Connect with us
Thursday,06-August-2026

قومی خبریں

ملک میں قانون نام کی کوئی چیز اور نہ ہی اس کا کوئی خوف ہے : شاہین باغ خاتون مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کچھ غیر سماجی طبقوں کے ذریعہ ویڈیو وائرل کر کے شاہین خاتون مظاہرین کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی خوف ہے۔
خاتون مظاہرین میں سرگرم رول ادا کرنے والی خواتین میں سماجی کارکن ملکہ خاں، نصرت آراء، سماجی کارکن شیزہ، محترمہ ثمینہ نے انتظامیہ پر لاپروائی برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اگر اس طرح کی دھمکی کوئی مسلمان دے رہا ہوتا تو درجنوں دفعات کے تحت پولیس اب تک گرفتار کر کے جیل بھیج چکی ہوتی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ پولیس ایسے لوگوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اس لئے متعدد ویڈیو اور آڈیو وائرل ہو رہے ہیں، جس میں شاہین باغ خاتون کو تباہ کرنے اور حملہ کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ انہوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ یہاں کے امن وامان کو برقرار رکھا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ مکمل طور پر پرامن اور قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔ ہم لوگ دستور کے تحفظ کے لئے یہاں بیٹھی ہیں اور شاہین باغ نے ملک میں احتجاج کرنے کانظریہ بدل دیا ہے اور یہی وجہ سے پورے ملک سے ہی نہیں دنیا سے لوگ شاہین باغ خواتین مظاہرہ کو دیکھنے، سمجھنے اور حوصلہ بڑھانے کیلئے آرہے ہیں، اور ایک طرح یہ مظاہرہ ہندوستانیت کو پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں اس مظاہرہ کے بارے میں غلط باتیں کہنا اور اس پر حملہ کرنے کی بات کرنا ملک کو بدنام کرنے جیسا مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر ابتک متعدد حملے ہوچکے ہیں، لیکن ہم نے حملہ آوروں کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے پولیس کے حوالے کر دیا۔
ان خواتین دہلی فسادات میں مارے گئے لوگوں کے تئیں اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ ہندو مسلمان نہیں بلکہ انسان مرا ہے۔ اگر یہ بات سمجھ لے کہ دنگا اور فسادات سے صرف انسانوں کا نقصان ہوتا ہے، ملک کا نقصان ہوتا ہے، ملک کا مالی خسارہ ہوتا ہے تو کوئی بھی محب وطن ایسی حرکت کرنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس فساد نے دونوں طبقوں (ہندو مسلمان) کو غمزدہ کر دیا ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہئے جو ایک دوسرے سے لڑواتے ہیں۔
سماجی کارکن اور کانگریس کے لیڈر انتخاب عالم نے بھی فسادات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے اس کی اجازت آئین نے دیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کی لیڈر اور سابق کونسلر عشرت جہاں کو گرفتار کئے جانے اور ان پر دفعہ 307 لگانے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی پولیس اپنا پروفیشنل کردار بھول گئی ہے، اور اپنے آقا کے اشارے پر معصوم لوگوں کو گرفتار کرکے اترپردیش پولیس کی راہ پر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایڈووکیٹ عشرت جہاں خوریجی میں پر امن مظاہرہ کر رہی تھیں، وہاں کسی کو کوئی تکلیف نہیں تھی اور مظاہرہ بھی پرائیویٹ لینڈ پر ہورہا تھا اس کے باوجود مرد پولیس نے ان کے ساتھ دھمکا مکی کرتے ہوئے گاڑی میں دھکیل دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی صورت حال دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں امن وامان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے، نہ قانون کا احترام کیا جاتا ہے، نہ انسانی حقوق کا، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں جنگل راج ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے، لوگوں میں قانون کے تئیں اعتماد قائم کرنے کیلئے سخت قدم اٹھائے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ووٹ کی سیاست چھوڑ کر ملک کے وقار کے تئیں سوچے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خوریجی میں پولیس نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کر کے مظاہرین کو ہٹا دیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں لیا اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق محترمہ عشرت پر دنگا بھڑکانے کا الزام لگایا گیا ہے اور ان پر دفعہ 307 لگائی گئی ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کو پھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کی رہائی کے لئے متعدد سماجی کارکنوں نے اپیل کی ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کر رہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔ دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا تھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ، بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عید گاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے اس کے باوجود میں وہاں خواتین ڈتی ہوئی ہیں۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، کھجوری، جعفرآباد، سلیم پور، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور، اودن پور اور دیگر مقامات پر اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندور میں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹا دیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروا رہی ہیں۔ سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہو رہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگو سرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، جامع مسجد،، ترکمان گیٹ، ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ، رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر، پٹنہ، شانتی باغ گیا بہار، مظفر پور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگو سرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج، بہار، مگلا کھار، انصار نگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتا مڑھی، سمستی پور، تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا، ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیا گنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں، جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ، مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آباد یوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپور یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ، امروکا، پراکی، اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلور میں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقار آباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم، اننت پور، سریکا کولم، کیرالہ میں کالی کٹ، ایرنا کولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

سیاست

اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے راہول گاندھی کے پریاگ راج پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے کا الزام حکومت پر لگایا

Published

on

Sansad

نئی دہلی : اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے کسانوں کے مسائل اور طلباء کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پریاگ راج میں راہل گاندھی کے مجوزہ “چھترون کی گونج” پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وویک تنکھا نے پریاگ راج میں راہل گاندھی کے پروگرام کی اجازت کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ملوث ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کو روکنے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اشوک سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی ملک کے طلباء، کسانوں اور عام لوگوں کی آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمہوریت آمرانہ طریقوں سے نہیں چل سکتی اور ایسے اقدامات جمہوری اقدار کے خلاف ہیں۔

کانگریس ایم پی ورشا گائیکواڈ نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ بچوں کے خلاف مبینہ حملوں اور واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کا جوابدہ ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس مسئلہ پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے اور اسی وجہ سے متعلقہ وزراء ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔ حکومت راہول گاندھی سے سیاسی طور پر خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔

کسانوں کے مسئلہ پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرشانت پاڈول نے حکومت کی زرعی اور توانائی کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو 24 گھنٹے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کئی جگہوں پر انہیں صرف آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ دھان جیسی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ حکومت کی سولر پمپ سکیم غیر موثر ہے، کیونکہ بہت سے سولر پمپ 350 سے 1000 فٹ کی گہرائی سے پانی نکالنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سولر پالیسی میں ترمیم کرے۔

دریں اثنا، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے نے مغربی بنگال میں مبینہ طور پر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانا ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رکن پارلیمنٹ مہوا ماجی نے پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر داخلہ کی موجودگی کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آئیں اور اپنا موقف پیش کریں، اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں ذمہ دار وزراء کا ایوان میں موجود ہونا ضروری ہے۔

بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر رانچی میں جاری طلبہ کی تحریک کے بارے میں مہوا ماجی نے کہا کہ جھارکھنڈ کی صورتحال دہلی سے مختلف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ چیئرپرسن کا استعفیٰ اسی دن منظور کر لیا گیا تھا جس دن پیپر لیک کا واقعہ سامنے آیا تھا، سی آئی ڈی کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور چھاپے اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق، ریاستی حکومت طلباء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے طلباء کے ساتھ بات چیت کے لیے نمائندے بھی بھیجے ہیں اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

جموں و کشمیر : سیکورٹی فورسز نے مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمی کے بعد پونچھ میں تلاشی آپریشن شروع کیا۔

Published

on

kashmir

جموں : جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں سیکورٹی فورسز نے دو الگ الگ گروپوں کی مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد منگل کو ایک بڑا تلاشی آپریشن شروع کیا۔ حکام نے بتایا کہ مشترکہ فورسز نے ضلع کے دور افتادہ علاقے سورنکوٹ میں دو مقامات پر مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد آپریشن شروع کیا۔ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے دستوں نے، راشٹریہ رائفلز کے دستوں کی مدد سے، دھارا سانگلہ، گجر نار، اور کھیرووالی ڈھوک علاقوں کے ساتھ ساتھ قریبی جنگلاتی دیہاتوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔

حکام نے بتایا کہ گھنے جنگلاتی علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ تاہم ابھی تک مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رابطہ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔ حکام نے کہا کہ “دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک منظم آپریشن جاری ہے۔” دریں اثنا، ایک اور واقعہ میں، منگل کی صبح کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک مکان کے صحن سے ایک زنگ آلود پرانا مارٹر گولہ برآمد ہوا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ نہ پھٹنے والا خول اس وقت ملا جب کٹل برہمن گاؤں میں سبھاش چندر کے گھر کی کھدائی کرنے والے کارکنوں نے مشتبہ چیز کو دیکھا اور فوری طور پر حکام کو مطلع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے کو محفوظ کرلیا۔

نہ پھٹنے والے مارٹر گولے، جنہیں اکثر “غیر پھٹنے والا آرڈیننس” کہا جاتا ہے، مرکزی علاقے کے سرحدی علاقوں میں مختلف تاریخی اور تزویراتی وجوہات کی بناء پر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع سرحدی دیہات کئی دہائیوں سے فوجی تنازعات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے گواہ ہیں۔ بھاری توپ خانے کی فائرنگ کے دوران ہزاروں مارٹر گولے داغے جاتے ہیں۔ ان گولوں کی ایک بڑی تعداد مکینیکل ناکامی، نرم زمین، یا فیوز کی خرابی کی وجہ سے اثر پر پھٹنے میں ناکام رہتی ہے۔

پونچھ، کپواڑہ اور راجوری جیسے علاقوں کا سرحدی علاقہ بہت پہاڑی، جنگلاتی اور دلدلی ہے۔ جب مارٹر گولہ کیچڑ، گھنے پودوں یا نرم قابل کاشت مٹی میں گرتا ہے تو اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر فیوز کو چالو کرنے میں ناکام رہتا ہے اور دھماکے کا سبب بنتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ متحرک خول گاد یا انڈر برش کے نیچے دب جاتے ہیں۔ مارٹر گولے جو مہینوں یا دہائیوں تک زیر زمین دفن رہتے ہیں وہ اکثر ماحولیاتی تبدیلیوں یا انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بے نقاب ہوتے ہیں۔

Continue Reading

سیاست

اروند کیجریوال ای-20 پیٹرول کے خلاف 4 اگست کو پی ایم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے

Published

on

kejriwal

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ ای-20 پیٹرول پالیسی کے خلاف احتجاج کے لیے پارٹی کے 100 کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دوران وہ وزیراعظم کو عوام کی طرف سے آن لائن پٹیشن اور خطوط پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ان سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلہ پر لوگوں کے خدشات کو سنیں گے۔

اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ای-20 پیٹرول کے خلاف شروع کی گئی آن لائن مہم کو صرف چند دنوں میں 233,238 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پٹیشن پر دستخط کرنے والے لوگوں کی تعداد اس پالیسی کے بارے میں عوام کی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوپہر 12 بجے عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ انھوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر وزیراعظم کی رہائش گاہ جا کر عوام کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن اور خطوط پیش کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔ کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ای-20 پالیسی پر کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مناسب سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کیے بغیر پورے ملک میں ای-20 پیٹرول کے نفاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایندھن کے استعمال سے لوگوں کی گاڑیوں کا مائلیج متاثر ہو رہا ہے اور کئی گاڑیوں کے مالکان کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس پالیسی کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو وہ انہیں عوامی سطح پر پیش کریں۔ کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ ای-20 کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے، مواد تخلیق کرنے والوں اور اس معاملے پر سوالات اٹھانے والے عام شہریوں کو ٹرول کیا گیا، اور کچھ معاملات میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اینٹی ای-20 ٹاؤن ہال ایونٹ کو بڑی تعداد میں حمایت ملی۔ کیجریوال کے مطابق اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن بھی دیکھا۔ انہوں نے اسے ای-20 کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر ای-20 پالیسی کے پیچھے “چھپا ہوا ایجنڈا” ہونے کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیرونی دباؤ کے تحت ہندوستان پر ایتھنول پالیسی مسلط کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر ایتھنول کی درآمد کا امکان ہے اور مرکزی حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ منگل کا مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا واحد مقصد عوام کے تحفظات اور مطالبات کو وزیر اعظم تک پہنچانا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان