Connect with us
Tuesday,13-October-2026

سیاست

مودی، کووِڈ۔19 اور سودیشی سوچ

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی کے 20لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نٹ کہاکہ جب کوئی ملک شدید وبائی بحران سے نبرد آزما ہو اور سماجی حسیت پرناامیدی کے احساس کا غلبہ طاری ہونے لگے، تو ایسے ماحول میں ایک بڑا معاشی پیکیج گہرے سکون کا احساس دلاتا ہے اپور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے معزز وزیر اعظم نریندر مودی ایک مستقل مزاج اور پختہ کار رہنما ہیں۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک تفصیلی بیان میں کہاکہ جب موجودہ بحران کے دور میں پورے ملک کی نگاہیں اپنے قائد پر مرکوز ہیں، تو مودی انہیں مایوس نہیں کرتے۔ مودی نے اپنے اقتدار کے شاندار چھ برسوں کے دوران ایک سچے اور مخلص رہنما کی طرح بروقت اور مناسب معاشی پالیسیاں وضع کرکے اپنے ہم وطنوں کے تئیں بے پناہ محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس پیکیج کو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مودی کی عقیدت کی عملی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دراصل، اس قدم کو موجودہ معاشی خرابیوں کو درست کرنے کے حل کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں مودی کی پرجوش قوم پرستی کا جذبہ بھی چھپا ہوا ہے اور اس سے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں ان کے مضبوط ویژن کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ دراصل، انہوں نے آج ہمیں ایک جامع معاشی تعمیر نو کے امکانات سے روبرو کرایا ہے، جو خصوصی طور پر خود کفالت پرزور دیتا ہے۔ اس کا طویل المدتی فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری دیہی زندگی کی باز آبادکاری بامعنی طریقے سے ہو سکے گی اور وہاں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک فعال اور عملی لیڈر کے طور پر مودی نے ایسی معاشرتی اور معاشی پالیسیاں وضع کی ہیں یا پرانی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے، جن کو فوری طور پر لاگو کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ موجودہ اقدام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہمیں بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ مودی ہمارے ملک کو قومیانے کی پالیسی کی راہ پر لے جارہے ہیں، جہاں معاشی خرابیوں کا علاج سودیشی مصنوعات کے لیے سازگار ماحول تیار کرکے کیا جائے گا۔ موجودہ وبائی مرض کے دوران مودی نے وقتاً فوقتاً لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’گمچھا‘ جسے تولیہ بھی کہا جاتا ہے، اور آیورویدک ادویات کا استعمال کریں۔ یہ عمل دیسی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بہتری لانے کا محرک بن سکتا ہے، جو بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ہماری بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو بھی جذب کرسکتا ہے۔ اس عمل میں نچلی سطح سے شروع کر کے مزدوروں کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی سوچ اور زیادہ با معنی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت، دیسی صنعتوں کے فروغ کے ذریعہ معیشت کی تجدید کاری پر وزیر اعظم مودی کا زور معیشت کی دائمی سست رفتاری کے مسئلے کا مستقل حل پیش کرنے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سودیشی صنعت کے احیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے ہمارے ملک کے عوام کے ایک بڑے طبقے کو کھیتی سے ہونے والی معمولی آمدنی میں اضافے کا موقع ملے گا اور انہیں اپنی محنت کا بہتر صلہ مل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کی سیاسی بصیرت اورسوجھ بوجھ کا جائزہ لیا جائے، تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ گھریلو صنعتوں کی جانب ان کا جھکاؤ ان کی حب الوطنی کی غمازی کرتا ہے۔ درآمد شدہ اشیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار موجودہ نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے بے بہرہ اور اپنے پرشکوہ ورثے سے غافل کر دیا ہے۔ مودی کا خود انحصاری کی طرف رجحان کا مقصد اپنے لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلانا اور ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ مودی کے معاشی منصوبے موجودہ دور سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ منصوبے انہیں ایک قوم پرست، ایک کارکن اور ایک کرم یوگی کی حیثیت سے نشان زد کرتے ہیں، جو ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور جو ہندوستانیت پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کی بنیاد مودی کے اس پختہ یقین پر ہے کہ غریب اور کم مراعات یافتہ لوگ نظریاتی تنازعات میں الجھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمارے ملک میں ایسی پالیسیاں وضع کی جانی چاہئیں، جن سے ہماری آبادی کو بھرپور فوائد حاصل ہوں۔ لہٰذا، مودی ہمیشہ اپنی سیاسی کوششوں کی تکمیل کے لیے مذاکرات اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم کاایک بنیادی سروکار یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنی قدیم اقتصادی روایات اور مشترکہ نصب العین کے حصول کا احساس دلایا جائے۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو معیشت کا بنیادی محور قرار دینے کی مودی کی منطق سوامی وویکانند کے ان خیالات پر قائم ہے، جس کے تحت انہوں نے لوگوں میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا ایک مضبوط احساس پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی۔ وویکانند نے اپنے ہم وطنوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی مدد آپ کریں اور باہر کی مسلط کردہ مادی یا غیر مادی چیزوں پر انحصار نہ کریں۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وویکانند نے فرد کی جن خفیہ صلاحیتوں کو ابھار کر حکومت سے تعاون کرنے پر زور دیا تھا، اس کی جھلک مختلف حالات سے نمٹنے کے مودی کے طرز عمل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج، جس کا جھکاؤ سودیشی کی طرف ہے، در حقیقت معیشت کی فعالیت کی از سرنو تشکیل کے ایک منظم اور ٹھوس پروگرام کی شروعات ہے۔ اس میں ایسے حالات پیدا ہوں گے، جو انفرادی وقار کو بحال کریں گے۔ اس طرح کا رویہ ہماری آبادی کے تمام طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے اور گھریلومصنوعات کی فراہمی کا ایک مضبوط اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے معاشرے میں سستے اور غیر معیاری امپورٹیڈ سامان کی بالادستی کی گرفت کم ہوگی۔ دیسی سامان کی زیادہ سے زیادہ پیداوار اور کھپت کی وجہ سے مختلف معاشی گروہ ریاست، سرمایہ، بازار اور معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت طور پر نئی شکل دینا شروع کر دیں گے۔
ہم سب اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ مودی کی موجودہ معاشی پالیسی کا زور واضح طور پر چھوٹی اور دیسی صنعتوں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور اقتدار کا ڈھانچہ زیادہ قابل قبول اوردرست ہوگا۔ اس میں ایک منطق یہ بھی ہے کہ حاشیہ اور مرکزی دھارے، دونوں سطحوں پر لوگ خود اپنی خوشحالی کو اپنی قوم کے ساتھ جوڑکر دیکھنے لگیں گے۔ یہ ایسے احساسات ہیں جنہیں درآمدی سامان پر مسلسل اور بڑھتے ہوئے انحصار نے ختم کردیا تھا۔ دیسی صنعت پر زور کی وجہ سے قوم پرستی اور حب الوطنی جیسے متحد کرنے والے جذبے کو بھی نمایاں طور پر وسعت ملے گی۔ ہمارے شہری خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے لگیں گے اور ہندوستانی مصنوعات کا استعمال کرنیکی وجہ سے وہ اپنے ورثہ اور تہذیب پر فخر محسوس کریں گے اور مادر وطن کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقامی صنعتوں اور اشیا کے حق میں مودی کا دعویٰ عام ہندوستانیوں، خاص طور پر دیہی علاقے کے لوگوں کی امنگوں اور آرزوؤں کے عین موافق ہے۔ اس سے ان کی سیاسی قیادت کے احترام اور ساکھ میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ میں حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوووِڈ -19 کے ذریعہ پیداشدہ نازک صورتحال پر مودی کے رسپانس سے نہ صرف ہمیں اس سانحہ سے باہر آنے میں کامیابی ملے گی، بلکہ اس سے جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی اوراس سے ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوں گے جہاں علاحدگی اور امتیازیت جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی اور اسی کی خواہش مودی جی کرتے ہیں اور بہ حیثیت ہندوستانی ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم آخرکار یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک سپر پاور اور ایک شاندار ملک بنائیں، جو تمام میدانوں میں عالمی برادری کی قیادت کر سکے۔ ہماری متحرک اور فعال قیادت کی یہ خواہشیں دور ازکار بھی نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ ہندوستان اور ہندوستان کے لوگ ان کی پالیسیوں اور ان کے تاثرات کا احترام کریں گے۔ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کریں گے، جو ایک شدید بحران کے دور میں ملک کی مدد کے لیے بروقت کھڑا ہوا اور ہمارے عوام کی بے پناہ خدمت کی، جنہیں ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کی مثال موجودہ صدی میں نہیں ملتی۔ میں ان کی انسان دوستی کی کوششوں کو سلام کرتا ہوں۔

سیاست

خاتون صحافیوں پر حملہ، سپریم کورٹ کا دہلی پولیس کو نوٹس

Published

on

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے منگل کو ان الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ قومی راجدھانی میں احتجاج کی کوریج کرنے والی خواتین صحافیوں پر پولیس اہلکاروں کے ذریعہ حملہ کیا گیا اور دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کو اس معاملے کی وضاحت کے لیے جمعرات کو سماعت کے دوران موجود رہنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہنا کی بنچ نے یہ مشاہدہ سینئر وکیل اندرا جیسنگ کے نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا، انڈیا (این ڈبلیو ایم آئی) کی طرف سے دائر کی گئی ایک پٹیشن کا ذکر کرنے کے بعد کیا، جس میں احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں، خاص طور پر خواتین صحافیوں کے تحفظ کے لیے کہا گیا تھا۔ “ہم چاہیں گے کہ کوئی سینئر افسر یہاں موجود رہے اور وضاحت کرے،” سی جے آئی کانت کی زیرقیادت بنچ نے کہا، یہ اشارہ کرتے ہوئے کہ پولیس کو الزامات کی وضاحت کرنی ہوگی۔ یہ پیشرفت ان الزامات کے درمیان سامنے آئی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو 10 اور 11 اکتوبر کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران بدسلوکی، حراست میں لیا گیا اور روکا گیا۔

عدالت عظمیٰ نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وکلاء، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ یہ ہدایات جسٹس جویمالیہ باگچی اور وی موہنا کی بنچ نے دی جب توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کی گئی جس میں مجوزہ احتجاج سے قبل عائد پابندیوں سے متعلق اس کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس نے حکام کو میٹرو اور ریلوے خدمات کے معمول کے کام کاج، بلا تعطل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی، جو کہ ٹریفک کے ضوابط اور امن عامہ کے تقاضوں سے مشروط ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ قانون کے ذریعہ قائم کردہ طریقہ کار کے علاوہ، خاص طور پر پرامن اور غیر مسلح اجتماعات کے معاملے میں جہاں پر امتناعی حکم 36 کے تحت نافذ ہے۔ حفاظت سنہیتا (بی این ایس ایس) نافذ تھی۔

Continue Reading

سیاست

وزیرِ اعظم مودی پر تبصرے کے کیس میں راہل گاندھی کے خلاف سماعت پر سپریم کورٹ کی روک

Published

on

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے منگل کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے مبینہ توہین آمیز ریمارکس پر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کے سامنے مزید کارروائی پر روک لگاتے ہوئے عبوری راحت دی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور اپریش کمار سنگھ کی بنچ نے گاندھی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا جس میں ان کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کی کارروائی کو منسوخ کرنے سے انکار کیا گیا تھا اور مہاراشٹر حکومت اور شکایت کنندہ سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا تھا۔ گاندھی کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کی عرضیاں سننے کے بعد، عدالت عظمیٰ نے حکم دیا، “اس دوران، ٹرائل کورٹ کے سامنے مزید کارروائی روک دی جائے گی۔” یہ کیس ستمبر 2018 میں راجستھان میں ایک ریلی کے دوران گاندھی کے مبینہ ریمارکس پر بی جے پی ممبر مہیش مکم چند شریمل کی طرف سے دائر کردہ ہتک عزت کی شکایت کا نتیجہ ہے۔

شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ گاندھی نے پی ایم مودی کا حوالہ دیتے ہوئے “چورو کے سردار” اور “کمانڈر ان تھیف” جیسے تاثرات کا استعمال کیا ہے، جس سے وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے اراکین کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں سے بی جے پی کے ایک سرگرم رکن ہونے کا دعویٰ کرنے والے شری شریمل نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم کے خلاف مبینہ ریمارکس نے پارٹی کے ارکان کو ’’چور‘‘ کے طور پر پیش کرکے ان پر وسیع اثر ڈالا ہے۔ گرگاؤں مجسٹریٹ کورٹ نے شکایت کنندہ کے ذریعہ پیش کردہ مواد اور شواہد پر غور کرنے کے بعد اگست 2019 میں گاندھی کے خلاف سمن جاری کیا۔ اس کے بعد گاندھی نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، اس بنیاد پر فوجداری کارروائی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا کہ بی جے پی کے ایک کارکن کی طرف سے دائر کی گئی شکایت قابل سماعت نہیں تھی۔

تاہم، بمبئی ہائی کورٹ نے، 8 ستمبر کو منظور کیے گئے ایک حکم میں، سمن کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 482 کے تحت موروثی دائرہ اختیار کے استعمال کی کوئی واضح غیر قانونی یا کجی نہیں ہے۔ “کسی بھی واضح غیر قانونییت کی غیر موجودگی میں، غیر قانونی حکم میں خرابی، یہ سی آر پی سی کی دفعہ 482 کے تحت موروثی دائرہ اختیار کے استعمال میں مداخلت کے لئے موزوں کیس نہیں ہے۔ مجموعی حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس عدالت کو غیر قانونی حکم میں کوئی کمزوری نظر نہیں آتی ہے،” جسٹس نِیٹن کی ایک واحد جج بنچ نے مشاہدہ کیا۔ گاندھی کے اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے کہ شکایت قابل سماعت نہیں تھی، ہائی کورٹ نے کہا کہ بی جے پی، ایک رجسٹرڈ قومی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے، ایک قابل شناخت ادارہ ہے۔ ہائی کورٹ نے مزید مشاہدہ کیا تھا کہ سمن کو چیلنج کرنے کی جانچ کے مرحلے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مبینہ ریمارکس صرف بی جے پی کی سینئر قیادت تک ہی محدود تھے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’بی جے پی کے رکن وزیر اعظم کو ’کمانڈر اِن تھیف‘ کے طور پر بیان کرنے والے بیان کو پہلی نظر میں پڑھتے ہوئے، اس لیے اس مرحلے پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ غلط تبصرہ صرف پارٹی کی سینئر قیادت تک محدود ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ آیا یہ مبینہ الزام مادہ میں ہتک آمیز تھا اور اس کا پارٹی ممبران پر کیا اثر پڑا اس کا ٹرائل کے مرحلے پر جائزہ لینا ہوگا۔ گاندھی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے، بمبئی ہائی کورٹ نے انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے سے چھ ہفتوں کا تحفظ دیا تھا تاکہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکیں۔ تازہ ترین راحت سیاسی رہنماؤں اور دیگر عوامی شخصیات کے خلاف ان کے مبینہ ریمارکس پر کانگریس لیڈر کے خلاف ہتک عزت کی کارروائیوں کے سلسلے کے درمیان آئی ہے۔ اس سال اپریل میں سپریم کورٹ نے گاندھی کو آزادی پسند ونائک دامودر ساورکر کے بارے میں مبینہ توہین آمیز ریمارکس کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر وہ مستقبل میں ایسے ہی بیان دیتے ہیں تو وہ از خود کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہندوستانی فوج کے بارے میں ان کے مبینہ ریمارکس سے متعلق ایک الگ کیس میں، سپریم کورٹ نے اگست میں لکھنؤ کی ایک عدالت کے ذریعہ جاری کردہ سمننگ آرڈر کے خلاف گاندھی کو عبوری راحت دی تھی اور حکومت اتر پردیش اور شکایت کنندہ سے جواب طلب کیا تھا۔

Continue Reading

سیاست

‘راہل گاندھی اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں’: بی جے پی ایم پی روی کشن

Published

on

نئی دہلی : بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے جاری احتجاج پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے روی کشن نے کہا، “راہل گاندھی، جیسا کہ آپ حالیہ منظر میں دیکھ سکتے ہیں، لگتا ہے کہ اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں، وہ جسمانی تشدد کا سہارا لے رہے ہیں۔ پرسوں، ریاستی پارٹی کے صدر کو لے کر اتر پردیش میں جوتوں اور چپلوں کو لے کر جھگڑا ہوا تھا۔ چونکہ اکھلیش یادو اور مودی کو شکست دینے میں پی پی اور مودی کی پارٹی ناقابل شکست ہے۔” بی جے پی، وہ اب چیزوں کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی دارالحکومت میں حالیہ مظاہروں کی وجہ سے عوام کو ہونے والی تکلیف پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا، “65 سالوں سے، کانگریس پارٹی نے اس ملک کا استحصال کیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان 65 سال پیچھے چلا جائے، وہ چیزوں کو ہائی جیک کرنے اور دہلی کے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی بیمار کے ساتھ ایمبولینس میں سفر کر رہا ہے، وہ کسی اور کے کام میں نہیں آ رہا ہے، اور وہ کام کرنے کے قابل نہیں ہے۔” عوام سے یہ پوچھنا کہ وہ کیا چاہتی ہے لوگ پی ایم مودی اور یہ حکومت چاہتے ہیں، جس کے تحت ہندوستان اتنی اچھی طرح سے ترقی کر رہا ہے…” کسان نے مزید کہا کہ جب اپوزیشن انتخابات ہار جاتی ہے تو وہ ای وی ایم اور انتخابات کے خلاف ایسے الزامات لگاتے ہیں۔

“گیانیش کمار 2025 میں آئے۔ میں راہول گاندھی سے پوچھنا چاہتا ہوں، آپ جہاں سے بھی الیکشن جیتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن جب آپ ہار جاتے ہیں، تو اچانک آپ ای وی ایم پر سوال اٹھانے لگتے ہیں، ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہیں، جب آپ کو ہارنے کا خوف ہوتا ہے، تو آپ ایسے ڈرامے کرتے ہیں، لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں – وہ بی جے پی چاہتے ہیں، نوجوان بی جے پی سے مطمئن ہیں، آپ چند نوجوان ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے ایس آئی آر مشق میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے اور انتخابی فہرستوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ بی جے پی نے اس عمل کا دفاع کیا ہے اور کانگریس پر اس معاملے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس سے قبل، انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے بھی اپنے خدشات پر بات کرنے کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ تاہم، سی جے آئی نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ قائم قانونی طریقہ کار کے مطابق درخواست کے ذریعے عدالت سے رجوع کریں۔ اس کے بعد، گاندھی نے پیر کو سپریم کورٹ کی طرف ہندوستانی بلاک کے رہنماؤں کے احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان