Connect with us
Friday,28-August-2026

قومی خبریں

شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو آخری سہارا قرار دیا

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ میں زیر التوا سی اے اے کے خلاف150 سے زائد عرضیوں کی سماعت جلد نہ کرنے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ لوگوں کا اخری سہارا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے سماعت کو ٹالتے ہوئے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے کا وقت دیا تھا امید تھی کہ فروری میں ہی اس پر سماعت ہوجائے گی لیکن افسوس ہے کہ عدالت عظمی نے اس حساس مسئلہ کو جلد سماعت کے قابل نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہاکہ ہندو، کیا مسلمان، دلت کیا، قبائلی کیا، کمزور کیا سب طبقے سی اے اے کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے سڑکوں پر ہیں اور اس میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس پر جلد سماعت نہیں کرتا تو صرف مایوسی کاہی اظہار کیا جاسکتا ہے۔
مظاہرین خواتین میں شامل ملکہ خاں، نصرت آراء سیما اور ثمینہ نے کہاکہ ہم لوگوں کو سپریم کورٹ سے بہت ہی امید وابستہ ہیں اور امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمارے درد کو سمجھے گا اور ہماری سڑکوں پر بیٹھنے کو محسوس کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ کوئی عوامی جذبات کا نہیں ہے بلکہ آئین کا ہے،ہم لوگ قطعی یہ نہیں کہتے کہ ہمارے جذبات کے مطابق فیصلہ کریں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں، آئین میں جس چیز کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، اس کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ بہت سے معاملے کو ترجیحی بنیاد پر سنتا ہے لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ پورا ملک اس وقت سڑکوں پر ہے، دہلی میں اس کے بہانے فساد ہوچکا ہے جس میں پچاس سے زائد لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر نہیں سنتا ہے تو اس پر مایوسی کا اظہار اور افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کے اس معاملے پر توجہ نہ دینے اور سپریم کورٹ کے بھی نظر انداز کرنے پراقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے اس قانون کو امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کور ٹ میں انٹرویشن عرضی دائر کی ہے۔ اس سے معاملہ کے حساس ہونے کا پتہ چلتا ہے، اس کے علاوہ پوری دنیا میں اس قانون کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں مظاہرے کئے جارہے ہیں، اگر اس معاملے میں سپریم کورٹ جلد سماعت کرکے معاملہ کا نپٹارہ کردے گا تو اس ہندوستان کے تئیں بہترین پیغام جائے گا۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور سی اے اے کے خلاف عرضی کرنے والوں میں سے ایک سماجی کارکن انتخاب عالم نے سپریم کورٹ کے ہولی کے بعد سماعت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس حساس معاملہ پر سپریم کورٹ جلد سماعت نہیں کرے گا تو پھر کس پر سماعت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو گزشتہ 22جنوری کو ہی کوئی نہ کوئی آرڈر جاری کردینا چاہئے تھا لیکن اس نے ایک تکنک کا سہارا لیتے ہوئے حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے تک وقت دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ سپریم کورٹ فروری میں ہی سماعت کرکے اس حساس مسئلہ کو نپٹارہ کردے گا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں مسلم خواتین سمیت تمام طبقے سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ سے تمام لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کی بات یہاں سنی جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت جلد کرنے کا مطالبہ جمعرات کے رو ز مسترد کر دیا۔ کچھ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کَپل سبل نے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملے کا خصوصی ذکر کیا اور جلدی سماعت کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کی۔”عدالت نے کہا”سبری مالا معاملے میں خواتین کے حقوق بنام مذہبی روایت معاملے کی سماعت کے بعد اسے سنا جائے گا۔ آپ ہولی کی چھٹی کے بعد پھر تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کریں“۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت اگلے ہفتے اپنا جواب داخل کر دے گی۔ واضح رہے کہ سی اے اے کو چیلنج کرنے والی 150 سے زائد عرضیاں سماعت کے لئے زیر التوا ہیں۔ تمام عرضیوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے جو ابند ہے۔ اس کے منتظمین کو پولیس نے دنگا بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کانگریس پر آپریشن سندھور سے ‘حسد’ کا الزام لگایا

Published

on

تعلیم، امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم اور نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے جمعہ کو الزام لگایا کہ کانگریس نریندر مودی حکومت کے کامیاب آپریشن سندھور سے جلتی ہے۔ پرہلاد جوشی نے یہ بھی الزام لگایا کہ جب بھی ہندوستان پڑوسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے تو پارٹی “پاکستان کے خیر خواہ” کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ ہبلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جوشی نے الزام لگایا کہ کانگریس ہندوستانی مسلح افواج کی صلاحیتوں اور بہادری اور وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے فراہم کردہ سیاسی رہنمائی پر خاموش رہی جب تک آپریشن سندھ کامیاب نہیں ہو جاتا۔

جوشی نے دعویٰ کیا کہ جب تک آپریشن سندھ کامیاب نہیں ہوا، کانگریس کے پاس ہندوستانی فوج کی صلاحیتوں اور بہادری یا وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی سمت کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ جب کونڈولیزا رائس نے یہاں آکر کانگریس حکومت کو پاکستان پر حملہ نہ کرنے کا کہا تو انہوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور خاموش رہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت کے کامیاب طرز عمل کے بعد کانگریس صرف تنقید کا نشانہ بنی۔ جوشی نے الزام لگایا کہ آپریشن سندھ کامیابی سے کیا گیا، وہ غیرت مند ہو گئے ہیں۔

جوشی نے آر ایس ایس کے روٹ مارچ میں مبینہ طور پر حصہ لینے کے الزام میں دو سرکاری اسکول اساتذہ کی معطلی پر کرناٹک حکومت پر بھی تنقید کی۔ کارروائی کو سیاسی طور پر حوصلہ افزائی قرار دیتے ہوئے، جوشی نے الزام لگایا کہ معطلی “نفرت” اور سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ “ریاستی حکومت نفرت سے کام کر رہی ہے۔ 1970 کی دہائی سے آر ایس ایس کے خلاف مقدمات میں حصہ لینے والے لوگوں نے عدالتوں میں اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ عدالت میں کھڑے نہیں ہوں گے اور حکومت اپنی ساکھ کھو دے گی۔

جوشی نے کہا کہ آر ایس ایس ایک آزاد تنظیم ہے اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے پہلے آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر سرکاری ملازمین کے خلاف کی گئی اسی طرح کی تادیبی کارروائی کو منسوخ کردیا تھا۔ “یہ حکومت کی طرف سے انتقامی اور بزدلانہ کارروائی ہے،” انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں اساتذہ کے خلاف معطلی کے احکامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ یادگیر میں محکمہ تعلیم نے اکتوبر 2025 میں منعقدہ آر ایس ایس کے روٹ مارچ میں مبینہ طور پر حصہ لینے کے الزام میں دو سرکاری اسکول اساتذہ کو معطل کر دیا تھا۔ یہ کارروائی اس شکایت کے بعد کی گئی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اساتذہ نے سرکاری ملازمین کے طور پر پروگرام میں حصہ لیا تھا۔

اس معاملے نے کرناٹک میں ایک سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، بی جے پی نے کانگریس حکومت پر آر ایس ایس کے ہمدردوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جب کہ ریاستی حکومت نے محکمہ تعلیم کے قابل اطلاق سروس رولز کی بنیاد پر تادیبی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

Continue Reading

سیاست

کانگریس لیڈر ادت راج نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے ماڈیول کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی کا تعلق ہے۔

Published

on

کانگریس لیڈر ادت راج نے جمعہ کو الزام لگایا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی سے منسلک جاسوسی نیٹ ورک، جسے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے بے نقاب کیا تھا، اس کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے “بہت امکان ہے” تعلق ہے۔ دہلی پولیس نے یہاں سے ایک نوجوان جوڑے کو گرفتار کیا، جو 2024 سے پاکستانی انٹیلی جنس افسران کے ساتھ رابطے میں تھا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نیٹ ورک سے منسلک ہو گیا تھا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر ادت راج نے الزام لگایا: “یہ بہت ممکن ہے کہ وہ آر ایس ایس-بی جے پی کے کارکن نکلیں، کیونکہ آئی ایس آئی کے جاسوسوں کی اکثریت، جو اب تک مدھیہ پردیش اور بھا رت کے دیگر علاقوں سے پکڑے گئے ہیں جنتا پارٹی۔”

آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “ان میں ملک کے لیے حب الوطنی کا کوئی جذبہ نہیں ہے اور وہ صرف ڈراموں میں مصروف ہیں۔ اگر وہ محب وطن ہوتے تو ملک کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیتے۔ اس کے بجائے، انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ اب، انہیں صرف ‘طاقت’ کی فکر ہے۔” “وہ (آر ایس ایس) ایک بیانیہ چلاتے ہیں، لیکن وہ اپنے قومی کارکن ہونے کی روایت نہیں رکھتے، “وہ عظیم کارکن ہیں۔ کانگریس لیڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ جاسوسی کے اس طرح کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی اکثریت ’’ہندو‘‘ ہے۔

“یہ ممکن ہے کہ وہ (گرفتار ملزمان) مسلمان ہوں، لیکن اکثریت ہندوؤں کی ہو، ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ ہندو ہیں، یہ ایک لمبی فہرست ہے، صرف ان دونوں کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے… اگر پچھلے 10-12 سال کے اعداد و شمار کو تلاش کیا جائے تو… یہ دونوں (جن کو گرفتار کیا گیا ہے) مسلمان ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثریت ہندوؤں کی ہے”۔ مستثنیات؛ بصورت دیگر، ان میں سے اکثریت کا تعلق آر ایس ایس اور بی جے پی سے ہے… پوری فہرست کو عام کیا جانا چاہیے۔”

مزید، انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو بھی ملک کے مفادات کے خلاف کام کرتا ہے اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ اسی دوران، خصوصی سیل کی شمالی رینج کو دہلی-این سی آر میں کام کرنے والے پاکستان کے حمایت یافتہ جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں معلومات موصول ہوئیں۔ تفتیش کے دوران، پولیس نے بھارتی سم کارڈ حاصل کرنے اور انہیں پاکستان بھیجنے میں ملوث ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، جہاں انہیں مبینہ طور پر حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کی شناخت محمد ساحل اور اس کی اہلیہ سمیرا کے نام سے کی۔

Continue Reading

سیاست

ناگیندر کا استعفیٰ ناگزیر ہے، ان کے عہدے پر برقرار رہنے سے ریاستی حکومت کو شرمندگی اٹھانی پڑی: بی جے پی

Published

on

کرناٹک قانون ساز کونسل کے بی جے پی کے چیف وہپ، این روی کمار نے جمعہ کو کہا کہ منصوبہ بندی اور شماریات کے وزیر بی ناگیندر کا استعفیٰ ناگزیر ہے اور الزام لگایا کہ وزیر کا کابینہ میں برقرار رہنا ریاستی حکومت کو شدید شرمندگی کا باعث بنا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر ناگیندر نے ابھی تک اپنے استعفیٰ کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم، ناگیندر نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو شرمندہ نہیں کریں گے، جس سے مستعفی ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

بنگلورو میں بی جے پی کے ریاستی ہیڈکوارٹر جگنا ناتھ بھون میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے روی کمار نے کہا کہ بی جے پی اور جے ڈی (ایس) نے مقننہ میں ناگیندر کے استعفیٰ کا مطالبہ اٹھایا تھا اور بی جے پی نے ریاست کے تعلقہ اور اضلاع میں احتجاج بھی کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یونین بینک سے کروڑوں روپے غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے ہیں۔ تقریباً 600 بینک کھاتوں تک سڑک۔ انہوں نے اس کیس کے سلسلے میں کئی عہدیداروں کی گرفتاری اور پی چندر شیکھر کی موت کا بھی حوالہ دیا، جن کی موت تنازعہ کے درمیان مبینہ طور پر خودکشی سے ہوئی تھی۔

روی کمار نے الزام لگایا کہ طلباء کے اسکالرشپ کے لیے فنڈز، چھوٹے کاروباروں کی مدد کے لیے قرضے اور کسانوں کو بورویل حاصل کرنے میں مدد کے بجائے تلنگانہ اسمبلی انتخابات اور بلاری ضمنی انتخاب کے ساتھ ساتھ لیمبورگینی کار، سونا اور چاندی کی خریداری کے مقاصد کے لیے ہٹا دیا گیا۔روی کمار نے ڈی کے پر بھی الزام لگایا۔ شیوکمار کی زیرقیادت حکومت کے ساتھ ساتھ پچھلی سدارامیا حکومت بھی “سماجی انصاف مخالف” ہونے کی وجہ سے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منکالا ویدیا، جو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) برادری سے تعلق رکھتی ہیں، کو وزارت کے عہدے کے لیے سمجھا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ہٹا دیا گیا، جو اس نے دعویٰ کیا کہ یہ پسماندہ برادریوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے کہ گاتری کو بھی مبینہ طور پر ایک خاتون کا موقع دیا گیا تھا۔ ایک پسماندہ طبقہ سے تھا، اور سوال کیا کہ شیوانا کو وزیر کیوں نہیں بنایا گیا۔

روی کمار نے مزید الزام لگایا کہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ستیش جارکی ہولی، ایم بی سمیت لیڈروں کو مواقع دینے سے انکار کیا۔ پاٹل، کے ایچ منیاپا اور ضمیر احمد خان اضافی ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدوں کے مطالبے کے سلسلے میں۔ انہوں نے سدارامیا کو اپنے بیٹے یتیندرا سدارامیا کو وزیر بنانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر شیوانا کو اس کے بجائے منتخب کیا جاتا تو یہ سماجی انصاف کے تئیں وابستگی کا مظاہرہ کر سکتا تھا۔ روی کمار نے سوال کیا کہ آنے والی حکومتیں سماجی اور سماجی خدمات سے متعلق مختلف رپورٹس کو نافذ کرنے میں کیوں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے کنتھاراج کی قیادت میں ذات پات کی مردم شماری کرائی گئی تھی لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جے پرکاش ہیگڈے کی پیش کردہ رپورٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حالانکہ حکومت کو مدھوسودن نائک کی قیادت میں تیار کردہ رپورٹ موصول ہوئی تھی، روی کمار نے دعویٰ کیا کہ اب وزیر اعلیٰ ڈی کے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ شیو کمار اس کو نافذ کرنے کے لیے۔ “جب آپ اقتدار میں تھے تو آپ نے اسے نافذ کیوں نہیں کیا؟” انہوں نے پوچھا۔ روی کمار نے خشک سالی سے متعلق امداد پر بھی حکومت پر تنقید کی، اور الزام لگایا کہ خشک سالی کا اندازہ صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا تھا اور کسانوں کو معاوضہ دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کو ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا اور اسے ایک سنگین ناانصافی قرار دیا۔ روی کمار نے یاد کیا کہ بی ایس کے دوران یدیورپا کے وزیر اعلیٰ کے دور میں کسانوں کو غیر سیراب زمین کے لیے 27,000 روپے فی ہیکٹر اور سیراب شدہ زمین کے لیے تقریباً 34,600 روپے فی ہیکٹر معاوضہ ملا تھا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان