Connect with us
Monday,21-September-2026

(جنرل (عام

فسادات مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ، جمعیۃ مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کرمتاثرین کی مدد کرتی ہے۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف برپا ہونے والے فسادات کو مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ فسادات متاثرین کو جمعیۃ نے مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر مدد کی ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بات اللہ والی مسجد کراول نگر کی ازسرنو مرمت،تزئین کار ی اور فسادات میں جلائے گئے مکانات کو متاثرین کے حوالے کرنے کے موقع پر کہی۔
انہوں نے کہا کہ فسادکے فوراًبعد طویل لاک ڈاؤن میں بھی جمعیۃعلماء صوبہ دہلی کی ریلیف ٹیم مجبوراوربے سہارلوگوں تک ہر طرح کی ضروریات پہنچانے کیلئے متاثرہ علاقہ میں مستقل سرگرم رہی، ان لاک کے بعد جمعیۃعلماء کی ریلیف ٹیم نے فسادمتاثرہ علاقوں میں ترجیحی طورپر سروے کرکے بازآبادکاری کے کاموں کو شروع کیا جو اب الحمدللہ دومرحلوں میں پائے تکمیل کے قریب ہے، پہلے مرحلہ میں 55 مکانات اور دومسجدوں کی تعمیر نوومرمت کا کام پوراکرکے صاحب خانہ کو مکانات سپردکئے جاچکے ہیں اورمساجد میں باقاعدہ نمازباجماعت بھی شروع ہوگئی ہے۔ باقی متاثرین کے 45مکانات اور کراول نگر کی وہ مسجد جس پر کچھ شرپسند عناصرنے بھگواجھنڈالگاکر خاکسترکردیا تھا اس کی تعمیر ومرمت مکمل ہوچکی ہے اور پوری طرح سے تیارہے اور یہ چار منزلہ مسجد ہے۔ تیسرے مرحلہ کے طورپراب جمعیۃعلماء کی یہ کوشش ہے کہ فسادمیں ماخوذ بے گناہوں کی قانونی چارہ جوئی کی جائے تاکہ ان بے گناہوں کو جیل کے سلاخوں سے باہر لایاجائے۔ اس سلسلہ میں ایڈوکیٹ چوہان کی سربراہی میں ایک لیگل ٹیم پورے معاملہ کو دیکھ رہی ہے اوراب تک کم وبیش 16افرادکو ضمانت مل چکی ہے، قانونی امدادااور چارہ جوئی کاکام بہت صبر آزمااور طویل مدت تک چلنے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند امداد اور فلاح کا کام مذہب دیکھ کر نہیں کرتی بلکہ انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے۔خواہ فسادات ہو یا سیلاب ہو،لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی مشکلات ہو یا دیگر قدرتی آفات کے دوران لوگوں کی مدد، جمعیۃ نے ہمیشہ انسانیت کی بنیاد پر مدد کی ہے اور کبھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان یا کس ذات سے ہے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والافساد انتہائی بھیانک اور منصوبہ بندتھا، اس میں پولس اور انتظامیہ کا رول مشکوک رہا ہے جس کے متعدد ویڈیو وائرل بھی ہوئے ہیں۔ جس طرح مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا اورگھروں کو جلایا گیا وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ فساداچانک نہیں ہواتھا بلکہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی ہوئی تھی اور نشان زد طریقے سے مکانات اور دکانوں میں آگ لگائی گئی اور چن چن کرکے مسلمانوں کے مکانات، دکان اور تجارتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ منصوبہ بند فسادکی ذمہ داری سے حکومت بچ نہیں سکتی اور امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے لیکن دعوی کیا کہ فسادات دوران ہمیشہ امن و مان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور ہندوستان میں اس کی ایک تاریخ ہے۔ انہوں نے کہاکہ، ہمارا ہزاروں بارکا تجربہ ہے کہ فساد ہوتانہیں ہے بلکہ کرایا جاتاہے۔ حکومت اور انتظامیہ نہ چاہے تو ہندوستان میں کہیں بھی فساد نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مرتبہ تو پولیس ایکشن ہوتا ہے اور دہلی فسادمیں بھی پولس کا یہی کردارہے اور تمام حکومتوں میں ایک چیز جو مشترک نظرآتی ہے کہ حملہ بھی مسلمانوں پر ہوتاہے اورمسلمان مارے بھی جاتے ہیں اورانہی کے مکانات ودوکان کو جلایا جاتاہے اور انہی پر سنگین دفعات لگاکر گرفتاربھی کیا جاتاہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس طرح مسلمانوں پر دوہری قیامت توڑی جارہی ہے ایک طرف تو اس فساد میں سب سے زیادہ وہی مارے گئے ان کی دوکانوں اورگھروں کو نقصان پہنچااور اب تفیش کے نام پر یکطرفہ طورپر انہی کو ملزم بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر دعوی کیا کہ قانونی کارروائی کے نام پر مسلمانوں کو سبق سیکھانے کا خطرنا کھیل چل رہا ہے، قانون انصاف بالائے طاق رکھ کر ایک ہی فرقہ کے لوگوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور فسادکا ساراالزام انہی کے سرمنڈھ دیا گیاہے۔
واضح رہے اللہ والی مسجد وہی مسجد ہے جسکو شرپسندوں نے فساد کے موقع پر خاکستر کرکے اس میں مورتی رکھ دی تھی اور منار پر بھگوا جھنڈا لہرا دیا تھا جیسے ہی جمعیۃ علماء ہند دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق کو یہ معلوم ہوا تو فوراً وفد کے ہمراہ پولیس کو ساتھ لیکر مورتی اور جھنڈے سے مسجد کو پاک کرایا اگرچہ اس وقت وفد کو فرقہ پرستوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسکے علاوہ تعمیراتی کام کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے جنتی مسجد گوکل پوری اور قبرستان جیوتی نگر جسکی چہاردیواری اور کمرہ وغیرہ کو شرپسندوں نے تباہ کردیا تھا انکی تجدید کاری اور مرمت کام ابھی جاری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پاسپورٹ کی میعاد کے لیے قوانین میں تبدیلی : نئے اصول کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کا پاسپورٹ 18 سال کا بچہ نہیں ہو جاتا کارآمد رہے گا۔

Published

on

Passport

نئی دہلی : حکومت نے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے پاسپورٹ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب اس عمر سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جانے والا 36 صفحات پر مشتمل معیاری پاسپورٹ پانچ سال یا جب تک بچہ 18 سال کا نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو، کارآمد رہے گا۔ وزارت خارجہ نے پاسپورٹ (ترمیمی) قواعد، 2026 کو مطلع کیا ہے، جو جمعرات کو گزٹ آف انڈیا میں شائع ہونے کے بعد نافذ ہوا تھا۔ اگر کسی بچے کو 12 سال کی عمر میں پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کا پاسپورٹ پانچ سال تک کارآمد رہے گا، یعنی جب تک کہ وہ 17 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ تاہم، اگر کوئی بچہ 14 سال کا ہے، تو اس کا پاسپورٹ اس وقت تک کارآمد رہے گا جب تک کہ وہ 18 سال کا نہ ہو جائے۔ یہ تبدیلی پاسپورٹ رولز، 1980 کے رول 12(1اے) میں کی گئی ہے۔

اس سے قبل، حکومت نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں بھی نظر ثانی کی تھی، جو 1 جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل عام بالغ پاسپورٹ کی نئی درخواست یا تجدید کی فیس اب 2,500 ہے، جو کہ پہلے 1,500 تھی۔ 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے سے بڑھا کر 3500 روپے کر دی گئی ہے۔ تتکال سروس کے تحت 36 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 5,000 اور 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 6,000 کر دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان