Connect with us
Sunday,25-October-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں پاور لوم کی گڑگڑاہٹ جاگ اٹھی, زندگی رواں دواں، سال کے 365 دنوں میں سے جمعہ اور تہواروں کے 65 دن پاورلوم کارخانے مکمل بند رکھے جائیں

Published

on

malegaon-loom

مالیگاؤں (خیال اثر)
گزشتہ منگل سے مالیگاؤں کے لاکھوں پاور 7 دنوں کے لئے مکمل طور پر بند کردئیے گئے تھے جس کی وجہ سے شہر کا ہر تجارتی مرکز سناٹوں کی آمجگاہ بنا ہوا تھا. ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے تو شہر کے مختلف شعبہ حیات بھی بری طرح متاثر ہوئے. آج بروز پیر سے ایک بار پھر پاور لوم کی گڑگڑاہٹ سنائی دی اور زندگی رواں دواں ہو گئی. بتایا جاتا ہے کہ شہرِ عزیز مالیگاؤں کی ریڑھ کی ھڈی کہلانے والی پاورلوم صنعت گذشتہ 8 سالوں سے زبردست خسارے اور مندی کا شکار ہےـ اس خسارے اور مندی کی سب سے بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ کپڑوں کا تیار ہونا ہےـ خسارے اور مندی پر قابو پانے اور کپڑوں کی پیداوار پر قابو پانے کیلئے بنکر حضرات سال بھر میں 2 سے 3 مرتبہ 7 دونوں کیلئے پاورلوم کارخانے اجتماعی طور پر مکمل بند رکھ کر اپنے نقصانات اور خسارے کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن کارخانے دوبارہ جاری ہونے کے بعد وہی بنکر حضرات بلاناغہ ہفتہ بھر اپنے کارخانے جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اگر کوئی مزدور کام پر نہ آئے تو پھر زیادہ اجرت اور بندی پگار والے روکڑا مزدوروں سے بدلی چلوا کر زیادہ سے زیادہ کپڑے تیار کرتے ہیں اور نتیجتاً شہر کے صنعتی حالات 10 سے 15 دنوں کے اندر دوبارہ خراب ہوجاتے ہیں- پھر خراب صنعتی حالات میں بنکر حضرات اپنی استطاعت کے مطابق 3 دن، 4 دن اور 5 دن اپنے کارخانے جاری رکھ کر کپڑوں کی پیداوار اور نقصانات پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں. بنکروں کیجانب سے مندی اور خسارے کے نام پر تحریک کی شکل میں اجتماعی طور پر پاورلوم کارخانے بند رکھ کر کپڑوں کی پیداوار اور خسارے پر قابو پانے کی کوششیں گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل کی جا رہی ہیں لیکن پاورلوم صنعت کے حالات مزید بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں.اس تعلق سے سماجی کارکن نوید پریم نے کہا کہ پاورلوم صنعت کو مزید تباہی و بربادی سے بچانے کیلئے اب ضروری ہوگیا ہے کہ سال کے 365 دنوں میں سے جمعہ اور تہواروں کے 65 دن تمام پاورلوم کارخانے مکمل بند رکھے جائیں- 6 دن کارخانے جاری رکھ کر جمعہ کے دن تمام مزدوروں کو چھُٹی اور آرام کا موقع دیا جائے اور بنکر حضرات خود بھی جمعہ کے دن مارکیٹ نہ جاتے ہوئے ایک دن اپنے اہل و عیال کے درمیان گذاریں، کیونکہ جمعہ کے دن کارخانے جاری رکھنے کیلئے بنکروں کو بیحد تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جمعہ کے دن کارخانے بمشکل 8 گھنٹے جاری رہتے ہیں- مزدور حضرات اپنی بہن، بیٹی، بیوی اور بچوں کو سسرال پہنچانے و سسرال سے لانے اور کھانا کھانے کے نام پر تقریباً 2 گھنٹے کارخانے سے باہر گذارتے میں یعنی جمعہ کے دن ایک مزدور 6 گھنٹے مزدوری کرتا ہے اور ایکسٹرا کے نام پر بنکروں سے 100 سے 150 روپے وصول کرتا ہے، اگر جمعہ کے دن کام کرلے تو پھر سنیچر کے دن ڈیوٹی پر لیٹ آتا ہے یا بدلی دے دیتا ہےـ جمعہ کے دن اگر روکڑا بدلی والا مزدور کام کرے اور اگر بھیم کٹ جائے تو روکڑا بدلی والے مزدور لوم پر بھیم نہیں رکھتے اور سنیچر کے دن جاتو مزدور حضرات بنکر کے سامنے بھیم کی پنچایت پہلے رکھ دیتے ہیں اور اگر بھیم رکھی بھی رہے تو پھر بھیم جوڑنے والے بنارسی حضرات جمعہ کے دن بھیم نہیں جوڑتےـ جمعہ کے دن ٹیکسٹائل مل اسٹورس بند رہتی ہیں، جمعہ کے دن مستری کی دکانیں بند رہتی ہیں، جمعہ کے دن ورکشاپ بند رہتے ہیں، جمعہ کے دن الیکڑک کی دکانیں بند رہتی ہیں، یہاں تک کہ پاورلوم کارخانوں کے درمیان جاری رہنے والی پان دکانیں، ہوٹلیں اور کھانے پینے کی دکانیں بھی بند رہتی ہیں- اتنی ساری تکالیف اور مندی و خسارے کے باوجود بنکر حضرات کا جمعہ کے دن پاورلوم کارخانے جاری رکھنا نہایت احمقانہ فیصلہ ہےـ
خدا کو بھول گئے لوگ فکر روزی میں
خـیالِ رزق ہے رزاق کا خیال نہیں

ممبئی پریس خصوصی خبر

انتخابی فہرستوں کے لیے ’ایس آئی آر‘ پروگرام کے تحت 24 درخواستیں دائر کرنے پر ایک شخص کے خلاف دھاراوی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج

Published

on

ممبئی : الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق،ممبئی خطے میں انتخابی فہرستوں کی ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) یعنی ’خصوصی تفصیلی نظرثانی‘ کا پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں، دھاراوی پولیس اسٹیشن میں ایک ایسے شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس نے ایک ہی دن میں 24 الگ الگ درخواستیں دائر کیں۔ یہ درخواستیں مسودہ انتخابی فہرست (ڈرافٹ الیکٹورل رول) کے حوالے سے دعووں اور اعتراضات پر مشتمل تھیں سال 2026 کے ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) پروگرام کے تحت، تمام اسمبلی حلقوں کے لیے مسودہ انتخابی فہرستیں 31 اگست 2026 کو شائع کی گئی تھیں۔ ان مسودہ فہرستوں کے حوالے سے دعوے اور اعتراضات دائر کرنے کی مدت 31 اگست 2026 سے 26 اکتوبر 2026 تک مقرر کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر (مہاراشٹر) کی ہدایات کے مطابق، ایک حد مقرر کی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد ایک دن میں ’فارم 7‘ (فارم 7) کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 10 درخواستیں ہی دائر کر سکتا ہے۔ اگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے جان بوجھ کر ’فارم 7‘ میں غلط معلومات فراہم کی ہیں یا جھوٹا بیان دیا ہے، تو ’ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، 1950‘ (ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ, 1950) کی دفعہ 31 کے تحت اس شخص کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔تاہم، یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ 178دھاراوی اسمبلی حلقے میں، گردھاری سوامی ناتھ جیسوال (رہائشی: گنگا دھر لال چال، 90 فٹ روڈ، دھاراوی ایسٹ) نے ایک ہی دن میں 24 درخواستیں دائر کیں۔ یہ عمل مقررہ قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے مطابق، دھاراوی پولیس اسٹیشن میں گری دھاری سوامی ناتھ جیسوال کے خلاف ‘ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ، 1950’ (ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ, 1950) کی دفعہ 31 کے تحت شکایت درج کرائی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ‘فارم 7’ (فارم 7) کی ایسی درخواستیں جمع کرائیں جن میں غلط اور غیر درست معلومات درج تھیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بھوٹان کے مونگر میں بھارت کی مدد سے تیار کیے گئے 15 کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کا افتتاح

Published

on

تھمپو : بھوٹان کے مونگر ضلع میں 65 کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں، 10 کلومیٹر آبپاشی کی نہروں اور دو پلوں سمیت حکومت ہند کے تعاون سے 15 ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (ایچ آئی سی ڈی پی) کا افتتاح کیا گیا، تھمپو میں ہندوستانی سفارت خانے نے ہفتے کے روز کہا۔ ان پروجیکٹوں کا افتتاح ہندوستانی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن (ڈی سی ایم ) نے، داشو زونگ ڈاگ ، 17 گیوگس کے گپس اور مونگرکے لوگوں کے ساتھ کیا۔”ان میں 65 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں، 10 کلومیٹر آبپاشی کی نہریں، دو پل، سڑک سے ناگور مڈل سیکنڈری اسکول تک، کسانوں کے لیے روزانہ کی زندگی کے پروجیکٹوں کے لیے ناگور مڈل سیکنڈری اسکول تک، یہ پروجیکٹ شامل ہیں۔ اور مونگر اور آس پاس کے علاقوں میں خاندان، ان کے لیے سہولت، حفاظت، وقار اور مواقع کو بڑھاتے ہیں،” سفارت خانے نے ایکس پر پوسٹ کیا، “ایچ آئی سی ڈی پی مقامی کمیونٹیز کی طرف سے ان کی ضروریات اور خواہشات کی بنیاد پر شناخت کیے گئے پروجیکٹوں کے لیے ہندوستان کی حمایت کا ایک منفرد نمونہ ہے،” اس نے مزید کہا۔ اگست میں، بھوٹان کے پین بینگ، زیم گانگ میں ہندوستان کی حمایت یافتہ تین ایچ آئی سی ڈی پی کا افتتاح کیا گیا۔

ان منصوبوں میں گیوگ سینٹر – لیچیبی فارم روڈ کی بلیک ٹاپنگ (نئی 20 ملین)، لامتھنگ چیوگ روڈ کی سڑک کی تعمیر/جی ایس بی (5.7 ملین)، اور بدھشی چیوگ روڈ کی سڑک کی بہتری (5 ملین) شامل ہیں۔ “انڈیا کے تعاون سے ایچ آئی سی ڈی پی پروجیکٹس زرعی پیداوار کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بناتے ہیں، ذریعہ معاش کو بڑھاتے ہیں، اور پان بانگ کے لوگوں کے لیے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔” ایمبیسی نے ایکس پر کہا تھا۔ اگست میں منعقدہ پانچویں پلان مذاکرات کے دوران، دونوں ممالک کے حکام نے آئی این آر / یو این کے لیے ہندوستانی حکومت کی حمایت کی مجموعی پیش رفت اور عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ بھوٹان کی 13ویں مالی سال کی مدت (2024-29) کے لیے 100 بلین (10,000 کروڑ)۔ اس سپورٹ میں پروجیکٹ ٹائیڈ اسسٹنس (پی ٹی اے) پروجیکٹس، ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹس (ایچ آئی سی ڈی پی )، اکنامک اسٹیمولس پروگرام (ای ایس پی) اور پروگرام گرانٹ شامل ہیں۔ حکومت ہند نے آئی این آر / این یو بھی جاری کیا ہے۔ 12,500 ملین (1,250 کروڑ) ای ایس پی ، آئی این آر / این یو کی طرف۔ ایچ آئی سی ڈی پی اور آئی این آر / این یو کی طرف 7,352 ملین (735.20 کروڑ)۔ پروگرام گرانٹ کی طرف 2,000 ملین (200 کروڑ)۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم بی وی وی پولیس نے بین ریاستی ایم ڈی ڈرگ سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا، تلنگانہ میں کیمیکل فیکٹری تباہ

Published

on

میرا-بھائندر : وسئی-ویرار (ایم بی وی وی) پولیس کی کرائم برانچ یونٹ 4 نے بین ریاستی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے تلنگانہ میں ایک کیمیکل فیکٹری کو تباہ کر دیا ہے۔ اس فیکٹری میں میفیڈرون (ایم ڈی) ڈرگز بنانے کے لیے کچا مال تیار کیا جا رہا تھا۔ یہ حالیہ چھاپہ اس جاری تفتیش میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے اس بڑے ڈرگ سنڈیکیٹ میں گرفتار ہونے والوں کی کل تعداد 25 ہو گئی ہے۔ اس آپریشن کی شروعات 24 جون 2026 کو ہوئی تھی، جب پولیس نے نالا سوپارا ایسٹ میں پریا واشنگ سینٹر کے قریب بابا پارکنگ علاقے سے دو افراد—اویناش عرف سونو لوکناتھ آئیر (22) اور روی کانت اوم پرکاش رام (23)—کو گرفتار کیا تھا۔ حکام نے ان کے قبضے سے 3,36,000 روپے مالیت کی 112 گرام ایم ڈی ضبط کی تھی اور تلنج پولیس اسٹیشن میں این ڈی پی ایس (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ ابتدائی گرفتاریوں کے بعد، اعلیٰ حکام نے مزید تفتیش کے لیے کیس کرائم برانچ یونٹ 4 کے حوالے کر دیا۔ اس گہری تفتیش کے دوران پہلے 19 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ایم ڈی بنانے والی دو غیر قانونی فیکٹریوں کا پردہ فاش کیا گیا۔ یہ فیکٹریاں گرام ساندھان (کچھ، گجرات) اور کوساڈا کلاں (پریاگ راج، اتر پردیش) میں زرعی زمینوں پر چل رہی تھیں۔ پولیس نے حالیہ چھاپے سے قبل 69.871 کلوگرام ایم ڈی، نقدی، 260 لیٹر کیمیکل اور لیب کے آلات ضبط کیے تھے۔

مزید تفتیش کے نتیجے میں مختلف مقامات سے مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان نئے گرفتار شدہ ملزمان میں شامل ہیں:

  • نندوربار سے مرتضیٰ محمد بھائی پتراوالا عرف مونٹو عرف حسنین بھوپالی (36)۔
  • بلڈھانہ سے شبھم ونود مورے (23)۔
  • ممبئی سے سلیم عرف سلیم بھائی اسماعیل عرف اسماعیل ڈولا (61)۔
  • ممبئی سے صابر محمد دیولیکر عرف کنگ میمن عرف صابر علی (42)۔
  • کانپور، اتر پردیش سے محمد تحریم عبدالرئیس صدیقی (37)۔

دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ 25واں ملزم، رمیش بابو ساکے (رہائشی- میڈچل-ملکاجگری، حیدرآباد)، غیر قانونی طور پر این ڈی پی ایس کے زیر کنٹرول کیمیکل پاؤڈر “2-برومو-4-میتھائل پروپیوفینون” تیار اور سپلائی کر رہا تھا، جو ایم ڈی ڈرگز بنانے کے لیے ضروری ہے۔ وہ تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع کے پاٹن چیرو میں واقع آئی ڈی اے پاشمیلارام (آئی ڈی اے پاشامیلارم) سے اس فیکٹری کو چلا رہا تھا۔ اس خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، 21 اکتوبر 2026 کو کرائم برانچ یونٹ 4 کی ایک ٹیم نے سائبرآباد پولیس کمشنریٹ کی پاٹن چیرو پولیس کی مدد سے مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا۔ ٹیم نے رمیش بابو ساکے کو حراست میں لے کر اس کی فیکٹری کو تباہ کر دیا۔ پولیس نے 27,06,740 روپے مالیت کا 44.699 کلوگرام کیمیکل پاؤڈر، نیز کیمیکل بنانے کے لیے درکار دیگر کیمیکلز اور لیبارٹری کے آلات ضبط کر لیے۔ اب تک، ایم بی وی وی پولیس نے نالا سوپارا، ممبئی، کلیان، نیرل، جلگاؤں، گجرات، اتر پردیش اور تلنگانہ سے کل 25 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو کیمیکل فراہم کرنے والوں، ڈرگ مینوفیکچررز، اسمگلروں، پیڈلرز اور مالی لین دین کرنے والوں جیسے مختلف کرداروں میں شامل تھے۔ یہ وسیع آپریشن کمشنر آف پولیس نکیت کوشک، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس سنجے شینترے، ڈی سی پی (کرائم) سندیپ ڈوئیفوڈے اور سینئر پی آئی نتن پاٹل کی رہنمائی میں انجام دیا گیا۔ اس کارروائی کی قیادت کرائم برانچ یونٹ 4 کے انچارج پی آئی پرمود بڈاکھ، اے پی آئی پروین بھوسلے، اے پی آئی دتاترے سرک، پی ایس آئی امیش بھگوت اور دیگر اہلکاروں نے سائبر سیل کے تعاون سے کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان