جرم
شاہین باغ مظاہرین نے جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ اور خوریجی دھرنا ختم کرانے کو جمہوریت کا قتل اور انصاف کا خون قرار دیا
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے خوریجی مظاہرہ کو پولیس کی طاقت کے زور پر ختم کرانے اور دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایس مرلی دھر کا تبادلہ کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل اور انصاف کا خون قرار دیا ہے۔
مظاہرین نے دونوں واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب دہلی جل رہی تھی اور جسٹس ایس مرلی دھر نے اس پر دہلی پولیس کو سخت پھٹکار لگائی تھی اشتعال انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ ہم دہلی کو 1984 بننے نہیں دیں گے، سماعت سے ہٹاکر فوراً پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کردینا نہ صرف عدالتی وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ یہ انصاف کا قتل بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس مرلی دھر نے بہت حد تک عدالت پر اعتماد قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اب اس واقعہ کے بعد کون عدالت پر اعتماد کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب تین چار دنوں سے دہلی سے جل رہی تھی سارے رہنما کان تیل ڈال کر سو رہے تھے۔ یہاں تک کے وزیر داخلہ کی طرف سے بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مظاہرین میں شامل محترمہ شاہین کوثر، ملکہ خاں، نصرت آراء اور محترمہ شیزہ نے بتایا کہ جہاں ایک طرف یہ کارروائی انصاف کے خون کو ظاہر کرتی ہیں وہیں یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ کوئی جج انصاف کرنے اور مظلوموں کے حق میں کھڑا ہونے کی ہمت نہ کرے۔ واضح رہے کہ جسٹس مرلی دھر نے نہ صرف دہلی پولیس پھٹکار لگائی بلکہ ایف آئی آر درج نہ کرنے پر رپورٹ بھی طلب کی تھی۔ جس پر آج بھی سماعت ہوئی اور عدالت نے اس معاملے ٹالتے ہوئے اگلی سماعت کی تاریخ13اپریل مقرر کردی۔
انہوں نے کہاکہ خوریجی میں جس طرح پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرہ ختم کروایا اور ٹینٹ میں توڑ پھوڑ کرکے وہاں سے خواتین کو ہٹایا ہے یہ نہ صرف جمہوریت کا قتل ہے بلکہ دستور کے بھی خلاف ہے کیوں کہ ہمیں آئین مظاہرہ کرنے کا حق دیتا ہے۔ مظاہرہ کے ذریعہ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کا اختیار دیتا ہے جسے حکومت نے چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خوریجی میں جس طرح پولیس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے امید ہے سپریم کورٹ اس پر کارروائی کرے گی۔کیوں کہ سپریم کورٹ نے خود کہا ہے کہ مظاہرہ کرنے کا حق ہے ہم اسے نہیں ہٹاسکتے۔
محترمہ شاہین کوثر، ملکہ خاں، نصرت آراء اور محترمہ شیزہ نے کہا کہ خوریجی خواتین کا مظاہرہ شاہین باغ مظاہرہ کی طرح پرامن تھا۔ وہاں اب تک کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور وہ لوگ اپنے مظاہرہ کے ذریعہ جمہوریت کو مضبوط کر رہے تھے اور آئین میں لوگوں کے اعتماد کو قائم کرنے رکھنے میں مدد کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری خواتین مظاہرہ کو ختم کرنے کے لئے دہلی میں فساد کرائے گئے ہیں اور اب تک 34لوگو ں کی موت تعداد کی تصدیق کی جاچکی ہے جب کہ غیر سرکاری اعداد و شمار 40 زائد ہے اور دو سو سے زائد زخمی ہیں۔
شاہین باغ خاتون مظاہرین یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت انتظامی جذبے سے کارروائی کرتی ہے۔ جہاں ایک دہلی کو جلانے والوں کا بال بھی باکا نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جارہی ہے وہیں مظاہرین کو حراست میں لیکر جیل بھیج رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس ایک سیاسی پارٹی کی بازو کی طرح کام کررہی ہے۔
دریں اثناء مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے کالیجیم نے مرلی دھر کے تبادلے کی سفارش ضرورکی تھی لیکن دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اس فیصلے کی مخالفت کی تھی لیکن جس طرح جلد بازی میں حکومت نے تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ یکطرفہ فیصلہ تھا۔
واضح رہے کہ کل خوریجی میں پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کو ہٹادیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں لیا اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ویڈیو فوٹیج میں پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کوپھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے اس کے باوجود میں وہاں خواتین ڈتی ہوئی ہیں۔
مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، سلیم پور، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ جمنار پار کے علاقے میں فساد میں اب تک 34 لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 200سے زائد زخمی ہیں جن میں سے متعدد کی حالت سنگین ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔
جرم
فین قتل کیس: وعدہ معاف گواہ پردوش آج سخت سکیورٹی میں اپنا بیان دیں گے۔

بنگلورو : رینوکاسوامی قتل کیس میں ملزم سے منظور شدہ پردوش پیر کو بنگلورو میں 59 ویں سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ (سی سی ایچ) کے سامنے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اپنا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہے۔ عدالت اگلے ایک سے دو دنوں میں پردوش کا تفصیلی بیان ریکارڈ کرے گی، اس کے اکاؤنٹ سے ممکنہ طور پر اس دن پر روشنی ڈالی جائے گی جس دن ایک ٹرانسپیر دشنا کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ رینوکاسوامی کا مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔ درشن کے مداحوں کی طرف سے پردوش کو ملنے والی مبینہ دھمکیوں کے پیش نظر پولیس نے عدالت کے احاطے میں اور اس کے ارد گرد سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ سینٹرل ڈی سی پی زون نے ایک اے سی پی، تین پولیس انسپکٹرز، آٹھ سب انسپکٹر اور 40 سے زیادہ پولیس اہلکار اس کی حفاظت کے لیے تعینات کیے ہیں۔ پردوش، جو اس وقت بنگلورو سنٹرل جیل میں بند ہے، کو کامکشیپالیہ پولس کی حفاظت میں عدالت میں لایا جائے گا، جس نے جیل حکام کے ساتھ قتل کا مقدمہ درج کیا اور تفتیش کی۔ بعد ازاں اس نے عدالت کے سامنے 11 صفحات پر مشتمل ایک درخواست جمع کرائی جس میں دیگر ملزمان کے خلاف اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت مانگی گئی۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کر لی۔
درشن کے وکیل نے اس فیصلے کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، لیکن اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ ایک منظور کنندہ کے طور پر، پردوش سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مبینہ قتل اور رینوکاسوامی کی موت کے آس پاس کے واقعات کے بارے میں اپنا حساب دے گا۔ ٹرائل کورٹ کی جانب سے ان کا بیان تفصیل سے ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ پردوش سے جرح بعد میں کی جائے گی۔ مقدمے کے اہم گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد ہی ان کے جرح کی اجازت دی جائے گی۔ پردوش کی جرح اداکار درشن کی موجودگی میں ہو گی۔ پولیس نے عدالت کو پردوش کی جان کو لاحق مبینہ خطرے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور انہیں عدالت میں لانے اور واپس لے جانے کے دوران مناسب سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کارروائی کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پردوش کے بیان میں بطور منظوری دی گئی ہے کہ رینوکا کے قتل کے مبینہ واقعات اور اس کے ارد گرد کے واقعات کے بارے میں تفصیلات فراہم کر سکتا ہے۔
رینوکاسوامی قتل کیس جون 2024 میں بنگلورو میں کنڑ اداکار درشن کے ایک پرستار 35 سالہ رینوکاسوامی کے مبینہ قتل سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق، رینوکاسوامی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، حملہ کیا گیا اور قتل کیا گیا، بعد میں اس کی لاش کامکشیپالیا سے ملی اور درشن کے علاقے میں کئی دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔ استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ رینوکاسوامی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے درشن کے ساتھی پاویتھرا گوڑا کو کچھ بیہودہ پیغامات بھیجے۔
جرم
میزورم میں 17 کروڑ روپے سے زیادہ کی منشیات ضبط

ایزول : اسپیئر کور کے تحت آسام رائفلز نے ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) اور میزورم پولیس کے ساتھ مل کر میزورم کے چمفائی ضلع سے 17.89 کروڑ روپے کی منشیات کی کھیپ ضبط کی، حکام نے اتوار کو بتایا۔ بھارتی فوج کے ایک سرکاری بیان کے مطابق، 1,25,680 کلوگرام اریکا گری دار میوے اور 25,440 کلو گرام پوست کے بیج، جن کی مالیت تقریباً 17.89 کروڑ روپے ہے، میانمار سے منشیات کی غیر قانونی تجارت کے ایک گرم مقام چمفائی سے ضبط کی گئی تھی۔ حکام نے بتایا کہ 3.68 کروڑ روپے اور پانچ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا۔ ایک دفاعی ترجمان نے بتایا کہ منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل سے متعلق مخصوص انٹیلی جنس معلومات پر، آسام رائفلز نے میزورم پولیس کے ساتھ سیچوئل ضلع کے ممبنگ-کولبیم-نگوپا کے ٹی جنکشن علاقوں میں مشترکہ آپریشن شروع کیا۔ فرد کی مزید تلاش کے نتیجے میں 2.285 کلو گرام میتھمفیٹامین گولیاں برآمد ہوئیں، جن کی مالیت تقریباً 1.83 کروڑ روپے ہے۔ پکڑے گئے فرد کو، برآمد شدہ ممنوعہ اشیاء کے ساتھ، نگوپا پولیس اسٹیشن نے مزید تفتیش اور نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹنس (این ڈی پی ایس) ایکٹ 1985 کے تحت ضروری قانونی کارروائی کے لیے لے جایا گیا۔
ایک اور کارروائی میں، سرحد سے ملحقہ زوکھاوتھر میں آئرن گیٹ پر منشیات کی ترسیل کے حوالے سے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر، آسام رائفلز کے دستوں نے میزورم پولیس کے ساتھ مل کر، ضلع چمپائی کے تحت علاقے میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا۔ آپریشن کے دوران، مشترکہ ٹیم نے ایک منشیات اسمگلر کو روکا، جس سے 8000000000 گرام کی گولیاں برآمد کی گئیں۔ ہیروئن، ایک انتہائی خطرناک نشہ آور چیز جس کی تخمینہ قیمت 5.6 لاکھ روپے ہے۔ اس شخص کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ضبط شدہ ممنوعہ اور پکڑے گئے فرد کو بعد میں مزید تفتیش اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مطلوبہ قانونی کارروائی کے لیے زوخاوتھر پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔ کامیاب کارروائیوں نے منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے سرحدی افواج کی آپریشنل تاثیر، چوکسی اور انٹیلی جنس پر مبنی نقطہ نظر کو اجاگر کیا، ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی کو برقرار رکھا گیا ہے۔
جرم
پنجاب کی ایک اور یونیورسٹی میں تشدد؛ پولیس مقدمہ درج کرے گی (لیڈ)

چندی گڑھ : پنجاب کے جالندھر کے مضافات میں واقع ایک نجی یونیورسٹی کے سینکڑوں طلباء نے اتوار کو دیر گئے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر احتجاج کیا کہ ایک طالب علم کے ساتھ کیمپس میں ایک باہری شخص نے جنسی زیادتی کی، املاک کو نقصان پہنچایا، آگ لگا دی اور ایک قومی شاہراہ کو بلاک کیا۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں بدامنی کے نتیجے میں مظاہرین نے نیشنل ہائی وے کے جالندھر-پھگواڑہ سیکشن کو کئی گھنٹوں تک بلاک رکھا، جب کہ یونیورسٹی کیمپس میں املاک کو نقصان پہنچا اور کچھ اشیاء کو آگ لگا دی گئی، پولیس نے بتایا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (جالندھر رینج) نوین سنگلا نے میڈیا کو بتایا کہ کیمپس پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ (طلبہ) کا بنیادی مطالبہ ہے کہ تین روز قبل جی تھری ہاسٹل کی ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، اس حوالے سے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی، ہم نے ان کا بیان ریکارڈ کر کے ایف آئی آر درج کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، اور انہیں جلد ہی اس کی کاپی مل جائے گی۔ انہوں نے کہا، “ہم نے طلبہ رہنماؤں سے بات کی ہے، اور میٹنگ دوپہر کو ہوگی۔ جہاں تک ایف آئی آر کا تعلق ہے، وہ درج کی جائے گی۔”
سنگلا نے واضح کیا کہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ وہاں رہنے والی ایک لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی گئی تھی، اور اس کے مطابق، فی الحال ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔ تاہم، لڑکی کا نام واضح نہیں ہے، اور یہ تحقیقات کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (پھگواڑہ) میجر سنگھ کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کپورتھلا) گورو تورا نے کہا کہ طالب علم کے درمیان زیادتی کا ایک غیر تصدیق شدہ واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا، “اب تک، ہمیں اس واقعے کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔” تاہم ایل پی یو نے سوشل میڈیا پر گردش کیے جانے والے الزامات کی تردید کی۔ ایل پی یو کی رجسٹرار مونیکا گلاٹی نے ایک بیان میں کہا کہ “فی الحال جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔” انہوں نے طلباء، والدین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور ان کو بڑھاوا دیں اور یونیورسٹی کے سرکاری چینلز کے ذریعے جاری کردہ معلومات پر بھروسہ کریں۔ تعلیمی ماحول.
انہوں نے کہا کہ معلومات کی گردش یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور اس کی ساکھ کو داغدار کرنے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔ کیمپس میں احتجاج کرنے والی طالبات نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے اور یونیورسٹی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ اسے ماننے سے انکاری ہیں۔ طلباء نے یہ بھی الزام لگایا کہ توڑ پھوڑ میں باہر کے لوگ ملوث تھے۔ یہ واقعہ گزشتہ دو دنوں میں پنجاب کی کسی نجی یونیورسٹی میں طلباء کا دوسرا بڑا احتجاج تھا، پٹیالہ ضلع کے راج پورہ میں واقع چتکارہ یونیورسٹی میں بدامنی کے بعد۔ جمعہ کی دیر اور ہفتہ کی صبح چتکارہ یونیورسٹی میں سینکڑوں طلباء نے احتجاج کیا۔ کیمپس میں پولیس کی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچا۔ دونوں واقعات اس رفتار کو نمایاں کرتے ہیں جس کے ساتھ آن لائن گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ معلومات یونیورسٹی کیمپس میں طلباء کے بڑے اجتماعات اور خلل کو متحرک کرسکتی ہیں۔ دونوں یونیورسٹیوں کے حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تصدیق کر رہے تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
