Connect with us
Saturday,09-May-2026

سیاست

کیجریوال کو تشدد زدہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین

Published

on

shaheen

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے تشدد کی سخت مذمت اوراس پر زبردست غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دہلی جل رہی تھی تو وزیر اعلی اروند کیجریوال کہیں سو رہے تھے۔
عام آدی پارٹی کے کنوینر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کے تئیں سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جب عوام پر مصیبت کا وقت آیا تو وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ حالات سنیچر کی رات سے خراب ہورہے تھے جب بی جے پی کے ایک لیڈر نے دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ دہلی کے عوام نے نفرت کو مسترد کرتے ہوئے امن کو منتخب کیا تھا لیکن تشدد کے دوران امن کے پیامبر کہیں نظر نہیں آئے اور دہلی جلتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنما یہ کہکر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے کہ دہلی پولیس ان کے پاس نہیں ہے،دہلی کے ایک وزیر اعلی کی حیثیت سے یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے اوریہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس کی بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ مسٹر کیجریوال اور ان کے اراکین اسمبلی اگر سڑکوں پر اترتے تو پولیس اور انتظامیہ پر حالات کو کنٹرول کرنے کے کئے دباؤ پڑتا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اب جب کہ متعدد افراد اس تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، سیکڑوں زخمی ہیں۔ان سب کو بچایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اتوار کے روزسے ہی شرپسند عناصر سڑکوں پر ننگا ناچ رہے تھے اگر اس وقت حالات پر قابو کرلیا گیا ہوتا تو دہلی کی یہ حالت نہیں ہوتی۔
مظاہرین نے شاہین باغ مظاہرہ کو پرامن رکھنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک میں جاری مظاہرہ پرامن ہے اور ہر حال میں اسے پرامن رکھا جانا چاہئے کیوں کہ اس طرح کے حالات اس لئے پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ اس کو بدنام کیا جاسکے اور حکومت اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین پرامن طریقے سے اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ تحمل اور صبر کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول جاری رکھیں گی۔
جعفر آبادمیں خاتو ن مظاہرین نے تشدد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ شرپسند اور فسطائی طاقتیں کچھ بھی کرلیں ہم لوگ اس وقت تک احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔کل تشدد اور پتھراؤ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ظلم و تشدد ہمیں اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹاسکتا۔ ان میں سے کئی زخمی خاتون نے کہاکہ اپنے عزم کے تئیں اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگ سڑکوں پراس قانون کوواپس لینے کے لئے بیٹھی ہیں۔ اس کی واپسی کے بغیر ہم لوگ نہیں اٹھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح پولیس اور فسطائی طاقتوں نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے وہ نہایت ہی افسوسناک اور ملک کی شبیہہ کو داغدار کرنے والا ہے۔
دریں اثنا ء دہلی کے حالات پر قابو پانے کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ نے آج اعلی سطحی میٹنگ بلائی جس میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، پولیس کمشنر امولیہ پٹائک، کانگریس کے لیڈر رسبھا ش چوپڑا اور بی جے پی کے لیڈر منوج تیواری اور رام ویر سنگھ ودھوڑی شامل تھے۔ مسٹر کیجریوال نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مسٹر شاہ کی میٹنگ کو اچھا قدم بتاتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دارالحکومت میں تشدد رکے۔میٹنگ میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں دہلی میں امن بحال کرنے میں تعاون کریں ۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
خوریجی میں خاتون مظاہرین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں،کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ کل مشہورسماجی کارکن شبنم ہاشمی سمیت متعدد لوگوں نے شرکت کرکے اظہار خیال کیا تھا۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی،سیلم پور فروٹ مارکیٹ، موج پوری،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، شاشتری پارک، کردم پوری، مصطفی آباد، کھجوری، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

مہاراشٹر

آئل انڈیا میں ماہر ارضیات بننے کا موقع : اس دن واک ان انٹرویو، جانیں اہلیت اور تنخواہ

Published

on

ممبئی، آئل انڈیا لمیٹڈ (تیل) نے کنٹریکٹ کی بنیاد پر مختلف محکموں میں جیولوجسٹ کی تین مختلف آسامیوں کے لیے اہل اور دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کو بھرتی کرنے کے لیے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ جیولوجسٹ کی تین پوزیشنیں ہیں: دو جیولوجسٹ (مائیکروپیلیونٹولوجی) اور ایک جیولوجسٹ (پیٹرولوجی) کی پوزیشن۔ ان عہدوں کے لیے اہل امیدواروں کا انتخاب بغیر تحریری امتحان کے، 100 نمبروں، تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ علم اور مہارتوں اور حتمی میرٹ لسٹ کے لیے واک ان انٹرویو کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ منتخب امیدواروں کو ₹70,000 ماہانہ تنخواہ ملے گی۔ کم از کم عمر کی حد 18 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 45 سال ہے، جس کا حساب واک اِن انٹرویو کی تاریخ کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ انٹرویو کے لیے حاضر ہونے والے امیدواروں کے پاس ایم ایس سی (جیالوجی/اپلائیڈ جیولوجی) یا ایم ٹیک (جیالوجی/اپلائیڈ جیولوجی) کی ڈگری ہونا چاہیے، جیسا کہ قابل اطلاق حکومت کے تسلیم شدہ انسٹی ٹیوٹ یا یونیورسٹی سے کم از کم دو سال کی مدت کا ہو۔ امیدواروں کے پاس پی ایچ ڈی ہونا ضروری ہے جس میں مائکروپیلینٹولوجی یا پیٹرولوجی میں مہارت حاصل ہو اور تیل اور گیس کی صنعت/تحقیقاتی تنظیم/یونیورسٹی/انسٹی ٹیوٹ میں جیولوجیکل لیبارٹری میں قابلیت کے بعد کم از کم ایک سال کا کام کا تجربہ ہو۔ واک ان انٹرویوز 26 مئی کو ‘آئل انڈیا لمیٹڈ، سینٹر آف ایکسی لینس، انرجی اسٹڈیز، 5ویں منزل، این آر ایل سینٹر، 122اے کرسچن بستی، جی ایس روڈ، گوہاٹی، آسام، انڈیا، پن-781005’ میں منعقد ہوں گے۔ خالی آسامیوں کے لیے رجسٹریشن بھی اسی دن مقررہ جگہ پر صبح 9:00 بجے سے صبح 11:00 بجے تک جاری رہے گی۔ لہذا، انٹرویو میں شرکت کرنے والے امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وقت پر مرکز پر پہنچیں اور اپنے درخواست فارم کی ہارڈ کاپی اور تمام متعلقہ دستاویزات اصل میں ساتھ لائیں۔ درخواست فارم ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے، امیدواروں کو پہلے آئل انڈیا لمیٹڈ (تیل) کی آفیشل ویب سائٹ پر جانا چاہیے۔ ہوم پیج سے، متعلقہ پوزیشن کے لیے نوٹیفکیشن لنک پر کلک کریں۔ نوٹیفکیشن سے درخواست فارم ڈاؤن لوڈ کریں اور اسے پرنٹ کریں۔ فارم پر تمام مطلوبہ معلومات درج کریں اور انٹرویو کے دن اپنے ساتھ مرکز میں لائیں۔

Continue Reading

بزنس

اسٹاک مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی اور روپے کی مضبوطی کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی میں اضافہ۔

Published

on

ممبئی : خام تیل کی قیمتوں میں نرمی، روپے کی مضبوطی اور 10 سالہ بانڈ کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے اس ہفتے ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں اچھا اضافہ دیکھا گیا، حالانکہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اب بھی مارکیٹ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ہفتے کے دوران نفٹی میں 0.76 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم آخری کاروباری دن یہ 0.60 فیصد گر کر 24,180 پر بند ہوا۔ اسی وقت، سینسیکس 516 پوائنٹس یا 0.66 فیصد گر گیا اور 77,328 پر بند ہوا، لیکن پورے ہفتے میں اس میں 0.54 فیصد اضافہ ہوا۔ مارکیٹ کے ایک تجزیہ کار نے کہا، “معاشی حالات میں بہتری کی وجہ سے مارکیٹ کا جذبہ ابتدائی احتیاط سے مثبت کی طرف منتقل ہو گیا۔ نتیجتاً، ہفتے کے آخر میں منافع بکنگ کے باوجود، مارکیٹ مضبوط رہی۔ ریاستی انتخابات کے نتائج اور مضبوط چوتھی سہ ماہی کی آمدنی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا۔ مڈ کیپ اور سمال کیپ کے اشاریوں میں دفاعی اشاریے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، دفاعی اشاریے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اس ہفتے کے دوران، نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس میں 4.05 فیصد اضافہ ہوا، مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں استحکام اور روپے کی مضبوطی کی وجہ سے اس وقت مارکیٹ میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ہفتے کے آخری تجارتی دن مقامی مارکیٹ میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو جلد امن معاہدے کی امیدوں پر نظر ثانی کی اور توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا۔

ایران نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی بدستور نافذ العمل ہے جب کہ ایران نے بھی کہا کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی برینٹ خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد سے زیادہ گر کر 95 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئیں۔ دریں اثنا، گھریلو خام تیل کا مستقبل بھی 9,000 کے نشان سے نیچے چلا گیا۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، 24,250 سے 24,300 کی سطح کو فی الحال نفٹی کے لیے ایک مضبوط مزاحمتی زون سمجھا جاتا ہے، جب کہ 24,100 سے 24,000 کی حد ایک کلیدی سپورٹ لیول بنی ہوئی ہے۔ اگر بینک نفٹی 55,500 سے اوپر مضبوط ہوتا رہتا ہے، تو یہ 55,800 سے 56,000 کی سطح تک پہنچ سکتا ہے، جس سے قریبی مدت میں تیزی کے رجحان کو تقویت ملے گی۔ سرمایہ کار اب ہندوستان اور امریکہ کے افراط زر کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ گھریلو قرضوں میں اضافے کے اعداد و شمار کو بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ آر بی آئی کی شرح سود اور کارپوریٹ منافع کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹرا ندا خان کیس, امتیاز جلیل نے ناسک میں ندا سے کی ملاقات؟ وزیر سرشاٹ نے ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کیا

Published

on

ندا خان کیس میں اب نیا موڑ آیا ہے۔ وزیر سنجے شرسات نے ایم آئی ایم لیڈر امتیاز جلیل پر سنگین الزام لگایا ہے کہ جلیل نے ناسک جا کر ندا خان سے ملاقات کی تھی۔ اس نے ایم آئی ایم کارپوریٹر کو ندا کو مکان دینے کے لیے مجبور کیا۔ ‘لو جہاد، تبدیلی’ کا الزام لگاتے ہوئے وزیر سنجے شرسات نے معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ شرسات نے پورے معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ شیرسات نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ندا خان کیس میں جو نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں وہ بہت حیرت انگیز ہے۔ یہ سامنے آنا چاہیے کہ ندا کو وہاں کس نے بھیجا تھا۔ ندا ممبرا کیوں نہیں گئی؟ وہ ایم آئی ایم کے رابطے میں تھیں۔ امتیاز جلیل ان سے ملنے ناسک گئے تھے۔ امتیاز جلیل نے کارپوریٹر کو گھر دینے پر مجبور کیا، سنجے شرسات نے الزام لگایا۔ یہ نظام تین مراحل پر کام کر رہا ہے۔ اسے اسلام قبول کرنا، لو جہاد کرنا، اور اسے عادی بنانا۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ندا خان نے احمد نگر میں بھی قیام کیا اس کا نگر سے کیا تعلق ہے وہ نگر میں ڈیڑھ ماہ تک مقیم تھی ایک بزرگ گھر سے باہر نکلتے تھے بقیہ گھر پر ہی مقیم رہتے تھے۔ کارپوریٹر کو گھر دینے پر مجبور کیا گیا۔ وزیر نے الزام عائد کیا کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیا جائے, کیونکہ یہ معاملہ کشمیر فائل کے تناظر میں انجام دیا گیا ہے۔ سنبھاجی نگر سے ندا کی گرفتاری سے خوف و ہراس کا ماحو ل ہے, اس لئے اس کی ایس آئی ٹی تحقیقات ہو۔ سنجے سرشاٹ نے اس متعلق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کو مکتوب بھی ارسال کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان