سیاست
مودی، کووِڈ۔19 اور سودیشی سوچ
وزیر اعظم نریندر مودی کے 20لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نٹ کہاکہ جب کوئی ملک شدید وبائی بحران سے نبرد آزما ہو اور سماجی حسیت پرناامیدی کے احساس کا غلبہ طاری ہونے لگے، تو ایسے ماحول میں ایک بڑا معاشی پیکیج گہرے سکون کا احساس دلاتا ہے اپور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے معزز وزیر اعظم نریندر مودی ایک مستقل مزاج اور پختہ کار رہنما ہیں۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک تفصیلی بیان میں کہاکہ جب موجودہ بحران کے دور میں پورے ملک کی نگاہیں اپنے قائد پر مرکوز ہیں، تو مودی انہیں مایوس نہیں کرتے۔ مودی نے اپنے اقتدار کے شاندار چھ برسوں کے دوران ایک سچے اور مخلص رہنما کی طرح بروقت اور مناسب معاشی پالیسیاں وضع کرکے اپنے ہم وطنوں کے تئیں بے پناہ محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس پیکیج کو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مودی کی عقیدت کی عملی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دراصل، اس قدم کو موجودہ معاشی خرابیوں کو درست کرنے کے حل کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں مودی کی پرجوش قوم پرستی کا جذبہ بھی چھپا ہوا ہے اور اس سے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں ان کے مضبوط ویژن کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ دراصل، انہوں نے آج ہمیں ایک جامع معاشی تعمیر نو کے امکانات سے روبرو کرایا ہے، جو خصوصی طور پر خود کفالت پرزور دیتا ہے۔ اس کا طویل المدتی فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری دیہی زندگی کی باز آبادکاری بامعنی طریقے سے ہو سکے گی اور وہاں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک فعال اور عملی لیڈر کے طور پر مودی نے ایسی معاشرتی اور معاشی پالیسیاں وضع کی ہیں یا پرانی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے، جن کو فوری طور پر لاگو کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ موجودہ اقدام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہمیں بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ مودی ہمارے ملک کو قومیانے کی پالیسی کی راہ پر لے جارہے ہیں، جہاں معاشی خرابیوں کا علاج سودیشی مصنوعات کے لیے سازگار ماحول تیار کرکے کیا جائے گا۔ موجودہ وبائی مرض کے دوران مودی نے وقتاً فوقتاً لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’گمچھا‘ جسے تولیہ بھی کہا جاتا ہے، اور آیورویدک ادویات کا استعمال کریں۔ یہ عمل دیسی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بہتری لانے کا محرک بن سکتا ہے، جو بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ہماری بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو بھی جذب کرسکتا ہے۔ اس عمل میں نچلی سطح سے شروع کر کے مزدوروں کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی سوچ اور زیادہ با معنی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت، دیسی صنعتوں کے فروغ کے ذریعہ معیشت کی تجدید کاری پر وزیر اعظم مودی کا زور معیشت کی دائمی سست رفتاری کے مسئلے کا مستقل حل پیش کرنے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سودیشی صنعت کے احیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے ہمارے ملک کے عوام کے ایک بڑے طبقے کو کھیتی سے ہونے والی معمولی آمدنی میں اضافے کا موقع ملے گا اور انہیں اپنی محنت کا بہتر صلہ مل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کی سیاسی بصیرت اورسوجھ بوجھ کا جائزہ لیا جائے، تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ گھریلو صنعتوں کی جانب ان کا جھکاؤ ان کی حب الوطنی کی غمازی کرتا ہے۔ درآمد شدہ اشیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار موجودہ نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے بے بہرہ اور اپنے پرشکوہ ورثے سے غافل کر دیا ہے۔ مودی کا خود انحصاری کی طرف رجحان کا مقصد اپنے لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلانا اور ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ مودی کے معاشی منصوبے موجودہ دور سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ منصوبے انہیں ایک قوم پرست، ایک کارکن اور ایک کرم یوگی کی حیثیت سے نشان زد کرتے ہیں، جو ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور جو ہندوستانیت پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کی بنیاد مودی کے اس پختہ یقین پر ہے کہ غریب اور کم مراعات یافتہ لوگ نظریاتی تنازعات میں الجھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمارے ملک میں ایسی پالیسیاں وضع کی جانی چاہئیں، جن سے ہماری آبادی کو بھرپور فوائد حاصل ہوں۔ لہٰذا، مودی ہمیشہ اپنی سیاسی کوششوں کی تکمیل کے لیے مذاکرات اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم کاایک بنیادی سروکار یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنی قدیم اقتصادی روایات اور مشترکہ نصب العین کے حصول کا احساس دلایا جائے۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو معیشت کا بنیادی محور قرار دینے کی مودی کی منطق سوامی وویکانند کے ان خیالات پر قائم ہے، جس کے تحت انہوں نے لوگوں میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا ایک مضبوط احساس پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی۔ وویکانند نے اپنے ہم وطنوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی مدد آپ کریں اور باہر کی مسلط کردہ مادی یا غیر مادی چیزوں پر انحصار نہ کریں۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وویکانند نے فرد کی جن خفیہ صلاحیتوں کو ابھار کر حکومت سے تعاون کرنے پر زور دیا تھا، اس کی جھلک مختلف حالات سے نمٹنے کے مودی کے طرز عمل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج، جس کا جھکاؤ سودیشی کی طرف ہے، در حقیقت معیشت کی فعالیت کی از سرنو تشکیل کے ایک منظم اور ٹھوس پروگرام کی شروعات ہے۔ اس میں ایسے حالات پیدا ہوں گے، جو انفرادی وقار کو بحال کریں گے۔ اس طرح کا رویہ ہماری آبادی کے تمام طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے اور گھریلومصنوعات کی فراہمی کا ایک مضبوط اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے معاشرے میں سستے اور غیر معیاری امپورٹیڈ سامان کی بالادستی کی گرفت کم ہوگی۔ دیسی سامان کی زیادہ سے زیادہ پیداوار اور کھپت کی وجہ سے مختلف معاشی گروہ ریاست، سرمایہ، بازار اور معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت طور پر نئی شکل دینا شروع کر دیں گے۔
ہم سب اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ مودی کی موجودہ معاشی پالیسی کا زور واضح طور پر چھوٹی اور دیسی صنعتوں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور اقتدار کا ڈھانچہ زیادہ قابل قبول اوردرست ہوگا۔ اس میں ایک منطق یہ بھی ہے کہ حاشیہ اور مرکزی دھارے، دونوں سطحوں پر لوگ خود اپنی خوشحالی کو اپنی قوم کے ساتھ جوڑکر دیکھنے لگیں گے۔ یہ ایسے احساسات ہیں جنہیں درآمدی سامان پر مسلسل اور بڑھتے ہوئے انحصار نے ختم کردیا تھا۔ دیسی صنعت پر زور کی وجہ سے قوم پرستی اور حب الوطنی جیسے متحد کرنے والے جذبے کو بھی نمایاں طور پر وسعت ملے گی۔ ہمارے شہری خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے لگیں گے اور ہندوستانی مصنوعات کا استعمال کرنیکی وجہ سے وہ اپنے ورثہ اور تہذیب پر فخر محسوس کریں گے اور مادر وطن کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقامی صنعتوں اور اشیا کے حق میں مودی کا دعویٰ عام ہندوستانیوں، خاص طور پر دیہی علاقے کے لوگوں کی امنگوں اور آرزوؤں کے عین موافق ہے۔ اس سے ان کی سیاسی قیادت کے احترام اور ساکھ میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ میں حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوووِڈ -19 کے ذریعہ پیداشدہ نازک صورتحال پر مودی کے رسپانس سے نہ صرف ہمیں اس سانحہ سے باہر آنے میں کامیابی ملے گی، بلکہ اس سے جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی اوراس سے ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوں گے جہاں علاحدگی اور امتیازیت جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی اور اسی کی خواہش مودی جی کرتے ہیں اور بہ حیثیت ہندوستانی ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم آخرکار یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک سپر پاور اور ایک شاندار ملک بنائیں، جو تمام میدانوں میں عالمی برادری کی قیادت کر سکے۔ ہماری متحرک اور فعال قیادت کی یہ خواہشیں دور ازکار بھی نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ ہندوستان اور ہندوستان کے لوگ ان کی پالیسیوں اور ان کے تاثرات کا احترام کریں گے۔ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کریں گے، جو ایک شدید بحران کے دور میں ملک کی مدد کے لیے بروقت کھڑا ہوا اور ہمارے عوام کی بے پناہ خدمت کی، جنہیں ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کی مثال موجودہ صدی میں نہیں ملتی۔ میں ان کی انسان دوستی کی کوششوں کو سلام کرتا ہوں۔
سیاست
پونے انتظامیہ نے 26 مئی کی رات سے شروع ہونے والے دو ہفتوں کے لیے لوگوں کی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دیں۔

پونے : مہاراشٹر کے پونے میں کرفیو نافذ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پونے انتظامیہ نے 26 مئی کی رات سے شروع ہونے والے شہر میں 14 دنوں کے لیے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ عوامی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ تاہم، پونے کے پولیس کمشنر امیتیش کمار نے واضح کیا کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے اور یہ کہ اجتماع کے احکامات تہواروں کے دوران ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے محض احتیاطی تدابیر ہیں۔ پونے پولیس کے حکم کے مطابق جب تک یہ پابندیاں برقرار رہیں گی احتجاج، مارچ، میٹنگز اور اسی طرح کی عوامی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک الگ حکم میں، پونے میونسپل کارپوریشن نے میونسپل محکموں کے لیے ایندھن کی بچت کی متوازی مہم بھی شروع کی ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات میونسپل مالیات پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
پونے پابندی کے دوران کن چیزوں کی اجازت نہیں ہوگی؟
میونسپل باڈی کے جاری کردہ حکم نامے کے تحت، اگلے 14 دنوں کے لیے درج ذیل سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی : عوامی اجتماعات، احتجاج، مارچ، میٹنگز اور اسی طرح کی تقریبات۔ آتش گیر، دھماکہ خیز یا آتش گیر مواد لے کر جانا۔ پتھر، ہتھیار، پھینکنے والی اشیاء، یا ایسی کوئی بھی چیز جو تشدد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہو، لے جانا، ذخیرہ کرنا، یا تیار کرنا۔ نیزوں، تلواروں، لاٹھیوں، کلبوں، آتشیں اسلحے، یا کوئی ایسی چیز جو نقصان پہنچا سکتی ہو۔ کسی بھی شخص یا رہنما کی تصاویر، مجسمے، یا تصاویر دکھانا یا جلانا۔ توہین آمیز نعرے لگانا، اشتعال انگیز تقاریر کرنا، قابل اعتراض گانے گانا، یا ایسے طریقے سے موسیقی کے آلات بجانا جس سے امن عامہ خراب ہو۔ اشارے، پلے کارڈز، یا تصویریں دکھانا جنہیں جارحانہ یا عوامی شائستگی کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ تقریریں، مناظر، یا ایسی چیزیں پھیلانا جن سے عوامی اخلاقیات یا حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ پونے پولیس نے رہائشیوں سے اس حکم پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پونے کرفیو کے بارے میں انتظامیہ نے کیا کہا؟
پونے پولیس نے رات 10 بجے کے بعد چلنے والے غیر قانونی کھانے پینے کی دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔ انہوں نے غیر مجاز ہاکروں، مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں اور فٹ پاتھوں پر یا مقررہ اوقات کے بعد کام کرنے والے سڑک کے کنارے کھانے پینے کے سٹالوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ مہم میں بنیادی طور پر رات 10 بجے کے بعد کام کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سرکاری اجازت کے بغیر۔ لوگ آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ یہ ہر پندرہ دن بعد جاری ہونے والے احکامات ہیں، جنہیں پولیس باقاعدگی سے جاری کرتی ہے۔ ان احکامات کا مقصد مجرموں کو گروہوں میں جمع ہونے اور معاشرے یا املاک کو نقصان پہنچانے سے روکنا ہے۔
کھانے اور مشروبات کی دکانیں بھی رات 10 بجے کے بعد بند ہو جاتی ہیں۔
پولیس سربراہ نے وضاحت کی کہ ایف سی روڈ، جے ایم روڈ، کاروے روڈ، کوتھروڈ، بنیر، کونڈھوا، کٹراج اور فرسنگی جیسے علاقوں میں رات گئے کھانے پینے کی جگہیں بڑی بھیڑ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ جرائم پیشہ افراد بھی ان علاقوں میں آتے رہتے ہیں۔ بہت سے لائسنس یافتہ اور بغیر لائسنس والے ہاکرز رات 10 بجے کی آخری تاریخ کے بعد کام کرتے ہوئے پائے گئے۔ ہم پان کی دکانوں سمیت ایسے تمام ادارے رات 10 بجے تک بند کر رہے ہیں۔ پولیس نے کھانے پینے والوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے جن پر فٹ پاتھوں پر غیر قانونی تجاوزات کا الزام ہے اور پیدل چلنے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمار نے کہا کہ کچھ کھانے پینے کی دکانیں صبح 3 بجے تک کھلی رہیں۔ ہم نے ان کے لیے رات 10 بجے کی ڈیڈ لائن رکھی ہے۔ لائسنس یافتہ ادارے جیسے ریستوراں اور بار صرف اپنے لائسنسوں میں بیان کردہ وقت کی حدود میں کام کر سکتے ہیں۔
پمپری چنچواڑ پولیس نے بھی امتناعی احکامات جاری کیے۔
دریں اثنا، پمپری چنچواڑ میں پولیس کے جوائنٹ کمشنر ششی کانت مہاورکر نے 27 مئی کی آدھی رات سے 9 جون کی آدھی رات تک ممنوعہ احکامات جاری کیے ہیں۔ ٹی او آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، حکم میں آتش گیر مادوں، دھماکہ خیز مواد، پتھروں، ہتھیاروں، آتشیں اسلحے، لاٹھیوں اور اشیاء کو لے جانے پر پابندی ہے۔
پونے میں کس چیز پر پابندی ہے؟
اس حکم نامے میں علامتی پتوں کو جلانے یا اشتعال انگیز انداز میں افراد کی تصاویر دکھانے پر بھی پابندی ہے۔ مزید برآں، پولیس نے اشتعال انگیز نعرے لگانے، اونچی آواز میں موسیقی بجانے، اشتعال انگیز تقاریر، اور ایسے مواد کو پھیلانے پر پابندی عائد کر دی ہے جس سے امن عامہ میں خلل پڑ سکتا ہو یا ریاست کی سلامتی کو خطرہ ہو۔ پولیس کی پیشگی اجازت کے بغیر پانچ سے زائد افراد کے اجتماع، عوامی جلسوں اور جلوسوں پر بھی پابندی ہے۔
پی ایم سی نے محکموں کے لیے ایندھن کی بچت کے اقدامات کا آغاز کیا۔
پی ایم سی نے محکمہ کے سربراہوں کو سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے اور سرکاری دوروں کی مناسب منصوبہ بندی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انتظامیہ نے مشاہدہ کیا کہ متعدد محکموں کی جانب سے میونسپل گاڑیوں کے زیادہ استعمال سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اب عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ میونسپل گاڑیوں کو صرف ضروری مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ یہ قدم مغربی ایشیا کے بحران اور پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کی شہریوں سے اپیل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
پی ایم سی کے افسران اور ملازمین کو درج ذیل ہدایات دی گئی ہیں۔
سرکاری مقامات پر جاتے وقت گاڑیوں کا استعمال کفایت شعاری سے کریں۔
کام پر جانے اور جانے کے لیے بسوں، ٹرینوں اور دیگر عوامی نقل و حمل کو ترجیح دیں۔
ایک ساتھ سفر کرتے وقت کارپولنگ کا استعمال کریں۔
جب بھی سرکاری سفر ضروری ہو پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔
ہفتے میں کم از کم ایک بار میٹرو، لوکل ٹرین یا پبلک بس سے سفر کریں۔
جہاں تک ممکن ہو آن لائن میٹنگز، سیمینارز اور ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کریں۔
پونے انتظامیہ نے حکام سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
میونسپل کارپوریشن نے تمام محکموں کو ایندھن کے استعمال اور گاڑیوں کی آمدورفت کو کم کرنے کے لیے تفصیلی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
حکام سے کہا گیا ہے کہ:
گاڑی کے استعمال کو سختی سے کنٹرول کریں۔
غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
جہاں بھی ممکن ہو، سفری منصوبوں کو یکجا کریں۔
دفتری کام کے لیے گاڑی کا استعمال کم سے کم کریں۔
ایک ہی منزل تک جانے کے لیے متعدد گاڑیوں کے بجائے ایک گاڑی کا استعمال کریں۔
کارپولنگ کو لاگو کریں۔
اب توجہ شہری اخراجات کو کم کرنے پر ہے۔
پی ایم سی نے کہا کہ یہ فیصلہ ایندھن کی کھپت کو کم کرنے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان میونسپل کے خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے لیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ زیادہ تر اخراجات ایندھن، دیکھ بھال اور ڈرائیوروں پر ہوتے ہیں۔ مالی دباؤ بڑھنے کے ساتھ، میونسپل کارپوریشن نے اب لاگت میں کمی کے اقدامات پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ اب، توجہ اس بات پر ہے کہ آیا یہ نیا حکم ایندھن کی کھپت کو کم کرنے اور میونسپل گاڑیوں کے استعمال پر کنٹرول کو مزید سخت کرنے میں مدد دے گا۔
جرم
ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔
(جنرل (عام
ٹرین کے مسافروں کے لیے ایک اہم اپڈیٹ! ریلوے نے چھترپتی شیواجی ٹرمینس پر ٹریفک اور پاور بلاک کو مزید 10 دنوں کے لیے بڑھا دیا ہے۔

ممبئی : ممبئی والوں کے لیے اہم خبر۔ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس (سی ایس ایم ٹی) اسٹیشن کی تعمیر نو کی وجہ سے طویل فاصلے کے مسافروں کو مزید کئی دنوں تک مسلسل تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریلوے نے پلیٹ فارم 16 اور 17 کی تعمیر نو کے لیے جاری ٹریفک اور پاور بلاک میں مزید 10 دن کی توسیع کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی میل اور ایکسپریس ٹرینوں کے ٹرمینس اسٹیشنوں کو عارضی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ ٹرینیں اب دادر یا تھانے اسٹیشنوں پر رکیں گی۔ ریلوے کی طرف سے اعلان کردہ نئے قوانین کے مطابق، یہ تبدیلی 29 مئی سے شروع ہونے والے 10 دنوں کے لیے نافذ العمل ہوگی۔ نتیجے کے طور پر، شمالی، جنوبی، یا مغربی ہندوستان سے ممبئی، خاص طور پر سی ایس ایم ٹی جانے والے مسافروں کو اب دادر یا تھانے اسٹیشنوں سے اترنا پڑے گا۔ وہاں سے، مسافروں کو ممبئی کے اندر اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے لوکل ٹرینوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کو ہیں، اور ریلوے اسٹیشنوں پر پہلے ہی رش ہے۔ اس نئی تبدیلی سے مسافروں کو خاصی تکلیف ہو سکتی ہے۔
ریل لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ایل ڈی اے) سی ایس ایم ٹی اسٹیشن کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ فی الحال، ضروری تکنیکی کام جاری ہے، جس میں پلیٹ فارم 16 اور 17 کے ارد گرد انفراسٹرکچر کی تعمیر، پرانے پٹریوں کی بنیادوں کو مضبوط کرنا، اور الیکٹرانک انٹر لاکنگ سسٹم کی تنصیب شامل ہے۔ چونکہ یہ کام پیچیدہ اور حفاظتی لحاظ سے اہم ہے، اس لیے ریلوے کے لیے ٹریفک اور پاور بلاک کو بڑھانا ضروری تھا۔ اس میگا بلاک کے دوران کئی لمبی دوری کی ٹرینوں کے ٹائم ٹیبل اور اسٹاپیجز میں کئی عارضی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ لہذا، سینٹرل ریلوے انتظامیہ نے مسافروں سے درخواست کی ہے کہ وہ گھر سے نکلنے یا اپنے سفر کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے سرکاری ریلوے ہیلپ لائن یا ایپ پر اپنی ٹرینوں کی حیثیت اور منزل کی جانچ کریں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
