Connect with us
Sunday,02-August-2026

سیاست

شیوشینا اور کانگریس کے لئے خوش آئند ہے

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں موجودہ باڈی جو کہ 15 دسمبر کو اپنی ڈھائی سالہ معیاد پوری کررہی ہیں شیوشینا کانگریس کے اشتراک سے ہی وجود میں آئی تھی. جس کے میئر شیخ رشید شیخ شفیع اور ڈپٹی میئر شیوشینا کے سکھارام گھوڑکے ہے. اسی ماہ 12 دسمبر کو کارپوریشن کی دوسری معیاد کے لئے 8 ویں میئر کا چناؤ ہوگا. 4 دسمبر کو شام میں 4 بجے الیکشن پروگرام موصول ہوا. اس پروگرام کے تحت 12 دسمبر بروز جمعرات کی صبح 11 بجے میئر چناؤ کے لئے ووٹنگ ہوگی. واضح رہے کہ مالیگاؤں سے میئر چناؤ کے لئے قرعہ فال لیڈیز او بی سی نکلا ہے. میئر چناؤ کےلئے کانگریس کی جانب سے طاہرہ شیخ رشید امیدوار ہے تو مہاگٹھ بندھن کی جانب سے شان ہند چناؤ دنگل میں اپنی قسمت آزمائے گی. چونکہ میئر چناؤ میں دو رخی مقابلہ ہے. جس کی وجہ سے میئر گیم بہت دلچسپ موڑ پر داخل ہوگیا ہے. اب تک ڈپئی میئر کے لئے دونوں پارٹیوں کی جانب سے کوئی خلاصہ نہیں ہوسکا . کارپوریشن کے قیا م کے بعد سے اب تک کانگریس کے شیخ رشید خانوادہ سے 3 میئر کا انتخاب عمل میں آچکا ہے. جس میں آصف شیخ رشید, طاہرہ شیخ رشید اور شیخ رشید شامل ہے. طاہرہ شیخ رشید کو مالیگاؤں کی اولین خاتون میئر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے. اپوزیشن کی جانب سے مرحوم نہال احمد, نجم الدین کھجور والے, عبدالمالک یونس عیسی اور ابراہیم سیٹھ نیشنل کے سر مالیگاؤں کے میئر بننے کا سہرا ہے. اس طرح کارپوریشن نے اپنے 15 سال کے سفر میں مالیگاؤں کو 7 میئر عطا کئے. جس میں کانگریس کے 3 اور اپوزیشن کے 4 میئر شامل ہے. مگر شہر کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا ترقی کس کی ہوئی ؟ شہر میں مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں. شہر کا فلائے اوور بریج. پہلے تو اس بریج پر خوب سیاست ہوئی. اس کے بعد فلائے اوور کی تعمیر کا آغاز ہوا. ستمبر 2019 میں فلائے اوور کی تعمیر کی معیاد مکمل ہوگئی اور آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ فلائے اوور ابھی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے. جس کے بعد سابق ایم ایل اے نے ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کردیا. دراصل مالیگاؤں میں دھرنا آندولن کی سیاست چلتی ہے. اس کی مثال بھی مل جائے گی. اب جب کہ میئر چناؤ ہے سنا جارہا ہے کہ شہر کی ناک اولڈ آگرہ روڑ کی حالت ناقابل بیان ہے. (آگرہ روڑ کی حالت شاید کانگریسی کارپوریٹرس کو اب سمجھ میں آئی ہے . کوئی بات نہیں دیر آئے درست آئے) میئر الیکشن سے قبل کانگریس کے ہی 2 کارپوریٹر انصاری محمد اسلم اور سابق کارپوریٹر شکیل جانی بیگ نے بروز جمعرات دوپہر سے شام تک کمشنر کے دفتر کے دروازے کے باہر دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ پرانے آگرہ روڈ کی فوراً درستی کی جائے ۔ اس سے پہلے کئی بار کارپوریشن کے آفیسران کو اس تعلق سے معلومات دی جاچکی ہے ۔ پربھاگ آفیسر ، باندھ کام انجینئر ، اسسٹنٹ انجینئر اور سٹی انجینئرس نے ہماری شکایت پر دھیان نہیں دیا ، ایک بھی بار اس راستے کا معائنہ نہیں کیا اور شکایت دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اس لئے انہیں دھرنا دینا پڑا۔ جب تک اس ہائی وے کا کام شروع نہیں ہوجاتا . تب تک انہوں نے دھرنا دینے کا طے کیا ہے۔ ہے نا دلچسپ اور مسالحے دار گرما گرم موضوع. ایک ہتھوڑے میں کام ہوجائے گا. کیونکہ لوہا گرم ہے. اب ہم جہاں سے چلے تھے وہی آگئے. شہر کی عوام نے تقریباً دونوں پلڑے میں توازن کو برقرار رکھا ہے. مگر اس کے باوجود شہر میں تعمیری کاموں. ک فقدان اور مسائل دیکھ کر یاد آتا ہے کہ مسائل زندہ رہیں گے تو لیڈر زندہ رہے گا. اب جناب جب کہ
شہرِ مالیگاؤں میں ایم،ایل،اے مسلمان، میئر مسلمان، اسٹینڈنگ چیئرمین مسلمان، کارپوریٹروں کی اکثریت مسلمان، سالانہ تقریباً 450 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن، قائد و سالار، قائدِ نسلِ نو، رہبرِ ملت وغیرہ وغیرہ شخصیت یہاں پر موجود ہیں ۔ تعمیر و ترقی پسند، بیت المال کی حفاظت کا نعرہ بڑے زور و شور سے گونجتا ہے باوجود اس کے جب مالیگاؤں شہر کا جائزہ لیا جائے تو غیر مسلم علاقوں کی بہ نسبت مسلم علاقوں میں بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ گندگی، دھول، مٹی، آوارہ کتّے، مچھروں کی بھرمار، کچروں کا انبار وغیرہ سے شہریان بےانتہا پریشان ہیں جراشیم کُش ادویات کا چھڑکاؤ نا ہونے کی وجہ سے پورا شہر، ڈینگو، وائرل فیور، دَمہ، جگر اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں مالیگاؤں شہر میں محکمہ حفظانِ صحت و صفائی نظام مُردہ ہوچکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبّی سہولیات کا فقدان ہے۔ بار بار اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، شوشل میڈیا و دیگر ذرائع سے اطلاعات دی جارہی ہیں مگر افسوس ،صد افسوس. مالیگاؤں شہر کے مریضوں کی اکثریت ڈینگو، ڈائریا، وائرل فیور، نمونیا وغیرہ سے پریشان ہیں۔ ان امراض کی وجہ سے مالیگاؤں شہر میں کئی اموات واقع ہوچکی ہیں لیکن ہمارےمسلم نمائندوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. اب جب کہ کارپوریشن کے 8ویں میئر کا عنقریب انتخاب عمل میں آئے گا. اس میئر کے سر پر کانٹوں کا تاج ہوگا. کیونکہ ہر لحاظ سے پچھڑے ہوئے اس شہر کی نوک پلک درست کرنے میں ہی ڈھائی سال بیت جانے گے. اگر اس نئے میئر نے اپنی دوراندیشی اور حکمت عملی سے مسائل پر قابو پایا اور شہر کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کردیا تو آنے والے کارپوریشن الیکشن میں وہی پارٹی اپنی اکثریت ثابت کریں گی. ورنہ اگر عوام سر پر بیٹھنا جانتی ہے تو سر سے اتارنا بھی جانتی ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان