Connect with us
Thursday,05-November-2026

سیاست

مالیگاؤں کی اہم شاہراہ کسمبا روڈپر دن اوقات میں بڑی گاڑیوں کی آمدورفت بند کی جائے: ایم ڈی ایف‎‎

Published

on

Truck-no-in-malegaon

مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر جب سے کارپوریشن میں تبدیل ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں اور کارپوریشن انتظامیہ کو شہر کی کوئی پروا ہی نہیں ہے کیونکہ کارپوریشن کے باہر وائٹ کالر والے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں تو کارپوریشن کے اندر اے سی میں بیٹھے سرکاری نوکر عوام کو دلاسہ دے رہے ہیں۔ ایک جانب شہر کی حالت بد سے بتر ہوچکی ہے۔ شہر کی تمام اہم شاہراوں سے جان ہتھیلی پر لیکر گذرنا پڑرہا ہے۔ جونا آگرہ روڈ، مولانا آزاد روڈ، شہید عبدالحمید روڈ اور ایسی تمام اہم سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہیں۔ بارش کے ایام میں شہر کے کچے علاقوں اور اطراف کی بستوں میں پیر رکھنے کیلئے بھی جگہ نہیں ہوتی اور اگر میت ہو جائے تو قبرستان تک لے کر جانے کیلئے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہر یان بنیادی سہولیات او ر مسائل سے پریشان ہے تو دوسری جانب کارپوریشن میں جشن کاماحول دیکھا جارہا ہے۔ کارپوریشن پربھاگ کے نو منتخب چیئرمن اور کمشنرایک دوسرے کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔ کارپوریشن کی پوری بلڈنگ میں معمولی چپراسی سے لیکر اعلی افیسران تک میٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اسطرح کا منظرمالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی ٹیم نے کارپوریشن کمشنر سے ملاقات کے دوران دیکھا تو بہت دکھ ہوا۔

گذشتہ کئی دنوں سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ شہید عبدالحمید عرف کسمبا روڈ پر سے دن اور رات کے اوقات میں مسلسل بڑی گاڑیوں، مال ٹرک، ٹرالا اور دیگر ہیوی لوڈیڈ گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔ کسمباروڈ کے اطراف لاکھوں کی آبادی ہے اور یہ روڈجونا آگرہ روڈ کے بعد شہر کی دوسری سب سے اہم شاہراہ ہے۔ اس روڈ کے بیچ ڈیوائڈر بنا دیا گیا ہے جس سے روڈ مزید باریک ہوجاتا ہے اگر ایک جانب سے کوئی ایک مال گاڑی آجائے تو راستہ بلاک ہوجاتا ہے۔ جس روڈ پر پیدل چلنا دشوار گزار ہے وہاں سے روزانہ دن کے اوقات میں سینکڑوں بڑی گاڑیوں کا گزر ہو رہا ہے جس سے حادثات ہوسکتے ہیں۔اس علاقے کے فعال نوجوان سوشل ورکر قطب الدین عرف ببو ماسٹر نے اس مدعے پر کارپوریشن، پولس انتظامیہ اور میڈیا میں اس جانب توجہ دلائی۔

ببو ماسٹر نے بتایا کہ نیا بس اسٹینڈ سے لیکر دیانہ گاؤں تک کسمبا روڈ کی حالات انتہائی خراب ہے۔ روڈ پر جگہ جگہ گڑھے بن چکے ہیں اور ڈیوائڈر کی وجہ سے مزید دشواریاں ہوتی ہیں۔ کسمبا روڈ سے لگ کر مرچنٹ نگر، سلیم نگر، کریم نگر، ہنگلاج نگر، ہڈکو کالونی، دیانہ، رمضان پورہ، نیا اسلام پورہ اور دیگر علاقوں کی عوام روزانہ اس روڈ کا استعمال کرتی ہیں۔ جھیں جان ہتھیلی پر رکھ کر کسمبا روڈ سے گزرنا پڑ رہا ہے اور اب تو لوگ بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھ کر ڈر رہے ہیں کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ پیش آئے۔ اسی لئے مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی ٹیم کے ہمراہ ببو ماسٹر نے کارپوریشن کمشنر کو بروز پیر 26جولائی 2021کو ایک میمورنڈیم پیش کیا۔ جس میں کمسبا روڈ پر بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کی دن کے اوقات میں بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اس روڈ کو نئے سیرے سے بنانے کی اپیل بھی کی گئی۔

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے صدر احتشام بیکری والا نے کارپوریشن کمشنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فرنٹ کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں اور گلی محلوں کی سڑکوں کی درستگی کیلئے کئی مکتوب دئیے گئے لیکن ابتک خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ ایسی لئے فرنٹ کی جانب سے اب آر ٹی آئی لگا کر معلومات طلب کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کارپوریشن کمشنرجلد از جلد شہر کی اہم شاہراہوں کی تزائین کار کرے اور عوام کو راحت دے۔ اسی طرح سے کسمبا روڈ معاملہ پر فوری کاروائی کی جائے ورنہ روڈ بند کر آندلولن کیا جائے گا اورکسمبا روڈ سے ایک بھی بڑی گاڑی کو پاس نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایم ڈی ایف ٹیم میں نائب صدر عمران راشد، پروفیسر وسیم بیگ، شیخ ندیم اور دیگر ممبران موجود رہے۔

سیاست

جنتر منتر احتجاج کیس میں سی جے پی کے سورَو داس اور رنکا دہلی پولیس کے سامنے پیش ہوئے

Published

on

نئی دہلی : کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنما سورو داس اور آشوتوش رنکا جنتر منتر احتجاج کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے جمعرات کو راجوری گارڈن میں دہلی پولیس کرائم برانچ کے دفتر پہنچے۔ داس اور رنکا کو دہلی پولیس نے احتجاج کے معاملے میں جمعرات کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ انہیں دوپہر کے وقت راجوری گارڈن میں دہلی پولیس کرائم برانچ کے دفتر میں حاضر ہونے کو کہا گیا۔ داس اور رنکا کو دہلی پولیس نے اکتوبر کے اوائل میں بھی طلب کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے سمن کو چھوڑ دیا اور بعد میں پوچھ گچھ کے لیے کرائم برانچ کے سامنے پیش ہونے کے لیے مزید وقت مانگا۔

سی جے پی رہنماؤں کے خلاف احتجاج کے مقدمات اکتوبر میں کرائم برانچ کو منتقل کیے گئے تھے۔ یہ مقدمات 13 اکتوبر کو ہونے والے اس واقعے کے سلسلے میں ہیں، جب داس، رنکا اور اجنکیا شندے، 11 دیگر افراد کے ساتھ، جنتر منتر میں داخل ہوئے، جسے نامزد احتجاجی مقام کے طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ سبھی کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ جہاں شندے کو ضمانتی مچلکے پر رہا کیا گیا، وہیں داس اور رنکا ایک ہفتے تک عدالتی حراست میں رہے۔ سی جے پی ممبران انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے۔ 21 اکتوبر کو، داس اور رنکا کو عدالتی حراست میں ایک ہفتہ کے بعد تہاڑ جیل سے رہا کیا گیا، اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے سامنے تحریری حلف نامہ جمع کرانے کے بعد، یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ امن برقرار رکھیں گے اور جنتر منتر پر احتجاج کی کال دینے سے گریز کریں گے جب تک کہ قانون کے مطابق اس جگہ کو غیر مطلع نہیں کیا جاتا۔

ایس ای ایم ریتو راج نے دونوں کارکنوں کو جنتر منتر سے تجاوز کیس کے سلسلے میں انکوائری کے اختتام تک ذاتی بانڈز اور ہر ایک کے 50,000 روپے کے ضمانتی بانڈز پیش کرنے کے بعد رہا کرنے کی ہدایت کی۔ اپنے تحریری وعدوں میں، دونوں کارکنوں نے امن کی خلاف ورزی نہ کرنے کا وعدہ کیا اور عدلیہ اور اس کے تمام آلات بشمول ایس ای ایم عدالت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ایس ای ایم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 135(3) کے تحت امن کی خلاف ورزی یا عوامی سکون میں خلل کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کو بانڈز پر عمل درآمد کے ذریعے مناسب طور پر محفوظ کیا جا سکتا ہے، جس کی تائید تحریری اقدامات سے کی گئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دیوالی سے قبل چنئی پولیس کا سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ، بڑے بازاروں میں ڈرون اور واچ ٹاورز تعینات

Published

on

چنئی : گریٹر چنئی پولیس نے 8 نومبر کو دیوالی سے قبل شہر کے بڑے تجارتی مراکز میں وسیع حفاظتی انتظامات کا اعلان کیا ہے، تہوار کی خریداری کے رش کے دوران عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اہلکار، نگرانی کرنے والے ڈرون، عارضی واچ ٹاور اور موبائل گشتی یونٹ تعینات کیے گئے ہیں۔ سٹی پولیس کمشنر اے املراج نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ بھیڑ کے انتظام، جرائم کی روک تھام اور ٹریفک کے ضابطے کو ترجیح دیں، خاص طور پر مصروف شاپنگ علاقوں جیسے ٹی نگر، پورسوالکم، واشرمین پیٹ اور پھول بازار میں۔ متوقع ہجوم کا انتظام کرنے کے لیے سٹی پولیس، آرمڈ ریزرو، تمل ناڈو اسپیشل پولیس اور ہوم گارڈز کے مختلف ونگز کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

ایک سرکاری ریلیز کے مطابق، 25 عارضی واچ ٹاورس اسٹریٹجک مقامات پر قائم کیے گئے ہیں، جن میں ٹی نگر میں 10، کلپاک اور پھول بازار میں چار چار، واشرمین پیٹ اور ٹرپلیکین میں دو دو، اور اڈیار میں ایک ہے۔ دوربین سے لیس پولیس اہلکار ان ٹاورز سے عوامی نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے۔ پولیس نے خریداروں کی مدد، سی سی ٹی وی فوٹیج کی نگرانی، مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے اور گمشدہ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے دوبارہ ملانے کے لیے 12 عارضی کنٹرول روم اور 37 ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے ہیں۔ بہتر نگرانی کے حصے کے طور پر، سات ڈرونز اور 100 باڈی پہننے والے کیمرے بھیڑ بھرے تجارتی علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار جن میں خواتین افسران بھی شامل ہیں، ممکنہ مجرموں کی نشاندہی کرنے اور چوری اور چین چھیننے کے واقعات کو روکنے کے لیے خریداروں کے ساتھ گھل مل جائیں گی۔

پبلک سیفٹی کے اعلانات 66 پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے نشر کیے جائیں گے، جب کہ ایل ای ڈی اسکرینز جرائم سے بچاؤ کے پیغامات اور احتیاطی ہدایات دکھائیں گی۔ پولیس نے خریداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فون، نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کی حفاظت کریں۔ خواتین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ چین اسنیچنگ کے خلاف احتیاط کریں۔ گاڑیوں کے گشت کو تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ وقف ٹریفک گشتی یونٹ شاپنگ سینٹرز کے ارد گرد بھیڑ کو کنٹرول کریں گے۔

موبائل ایکس رے بیگیج اسکینرز تجارتی اداروں اور دیگر پرہجوم مقامات پر بے ترتیب سیکیورٹی چیک کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ پولیس اہلکاروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور ہم آہنگی کی سہولت کے لیے ایک خصوصی واٹس ایپ گروپ بنایا گیا ہے۔ ہنگامی ردعمل کے انتظامات میں طبی ٹیموں کے ساتھ 108 ایمبولینسز اور مقررہ مقامات پر فائر انجن شامل ہیں۔ تہوار کے موسم میں حادثات کو روکنے کے لیے پٹاخوں کی دکانوں کے ارد گرد فائر سیفٹی کے اضافی احتیاطی تدابیر متعارف کرائی گئی ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور پرامن، واقعات سے پاک دیوالی کی تقریبات کو یقینی بنانے کے لیے ٹریفک کے ضوابط پر عمل کریں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اتراکھنڈ کے اترکاشی میں گاڑی دریا میں جا گری، 4 افراد ہلاک، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

Published

on

Death

اترکاشی : جمعرات کی صبح اتراکھنڈ کے اترکاشی میں گنگنی دھرم کنڈ کے قریب ایک ایم یو وی سیدھا دریا میں گرنے کے بعد چار افراد کی موت ہو گئی، جبکہ تین کی تلاش جاری ہے۔ یہ حادثہ گنگوتری نیشنل ہائی وے پر گنگنی دھرم کنڈ کے قریب جمعرات کی صبح پیش آیا، جب ایک ایم یو وی کار سیدھی دریا میں جا گری۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 7 سیٹوں والی کار میں سات افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد دریا کے کنارے سے چار افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ دیگر ممکنہ مسافروں کی تلاش کے لیے تیز دریا میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کردیا گیا۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کار گنگنانی دھرم کنڈ سے 20 میٹر آگے ڈبرانی کی طرف کنٹرول کھو بیٹھی اور دریا میں گر گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس، ایس ڈی آر ایف اور 108 ایمرجنسی سروس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔ ضلع مجسٹریٹ پرشانت آریہ کی ہدایت پر فوری طور پر راحت اور بچاؤ کام شروع کیا گیا۔ ندی کے کنارے سے چار لاشیں ملنے کے بعد متوفی کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، غوطہ خوروں کو گاڑی میں سوار دیگر افراد کی تلاش کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔

دریا کا تیز بہاؤ ریسکیو آپریشن کے لیے ایک اہم چیلنج بن رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں دریا کے کنارے ممکنہ علاقوں میں مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ مانیری پولیس کی مدد سے ایک زخمی کو سڑک تک لانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ انتظامیہ نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر اور میڈیکل ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ پرشانت آریہ پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جائے وقوعہ پر موجود اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامیہ متاثرین کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ حادثے کی وجوہات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان