Connect with us
Wednesday,04-November-2026

قومی خبریں

امت شاہ اس سیاہ قانون کے سہارے ہمیں بانٹنے کی کوشش نہ کریں۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے وزیر داخلہ امت شاہ کی دعوت پر کہ کوئی بھی آکر مل سکتا ہے، اسے دعوت عام تصور کرتے ہوئے ان سے،ملاقات کرنے کے لئے جلوس کی شکل میں مارچ کرنے کی کوشش کی جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی۔
پولیس نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبہ کومتعلقہ حکام کو بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اجازت اور منظوری ملتی ہے ہم خاتون مظاہرین کو آگاہ کردیں گے اور پھر ملنے کے لئے جا سکتی ہیں۔ خاتون مظاہرین اور دبنگ دادیوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اقبال فیروز خاں، ایڈووکیٹ محمد انور اور ایڈووکیٹ فرید خاں نے بتایا کہ پولیس کے سامنے ہم مارچ کرکے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کا مطالبہ پیش کیا جس پر انہوں نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبے کو متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اس پر کوئی بات ہوگی آپ کو اطلاع دی کردی جائے اور اس وقت تک آپ مارچ نہ کریں کیوں کہ اس سے امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مظاہرین کی طرف سے ان ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم امن و قانون سے کھیلواڑ کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور ہم قانون کا احترام کرتے ہیں۔ہم انتظار کریں گے۔
دبنگ دادیوں سے مارچ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ سے ملاقات کرکے یہ بتاناچاہتی ہیں کہ ہمیں الگ الگ نہ کریں اور اس قانون کے سہارے اس ملک میں ہمیں ناٹنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پرامن طریقے سے مارچ کرکے ان سے ملنے جاناچاہتی ہے آخر وہ بھی ہمارا بیٹا ہی ہے۔ ہم ان سے کہیں گی کہ آپ اس کالا قانون کو واپس لے لیں ہم دھرنا سے ہٹ جائیں گی اور اپنے گھر وں کو چلی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ 90سال کی دادیاں بیٹھی ہیں انہیں ان کی فکر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مظاہرہ کرنا سب کا حق اور ہم لوگ اسی حق کا استعمال کر رہی ہیں۔
مظاہرین سے مارچ کی شکل ملاقات کرنے کی منشا کے بارے میں سوال کئے جانے پر محترمہ شاہین کوثر، محترمہ ملکہ خاں اور محترمہ نصرت آراء نے کہاکہ ہم لوگ دو ماہ سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ مگر کسی نے ہماری سدھ لینے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ دیر سے ہی وزیر داخلہ ہم سے بات کرنے کے لئے راضی ہوئے ہیں۔ اسی کو دعوت سمجھ کر ہم ان سے ملنے جانا چاہتی تھیں اور ہم لوگوں نے جامعہ نگر تھانہ سے اسی ضمن میں مارچ کے ساتھ جانے کی اجازت مانگ کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ احساس تھا کہ ہوسکتا ہے کہ پولیس ہمیں اجازت نہ دے لیکن ہم لوگ اپنا کام کرنا چاہتی تھیں اور یہ پیغام دینا چاہتی تھیں کہ شاہین باغ خاتون مظاہرہین ضدی نہیں ہیں اوروہ بات کرنے پر آمادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم لوگ قانون کا احترام کرنے والوں میں سے ہیں پولیس نے اجازت نہیں دی ہم رک گئیں، پولیس نے کہاکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ملوانے کی کوشش کریں گے۔ البتہ خاتون مظاہرین کو اس بات پر ناراضگی تھی کہ جب وزیر داخلہ نے ملنے کے لئے کہا تو پھر ملنے کا وقت کیوں نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاجپت نگر آسکتے ہیں، ووٹ مانگنے کے لئے گھر گھر جاسکتے ہیں تو پھر ہم سے ملنے کے لئے کیوں نہیں آسکتے۔ کیا ہم لوگ دہشت گرد ہیں جو میڈیا کے ایک حلقے میں اس طرح کی بات کہی جارہی ہے۔
مارچ کی شکل میں ملنے پر بضد ہونے کے بارے میں جب یو این آئی نے سوال کیا تو ان خاتون مظاہرین جن میں ہندو خواتین بھی شامل تھیں،نے کہاکہ معاملہ کسی فرد یا ایک شاہین باغ کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے شاہین باغ کا ہے۔ اس شاہین باغ سے پورے ملک کا شاہین باغ منسلک ہے اس لئے صرف یہ شاہین باغ چند لوگوں کی شکل میں ملنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ وفد کی شکل میں پورے ملک کے شاہین باغ سے مشورہ کیا جائے گا اور پورے ملک کے شاہین باغ کے نمائندہ جمع ہوں گے اور پھرملاقات کے سلسلے میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ گزشتہ دو دنوں شاہین باغ میں خون کا عطیہ کیمپ لگاہوا ہے جسے اوم بلڈ بینک نے لگایا ہے جس میں اب تک سیکڑوں خواتین اور مرد حضرات نے خون کا عطیہ دیا ہے تاکہ ضرورت مندوں کو خون دیا جاسکے اور لوگوں کی جان بچائی جاسکے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے بتایا کہ یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے باوجود مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں جس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

بچکانہ حرکت : راہول گاندھی کے وزیراعظم کو مباحثے کا چیلنج دینے پر بی جے پی کا جوابی حملہ

Published

on

نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیر اعظم نریندر مودی کو عوامی بحث کے لئے چیلنج کرنے پر قائد حزب اختلاف (ایل او پی) راہول گاندھی پر جوابی حملہ شروع کیا، ان کے سیاسی ریکارڈ پر سوال اٹھائے اور ان پر حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کا بھی الزام لگایا۔ پنجاب بی جے پی کے انچارج ستیش پونیا نے کہا کہ کانگریس کو 55 سال تک ملک پر حکومت کرنے کا موقع دیا گیا ہے، اور راہول گاندھی کو وزیر اعظم کو چیلنج کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے ریکارڈ کا خود جائزہ لینا چاہیے۔ “اس ملک کے لوگوں نے راہل گاندھی کی کانگریس پارٹی کو 55 سال حکومت کرنے کا موقع دیا، بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر عام شہری بھی ان سے سوال کرتے ہیں، اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ انہیں پہلے اپنی پارٹی کے اندر دیکھنا چاہیے اور اس کی حکومتوں نے کیا کیا ہے، اس کا جائزہ لینا چاہیے، وہ وزیر اعظم سے بعد میں بات کر سکتے ہیں، لیکن اگر وہ بی جے پی کے ایک عام کارکن سے بحث کریں گے، تو کانگریس پارٹی کو اس کے جواب ملیں گے،” پونیا نے کہا۔

بہار بی جے پی کے صدر سنجے سراوگی نے بھی کانگریس لیڈر پر تنقید کی، ان کے چیلنج کو بچگانہ سیاسی مشق قرار دیا اور ان پر پارلیمانی کارروائی سے بچنے کا الزام لگایا۔ “پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے گریز کرنے والے اور بے بنیاد الزامات لگانے والے راہول گاندھی اب سوشل میڈیا پر دوسروں کو بحث کے لیے چیلنج کرنے کا بچگانہ ڈرامہ رچا رہے ہیں، پورا ملک ان کی منافقت پر ہنس رہا ہے۔ اعلیٰ ترین سطح پر سنجیدہ جمہوری مباحثے بالغ، ذمہ دار اور پرعزم لیڈروں کے درمیان ہوتے ہیں، نہ کہ ایک نادان سنڈیکیٹ کے ساتھ جو جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے ہر روز بیرون ملک سفر کرتا ہے۔” مغربی بنگال کے وزیر دلیپ گھوش نے بھی کانگریس لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پر ان کی مسلسل تنقید تعمیری سیاسی کام میں ترجمہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گھوش نے کہا کہ راہول گاندھی گزشتہ 12 سالوں سے حکومت پر تنقید کر رہے ہیں، اگر انہوں نے کچھ تعمیری کام کرنے پر توجہ دی ہوتی تو کانگریس آج اس حالت میں نہ ہوتی۔

جے ڈی یو کے قومی ترجمان راجیو رنجن نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلے ہی گاندھی کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران بحث میں حصہ لینے کا چیلنج دیا تھا۔ “کل، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راہل جی کو چیلنج کیا کہ وہ پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلائیں اور وہاں بحث کے لیے آئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے کسی رہنما کے ساتھ بحث کریں گے۔ اس کے ذریعے وہ اتحاد اور قوم کے نقطہ نظر کو سمجھ سکتے ہیں،” رنجن نے میڈیا کو بتایا۔ یہ ریمارکس راہول گاندھی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ عوامی بحث کے مطالبے کے جواب میں آئے ہیں۔ وزیر اعظم کو چیلنج کرتے ہوئے گاندھی نے ان سے کہا تھا کہ وہ ملک مخالف سرگرمیوں اور غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مبینہ روابط کے الزامات پر بحث کے لیے کسی بھی اسٹیج یا مقام کا انتخاب کریں۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں گاندھی نے لکھا: “24 گھنٹے گزر چکے ہیں، مودی جی۔ میں نے آپ کو چیلنج کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اپوزیشن ملک مخالف ہے، کوئی بھی اسٹیج، کوئی بھی مقام چنیں، اور مجھ پر بحث کریں، ملک دشمن کون ہے؟ غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ کس کے روابط ہیں؟ اور وہ کس قسم کے کنکشن ہیں؟ اسے جلد از جلد کریں- گھبرائیں نہیں۔”

Continue Reading

(جنرل (عام

بنگال پولیس نے سروس ریوالور سے ڈیوٹی پر خود کو گولی مار لی، تحقیقات شروع

Published

on

gun-shoot

کولکتہ : مغربی بنگال کے مغربی بردوان ضلع میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈیوٹی کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل نے مبینہ طور پر اپنے سروِس ریوالور سے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی، پولیس نے بدھ کو بتایا۔ یہ واقعہ منگل کی رات قومی شاہراہ 19 پر پانا گڑھ بائی پاس کے قریب پیش آیا۔ کانسٹیبل، جس کی شناخت سنجے جانا کے طور پر ہوئی ہے، کانکسا ٹریفک گارڈ میں تعینات تھا اور اصل میں آسنسول کا رہنے والا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جانا دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ڈیوٹی پر تھی کہ سڑک کے کنارے کھڑا ٹرک بے قابو ہو گیا۔ پھر اس کے ساتھیوں نے اسے سڑک پر خون میں لت پت بے ہوش پڑے دیکھا۔ پولیس اہلکاروں نے اسے فوری طور پر درگاپور کے ایک اسپتال لے جایا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا اور اسے مردہ قرار دے دیا۔

پولیس نے واقعے کے اردگرد کے حالات اور کانسٹیبل کو مبینہ طور پر اپنی جان لینے کے لیے کس چیز پر اکسایا، اس کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک فرانزک ٹیم کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور وہ جائے وقوع کا دورہ کر کے شواہد اکٹھا کرے گی اور جانچ کرے گی۔ تحقیقات کے تحت علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جانا آسنسول پولیس لائنز کے کوارٹرس میں رہتی تھی اور اس کے پیچھے اس کا 11 سالہ بیٹا ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اسے حالیہ دنوں میں کسی ذاتی یا دیگر مشکلات کا سامنا تھا۔ پولیس اس کے خاندان کے افراد سے بھی پوچھ گچھ کرے گی تاکہ اس کی ذہنی حالت اور کسی بھی ایسے حالات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہو۔

ستمبر میں اسی طرح کے ایک واقعے میں، کولکتہ پولیس کے ایک 49 سالہ کمانڈو کی لاش، جس کی شناخت دیپک تمانگ کے نام سے ہوئی تھی، کولکتہ کے پولیس ٹریننگ اسکول (پی ٹی ایس) کے بیت الخلا سے برآمد ہوئی تھی۔ شمالی بنگال کے کلمپونگ کے رہنے والے تمانگ کو احاطے کے اندر لٹکا ہوا پایا گیا۔ اس کے بعد لاش کو ایس ایس کے ایم اسپتال بھیج دیا گیا۔ تفتیش کاروں کو مبینہ طور پر اس کے منہ سے لعاب دہن اور اس کی گردن کے گرد لگنے کا نشان ملا۔ پولیس افسران نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم محکمے نے اس کی موت کے آس پاس کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے الگ سے تفتیش شروع کر دی۔ تمانگ نے کئی سالوں تک کولکتہ پولیس میں کمانڈو کے طور پر خدمات انجام دی تھیں اور مبینہ طور پر پولیس فورس میں ان کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔

Continue Reading

سیاست

ہمنتا بسوا سرما کا راہل گاندھی پر طنز، بحث کے چیلنج اور ’گلاب‘ کے اشارے پر دیا ردعمل

Published

on

گوہاٹی : آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے بدھ کے روز کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر تنقید کی، وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ عوامی مباحثے کے ان کے مطالبے پر سوال اٹھاتے ہوئے اور ان سے مسائل اٹھانے اور پارلیمنٹ میں بحث میں حصہ لینے پر زور دیا۔ گاندھی کے ذریعہ پوسٹ کردہ ایک حالیہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے، سرما نے وزیر اعظم کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہوئے گلاب رکھنے پر کانگریس لیڈر کا مذاق اڑایا۔ “گلاب ویلنٹائن ڈے سے وابستہ ہیں، دیوالی سے نہیں،” سرما نے گاندھی پر طنز کرتے ہوئے اور ہندوستانی روایات اور ثقافت کے بارے میں ان کی سمجھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے راہول گاندھی کو چاہئے کہ وہ سیاسی بحث کو سڑکوں پر لے جانے کی کوشش کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں بحث کرائیں۔

“اگر راہول گاندھی خود کو اپوزیشن کا لیڈر مانتے ہیں تو وزیر اعظم کے ساتھ ان کی بحث کہاں ہوگی؟ سڑکوں پر یا پارلیمنٹ میں؟” سرمہ نے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ملک سے متعلق مسائل پر بات چیت کے لئے کافی جگہ فراہم کرتی ہے، بشمول امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات اور کانگریس لیڈر کے ذریعہ اٹھائے گئے دیگر پالیسی معاملات۔ سرما نے گاندھی پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ میں شرکت کریں اور بغیر کسی رکاوٹ کے مباحثوں میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ وزرا بشمول مرکزی وزیر داخلہ، پارلیمانی بحث کے دوران اٹھائے گئے مسائل کا جواب دے سکتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم بھی مداخلت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہم پارلیمنٹ میں بحث چاہتے ہیں، سڑکوں پر نہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ راہول گاندھی کو لوگوں کو اہم قومی مسائل پر ٹھوس بات چیت سننے کی اجازت دینی چاہیے۔ چیف منسٹر نے کانگریس پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ انتخابی نتائج اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) سے متعلق الزامات کے تئیں انتخابی نقطہ نظر اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتی ہے جب بی جے پی جیت جاتی ہے لیکن جب وہ جیت جاتی ہے تو نتائج کو قبول کرتی ہے۔ گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے، سرما نے کہا کہ کانگریس لیڈر کو “اس ذہنیت سے باہر آنا چاہئے” اور بامعنی سیاسی مصروفیات اور پارلیمانی بحث پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان