(جنرل (عام
فسادات مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ، جمعیۃ مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کرمتاثرین کی مدد کرتی ہے۔ مولانا ارشد مدنی
ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف برپا ہونے والے فسادات کو مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ فسادات متاثرین کو جمعیۃ نے مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر مدد کی ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بات اللہ والی مسجد کراول نگر کی ازسرنو مرمت،تزئین کار ی اور فسادات میں جلائے گئے مکانات کو متاثرین کے حوالے کرنے کے موقع پر کہی۔
انہوں نے کہا کہ فسادکے فوراًبعد طویل لاک ڈاؤن میں بھی جمعیۃعلماء صوبہ دہلی کی ریلیف ٹیم مجبوراوربے سہارلوگوں تک ہر طرح کی ضروریات پہنچانے کیلئے متاثرہ علاقہ میں مستقل سرگرم رہی، ان لاک کے بعد جمعیۃعلماء کی ریلیف ٹیم نے فسادمتاثرہ علاقوں میں ترجیحی طورپر سروے کرکے بازآبادکاری کے کاموں کو شروع کیا جو اب الحمدللہ دومرحلوں میں پائے تکمیل کے قریب ہے، پہلے مرحلہ میں 55 مکانات اور دومسجدوں کی تعمیر نوومرمت کا کام پوراکرکے صاحب خانہ کو مکانات سپردکئے جاچکے ہیں اورمساجد میں باقاعدہ نمازباجماعت بھی شروع ہوگئی ہے۔ باقی متاثرین کے 45مکانات اور کراول نگر کی وہ مسجد جس پر کچھ شرپسند عناصرنے بھگواجھنڈالگاکر خاکسترکردیا تھا اس کی تعمیر ومرمت مکمل ہوچکی ہے اور پوری طرح سے تیارہے اور یہ چار منزلہ مسجد ہے۔ تیسرے مرحلہ کے طورپراب جمعیۃعلماء کی یہ کوشش ہے کہ فسادمیں ماخوذ بے گناہوں کی قانونی چارہ جوئی کی جائے تاکہ ان بے گناہوں کو جیل کے سلاخوں سے باہر لایاجائے۔ اس سلسلہ میں ایڈوکیٹ چوہان کی سربراہی میں ایک لیگل ٹیم پورے معاملہ کو دیکھ رہی ہے اوراب تک کم وبیش 16افرادکو ضمانت مل چکی ہے، قانونی امدادااور چارہ جوئی کاکام بہت صبر آزمااور طویل مدت تک چلنے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند امداد اور فلاح کا کام مذہب دیکھ کر نہیں کرتی بلکہ انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے۔خواہ فسادات ہو یا سیلاب ہو،لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی مشکلات ہو یا دیگر قدرتی آفات کے دوران لوگوں کی مدد، جمعیۃ نے ہمیشہ انسانیت کی بنیاد پر مدد کی ہے اور کبھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان یا کس ذات سے ہے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والافساد انتہائی بھیانک اور منصوبہ بندتھا، اس میں پولس اور انتظامیہ کا رول مشکوک رہا ہے جس کے متعدد ویڈیو وائرل بھی ہوئے ہیں۔ جس طرح مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا اورگھروں کو جلایا گیا وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ فساداچانک نہیں ہواتھا بلکہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی ہوئی تھی اور نشان زد طریقے سے مکانات اور دکانوں میں آگ لگائی گئی اور چن چن کرکے مسلمانوں کے مکانات، دکان اور تجارتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ منصوبہ بند فسادکی ذمہ داری سے حکومت بچ نہیں سکتی اور امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے لیکن دعوی کیا کہ فسادات دوران ہمیشہ امن و مان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور ہندوستان میں اس کی ایک تاریخ ہے۔ انہوں نے کہاکہ، ہمارا ہزاروں بارکا تجربہ ہے کہ فساد ہوتانہیں ہے بلکہ کرایا جاتاہے۔ حکومت اور انتظامیہ نہ چاہے تو ہندوستان میں کہیں بھی فساد نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مرتبہ تو پولیس ایکشن ہوتا ہے اور دہلی فسادمیں بھی پولس کا یہی کردارہے اور تمام حکومتوں میں ایک چیز جو مشترک نظرآتی ہے کہ حملہ بھی مسلمانوں پر ہوتاہے اورمسلمان مارے بھی جاتے ہیں اورانہی کے مکانات ودوکان کو جلایا جاتاہے اور انہی پر سنگین دفعات لگاکر گرفتاربھی کیا جاتاہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس طرح مسلمانوں پر دوہری قیامت توڑی جارہی ہے ایک طرف تو اس فساد میں سب سے زیادہ وہی مارے گئے ان کی دوکانوں اورگھروں کو نقصان پہنچااور اب تفیش کے نام پر یکطرفہ طورپر انہی کو ملزم بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر دعوی کیا کہ قانونی کارروائی کے نام پر مسلمانوں کو سبق سیکھانے کا خطرنا کھیل چل رہا ہے، قانون انصاف بالائے طاق رکھ کر ایک ہی فرقہ کے لوگوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور فسادکا ساراالزام انہی کے سرمنڈھ دیا گیاہے۔
واضح رہے اللہ والی مسجد وہی مسجد ہے جسکو شرپسندوں نے فساد کے موقع پر خاکستر کرکے اس میں مورتی رکھ دی تھی اور منار پر بھگوا جھنڈا لہرا دیا تھا جیسے ہی جمعیۃ علماء ہند دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق کو یہ معلوم ہوا تو فوراً وفد کے ہمراہ پولیس کو ساتھ لیکر مورتی اور جھنڈے سے مسجد کو پاک کرایا اگرچہ اس وقت وفد کو فرقہ پرستوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسکے علاوہ تعمیراتی کام کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے جنتی مسجد گوکل پوری اور قبرستان جیوتی نگر جسکی چہاردیواری اور کمرہ وغیرہ کو شرپسندوں نے تباہ کردیا تھا انکی تجدید کاری اور مرمت کام ابھی جاری ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
