جرم
شاہین باغ مظاہرین نے جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ اور خوریجی دھرنا ختم کرانے کو جمہوریت کا قتل اور انصاف کا خون قرار دیا
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے خوریجی مظاہرہ کو پولیس کی طاقت کے زور پر ختم کرانے اور دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایس مرلی دھر کا تبادلہ کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل اور انصاف کا خون قرار دیا ہے۔
مظاہرین نے دونوں واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب دہلی جل رہی تھی اور جسٹس ایس مرلی دھر نے اس پر دہلی پولیس کو سخت پھٹکار لگائی تھی اشتعال انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ ہم دہلی کو 1984 بننے نہیں دیں گے، سماعت سے ہٹاکر فوراً پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کردینا نہ صرف عدالتی وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ یہ انصاف کا قتل بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس مرلی دھر نے بہت حد تک عدالت پر اعتماد قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اب اس واقعہ کے بعد کون عدالت پر اعتماد کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب تین چار دنوں سے دہلی سے جل رہی تھی سارے رہنما کان تیل ڈال کر سو رہے تھے۔ یہاں تک کے وزیر داخلہ کی طرف سے بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مظاہرین میں شامل محترمہ شاہین کوثر، ملکہ خاں، نصرت آراء اور محترمہ شیزہ نے بتایا کہ جہاں ایک طرف یہ کارروائی انصاف کے خون کو ظاہر کرتی ہیں وہیں یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ کوئی جج انصاف کرنے اور مظلوموں کے حق میں کھڑا ہونے کی ہمت نہ کرے۔ واضح رہے کہ جسٹس مرلی دھر نے نہ صرف دہلی پولیس پھٹکار لگائی بلکہ ایف آئی آر درج نہ کرنے پر رپورٹ بھی طلب کی تھی۔ جس پر آج بھی سماعت ہوئی اور عدالت نے اس معاملے ٹالتے ہوئے اگلی سماعت کی تاریخ13اپریل مقرر کردی۔
انہوں نے کہاکہ خوریجی میں جس طرح پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرہ ختم کروایا اور ٹینٹ میں توڑ پھوڑ کرکے وہاں سے خواتین کو ہٹایا ہے یہ نہ صرف جمہوریت کا قتل ہے بلکہ دستور کے بھی خلاف ہے کیوں کہ ہمیں آئین مظاہرہ کرنے کا حق دیتا ہے۔ مظاہرہ کے ذریعہ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کا اختیار دیتا ہے جسے حکومت نے چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خوریجی میں جس طرح پولیس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے امید ہے سپریم کورٹ اس پر کارروائی کرے گی۔کیوں کہ سپریم کورٹ نے خود کہا ہے کہ مظاہرہ کرنے کا حق ہے ہم اسے نہیں ہٹاسکتے۔
محترمہ شاہین کوثر، ملکہ خاں، نصرت آراء اور محترمہ شیزہ نے کہا کہ خوریجی خواتین کا مظاہرہ شاہین باغ مظاہرہ کی طرح پرامن تھا۔ وہاں اب تک کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور وہ لوگ اپنے مظاہرہ کے ذریعہ جمہوریت کو مضبوط کر رہے تھے اور آئین میں لوگوں کے اعتماد کو قائم کرنے رکھنے میں مدد کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری خواتین مظاہرہ کو ختم کرنے کے لئے دہلی میں فساد کرائے گئے ہیں اور اب تک 34لوگو ں کی موت تعداد کی تصدیق کی جاچکی ہے جب کہ غیر سرکاری اعداد و شمار 40 زائد ہے اور دو سو سے زائد زخمی ہیں۔
شاہین باغ خاتون مظاہرین یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت انتظامی جذبے سے کارروائی کرتی ہے۔ جہاں ایک دہلی کو جلانے والوں کا بال بھی باکا نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی کارروائی کی جارہی ہے وہیں مظاہرین کو حراست میں لیکر جیل بھیج رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس ایک سیاسی پارٹی کی بازو کی طرح کام کررہی ہے۔
دریں اثناء مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے کالیجیم نے مرلی دھر کے تبادلے کی سفارش ضرورکی تھی لیکن دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اس فیصلے کی مخالفت کی تھی لیکن جس طرح جلد بازی میں حکومت نے تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ یکطرفہ فیصلہ تھا۔
واضح رہے کہ کل خوریجی میں پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کو ہٹادیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں لیا اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ویڈیو فوٹیج میں پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کوپھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے اس کے باوجود میں وہاں خواتین ڈتی ہوئی ہیں۔
مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، سلیم پور، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ جمنار پار کے علاقے میں فساد میں اب تک 34 لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 200سے زائد زخمی ہیں جن میں سے متعدد کی حالت سنگین ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔
بین الاقوامی خبریں
فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔
واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔
جرم
ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
