(جنرل (عام
قومی شہریت ترمیمی قانون:شاہین باغ خاتون مظاہرین کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ملک کے بیشتر میں خواتین کے مظاہرے
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آج ملک کے کچھ حصوں سمیت شاہین باغ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، خوریجی اور جعفرآباد میں بھی سخت سردی اور بارش ہونے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور اس کا دائرہ بڑھ کے ملک کے کو نے کونے میں پہنچ گیا ہے۔ شاہین باغ میں جہاں رہائی منچ کے راجیو یادو، صدف جعفر اسماء عزت وغیرہ نے حصہ لیا وہیں جامعہ میں جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کی صدر آئیشی گھوش سمیت متعدد اہم لوگوں نے حصہ لیا۔
شاہین باغ خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور سماجی کارکن 19دسمبر کو احتجاج کرنے کی پاداش میں جیل جانے والی صدف جعفر نے کہاکہ این سی آر اور این پی آر کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم تھانے میں پولیس کی لاٹھیاں اس لئے نہیں کھائی ہیں کہ ہم کاغذ دکھائیں گے۔ انہو ں نے کہاکہ آپ بالکل طے کرلیں کہ ہم قطعی کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ انہوں نے تھانے میں اپنی بربریت اور وحشیانہ سلوک بیان کرتے ہوئے کہاکہ میری تکلیف کچھ بھی نہیں ہے جو جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو کے بچوں اور بچیوں نے تکلیف برداشت کی ہیں۔
انہوں نے شاہین باغ کی خاتون مظاہرین کوسلام کرتے اور ان کے حوصلہ ثابت قدمی کی داس دیتے ہوئے کہاکہ چوڑیاں پہننے والی عورتیں کمزور نہیں ہیں اور جب وہ میدان میں آتی ہیں تو بڑی بڑی طاقتوں کو جھک جانا پڑتا ہے۔
سماجی کارکن اسماء عزت نے اترپردیش کے حالات اور پولیس کے رویے کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہاکہ 19دسمبر کو اترپردیش میں ایک خاص طبقہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے گھروں میں سیڑھیاں لگاکر گھروں سے ان مردوں کو نکالا جن کا مظاہرہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور پہلے سے ان کو بغیر کسی ثبوت اور فرد جرم کے فسادی (دنگائی) بتاکر تھانے میں بربریت کی گئی۔ ان کو پیٹا گیا، ذلیل کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جو ان مظلوموں کے لئے کام کررہے تھے ان کو پریشان کیا جارہاہے، جو ضمانت لے رہے ہیں ان لوگوں کو پولیس پریشان کر رہی ہے اور ان کا پولیس ویری فیکیشن کی جارہی ہے۔ان سے سوال کیا جارہا ہے کہ وہ لوگ ان کی ضمانت کیوں لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میں بھی جب ضمانت لینے کی گئی تو میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔ میرا فون چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا طبقہ جیل میں ہے اور ان کی سدھ لینے والا کوئی نہیں ہے اور کوئی لینا چاہتا ہے تو ان کو پریشان کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ شاہین باغ کی مسلم خواتین ان مفروضے کو یکسر مستر د کردیا ہے جو اسلامک فوبیا کا شکار ہیں اور ان لوگوں کے لئے منہ پر یہ زبرددست طمانچہ ہے۔
جے این یو اسٹوڈینٹ یو نین کی صدر آئیشی گھوش نے قومی شہریت ترمیمی قانون،این آر اور این آر پی کی مخالفت کرتے ہوے کہاکہ یہ فسطائی طاقتیں ظلم وتشدد سے اپنے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو دبانا چاہتی ہیں۔ جامعہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی باطل کے سامنے دبنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں ہونے والے حملے اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اب پوری قومی میدان میں آچکی ہے۔
جمشید پور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر جیسے کالے قانون کے خلاف خواتین کا زبردست احتجاجی جلسہ آزاد نگرعیدگاہ میدان میں ہوا پورا میدان بھرا ہوا تھا مدینہ مسجد روڈ نمبر 8,9,10,واآس پاس کا علاقہ پورا بھرا ہوا تھا۔ آل انڈیا مائینورٹی سوشل ویلفیئر فرنٹ(AIMSWF) کے تحت وا اور بہت سی تنظیموں کے تحت بلاء گئی کال پر احتجاجی جلسہ میں محترمہ زیبا حسن خان نے حبیب جالب کی نظم ہم بھی دیکھیں گے پڑھی،علی گڑھ کی طالبہ عرشی اسرائیل صاحبہ نے قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف, پر خواتین کو تفصیل سے بتایا، محترمہ زیبا خان صاحبہ نے بھی خطاب فرمایا،خدیجہ صاحبہ نے وباغ عائشہ کی طالبات و جامعہ فاطمہ الزہراء طالبات نے اور بہت سی خواتین نے اسپیچ دیا زیبا قادری نے بھی تقریری. کیں اور شاہین باغ کی مثال دیکر سبھی جوش دلا یا۔
الہ آباد کے روشن باغ کے منصور پارک میں خواتین نے قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ آج وہ لوگ ہمیں حب الوطنی کا سبق سکھا رہے ہیں جن کو ترنگا تک پکڑنا نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس کالے قانون کے خلاف میدان میں اتری ہیں۔ہمارا کسی سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ قانون ہر غریب، پسماندہ، کمزور انسان کے خلاف ہے۔
پٹنہ کے سبزی باَغ میں شاہین باغ طرز پر خواتین کا زبردست مطاہرہ ہورہا ہے اور اس مظاہرے میں بھی جانی مانی ہستیاں، سماجی کارکن اور تحریک چلانے والے پہنچ رہے ہیں۔ دہلی کے خوریجی میں بھی خواتین نے مورچہ سنبھال لیا ہے اور قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف رات دن کا مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ اسی طرح جعفرآباد اور ذاکر نگر کے ڈھلان پر خواتین کا احتجاج جاری رہے۔ شاہین کے طرز پر کلتہ کے پارک سرکس میں خاتون مظاہرین ڈتی ہوئی ہیں اور گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین رات دن کا مظاہرہ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بہار کے ارریہ، پورنیہ، کشن گنج، مدھوبنی، دربھنگہ،حیدرآباد، مالیگاؤں، سمیت درجنوں مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ مقدمہ : سپریم کورٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کیے گئے مسلم ملزمین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کے تبصروں پر روک لگا دی

نئی دہلی : مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ سے گذشتہ ماہ ڈسچارج کیئے گئے چار ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کے خلاف بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی، اسی طرح مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف دیئے گئے ہائی کورٹ کے تبصرے کو حذف کرنے کی پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی, جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ مسلم ملزمین کے خلاف زیر سماعت اپیل پر ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے سے متاثر ہوئے بغیر سماعت کرے، مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے 9/ مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دھان سنگھ و دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی کے سامنے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن اور سادان فراست نے بحث کی۔ بم دھماکہ متاثرین اور مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے قانونی پیروی کی۔
آج دوران سماعت ایڈوکیٹ سادان فراست نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ گذشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے چار ملزمین (دھان سنگھ و دیگر) کو مقدمہ سے نا صرف ڈسچارج کردیا تھا بلکہ اپنے فیصلے میں مسلم ملزمین کے خلاف کچھ تبصرے بھی کئے تھے، یہ تبصرے مسلم ملزمین کی غیر موجودگی میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر کئے گئے تھے, لہذا عدالت بامبے ہائی کورٹ کے ان تبصروں کو حذف کرے۔ ایڈوکیٹ سادان فراست کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کیئے گئے تبصر ے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے ملزمین نورالہدی اور دیگر کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونگے اور ہائی کورٹ اپیلوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ سینئر ایڈوکیٹ سادان فراست کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف چارج فریم ہوچکا تھا۔ دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کو ہدایت دی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل اپیلوں پر اگلے ہفتہ بحث کرے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کر دی۔
آج کی عدالتی کارروائی پر ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے، بم دھماکہ متاثرین اور 2016/ میں مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نورالہدا، محمد علی شیخ، آصف بشیر اور محمد زاہد اور ئیس احمد نے مولانا عبدالقیوم کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جائے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں چار پٹیشن (ایس ایل پی) داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی اور مقدمہ کی موثر قانونی پیروی کے لیئے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمت حاصل کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے, اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کردی ہے, جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ 8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
نہرو سائنس سینٹر سے نہرو پلینیٹریم تک فلائی اوور اور سب وے پروجیکٹ 31 جنوری 2027 تک مکمل کیا جائے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی ہدایت۔

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے آج (30 ستمبر 2026) پروجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا تاکہ ورلی میں نہرو سائنس سینٹر اور نہرو پلینیٹریم کے درمیان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیرِ تعمیر فلائی اوور اور سب وے پروجیکٹ کا معائنہ کر سکیں۔ دورے کے دوران، انہوں نے مختلف کاموں کی موجودہ صورتحال اور پیش رفت کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا۔ بانگر نے کام کی رفتار بڑھانے کے لیے واضح ہدایات جاری کیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پروجیکٹ کے بقیہ کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں؛ خاص طور پر انہوں نے ہدایت کی کہ فلائی اوور کا کام 31 جنوری 2027 تک مکمل کر لیا جائے۔ نہرو سائنس سینٹر (این ایس سی) کی جانب، 1200 ملی میٹر قطر والے مین پائلز (مین پائلز) کا کام 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ کل 18 میں سے 17 پائل کیپس (پائل کیپس)، 17 پیئرز (پیئر ) اور 17 پیئر کیپس (پیئر کیپس) کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرح، جیجاماتا نگر کی جانب بھی 1200 ملی میٹر قطر والی مین پائلنگ کا کام مکمل ہے, کل 17 میں سے 17 پائل کیپس، 17 پیئرز اور 17 پیئر کیپس کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ پروجیکٹ سائٹ اور مینوفیکچرنگ یونٹ، دونوں جگہوں پر پورٹل بیمز (پورٹل بیمز) اور گرڈرز (گرڈرز) کی تیاری کا کام جاری ہے۔ تمام 14 پورٹل بیمز پر کام مکمل ہو چکا ہے، اور 18 میں سے 17 گرڈر اسپینز (گرڈر اسپینز) کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ بقیہ گرڈر اسپین پر کام فی الحال جاری ہے۔ پورٹل بیمز اور گرڈر اسپینز کو نصب کرنے کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کل 14 پورٹل بیمز میں سے 13 نصب کیے جا چکے ہیں، اور 18 میں سے 9 گرڈر اسپینز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، 18 میں سے 7 اسپینز (اسپینز) کے لیے ڈیک سلیب کی کنکریٹنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مزید 2 اسپینز پر کام جاری ہے۔
نہرو سائنس سینٹر فلائی اوور مسافروں کے سفر کے وقت میں بچت کا باعث بنے گا۔ فی الحال، اس راستے کو استعمال کرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ورلی ناکا (آچاریہ آترے چوک) کے راستے متبادل اور طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ مجوزہ فلائی اوور سے سفر کے وقت میں تقریباً 15 منٹ کی کمی متوقع ہے۔ یہ ای. موزس روڈ (ای موسز روڈ) سے اینی بیسنٹ روڈ اور دھرم ویر سوراجیہ رکشک چھترپتی سمبھاجی مہاراج کوسٹل روڈ تک ایک زیادہ آسان اور براہ راست راستہ فراہم کرے گا۔ لوئر پریل، مہالکشمی اور کری روڈ سے آنے والی گاڑیاں بھی براہ راست اس فلائی اوور کو استعمال کر سکیں گی۔ نتیجتاً، اس سے ورلی ناکا کے علاقے میں ٹریفک کے رش کو کم کرنے میں مدد ملے گی, سفر کی مسافت اور ٹریفک جام میں کمی سے گاڑیوں کے مالکان کے ایندھن کی بھی بچت ہوگی۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے ہدایت کی کہ منصوبے کے بقیہ کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت، مشینری اور وسائل کے حوالے سے مناسب منصوبہ بندی پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کام کی رفتار بڑھانے اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر باہمی رابطے کے ذریعے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس موقع پر چیف انجینئر (برجز) راجیش مولے، دیگر متعلقہ حکام اور انجینئرز بھی موجود تھے۔
(جنرل (عام
احمد آباد سیریل دھماکے : سپریم کورٹ نے سزائے موت کے قیدی احمد باوا ابوبکر بریلوی کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے پھانسی پر روک لگا دی

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعرات کو 2008 کے احمد آباد سیریل دھماکوں کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے قیدی احمد باوا ابوبکر بریلوی کی پھانسی پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست پر نوٹس بھی جاری کیا جس میں ان کی مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس آگسٹین جارج مسیح اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل ایک خصوصی بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بریلوی کی ‘اسپیشل لیو پٹیشن’ (ایس ایل پی) کی سماعت کے دوران یہ عبوری حکم جاری کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے گجرات حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست پر ان کا جواب طلب کیا۔ وکیل آشوتوش ٹھاکر کی نمائندگی میں بریلوی نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں سیریل دھماکوں کے مقدمے میں ان کی مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔
سماعت کے دوران، ان کے وکیل نے مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھنے والے عدالتی نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ انہیں مکمل طور پر مبینہ سازش کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔ بریلوی ان 38 مجرموں میں شامل تھے جنہیں احمد آباد سیشن کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی؛ اس مقدمے میں 18 فروری 2022 کو 78 ملزمان میں سے 49 کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ باقی 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 29 کو بری کر دیا گیا تھا۔ یہ دھماکے 26 جولائی 2008 کو احمد آباد کے مختلف مقامات پر ہوئے تھے جن میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس مقدمے میں بڑے پیمانے پر تفتیش کی گئی، جس کے دوران 35 ایف آئی آر (ایف آئی آر ایس) درج کی گئیں اور 548 چارج شیٹس دائر کی گئیں۔ ہزاروں شواہد اور 1,163 گواہوں کے جائزے کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تقریباً 7,000 صفحات پر مشتمل تھا، جبکہ اس مقدمے کی دستاویزات کی فائل (پیپر بک) مبینہ طور پر تقریباً 7.88 لاکھ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کیس کے ملزمان ملک کے مختلف حصوں بشمول گجرات، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، اتر پردیش، آندھرا پردیش اور جھارکھنڈ کے رہائشی تھے۔ ان پر تعزیرات ہند، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سیشن کورٹ، گجرات حکومت نے 38 مجرموں کے خلاف سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی بریلوی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
