(جنرل (عام
بنگلہ دیش : 6 ماہ میں سڑک حادثات میں 360 طالب علم جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، آگاہی مہم چلانے کا مطالبہ
بنگلہ دیش میں رواں سال جنوری اور جون کے درمیان سڑک حادثات میں تقریباً 360 طلباء ہلاک اور 109 دیگر زخمی ہوئے۔ یہ معلومات بنگلہ دیش مسافروں کی فلاح و بہبود ایسوسی ایشن (جاتری کلیان سمیتی) کی طرف سے ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں دی گئیی -این بی خبر رساں ایجنسی نے جاتری کلیان سمیتی کے جنرل سکریٹری مزمل چودھرکے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ چودھری نے 2011 میرسرائے سڑک حادثے کی 15ویں برسی کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، “طلباء میں روڈ سیفٹی کے بارے میں بیداری پیدا کرنا محفوظ سڑکوں اور زیادہ نظم و ضبط پر مبنی معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا، “میرسرائے جیسے سانحے کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے طلباء، اساتذہ اور والدین پر مشتمل روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی کے باقاعدہ پروگرام نہیں چلائے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً طلباء کی ایک بڑی تعداد ہر سال سڑک کے حادثات کا شکار ہو رہی ہے۔ بہت سے زخمی ہوتے ہیں، اور کچھ مستقل طور پر معذور ہو جاتے ہیں۔”کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، “جنوری میں 57 سڑک حادثات میں 57 طلباء جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے۔ فروری میں 39 حادثات میں 47 طلباء جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے”۔ مارچ سب سے مہلک مہینہ تھا، جس میں 59 سڑک حادثات میں 67 طلباء ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ اپریل میں 51 حادثات میں 56 طلباء جاں بحق اور 25 زخمی ہوئے۔ مئی میں سب سے زیادہ سڑک حادثات ہوئے جن میں 61 طلباء ہلاک اور 23 زخمی ہوئے۔ جون میں 53 حادثات میں 60 طلباء جاں بحق اور 27 زخمی ہوئے-11 جولائی 2011 کے سانحہ میرسرائے کو یاد کرتے ہوئے مزمل حق چودھری نے کہا کہ اس دن چٹگرام کے سب ڈسٹرکٹ میرسرائے میں مختلف سکولوں کے طلباء کو لے جانے والا ایک منی ٹرک بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے کھائی میں جا گرا۔ اس حادثے کے نتیجے میں طلباء سمیت 45 افراد ہلاک ہو گئے۔ آج بھی اسے بنگلہ دیش کی تاریخ کا بدترین سنگل روڈ حادثہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس حادثے کے بعد بھی حکومت طلباء کے لیے روڈ سیفٹی کے حوالے سے کوئی موثر بیداری مہم چلانے میں ناکام رہی۔ نتیجتاً طلباء اور والدین میں خاطر خواہ آگاہی پیدا نہیں ہو سکی اور ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان سڑک حادثات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے جاتری کلیان سمیتی نے حکومت کو پانچ اہم سفارشات کی ہیں۔ ان میں اسکول کی نصابی کتابوں میں روڈ سیفٹی کے موضوعات کو شامل کرنا، ہر ماہ کم از کم ایک گھنٹے کے روڈ سیفٹی آگاہی سیشن کا انعقاد، اور ماہرین کو شامل کرنا شامل ہے۔ کمیٹی نے قومی اور علاقائی شاہراہوں پر تمام روڈ کراسنگ پر زیبرا کراسنگ کی تعمیر کا مطالبہ کیا، خاص طور پر اسکولوں کے قریب، اور کلیئر اسکول زون کے سائن بورڈز کی تنصیب کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، اس نے اسکولوں کے قریب قومی اور علاقائی شاہراہوں پر سرخ جھنڈے اور عکاس واسکٹ پہنے “روڈ سیفٹی گارڈز” کو تعینات کرنے کی سفارش کی، تاکہ وہ ٹریفک کو روک سکیں اور طلباء کو محفوظ طریقے سے گزرنے میں مدد کر سکیں۔ کمیٹی نے طلباء اور اساتذہ کی شرکت سے ہر تعلیمی ادارے میں روڈ سیفٹی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
(جنرل (عام
پیڈسٹرین فرسٹ مہم کے تحت اندھیری ویسٹ میں 38 غیر مجاز اسٹالز کے خلاف کارروائی کی گئی

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی جانب سے شروع کی گئی ‘پیدل چلنے والے پہلے’ مہم کے مطابق، اندھیری (مغربی) کے علاقے میں کل 38 غیر مجاز اسٹالوں کے خلاف کارروائی کی گئی خاص طور پر اندھیری ریلوے اسٹیشن (مغربی)، وِلے پارلے ریلوے اسٹیشن (مغرب)، جوگیشوری ریلوے اسٹیشن (مغرب)، جوگیشوری ریلوے ویسٹنڈی، روڈ وییرا، روڈ وییرا اسٹیشن (ویسٹ) کے قریب۔ بی ایم سی پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ، آسان اور رکاوٹ سے پاک راستے فراہم کرنے کے لیے مختلف محکموں کے ذریعے تجاوزات ہٹانے کی مہم چلا رہی ہے۔ اس مہم کے پہلے مرحلے میں ممبئی بھر میں 200 فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر بی ایم سی کے کے-ویسٹ وارڈ آفس کے تحت گزشتہ ایک ہفتے سے وسیع پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں۔بی ایم سی ممبئی بھر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو نافذ کر رہی ہے تاکہ فٹ پاتھوں سے غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جا سکے، اس طرح یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ میونسپل انتظامیہ ممبئی کی تاجر برادری اور شہریوں سے اس مہم میں تعاون کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ممبئی کے فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے دستیاب کرنے کے لیے ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم شروع کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ولے پارلے علاقے میں 27 سڑکوں پر تجاوزات کو ہٹایا جانا ہے۔ سوامی وویکانند روڈ کے ساتھ پیدل چلنے والوں کی بھاری ٹریفک والے علاقوں میں فٹ پاتھ سے رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں، اندھیری (مغربی)، وِلے پارلے (مغربی) اور جوگیشوری کے اسٹیشن علاقوں کے ساتھ ساتھ رام گنیش گڈکری مارگ، ویرا دیسائی مارگ، اور سوامی وویکانند مارگ کے چھ فٹ پاتھوں سے تجاوزات ہٹا دی گئیں۔یہ آپریشن جوائنٹ کمشنر (زون 4) ڈاکٹر بھاگیہ شری کاپسے اور اسسٹنٹ کمشنر (کے-ویسٹ وارڈ)چکرپانی آلے کی رہنمائی میں کیا گیا۔ اس کارروائی نے اندھیری ویسٹ، وِلے پارلے ویسٹ، اور جوگیشوری اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کو صاف کر دیا ہے۔ اس سے چوٹی کے اوقات میں ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں، شہریوں کو اب سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھ تک رسائی حاصل ہوگی۔ آپریشن میں ایک جے سی بی، ایک ڈمپر، سات سے زائد اہلکار اور عملے کے ارکان، پندرہ مزدور اور پانچ سے زائد پولیس اہلکار شامل تھےسینڈہرسٹ روڈ کے علاقے میں ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے تحت تجاوزات ہٹانے کی مہم بھی چلائی گئی۔ واڑی بندر کے علاقے میں فٹ پاتھ پر قائم غیر مجاز دکانوں اور سٹالز کے خلاف کارروائی کی گئی ۔
(جنرل (عام
آگری پاڑہ پولیس میں ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر ہنگامہ بلڈر کے خلاف دھرنا

ممبئی ممبئی کالا پانی مومن پورہ میں ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو لے کر بلڈر کے خلاف آج آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن میں بے گھر مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بلڈر پر غنڈہ گردی اور عورتیں بھیج کر سائٹ کا تالا توڑ کر غیر قانونی طریقے سے غیر قانونی سر گرمی انجام دینے کا سنگین الزام عائد کیا۔ آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن میں اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جب سماجوادی پارٹی کی کارپوریٹر عنبرین ابراہانی نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس معاملہ میں مداخلت کر نے کے ساتھ پولیس سے کارروائی کی درخواست کی تو سنیئر پولیس افسر نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں ہی باہر بیٹھنے کی ہدایت دی اور کہا کہ یہ کوئی مہا نگر پالیکا کا دفتر نہیں ہے اس کے بعد عنبرین مکینوں کو ہمراہ پولیس اسٹیشن میں ہی دھرنے پر بیٹھ گئی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ مومن پورہ کالا پانی پروجیکٹ کا ٹھیکہ بلڈر بھپیش کو فراہم کیا گیا تھا لیکن بھپیش نے مقررہ شرائط کی پابندی نہیں کی اور ایک سال سے مکینوں کو کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی جس کے بعد پہلے مکینوں نے اس کا ٹھیکہ معطل کر دیا اس کے بعد بی ایم سی نے بھی اس کا ٹھیکہ معطل کردیا اس کے باوجود آج بلڈر کی جانب سے باؤنسر عورتوں و مردوں نے سائٹ پر گھس کر ہنگامہ آرائی کی۔
اس معاملہ میں مقامی مکینوں اور متاثرین نے پولیس کو طلب کیا اور پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا جبکہ اس مسئلہ پر بلڈر کے خلاف مکینوں کی ناراضگی ہے ایک مکین نسیم بانو نے الزام عائد کیا کہ بلڈر بھپیش اور عبید نے ان خواتین کو بھیجا تھا اور یہاں سائٹ پر غلط کام ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اگر سائٹ کا تالا توڑتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی نسیم بانو نے الزام عائد کیا کہ مکینوں کو بھی ان پچاس سے چالیس عورتوں نے نشانہ بنایا اور ہاتھا پائی کے ساتھ مارپیٹ کا واقعہ بھی پیش آیا آگری پاڑہ پولیس میں مقامی کارپوریٹر 212 ء عنبرین نے بلڈر اور پولیس کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ تین سال سے بلڈر کو ری ڈیولپمنٹ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن اس نے کسی کو بھی کرایہ نہیں دیا جس کے بعد اس کا ٹھیکہ معطل ہوگیا اور بی ایم سی کمشنر نے بھی چار ماہ قبل ہی ٹھیکہ معطل کر دیا تھا اسی لئے آج بلڈر نے مرد اور خواتین باؤنسر سائٹ پر بھیجے تھے اس لئے مجھے مکینوں نے فون کیا اور میں نے سائٹ کا معائنہ کیا اور پھر پولیس اسٹیشن پہنچی پولیس اسٹیشن میں بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کر نے کیلئے ہم نے دھرنا دیا پولیس نے یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ پر ضروری کارروائی ہوگی جس کے بعد دھرنا ختم کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مکین اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں انہیں کرایہ بھی فراہم نہیں کیا جارہا ہے اس لئے بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
بلڈر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا آگری پاڑہ بی ایم سی پلاٹ پر بازآبادکاری پروجیکٹ کے معرفت بھپیش بلڈر نے پروجیکٹ حاصل کیا اور اس میں تمام مکینوں سے باقاعدہ طور پر معاہدہ مکمل ہوا اور کام بھی جاری ہے ایسے میں کچھ مکین ہی کام میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی سیاستداں بھی اس پروجیکٹ میں رکاؤٹ حائل کررہے ہیں۔ بھپیش بلڈر نے بتایا کہ پروجیکٹ سے متعلق ان کے پاس تمام منظوری و اجازت نامے موجود ہے اس کے ساتھ ہی مکین بھی اس کیلئے تیار ہے لیکن کچھ مکین ایک پرائیوٹ بلڈر اور سیاستداں کے بہکاؤے میں آکر اس کی مخالفت کر رہے ہیں انہوں نے اس کی تردید کی ہے کہ ان کا پروجیکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے یہ بی ایم سی کمشنر نے اسے معطل کر دیا ہے انہوں نے سارے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مارچ تک تمام مکینوں کو کرایہ بھی فراہم کیا ہے اور اس کی رسیدیں بھی ہمارے پاس موجود ہے اس کے باوجود کچھ مکین الزامات عائد کرتے ہیں یہ پوچھنے پر کہ آپ کے لوگوں نے سائٹ پر پہنچ کر غنڈہ گردی کی ہے تو انہوں نے اسے غلط اور گمراہ کن الزام قرار دیا اور کہا کہ ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج ہے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ آگری پاڑہ پولیس کے مطابق اس معاملہ میں اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا گیا ہے البتہ پولیس نے دھرنے کے بعد لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ پر ضروری کارروائی و تفتیش ہوگی۔
(جنرل (عام
سعودی نصاب سے احادیثِ رسول کا حذف ناقابلِ قبول، دینی نصاب کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانا امت کے لیے تشویشناک( الحاج محمد سعید نوری)

اس تعلق سے سنی جمیعت العلماء کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس کی صدارت تحفظ ناموس رسالت و نائب صدر سنی جمعیت علماء الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کی رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے سعودی عرب کے۲۶۔۲۰۲۵ کے تعلیمی نصاب میں بعض احادیثِ مبارکہ، اسلامی عبارات اور مذہبی اقتباسات کے حذف و ترمیم سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر شدید تشویش اور سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احادیثِ رسولِ اکرم کو سیاسی، سفارتی یا وقتی مصلحتوں کے تحت نصاب سے نکالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ احادیثِ نبویہ کسی حکومت، سلطنت یا وزارتِ تعلیم کی جاگیر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مقدس علمی و دینی سرمایہ ہیں۔ اگر کسی مستند حدیث کے کسی حصے کی تشریح مشکل یا حساس محسوس ہوتی ہے تو اس کی وضاحت مستند علماء و محدثین کے ذریعے کی جائے، نہ کہ حدیث کو خاموشی سے نصاب سے خارج کردیا جائے۔الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی رپورٹوں میں سعودی اسکولی نصاب میں متعدد تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں شامل بعض احادیث اور مذہبی اقتباسات کا حذف بھی بتایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا : اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ محض نصاب میں معمولی ترمیم کا معاملہ نہیں بلکہ نئی نسل کے دینی شعور اور اسلامی تاریخ کی تعبیر کا انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ احادیثِ رسول کو موجودہ سیاسی یا سفارتی ماحول کے مطابق نصاب سے نکالنا علم و دیانت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دین کو حکومتی پالیسیوں کا تابع نہیں بنایا جاسکتا۔‘‘احادیثِ رسول کو سیاسی مصلحتوں کا تابع بنانا خطرناک رجحان رضا اکیڈمی کے سربراہ نے کہا کہ اسلام نے اہلِ کتاب اور دیگر اقوام کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک، معاہدات، انسانی وقار اور بقائے باہمی کے واضح اصول دیے ہیں۔ رسولِ اکرم کی حیاتِ طیبہ اس کی روشن ترین مثال ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذہبی رواداری مقصود ہے تو سیرتِ مصطفیٰ کا مکمل اور مستند تعارف نئی نسل کو کیوں نہیں دیا جاتا؟ کیا رواداری کے نام پر تاریخ کے بعض حصوں کو حذف کرنا اور احادیث کے نصابی وجود کو ختم کرنا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟الحاج محمد سعید نوری نے سعودی نصاب سے’’ مسلمان بیت المقدس سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے‘‘جیسے جملے کے حذف اور اسرائیل سے متعلق بعض سابقہ اصطلاحات میں تبدیلی کی اطلاعات پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔اس میٹنگ میں شریک علماء کرام مولانا فرید الزماں صاحب خطیب و امام کھتری مسجد مولانا امان اللہ رضا صاحب خطیب و امام رنگ والا کمپاؤنڈ مولانا عثمان صاحب برکت بھائی فرید محمد فرید و دیگر شامل تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
