قومی خبریں
شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔ شاہین باغ مظاہرین
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے مختلف علاقوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اکسانے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔
خاتون مظاہرین میں شامل ملکہ خاں، ترنم،نصرت آراء، شیزہ اور دیگر نے الزام لگایا کہ حکومت نے شاہین اور ملک کے دیگر شاہین باغ کو ختم کرانے کے لئے تمام حربے اپنائے ہیں لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں ملی اور ہمارا احتجاج جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اب سی اے اے کے خلاف اکسانے کا الزام لگاکر کچھ مسلم نوجوانوں کرکے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ شاہین باغ میں مکانوں پر کچھ نمبر لکھ کر وہاں کے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کا حق آئین دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی شاہین باغ معاملے میں واضح طور پر کہا ہے کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ تو پھر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف بولنا جرم کیسے ہوگیا ہے جو اس وقت مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش ہے اور ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ڈر اور خوف کے حصار سے ہم لوگ نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب ہم لوگ ضروری کاموں کے علاوہ گھر سے نہیں نکلتی تھیں لیکن آج شاہین باغ ہی پورے ملک میں ڈھائی سو سے زائد شاہین باغ بن چکے ہیں اور ہر جگہ خواتین نے احتجاج کا مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ یہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اب خواتین خوف و دہشت کے قید سے آزاد ہوچکی ہیں اور اپنا حق لینا جانتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جیسا کہ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار شدہ مسلم نوجوان سی اے اے کے خلاف اکسارہے تھے۔ہم لوگ جاننا چاہتی ہیں کہ سی اے اے کے خلاف بیدار کرنا جرم کیسے ہوگیا اور پولیس کیسے ان لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کا ایک ہی مقصد ہے کسی طرح سی اے اے کے خلاف دھرنا مظاہرہ ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے بات چیت کرے، ان کے خدشات کو دور کرے اور اس سیاہ قانون کو واپس لے۔ ایسا کرنے سے ہی ملک کا بھلا ہوگا اور ملک کے وقار میں اضافہ، مشترکہ تہذیب میں یقین اور سماج تقسیم ہونے سے بچ جائے گا۔
دہلی میں فساد میں فساد اور پچاس سے زائد لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد سے مشرقی دہلی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ بند ہے لیکن کئی مقامات پر شروع ہوگئے ہیں۔بہار کے سہسرام میں شاہین باغ بناکر خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور جب تک حکومت اس کو واپس نہیں لیتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ اڑیسہ کے بھدرک میں ’شاہین باغ بھدرک‘ بناکر خواتین قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے آئین کو بچائیں گے۔ اس کے لئے جو بھی قربانی دینی ہوگی دیں گے لیکن دستور کی ہر حال میں حفاظت کریں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر جیل بھی بھیجوائیں گے تو بھی کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ساتھ ہی مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہاکہ یہ قانون ملک کو توڑنے والا ہے اوراس سے سماج میں تفرقہ پیدا ہوگا۔
اسی کے ساتھ حضرت نظام میں میں خواتین کے احتجاج کا آج46واں دن ہوگیا ہے۔26جنوری سے احتجاج شروع ہوا تھا۔ وہاں کے انتظام و انصرام دیکھنے والے محمد عمر اور شیخ غلام جیلانی نے بتایا کہ اس احتجاج میں شریک ہونے والے میں سے سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، مشہور وکیل پرشانت بھوشن، ہندو سینا کے صدر یوراج سنگھ، انجلی بھاردواج، راہل اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ پنجاب میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مسلسل ریلیاں اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین نے شاہین باغ کی حمایت اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف زبردست ریلی نکالی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔کل پولیس کے آنے سے کچھ بدمزدگی پیدا ہوگئی تھی لیکن جلد ہی پولیس وہاں سے چلی گئی۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، آزاد مارکیٹ،جامع مسجدمیں مظاہرہ جاری ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور،اودن پور اور ٹونک کے موتی باغ میں خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسورکے نیلم باغ، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین میں شامل55سالہ فریدہ کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
(جنرل (عام
سمندری ممالیہ جانوروں کے ساحل پر پھنسنے کے سب سے زیادہ 161 واقعات گوا میں درج، سی ایم ایف آر آئی کی رپورٹ

کوچی : گوا میں 2024-25 کے دوران 113 کیسوں کے ساتھ، ہندوستانی ساحل کے ساتھ سب سے زیادہ تعداد میں سمندری ممالیہ پائے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ آئی سی اے آر-سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ایف آر آئی) کے ایک مطالعہ کے مطابق، کیرالہ 13 کیسوں کے ساتھ اس کے بعد، مہاراشٹرا 11 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اب ایک ڈیجیٹل نقشہ تیار کیا ہے تاکہ ایسے واقعات کو ٹریک کیا جا سکے اور سمندری ستنداریوں کی حفاظت میں مدد ملے۔ نقشہ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے اور 32 سمندری ستنداریوں کی انواع کا احاطہ کرنے والے تقریباً 1,300 مقام کے ریکارڈ کو اکٹھا کرتا ہے۔ اس مطالعہ کی قیادت سی ایم ایف آر آئی کے سینئر سائنسدان رتیش کمار رویندرن نے کی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والے ماہی پروری اور ریموٹ سینسنگ کے ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں پیش کیا گیا۔
ہمپ بیک ڈولفنز پھنسے ہوئے سمندری ستنداریوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں، جن کی تعداد 82 ہے۔ انڈو پیسیفک فین لیس پورپوز 44 کیسز کے ساتھ آگے آیا۔ ڈیٹا سی ایم ایف آر آئی کے سمندری ممالیہ اسٹریڈنگ نیٹ ورک کے ذریعے جمع کیا گیا تھا۔ یہ نیٹ ورک ہندوستانی ساحل کے ساتھ واقع انسٹی ٹیوٹ کے علاقائی مراکز میں عملے کے ذریعے کام کرتا ہے۔ ریکارڈز کو تربیت یافتہ رضاکاروں اور اوپن ایکسیس ڈیٹا بیس سے تصدیق شدہ معلومات سے بھی تعاون حاصل تھا۔ ایسا ہی ایک ذریعہ میرین میمل ریسرچ اینڈ کنزرویشن نیٹ ورک آف انڈیا تھا۔ نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم تفصیلات فراہم کرتا ہے کہ جانور کہاں پائے گئے، ان کی نسلیں، واقعات اور موت کی ممکنہ وجوہات۔ یہ صارفین کو اس بات کا مطالعہ کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے کہ اسٹرنڈنگ کب اور کہاں ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ نقشے سے ان علاقوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں اس طرح کے واقعات زیادہ عام ہیں۔ اس سے محققین اور سرکاری ایجنسیوں کو سمندری ستنداریوں کے لیے ممکنہ خطرات کا مطالعہ کرنے اور تحفظ کے بہتر اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
رتیش کمار رویندرن نے کہا کہ یہ معلومات محققین، پالیسی سازوں اور تحفظ فراہم کرنے والی ایجنسیوں کو اہم شعبوں کی نشاندہی کرنے اور پھنسے ہوئے واقعات پر ان کے ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے ایسے معاملات کی اطلاع دینے کے لیے بہتر کوآرڈینیشن اور مضبوط نیٹ ورکس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تحقیق میں انواع کی شناخت کے لیے فیلڈ چیک، ڈی این اے ٹیسٹ اور یہ سمجھنے کے لیے مقامات کی نقشہ سازی کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی کہ سمندری ممالیہ کیوں پھنسے ہوئے ہیں۔ تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا اہتمام ٹریور پلاٹ سائنس فاؤنڈیشن، کوچین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ کیمیکل اوشیانوگرافی، سی ایم ایف آر آئی اور میرین بائیولوجیکل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ مرکزی ارتھ سائنسز کی وزارت کے سکریٹری سری نواس کمار تملا جمعہ کو اختتامی سیشن کا افتتاح کریں گے۔
سیاست
یوپی کے وزیر اعلیٰ کا الزام : کانگریس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے

غازی آباد : اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو الزام لگایا کہ کانگریس انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سمیت مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف اپنے احتجاج کے ذریعے “انتشار پھیلا کر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے” کی کوشش کر رہی ہے۔ اتر پردیش کے غازی آباد میں ‘جمہوریت بچاؤ، انارکی کو ہٹاؤ’ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، یوپی کے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا: “کانگریس اور اس کے اتحادیوں بشمول دہلی کے احتجاج کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ صرف ایک وجہ ہے: پی ایم مودی کی قیادت میں، ایک ‘نیو انڈیا’ نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے، اس نے اپنے آگے بڑھنے کے شاندار سفر کو آگے بڑھایا ہے۔ تاہم، کانگریس اور اس کے اتحادی صرف رکاوٹیں پیدا کرنے اور رکاوٹ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔”
سی ایم آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا، “کانگریس اپنے مفادات کی وجہ سے دنیا کی قدیم اور سب سے بڑی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ آئینی اداروں پر سوال اٹھانا اور انہیں جوابدہ ٹھہرانا پارٹی کی فطرت بن گئی ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا کرکے کانگریس ہندوستان کے آزادی پسندوں کی ’’توہین‘‘ کا گناہ کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ پارٹی اپنے دور حکومت میں بھارت کو بار بار خطرے میں ڈال رہی ہے۔ “جب بھی کانگریس کو موقع ملا، اس نے قوم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا موقع کبھی نہیں چھوڑا… مختلف ذرائع سے لاکھوں کروڑوں کے گھوٹالے کرنے اور ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کے بعد… جب کانگریس نے عام لوگوں کا بھروسہ مکمل طور پر کھو دیا تھا، قوم نے اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر اعتماد کیا،” انہوں نے دعویٰ کیا۔ وزیر اعظم مودی کے ‘وکشت بھارت 2047’ کے وژن پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا، “ہندوستان جانتا ہے کہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی رکاوٹوں کو کیسے مضبوطی سے توڑنا ہے۔ تاہم، کانگریس اور اس کے اتحادی شراکت دار اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔”
“جب وہ الیکشن جیتتے ہیں، تو وہ اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ لیتے ہیں، لیکن جب وہ ہارتے ہیں، وہ ای وی ایم کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں،” انہوں نے دعویٰ کیا، اپوزیشن کو ایک اسکول کے بچے سے تشبیہ دیتے ہوئے جو امتحان میں کم نمبر حاصل کرنے کا بہانہ بناتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ملک میں اہم پیشرفت کر رہی ہیں، سی ایم آدتیہ ناتھ نے کہا، “آج ملک بھر میں تقریباً 12 سیمی کنڈکٹر یونٹس قائم ہو رہے ہیں۔ پی ایم مودی نے دکھایا ہے کہ ملک کی ترقی پر سوال اٹھانے والوں کی ترقی کیسے کی جاتی ہے۔” مزید برآں، یوپی کے وزیر اعلیٰ نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر بھگوان رام کے بھکتوں کے خلاف “عدالت میں اور سڑکوں پر” لڑنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم نعرے لگاتے تھے کہ گولی لگنے اور لاٹھیوں سے مارے جانے کے باوجود ہم ایودھیا میں اسی جگہ رام مندر بنائیں گے، وہ وعدہ آج پورا ہو گیا ہے۔ سی ایم آدتیہ ناتھ نے بھی ‘اگنیویرز’ کے لیے اپنی ابتدائی چار سال کی سروس مکمل کرنے کے بعد دو سال کی سروس کی مدت کا دوسرا آپشن فراہم کرنے کے مرکز کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: “ہم نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہم آپ کے شکر گزار ہیں، پی ایم مودی۔ آپ نے ہندوستان کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کے لیے جو عزت اور احترام کا جذبہ پیدا کیا ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے۔” مزید، چیف منسٹر نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اپنے دور حکومت میں ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کا مناسب جواب نہیں دے رہی ہے۔ “پہلے، جب دشمنوں نے ہمارے فوجیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کیں، تو کانگریس کبھی بھی مناسب جواب نہ دے کر محض یہ کہتی تھی، ‘ہم اسے دیکھ رہے ہیں’۔ پی ایم مودی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی دشمن ہمیں للکارنے کی جرات کرتا ہے تو ہم ان کی طرف سیدھی آنکھ سے دیکھیں گے اور جواب دیں گے،” انہوں نے کہا۔ “اگر کوئی دہشت گرد پاکستان میں چھپا ہوا ہے، تو ہم ان کو بے اثر کرنے کے لیے پاکستان میں داخل ہوں گے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ دشمن سے مناسب طریقے سے نمٹا جائے،” انہوں نے مزید کہا کہ یہ پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے عزم اور قیادت کی وجہ سے ہے کہ ملک سے دہشت گردی اور نکسل ازم کا خاتمہ ہوا ہے۔
سیاست
چاوڑی بازار عمارت حادثہ : دو ایم سی ڈی انجینئروں کو معطل، ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج، دہلی کی وزیر اعلیٰ کا بیان

نئی دہلی : دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جمعرات کو دہلی کے چاوڑی بازار علاقے میں عمارت گرنے کے مقام پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے اس سانحہ کے بعد اپنے جونیئر انجینئر (جے ای) اور اسسٹنٹ انجینئر (اے ای) کو معطل کر دیا ہے جس میں اب تک دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سی ایم گپتا نے کہا کہ اب تک دو لوگوں کو مردہ نکالا جا چکا ہے، جبکہ ایک شخص کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جس عمارت میں ایک گراؤنڈ فلور اور دو اضافی منزلیں تھیں، زیر تعمیر تھی۔ گرنے کی اصل وجہ مزید تحقیقات کے بعد واضح ہو سکے گی۔”
انہوں نے مزید کہا, “میونسپل کارپوریشن نے اپنے جونیئر انجینئر (جے ای) اور اسسٹنٹ انجینئر (اے ای) کو معطل کر دیا ہے، اور تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔” وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے کسی بھی قسم کے تعمیراتی کام کے دوران حفاظتی پروٹوکول پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ “لوگ جس طرح سے گھروں کی تعمیر کے دوران اپنی حفاظت اور حفاظت کو نظر انداز کر رہے ہیں، یہ ان کی اپنی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے۔” دہلی کے وزیر اعلیٰ نے تعمیراتی کام کی نگرانی کرنے والے عہدیداروں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا, “اگر اہلکار لاپرواہی کرتے پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔” مزید، انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹر نے تعمیرات کے انچارج ہونے کے باوجود مزدوروں کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا۔ سی ایم گپتا نے مزید کہا کہ اسی لیے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
بی جے پی دہلی کے صدر ہرش ملہوترا، جو بھی جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، نے میڈیا کو بتایا، “اس طرح کے واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب تعمیرات قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جاتی ہیں اور حفاظت کے مناسب انتظامات نہیں کیے جاتے ہیں۔ ذمہ دار اہلکاروں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔” اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ایم سی ڈی کے اے ای اور جے ای کو معطل کر دیا گیا ہے، اور ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، انہوں نے کہا, “ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تعمیر غیر قانونی تھی، ملہوترا نے کہا, “اگر اضافی منزلیں غیر قانونی طور پر تعمیر کی جائیں تو عمارت گرنے کی پابند ہے۔” میئر پرویش واہی نے مزید کہا, “اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، اور تحقیقات جاری ہیں۔ میونسپل کمشنر کے تحت ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔” مزید، دہلی کے وزیر آشیش سود نے کہا کہ یہ “بدقسمتی” کی بات ہے کہ اس جگہ کی ترقی کے لیے اصول و ضوابط وضع نہیں کیے گئے، جو ایک ہیریٹیج علاقہ ہے۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، “شاہجہان آباد ڈویلپمنٹ بورڈ کے نام سے ایک بورڈ قائم کیا گیا تھا، لیکن اس نے انفرادی سڑکوں پر سرخ پتھر لگانے کے علاوہ کیا کارروائی کی؟ ہماری حکومت نے بورڈ کو فعال کر دیا ہے اور تاریخی عمارتوں اور علاقے کے لیے نئے قوانین اور ضوابط وضع کرنے کے لیے کام کر رہی ہے،” انہوں نے میڈیا کو بتایا۔ قبل ازیں، جائے وقوعہ سے بچائے گئے ایک کارکن نے بتایا کہ اس حصے کے نیچے لکڑی کا سہارا جہاں پہلے ہی ایک سلیب ڈالی گئی تھی، پھٹنے لگی تھی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا, “یہ سلیب ڈالنے کا کام تھا، ہمیں کنکریٹ ڈال کر وہاں سے جانا تھا، ہمیں کیسے معلوم تھا کہ یہ گر جائے گا؟… اس حصے کے نیچے ایک یا دو لکڑی کے سہارے رکھے گئے تھے جہاں سلیب پہلے سے ڈالی گئی تھی۔ لکڑی کے سہارے چٹخنے لگے، گویا کہ میں ہر ایک کو یہ سپورٹ دینے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ گرنا اور سلیب گر سکتا ہے۔” عمارت اس وقت منہدم ہو گئی جب مزدور جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تلاش اور ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
