Connect with us
Tuesday,26-May-2026
تازہ خبریں

قومی خبریں

شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو آخری سہارا قرار دیا

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ میں زیر التوا سی اے اے کے خلاف150 سے زائد عرضیوں کی سماعت جلد نہ کرنے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ لوگوں کا اخری سہارا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے سماعت کو ٹالتے ہوئے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے کا وقت دیا تھا امید تھی کہ فروری میں ہی اس پر سماعت ہوجائے گی لیکن افسوس ہے کہ عدالت عظمی نے اس حساس مسئلہ کو جلد سماعت کے قابل نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہاکہ ہندو، کیا مسلمان، دلت کیا، قبائلی کیا، کمزور کیا سب طبقے سی اے اے کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے سڑکوں پر ہیں اور اس میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس پر جلد سماعت نہیں کرتا تو صرف مایوسی کاہی اظہار کیا جاسکتا ہے۔
مظاہرین خواتین میں شامل ملکہ خاں، نصرت آراء سیما اور ثمینہ نے کہاکہ ہم لوگوں کو سپریم کورٹ سے بہت ہی امید وابستہ ہیں اور امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمارے درد کو سمجھے گا اور ہماری سڑکوں پر بیٹھنے کو محسوس کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ کوئی عوامی جذبات کا نہیں ہے بلکہ آئین کا ہے،ہم لوگ قطعی یہ نہیں کہتے کہ ہمارے جذبات کے مطابق فیصلہ کریں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں، آئین میں جس چیز کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، اس کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ بہت سے معاملے کو ترجیحی بنیاد پر سنتا ہے لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ پورا ملک اس وقت سڑکوں پر ہے، دہلی میں اس کے بہانے فساد ہوچکا ہے جس میں پچاس سے زائد لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر نہیں سنتا ہے تو اس پر مایوسی کا اظہار اور افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کے اس معاملے پر توجہ نہ دینے اور سپریم کورٹ کے بھی نظر انداز کرنے پراقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے اس قانون کو امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کور ٹ میں انٹرویشن عرضی دائر کی ہے۔ اس سے معاملہ کے حساس ہونے کا پتہ چلتا ہے، اس کے علاوہ پوری دنیا میں اس قانون کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں مظاہرے کئے جارہے ہیں، اگر اس معاملے میں سپریم کورٹ جلد سماعت کرکے معاملہ کا نپٹارہ کردے گا تو اس ہندوستان کے تئیں بہترین پیغام جائے گا۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور سی اے اے کے خلاف عرضی کرنے والوں میں سے ایک سماجی کارکن انتخاب عالم نے سپریم کورٹ کے ہولی کے بعد سماعت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس حساس معاملہ پر سپریم کورٹ جلد سماعت نہیں کرے گا تو پھر کس پر سماعت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو گزشتہ 22جنوری کو ہی کوئی نہ کوئی آرڈر جاری کردینا چاہئے تھا لیکن اس نے ایک تکنک کا سہارا لیتے ہوئے حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے تک وقت دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ سپریم کورٹ فروری میں ہی سماعت کرکے اس حساس مسئلہ کو نپٹارہ کردے گا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں مسلم خواتین سمیت تمام طبقے سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ سے تمام لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کی بات یہاں سنی جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت جلد کرنے کا مطالبہ جمعرات کے رو ز مسترد کر دیا۔ کچھ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کَپل سبل نے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملے کا خصوصی ذکر کیا اور جلدی سماعت کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کی۔”عدالت نے کہا”سبری مالا معاملے میں خواتین کے حقوق بنام مذہبی روایت معاملے کی سماعت کے بعد اسے سنا جائے گا۔ آپ ہولی کی چھٹی کے بعد پھر تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کریں“۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت اگلے ہفتے اپنا جواب داخل کر دے گی۔ واضح رہے کہ سی اے اے کو چیلنج کرنے والی 150 سے زائد عرضیاں سماعت کے لئے زیر التوا ہیں۔ تمام عرضیوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے جو ابند ہے۔ اس کے منتظمین کو پولیس نے دنگا بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

بی جے پی لیڈر اپنے متنازعہ تبصرے پر افسوس کا کیا اظہار, کانگریس کی سیونی گھوش کا سر قلم کرنے پر ایک کروڑ روپے کے انعام کی پیشکش کی تھی۔

Published

on

Sayoni-Ghosh

کولکتہ/ لکھنؤ : اترپردیش کے بلند شہر ضلع میں سکندرآباد میونسپل کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر پردیپ ڈکشٹ نے اپنے متنازعہ ریمارکس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس ایم پی سیونی گھوش کا سر قلم کرنے پر ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ ڈکشٹ نے کہا کہ وہ تشدد پر یقین نہیں رکھتے اور یہ کہ ان کے تبصرے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کو دیکھنے کے بعد غصے سے کیے گئے تھے جس میں وہ بھگوان شیو کی توہین سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا، “ہم اس روایت سے تعلق رکھتے ہیں کہ درختوں کو پانی پلاتے ہیں، پرندوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور یہاں تک کہ چینی چیونٹیوں کو بھی۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دیوتاؤں، دیویوں، سنتوں یا پیغمبروں کی توہین نہ کریں۔” ڈکشٹ نے مزید کہا کہ گھوش سے منسوب سوشل میڈیا پوسٹ نے بہت سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “لیکن مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ گھوش نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر پہلے ہی معافی مانگ لی ہے۔ میں اس تناظر میں افسوس کا اظہار بھی کرتا ہوں۔”

منگل کو ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں، سیونی گھوش نے کہا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی ہیں کہ اس کا سر قلم کرنے کے لیے 1 کروڑ کا انعام عوامی طور پر اعلان کیا گیا ہے جو کہ سکندرآباد، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے میونسپل چیئرمین اور بی جے پی لیڈر کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ اس کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خطرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پھیل رہا تھا اور مین اسٹریم میڈیا میں بھی اس کی اطلاع دی گئی تھی۔ ٹی ایم سی ایم پی نے کہا، “میرا سوال عزت مآب نریندر مودی، امیت شاہ، نتن نوین، اور اوم برلا سے ہے۔ کیا ایک خاتون، ایک موجودہ رکن پارلیمنٹ، اور وہ بھی بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست میں بی جے پی کے نمائندے کے ذریعہ سر قلم کرنے پر انعام کا اعلان کرنا، ‘نئے ہندوستان’ میں ‘خواتین کو بااختیار بنانے’ کا حقیقی خیال؟”

پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں بی جے پی قیادت نے خواتین کی حفاظت اور نمائندگی کو ایک اہم انتخابی مسئلہ بنایا تھا، اب ایک منتخب خاتون نمائندہ کو وزیر اعلیٰ کی اپنی پارٹی کے رکن کی جانب سے جان سے مارنے کی کھلی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ کیا (مغربی بنگال پولیس اور کولکتہ پولیس کمشنر) فوری کارروائی کریں گے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے؟ اس نے ریاستی پولیس پر بھی زور دیا کہ وہ فوری قانونی کارروائی شروع کرے اور بی جے پی اپنے رکن کے خلاف سیاسی کارروائی کرے جس نے اس کے قتل کو اکسایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کی طرف سے جان سے مارنے کی کھلی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل حکومت کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں اور شاید اسی لیے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے محدود سیاسی تجربے میں، میں سمجھتا ہوں کہ بی جے پی اختلاف رائے کو ناپسند کرتی ہے۔ وہ جمہوریت میں اپوزیشن کے وجود کو ناپسند کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ جو بھی سیونی گھوش کا سر قلم کرے گا اسے ایک کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ بی جے پی لیڈران اور کارکنان کھلے عام اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ اس دوران وہی لوگ خواتین کے ریزرویشن اور خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں۔ کیا یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں؟ بالکل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی خواتین کو اپنی آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتی ہے، جب کہ بنگال کی ثقافت ہمیشہ سے مضبوط اور ثابت قدم خواتین کی رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

شرد پوار نے ممبئی میں این سی پی کی میٹنگ کی صدارت کی، اجیت پوار کے گروپ کے 22 ایم ایل اے مبینہ طور پر شرد پوار کے ساتھ فورسز میں شامل ہو گئے۔

Published

on

sharad-pawar

ممبئی : اجیت پوار کی زیر قیادت این سی پی اور شرد پوار کے گروپ دوبارہ متحد ہونے والے ہیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں اس بڑی تبدیلی کو لے کر بحثیں تیز ہو گئی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اجیت پوار کی پارٹی کے 22 ایم ایل اے شرد پوار کی این سی پی (این سی پی-ایس پی) سے رابطے میں تھے۔ تاہم پارٹی نے ان خبروں کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پارٹی کے ترجمان امیش پاٹل نے بتایا کہ ایک بھی ایم ایل اے شرد پوار کی پارٹی سے رابطے میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایم ایل اے نے سیاسی مقاصد کے لیے ان سے ملاقات کی ہے۔ امیش پاٹل نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ہفتے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تاٹکرے نے شرد پوار سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے صرف ایک بشکریہ کال کے طور پر ملاقات کی۔ خود ٹٹکرے نے میٹنگ کے بعد میڈیا کے سامنے اس کی وضاحت کی۔

اجیت پوار کی زیر قیادت این سی پی کے اندر پھوٹ کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب سنیترا پوار کے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں سنیل ٹٹکرے، پرفل پٹیل اور چھگن بھجبل سمیت سینئر لیڈروں کے نام غائب تھے۔ سنیترا پوار نے ان عہدیداروں کو ہٹایا اور اپنے بیٹوں جئے پوار اور پارتھ پوار کو پارٹی عہدیدار مقرر کیا۔ تقسیم کی افواہیں اس وقت تیز ہوئیں جب سنیل ٹٹکرے نے غیر متوقع طور پر شرد پوار سے ملاقات کی۔ بعد میں رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ این سی پی کے 22 ایم ایل اے شرد پوار کے گروپ میں شامل ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پٹیل نے پارٹی ایم ایل اے سنجے بنسوڈے اور پرتاپ پاٹل چکھلیکر کے ساتھ پارٹی کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اجیت پوار کی قیادت میں پوری طرح متحد ہے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز کو اپوزیشن میں جانے کی اطلاع دینا انتہائی نامناسب ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا میڈیا چینلز کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ 22 ایم ایل ایز نے شرد پوار سے ملاقات کی۔ پٹیل نے مزید کہا کہ این سی پی جمہوری اقدار پر کام کرتی ہے۔

امیش پاٹل نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ غیر تصدیق شدہ افواہیں نہ پھیلائیں اور تحقیقات کے بعد ہی خبریں نشر کریں۔) نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) مہاراشٹر یونٹ کے صدر ششی کانت شندے نے بدھ کو کہا کہ حکمراں این سی پی کے ساتھ انضمام کا معاملہ اب ختم ہوچکا ہے اور اس پر مستقبل میں کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار اور این سی پی لیڈر سنیل ٹٹکرے کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں پارٹیوں کے درمیان انضمام کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر سے شروع ہوگئی تھیں۔ دریں اثنا، شرد پوار نے بدھ کو ممبئی میں حکمت عملی پر تبادلہ خیال کے لیے پارٹی کی میٹنگ کی صدارت کی۔ ششی کانت شندے نے کہا کہ پوار کی قیادت میں پارٹی کو ایک مضبوط اپوزیشن قوت کے طور پر تیار کرنے کے لئے ممبران پارلیمنٹ، ایم ایل ایز، منتخب لیڈروں، عہدیداروں اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ بات چیت کی گئی۔

Continue Reading

سیاست

تمل ناڈو میں سی ایم وجے کی کابینہ کا حصہ بنے گی کانگریس، دو ایم ایل اے بنیں گے وزیر، ناموں کا انکشاف

Published

on

Rahul-CM-Vijay

چنئی : کانگریس تمل ناڈو میں وجے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت میں شامل ہوگی۔ کانگریس نے ان دو ایم ایل اے کے ناموں کا اعلان کیا ہے جو سی ایم جوزف وجے کی کابینہ کی توسیع سے قبل وزیر کے طور پر حلف لیں گے۔ کانگریس ایم ایل اے ایڈوکیٹ راجیش کمار اور تھیرو پی وشواناتھن کو تمل ناڈو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ دونوں رہنما کل وزراء کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ کانگریس نے ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد میں تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا، لیکن ٹی وی کے انتخابی نتائج میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کے بعد، پارٹی نے وجے کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔

ٹی وی کے کے سربراہ تھلاپتی وجے نے 10 مئی کو وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ وجے کی قیادت میں ٹی وی کے نے انتخابات میں 108 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ ترچی ایسٹ سے وجے کے استعفیٰ کے بعد ٹی وی کے ایم ایل اے کی تعداد گھٹ کر 107 ہوگئی ہے۔ وجے کی حکومت کو کانگریس (5)، وی سی کے (2)، آئی یو ایم ایل (2)، سی پی آئی (2) اور سی پی آئی ایم (2) کے ساتھ ساتھ 25 اے آئی اے ڈی ایم کے باغیوں کی حمایت حاصل ہے۔ وجے کی کابینہ میں فی الحال ایک خاتون سمیت کل نو وزیر ہیں۔ یہ تمام ٹی وی کے ایم ایل اے ہیں۔ کابینہ کی توسیع سے پہلے، اس بات پر سسپنس ہے کہ آیا وجے اے آئی اے ڈی ایم کے کے کسی باغی ایم ایل اے کو وزیر بنائیں گے یا نہیں۔

تمل ناڈو میں جمعرات کو کانگریس کے دو ممبران اسمبلی کی حلف برداری کے ساتھ ایک طویل انتظار ختم ہو جائے گا۔ پارٹی 59 سال بعد اقتدار میں واپس آئے گی۔ ایم ایل اے راجیش کمار اور پی وشواناتھن وجے کی حکومت میں کابینہ کے وزراء کے طور پر حلف لیں گے۔ کانگریس 1967 سے تامل ناڈو حکومت میں موجود رہے گی۔ پچھلی ڈی ایم کے حکومت کو کانگریس کی حمایت حاصل تھی، لیکن کانگریس کا کوئی ایم ایل اے وزیر نہیں تھا۔ راہل گاندھی ٹی وی کے کے سربراہ وجے کی حلف برداری کی تقریب میں پہنچے تھے۔ اس کے بعد یہ طے پایا کہ کانگریس حکومت میں شامل ہوگی۔ کانگریس اس موقع کو اپنے لیے بہت اہم سمجھ رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان