگر، بنجاری پاڑہ، پنپری پاڑہ، آدیواسی پوپٹ کمپاؤنڈ، امبیڈکر نگر، ماتنگ گڑھ، للوبھائی کمپاؤنڈ، جیسوار نگر، جامروشی نگر اس جگہ پر غیر قانونی گھر تعمیر کر کے مقیم تھے۔

ان کے خلاف این ڈی پی ایس قانون کے تحت وقتاً فوقتاً کرار پولیس تھانے میں مقدمات درج ہیں۔ مذکورہ منشیات فروشی کرنے والے ملزمان کے غیر قانونی گھروں پر کارروائی کرکے منشیات فروشی کے دھندے کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے آج تاریخ ۷ ستمبر کو صبح 10:00 بجے سے 16:00 بجے تک کرار پولیس تھانے اور محکمہ جنگلات کی جانب سے مشترکہ طور پر غیر قانونی 11 گھروں پر انہدامی کارروائی کی گئی مذکورہ کارروائی پولیس ڈپٹی کمشنر، گجانن شولنگ راجمانے، شمالی زون 3، ممبئی اوراسسٹنٹ پولیس کمشنر، سمتا نگر ڈیویژن، ممبئی کی رہنمائی میں کرار پولیس تھانے کے سینئر پولیس انسپکٹر سشیل کمار گائیکواڈ کی نگرانی میں کرار پولیس تھانے کے پولیس افسران اور عملدار نیز محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین کے ساتھ مشترکہ طور پر انہدامی کارروائی کو انجام دیا گیا اس سے منشیات فروشوں میں پولس اور بی ایم سی اور محکمہ جنگلات کی کارروائی کا خوف پیدا ہوگا اس کارروائی کے بعد منشیات فروشوں میں کافی دہشت ہے اس سے عوام میں پولس کے تئیں اعتماد بحال ہوا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان