ممبئی پریس خصوصی خبر
کانگریس پارٹی نے ٹی وی چینلوں کا بائیکاٹ کیا
ممبئی :اسمبلی انتخابات میں تمام چینلوں کی سروے رپورٹ کے مطابق بی جے پی شیوسینا اتحاد کی سیٹیں اکثریت کے ساتھ جیتنے پر ریاست پر قابض ہونے والی ہے، جبکہ کانگریس واین سی پی کو بہت کم سیٹیوں پر فتح حاصل ہونے پر احساس کمتری کے دلدل میں ڈھکیل دیا ہے۔ کانگریس میں خوف وہراس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر بحث میں حصہ لینے سے کترانے والی قومی سطح کی پارٹی کی کشتی ڈوب رہی ہیں۔ اپنی صفائی میں بھی کچھ چیزیں بولنے سے قاصر رہنے والے لیڈران نے میڈیا کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ جبکہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے رائے دہندگان کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے اچانک اعلان جاری کردیا گیا ہے، کہ پارٹی کے ترجمان یا لیڈران ٹی وی چینلوں پر بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کانگریسی لیڈران چینلوں پر کیوں نہیں آنا چاہ رہے ہیں؟ مزید بے عزتی ہونے کی وجہ سے؟ رائے دہندگان کو متاثر نہیں کرنے کی وجہ سے؟ اپنی شکست قبول کرنے کی وجہ سے؟ بات چیت نہیں کرنے کی وجوہات کو پیش کرنا چاہیے تھا۔ اگر یہی بات چیت بحث و مباحثہ ہندو مسلم کے موضوع پر ہوتا یا انڈیا پاکستان کے موضوع پر ہوتا تو کیا کانگریسی بائیکاٹ کرتے؟ جب اپنی باری آئی تو میڈیا کا بائیکاٹ کررہے ہیں، جب کسی مظلوم طبقہ پر، گھوٹالے پر، بے بنیاد الزامات پر، کسی مخصوص مذہب کو بدنام کرنے پر، حساس موضوعات پر بحث ومباحثہ کیا جاتا تھا تو کانگریس کیوں بائیکاٹ نہیں کرتی تھی؟ بلکہ خوشی خوشی حصہ لیتی تھی۔ ہر عروج کا زوال ہوتا ہے، کانگریس نے اپنے عروج کے وقت فسادات سے لے کر مخصوص طبقے کی ترقی روکنے میں، ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والی فرقہ پرست تنظیموں کو کھلی چھوٹ دینے میں اہم رول ادا کرنے والی پارٹی نے اپنی آنکھوں سے زوال کو دیکھا ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے کا کوئی حق کانگریس کو نہیں رہا، ناانصافی اور ظلم کی حکومت کو تو اوپر والا بھی پسند نہیں کرتا۔ دیگر پارٹیوں پر الزام عائد کرنے سے پہلے اپنی کمزوری، کمی اور کوتاہی کو جانچنا چاہیے کہ اقتدار میں رہنے کے بعد قومی سالمیت کے لیے کیا کام کیا؟ اگر ہر ایک کوان کا حق پہنچایا جاتا، ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج میڈیا اور چینلوں سے چھپنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ حالات اتنے بدتر ہوچکے ہیں کہ چینلوں پر بات کرنے میں بھی خوف محسوس ہورہا ہے۔ مرکزی وزیر سلمان خورشید نے خود بیان دیا تھا کہ مسلمانوں کے خون کے دھبے کے داغ کانگریس کے ہاتھ پر آج بھی موجود ہیں۔ کرسی کے لیے جان لینا، دیش کے روپئے کو بلیک منی کے روپ میں بیرون ملک منتقل کرنا، اربوں روپئے کے گھوٹالے کرنا، اسکیم کے نام پر غریبوں کا استحصال کرنا تمام ظلم کو انجام دینے کے بعد زوال کی دلدل میں پھنسنے والی پارٹی کے لیڈران چینلوں پر جم کر بحث کرنے والے بھی اپنا چہرہ چھپانے میں عافیت سمجھ رہے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ اپنا چہرہ چھپانے میں ہی عزت چھپ سکتی ہے ورنہ پارٹی کی پالیسی تو بے نقاب ہوگئی تھی، اب لیڈران کے چہرے بھی بے نقاب ہوسکتے تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی غیر ضمانتی وارنٹ میں 36 سال سے مفرور مطلوب ملزم گجرات سے گرفتار

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ایک ایسے مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو چوری کے کیس میں غیر مطلوب ہونے کے ساتھ اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ بھی عدالت نے جاری کیا تھا۔ شکایت کنندہ مرد عمر 29 سال اپنے دکان کے ہیرے، سونے کے زیورات اور نقد رقم پہنچانے کے لیے جا رہا تھا تو پنچرتن بلڈنگ کے مرکزی داخلہ دروازے کے سامنے 04 نامعلوم افراد نے سازش کرکے اس کو ریوالور اور چاقو کا خوف دکھا کر اس کو زخمی کرکے اس سے ہیرے، زیورات اور نقد رقم اندازہ قیمت 20,48,964/- روپے زبردستی چوری کی تھی جس سے ڈاکٹر ڈی بی مارگ پولیس تھانے میں جرم درج کیا گیا تھا۔ اس کی مزید تفتیش کرائم برانچ یونٹ 2 کے ذریعے کر کے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ مذکورہ جرم میں ملزم مرد عمر 59 سال یہ مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں بار بار غیر حاضر رہنے کے سبب اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ نکالے تھے۔ مذکورہ وارنٹ کی تعمیل کےلئے کرا ئم برانچ نے یہ کارروائی کی۔
مذکورہ اشتہاری غیر ضمانتی وارنٹ میں شامل ملزم مرد عمر 59 سال کے بارے میں پولیس ٹیم نے براہ راست معلومات جمع کرکے اور تکنیکی تجزیہ کے ذریعے اس کی تلاش کر اس کو تاریخ ۳۰ اکتوبر کو گاؤں پور، ضلع وڈودرا، راجیہ-گجرات سے حراست میں لیا گیا ہے۔مذکورہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنھبارے اور ایڈیشنل کمشنر کرشنا کانت اپادھیائے ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی میں ٹریفک اہلکار پر گاڑی چڑھانے کی کوشش، خاتون گرفتار، پولیس کی تفتیش جاری

ممبئی : ممبئی ٹریفک پولس اہلکار پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کرنے والی خاتون ڈرائیور کے خلاف کیس درج کر کے اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ڈیوٹی پر مامور ٹریفک پولس اہلکار پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں ایک خاتون کو حراست میں لے لیا گیا۔ 30 اکتوبر 2026 کو، رات 8:15 بجے سے 8:30 بجے کے درمیان، سانتا کروز ٹریفک ڈویژن کے پولیس کانسٹیبل پرشانت گوکل ہاکے، ممبئی کے علاقے ولے پارلے (مغربی) میں این ایس روڈ نمبر 10 پر، پرتیکشا بنگلے کے سامنے ‘سنگیت مہابھارتی جنکشن’ کے قریب اپنی سرکاری ڈیوٹی (ٹریفک کنٹرول) انجام دے رہے تھے۔ اس دوران، ایک بی ایم ڈبلیو (بی ایم ڈبلیو) کار (ایم ایچ-02-جی جے-4) اور ایک ماروتی ویگن آر (ماروتی ویگن آر) (ایم ایچ-02-ایف ایکس-0) کے درمیان معمولی تصادم ہو گیا۔ دونوں گاڑیاں سڑک کے بیچ میں کھڑی تھیں، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی۔ اس صورتحال میں، پولیس کانسٹیبل پرشانت ہاکے نے متعلقہ ڈرائیوروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی گاڑیاں سڑک کے کنارے ہٹا لیں۔
بی ایم ڈبلیو کار چلانے والی خاتون نے ان ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کر دیا، پولیس اہلکار سے بحث کی اور انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ مزید برآں، جب پولیس اہلکار اپنی وردی میں گاڑی کے سامنے کھڑے تھے، تو خاتون نے ان پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی۔ اہلکار کی جانب سے بار بار رکنے کا کہنے کے باوجود، خاتون نے گاڑی ان کی طرف تیزی سے بڑھا دی، جس پر اپنی جان بچانے کے لیے اہلکار کو ایک طرف ہٹنا پڑا۔ اس کے بعد خاتون انتہائی لاپرواہی سے اور تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی چلاتے ہوئے جے وی پی ڈی (جے وی پی ڈی) جنکشن کی جانب فرار ہو گئیں۔ ابتدائی تصادم میں ماروتی ویگن آر کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ پولیس کانسٹیبل پرشانت گوکل ہاکے کی شکایت پر، جوہو پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ خاتون ڈرائیور کے خلاف ‘بھارتیہ نیائے سنہتا’ کی دفعات 132، 125 اور 351(2)، نیز ‘موٹر وہیکلز ایکٹ’ کی دفعہ 184 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ملزمہ کی گرفتاری کا عمل جاری ہے، اور جوہو پولیس اسٹیشن اس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اکھلیش یادو ملک کو بچانے اور آئین کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں : ابو عاصم اعظمی

ممبئی : سماج وادی پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ایس پی صدر اکھلیش یادو کو ملک اور آئین کی حفاظت کے لیے ان کی جدوجہد کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو ملک کو بچا سکتے ہیں اور ملک کے 1.4 بلین عوام کو ان کی جدوجہد کو محسوس کرنا چاہئے۔ ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ ملک سے فرقہ واریت اور نفرت کے خاتمے کے لیے مضبوط اتحاد ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحاد کے اندر سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد پارٹی کے مضبوط پارٹی ورکرز اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی پر ہونی چاہیے۔ اتر پردیش کی سیاسی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑک اتر پردیش سے گزرتی ہے اور مستقبل میں نفرت پھیلانے والوں کو روکنے کے لیے اتر پردیش میں حکومت بنانے کے لیے ایک مضبوط اتحاد بنانا ہوگا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
