Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

مسلمان داعیانہ کردار اپناتے ہوئے ہمت و حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں : مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی

Published

on

Maulana Syed Mohammad Rabi Hasni Nadvi

مسلمانوں سے داعیانہ کردار اپناتے ہوئے ہمت و حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات بڑے نازک ہیں، لیکن مسلمانوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ متعدد مرتبہ اس سے بھی زیادہ سخت حالات سے گزر چکے ہیں۔

انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے سوشل میڈیا ڈیسک کی جانب سے جاری ہونے والے پندرہ روزہ آن لائن خطبات سلسلہ دعوتِ فکر و عمل آغاز کرتے کہا کہ مسلمانوں کو پریشان ہونے کے بجائے ہمت اور حکمت کے ساتھ موجودہ حالا ت کے مقابلے کے لیے فکر مند ہوناچاہئے اور مناسب تدبیر اختیار کرنی چاہئے، بطور خاص ملک کے ہر ایک فرد تک حق کا پیغام پہنچانا چاہئے، اور داعیانہ کردار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہئے، یہ ہمارا دینی اور ایمانی فریضہ ہے اور وقت اور حالات کا اہم تقاضہ بھی!۔

انہوں نے ملک کے تمام باشندوں کو انسانیت کا پیغام دیا اور انہیں اس جانب توجہ دلائی کہ کوئی بھی ملک انسانیت اور اخلاق کے ذریعے ترقی کرتا ہے، ہمارا یہ ملک مختلف مذاہب اور مختلف طبقات کا گہوارہ ہے، یہ ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے، جب تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں، ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں، اور باہم مل جل کر زندگی گزاریں۔ موصوف نے یہ بات بھی کہی کہ مسلمان ملک کی ترقی چاہتے ہیں، وہ ملک میں بسنے والے ہر شہری کا بھلا چاہتے ہیں، اور دوسروں سے بھی اپنے ساتھ حسن سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔

اس موقع پر اپنے ایک بیان میں آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری اور سوشل میڈیا ڈیسک کے کنوینر مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر محترم کا یہ فکر انگیز خطاب ایسا ہے جسے ہر مسلمان کو غور سے سننا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آل انڈیامسلم پر سنل لا بورڈ نے سوشل میڈیا ڈیسک قائم کر کے اس با ت کی کوشش کی ہے کہ مسلمانان ہند کو بورڈ کی سرگرمیوں سے واقف کروایا جائے، اور مسلم پرسنل لا بورڈ، تحفظ شریعت، وحدت ملت اور اصلاح امت کا جوگراں قدر کارنامہ انجام دے رہا ہے، اسے ملک میں بسنے والے لوگوں تک پہنچایا جائے، مختلف سوشل اکاؤنٹس کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے پیغام کو عام کیا جائے اور مسلمانوں میں پھیلی ہوئی سماجی برائیوں کی نشاندہی اور ان سے دور رہنے کی تلقین کی جائے۔ اللہ کی مہربانی ہے کہ سوشل میڈیا ڈیسک کی جانب سے کئی اہم سلسلے کامیابی کے ساتھ جاری ہیں اور لوگ ان سے بڑی تعداد میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اب ڈیسک کی جانب سے ایک نیا اور اہم سلسلہ آن لائن خطبات بنام ”سلسلہ دعوتِ فکر و عمل“ کا شروع کیا جا رہا ہے، جس کا افتتاح گذشتہ شب حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی کیا۔ یہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ اگلا خطاب آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی کا ہوگا، جو ملک کے موجودہ حالات میں چشم کشا اور بصیرت افروز ثابت ہوگا۔ اپنے بیان کے آخر میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے اس بات کی گذارش کی ہے، کہ مسلمانان ہند سوشل میڈیا ڈیسک سے جڑیں اور آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے پیغام کو دیر تک اور دور تک پہونچائیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

بھارت نے سیلاب سے متاثرہ نیپال کو امدادی سامان کی دوسری کھیپ سونپی

Published

on

بھارت نے جمعرات کو 37.5 ٹن انسانی امداد اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی مواد، ادویات اور خوراک کے پیکٹوں کی دوسری کھیپ نیپال کے حوالے کی تاکہ مہلک سیلاب کے بعد ہمالیائی قوم کی امداد اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کی جا سکے۔ پن، نیپال کے سیلاب سے نجات اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے وزیر، ہندوستان نیپال اور اس کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے لیے پرعزم ہے۔”

بدھ کے روز، ہندوستان نے تباہ کن سیلاب سے ہمالیائی قوم کے ردعمل میں مدد کے لیے نیپال کو 10 ٹن ایچ اے ڈی آر مواد اور ضروری ادویات بھیجیں۔ نیپال میں ہندوستان کے سفیر نوین سریواستو نے بدھ کی شام دیر گئے نیپال کے ثقافت، سیاحت اور شہری ہوابازی کے وزیر کھڑک راج پاوڈل کو امدادی سامان سونپا۔ جمعرات کو وزیر خارجہ (ای اے ایم) ایس جے شنکر نے خارجہ سکریٹری وکرم مصری، وزارت کے سینئر عہدیداروں اور ہندوستان کے سیلاب سے متعلق سفیروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی۔ نیپال میں صورتحال

ای اے ایم جے شنکر نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہندوستانیوں کی حالت اور بہبود کا پتہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایکس پر میٹنگ کے بارے میں تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے، ای اے ایم جے شنکر نے کہا، “خارجہ سکریٹری، ٹیم ایم ای اے اور کھٹمنڈو اور بیجنگ میں ہمارے سفیروں کے ساتھ نیپال سیلاب کی تباہی پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقے۔”

انہوں نے مزید کہا، “ایم ای اے اس سلسلے میں مختلف وزارتوں، ریاستی حکومتوں، ٹور آپریٹرز اور پراجیکٹ حکام کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ ہم نیپالی فریق کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں پہلوؤں پر اور امدادی کوششوں پر،” انہوں نے مزید کہا۔ چین کے تبت کے علاقے میں شروع ہونے والا زبردست سیلاب، دریائے بھوٹے کوشی میں بہہ گیا، جس سے بدھ کو نیپال میں تباہی کا ایک بڑا راستہ نکلا ہے۔ نیپال پولیس نے جمعرات کی سہ پہر کو اس بات کی تصدیق کی کہ کوشی سیلاب 270 تک پہنچ گیا ہے، کئی نیچے دھارے والے اضلاع سے لاشیں اب بھی برآمد کی جا رہی ہیں۔

سب سے زیادہ لاشیں، 108، جنوبی میدانی علاقوں کے ضلع چتوان سے برآمد ہوئیں، اس کے بعد نوالپاراسی مشرقی سے 62، دھاڈنگ سے 27 اور راسووا سے، پولیس کے مطابق۔ نیپالی حکومت نے کہا کہ 800 سے زائد افراد سیلاب کے بعد انسانی بستیوں، کسٹم دفاتر، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر علاقوں میں بجلی کے انفراسٹرکچر کے علاقوں سے رابطہ سے باہر ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نتیش کمار نے پٹنہ کے مزارات پر چادر چڑھائی

Published

on

عید میلاد النبی کے موقع پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کے روز پٹنہ کے پھلواری شریف میں واقع تاریخی خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کیا، انہوں نے صدر پیر حضرت مولانا آیت اللہ قادری صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ کے بانی حضرت مولانا قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر چادر چڑھائی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہار اور ملک کی خوشحالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کر رہے ہیں اور مزار کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق کا اشتراک کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس جگہ کا دورہ کرنے سے انہیں سکون کا احساس ہوا۔

خانقاہ کے منیجر حضرت مولانا منہاج الدین قادری مجیبی اور ایم ایل اے شیام راجک نے سابق وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کمپلیکس کے اندر مذہبی مقامات کا دورہ کیا اور چادر پوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مکین جمع ہو گئے۔ نتیش کمار نے عید میلاد النبی کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد دی اور انہیں مبارکباد دی۔

قبل ازیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی پرساد یادو نے پٹنہ شہر کے متن گھاٹ پر واقع خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ شریف کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چادر چڑھائی اور بہار کی امن، خوشحالی، خوشی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ یہ تاریخی مزار ریاست کی مختلف صوفی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ سالانہ عرس کے دوران علاقہ۔ اس جگہ پر حضرت خواجہ رکن الدین عشق کا مزار ہے اور ٹیپو سلطان کے خاندان سے بھی اس کا تاریخی تعلق ہے۔ ٹیپو سلطان کے پڑپوتے شہزادہ محمد کریم شاہ اپنے خاندان کے کئی دیگر افراد کے ساتھ کمپلیکس میں دفن ہیں۔

تیجسوی یادو نے بدھ کی شام کو پٹنہ کے پھلواری شریف میں خانقاہ مجیبیہ بھی جا کر درگاہ پر چادر چڑھائی اور ریاست کی خوشحالی کی دعا کی۔ عید میلاد النبی پر نتیش کمار اور تیجسوی یادو کے دورے سے بہار کی مذہبی ترقی کے لیے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی ترقی کے پیغامات ملے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی : فسادات کے سلسلے میں جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں جواب کیا داخل۔

Published

on

Umar / Shrjeel

نئی دہلی : دہلی پولیس نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ عدالت میں جواب داخل کرواتے ہوئے پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی بھی مخالفت کی۔ پچھلی سماعت (31 جولائی) میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ جمعرات کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔

دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دو افراد کی نئی ضمانت کی درخواستیں اپنے آپ میں “غیر قانونی” اور گمراہ کن ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات میں ان کے مختلف کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5)، جو کہ ضمانت کی سخت شرائط فراہم کرتی ہے، اس کیس میں لاگو ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اپنے جنوری کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے وقت نئی ضمانت کے لیے دو شرائط عائد کی تھیں۔ پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عمر اور شرجیل کیس کے اہم گواہوں کی گواہی کے بعد یا فیصلے کے ایک سال بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ کی جائے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ہے، جس میں 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ خالد اور شرجیل اس کیس میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان