Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں پاور لوم کی گڑگڑاہٹ جاگ اٹھی, زندگی رواں دواں، سال کے 365 دنوں میں سے جمعہ اور تہواروں کے 65 دن پاورلوم کارخانے مکمل بند رکھے جائیں

Published

on

malegaon-loom

مالیگاؤں (خیال اثر)
گزشتہ منگل سے مالیگاؤں کے لاکھوں پاور 7 دنوں کے لئے مکمل طور پر بند کردئیے گئے تھے جس کی وجہ سے شہر کا ہر تجارتی مرکز سناٹوں کی آمجگاہ بنا ہوا تھا. ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے تو شہر کے مختلف شعبہ حیات بھی بری طرح متاثر ہوئے. آج بروز پیر سے ایک بار پھر پاور لوم کی گڑگڑاہٹ سنائی دی اور زندگی رواں دواں ہو گئی. بتایا جاتا ہے کہ شہرِ عزیز مالیگاؤں کی ریڑھ کی ھڈی کہلانے والی پاورلوم صنعت گذشتہ 8 سالوں سے زبردست خسارے اور مندی کا شکار ہےـ اس خسارے اور مندی کی سب سے بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ کپڑوں کا تیار ہونا ہےـ خسارے اور مندی پر قابو پانے اور کپڑوں کی پیداوار پر قابو پانے کیلئے بنکر حضرات سال بھر میں 2 سے 3 مرتبہ 7 دونوں کیلئے پاورلوم کارخانے اجتماعی طور پر مکمل بند رکھ کر اپنے نقصانات اور خسارے کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن کارخانے دوبارہ جاری ہونے کے بعد وہی بنکر حضرات بلاناغہ ہفتہ بھر اپنے کارخانے جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اگر کوئی مزدور کام پر نہ آئے تو پھر زیادہ اجرت اور بندی پگار والے روکڑا مزدوروں سے بدلی چلوا کر زیادہ سے زیادہ کپڑے تیار کرتے ہیں اور نتیجتاً شہر کے صنعتی حالات 10 سے 15 دنوں کے اندر دوبارہ خراب ہوجاتے ہیں- پھر خراب صنعتی حالات میں بنکر حضرات اپنی استطاعت کے مطابق 3 دن، 4 دن اور 5 دن اپنے کارخانے جاری رکھ کر کپڑوں کی پیداوار اور نقصانات پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں. بنکروں کیجانب سے مندی اور خسارے کے نام پر تحریک کی شکل میں اجتماعی طور پر پاورلوم کارخانے بند رکھ کر کپڑوں کی پیداوار اور خسارے پر قابو پانے کی کوششیں گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل کی جا رہی ہیں لیکن پاورلوم صنعت کے حالات مزید بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں.اس تعلق سے سماجی کارکن نوید پریم نے کہا کہ پاورلوم صنعت کو مزید تباہی و بربادی سے بچانے کیلئے اب ضروری ہوگیا ہے کہ سال کے 365 دنوں میں سے جمعہ اور تہواروں کے 65 دن تمام پاورلوم کارخانے مکمل بند رکھے جائیں- 6 دن کارخانے جاری رکھ کر جمعہ کے دن تمام مزدوروں کو چھُٹی اور آرام کا موقع دیا جائے اور بنکر حضرات خود بھی جمعہ کے دن مارکیٹ نہ جاتے ہوئے ایک دن اپنے اہل و عیال کے درمیان گذاریں، کیونکہ جمعہ کے دن کارخانے جاری رکھنے کیلئے بنکروں کو بیحد تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جمعہ کے دن کارخانے بمشکل 8 گھنٹے جاری رہتے ہیں- مزدور حضرات اپنی بہن، بیٹی، بیوی اور بچوں کو سسرال پہنچانے و سسرال سے لانے اور کھانا کھانے کے نام پر تقریباً 2 گھنٹے کارخانے سے باہر گذارتے میں یعنی جمعہ کے دن ایک مزدور 6 گھنٹے مزدوری کرتا ہے اور ایکسٹرا کے نام پر بنکروں سے 100 سے 150 روپے وصول کرتا ہے، اگر جمعہ کے دن کام کرلے تو پھر سنیچر کے دن ڈیوٹی پر لیٹ آتا ہے یا بدلی دے دیتا ہےـ جمعہ کے دن اگر روکڑا بدلی والا مزدور کام کرے اور اگر بھیم کٹ جائے تو روکڑا بدلی والے مزدور لوم پر بھیم نہیں رکھتے اور سنیچر کے دن جاتو مزدور حضرات بنکر کے سامنے بھیم کی پنچایت پہلے رکھ دیتے ہیں اور اگر بھیم رکھی بھی رہے تو پھر بھیم جوڑنے والے بنارسی حضرات جمعہ کے دن بھیم نہیں جوڑتےـ جمعہ کے دن ٹیکسٹائل مل اسٹورس بند رہتی ہیں، جمعہ کے دن مستری کی دکانیں بند رہتی ہیں، جمعہ کے دن ورکشاپ بند رہتے ہیں، جمعہ کے دن الیکڑک کی دکانیں بند رہتی ہیں، یہاں تک کہ پاورلوم کارخانوں کے درمیان جاری رہنے والی پان دکانیں، ہوٹلیں اور کھانے پینے کی دکانیں بھی بند رہتی ہیں- اتنی ساری تکالیف اور مندی و خسارے کے باوجود بنکر حضرات کا جمعہ کے دن پاورلوم کارخانے جاری رکھنا نہایت احمقانہ فیصلہ ہےـ
خدا کو بھول گئے لوگ فکر روزی میں
خـیالِ رزق ہے رزاق کا خیال نہیں

(جنرل (عام

بھارت نے سیلاب سے متاثرہ نیپال کو امدادی سامان کی دوسری کھیپ سونپی

Published

on

بھارت نے جمعرات کو 37.5 ٹن انسانی امداد اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی مواد، ادویات اور خوراک کے پیکٹوں کی دوسری کھیپ نیپال کے حوالے کی تاکہ مہلک سیلاب کے بعد ہمالیائی قوم کی امداد اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کی جا سکے۔ پن، نیپال کے سیلاب سے نجات اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے وزیر، ہندوستان نیپال اور اس کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے لیے پرعزم ہے۔”

بدھ کے روز، ہندوستان نے تباہ کن سیلاب سے ہمالیائی قوم کے ردعمل میں مدد کے لیے نیپال کو 10 ٹن ایچ اے ڈی آر مواد اور ضروری ادویات بھیجیں۔ نیپال میں ہندوستان کے سفیر نوین سریواستو نے بدھ کی شام دیر گئے نیپال کے ثقافت، سیاحت اور شہری ہوابازی کے وزیر کھڑک راج پاوڈل کو امدادی سامان سونپا۔ جمعرات کو وزیر خارجہ (ای اے ایم) ایس جے شنکر نے خارجہ سکریٹری وکرم مصری، وزارت کے سینئر عہدیداروں اور ہندوستان کے سیلاب سے متعلق سفیروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی۔ نیپال میں صورتحال

ای اے ایم جے شنکر نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہندوستانیوں کی حالت اور بہبود کا پتہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایکس پر میٹنگ کے بارے میں تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے، ای اے ایم جے شنکر نے کہا، “خارجہ سکریٹری، ٹیم ایم ای اے اور کھٹمنڈو اور بیجنگ میں ہمارے سفیروں کے ساتھ نیپال سیلاب کی تباہی پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقے۔”

انہوں نے مزید کہا، “ایم ای اے اس سلسلے میں مختلف وزارتوں، ریاستی حکومتوں، ٹور آپریٹرز اور پراجیکٹ حکام کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ ہم نیپالی فریق کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں پہلوؤں پر اور امدادی کوششوں پر،” انہوں نے مزید کہا۔ چین کے تبت کے علاقے میں شروع ہونے والا زبردست سیلاب، دریائے بھوٹے کوشی میں بہہ گیا، جس سے بدھ کو نیپال میں تباہی کا ایک بڑا راستہ نکلا ہے۔ نیپال پولیس نے جمعرات کی سہ پہر کو اس بات کی تصدیق کی کہ کوشی سیلاب 270 تک پہنچ گیا ہے، کئی نیچے دھارے والے اضلاع سے لاشیں اب بھی برآمد کی جا رہی ہیں۔

سب سے زیادہ لاشیں، 108، جنوبی میدانی علاقوں کے ضلع چتوان سے برآمد ہوئیں، اس کے بعد نوالپاراسی مشرقی سے 62، دھاڈنگ سے 27 اور راسووا سے، پولیس کے مطابق۔ نیپالی حکومت نے کہا کہ 800 سے زائد افراد سیلاب کے بعد انسانی بستیوں، کسٹم دفاتر، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر علاقوں میں بجلی کے انفراسٹرکچر کے علاقوں سے رابطہ سے باہر ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نتیش کمار نے پٹنہ کے مزارات پر چادر چڑھائی

Published

on

عید میلاد النبی کے موقع پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کے روز پٹنہ کے پھلواری شریف میں واقع تاریخی خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کیا، انہوں نے صدر پیر حضرت مولانا آیت اللہ قادری صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ کے بانی حضرت مولانا قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر چادر چڑھائی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہار اور ملک کی خوشحالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کر رہے ہیں اور مزار کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق کا اشتراک کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس جگہ کا دورہ کرنے سے انہیں سکون کا احساس ہوا۔

خانقاہ کے منیجر حضرت مولانا منہاج الدین قادری مجیبی اور ایم ایل اے شیام راجک نے سابق وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کمپلیکس کے اندر مذہبی مقامات کا دورہ کیا اور چادر پوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مکین جمع ہو گئے۔ نتیش کمار نے عید میلاد النبی کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد دی اور انہیں مبارکباد دی۔

قبل ازیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی پرساد یادو نے پٹنہ شہر کے متن گھاٹ پر واقع خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ شریف کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چادر چڑھائی اور بہار کی امن، خوشحالی، خوشی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ یہ تاریخی مزار ریاست کی مختلف صوفی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ سالانہ عرس کے دوران علاقہ۔ اس جگہ پر حضرت خواجہ رکن الدین عشق کا مزار ہے اور ٹیپو سلطان کے خاندان سے بھی اس کا تاریخی تعلق ہے۔ ٹیپو سلطان کے پڑپوتے شہزادہ محمد کریم شاہ اپنے خاندان کے کئی دیگر افراد کے ساتھ کمپلیکس میں دفن ہیں۔

تیجسوی یادو نے بدھ کی شام کو پٹنہ کے پھلواری شریف میں خانقاہ مجیبیہ بھی جا کر درگاہ پر چادر چڑھائی اور ریاست کی خوشحالی کی دعا کی۔ عید میلاد النبی پر نتیش کمار اور تیجسوی یادو کے دورے سے بہار کی مذہبی ترقی کے لیے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی ترقی کے پیغامات ملے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی : فسادات کے سلسلے میں جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں جواب کیا داخل۔

Published

on

Umar / Shrjeel

نئی دہلی : دہلی پولیس نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ عدالت میں جواب داخل کرواتے ہوئے پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی بھی مخالفت کی۔ پچھلی سماعت (31 جولائی) میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ جمعرات کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔

دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دو افراد کی نئی ضمانت کی درخواستیں اپنے آپ میں “غیر قانونی” اور گمراہ کن ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات میں ان کے مختلف کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5)، جو کہ ضمانت کی سخت شرائط فراہم کرتی ہے، اس کیس میں لاگو ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اپنے جنوری کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے وقت نئی ضمانت کے لیے دو شرائط عائد کی تھیں۔ پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عمر اور شرجیل کیس کے اہم گواہوں کی گواہی کے بعد یا فیصلے کے ایک سال بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ کی جائے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ہے، جس میں 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ خالد اور شرجیل اس کیس میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان