Connect with us
Friday,10-July-2026
تازہ خبریں

سیاست

ممبئی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی کمی، ایم آر آئی مشین بھی بند، حالات تشویشناک، ابوعاصم کا اسپتالوں میں ضروری سہولیات فراہمی کا مطالبہ

Published

on

hospital

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں طبی سہولت کا فقدان اور اسپتالوں میں ناقص انتظامات و ابتر حالات پر ابوعاصم اعظمی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرکار کی توجہ اس اہم مسائل پر مبذول کروائی انہوں ایوان کو بتایا کہ سرکاری اور میونسپل اسپتالوں میں مریضوں کی حالت قابل رحم ہے یہاں مریضوں کے علاج کے ساتھ ادویات کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے سبب مریضوں کو باہر سے ادویات کا انتظام کرنا ہوتا ہے, ایسے میں سرکاری اسپتالوں کے ناقص انتظامات کے سبب حالات ابتر ہے ممبئی کے جے جے اسپتال ۵ سے ۶ ہزار روپے کی یومیہ ایک مریض کو دی جاتی تھی اور یہ ادویات اسپتال میں میسر نہیں ہوتی اسے پرائیوٹ کلینک سے خریدنا ہوتا ہے جب میں نے اس کی شکایت ڈین سے کی تو انہیں اس بات کا علم تک نہیں تھا, اس پر ڈین نے کہا کہ مریض کو تمام ادویات یہاں سے ہی فراہم ہوگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مریض نے اس کی شکایت مجھ سے کیوں نہیں کی؟ جس پر اعظمی نے کہا کہ ڈاکٹر دورہ کے دوران مریضوں کو کسی بھی ڈاکٹر سے بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ اسپتال میں ایم آر آئی مشین نہ ہونے کے سبب کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جے جے اسپتال میں یومیہ تین ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں, اس میں صرف چالیس مریضوں کا ہی ایم آئی آر مشین سے جانچ کی جاسکتی ہے, بقیہ مریضوں کی تشخیص ایسے میں کب ہو گی؟ یہ طے کیا جائے کہ دور دراز دیہی علاقوں سے ممبئی آنے والے مریضوں کے لیے ایم آر آئی، سونو گرافی سمیت دیگر جانچ کتنے دنوں میں طے ہو گی؟ اعظمی نے ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایک بچہ بغرض علاج یہاں ممبئی میں واڈیا اسپتال میں لایا گیا تھا, میں نے فون کیا اسے فارم کی قیمت تین سو رویپہ وصول کیا اور پھر اسے داخلہ نہیں دیا گیا اور اسپتال سے نکل کر اس بچہ کی موت ہو جاتی ہے, ایسی حالت اسپتالوں کی ہے ناقص انتظامات سمیت دیگر سہولیات کا اسپتالوں میں فقدان ہے۔ اعظمی نے بتایا کہ نائر سمیت دیگر اسپتالوں میں ایم آر آئی سمیت دیگر ٹیسٹ کی مشین بند پڑی ہے۔ جن اسپتالوں میں مشین بند ہے۔ جن اسپتالوں میں میڈیکل کالج ہیں وہاں بھی مشین بند ہے تو ایسے میں میڈیکل طلبا کیسے ان مشینوں کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اس پر وزیر مملکت میگھا سکوریکر بوردیکر نے کہا کہ اسپتالوں میں ضروری اقدامات کئے جائیں گے اس پر اعظمی نے کہا کہ کیا نئے اسپتال شروع کئے گئے ہیں۔ اب تک اسپتالوں میں انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔ اعظمی کے مطالبہ پر موصوفہ نے کہا کہ وہ ایک روز اعظمی کے ہمراہ اچانک اسپتال کا دورہ کرے گی۔ وزیر موصوفہ نے کہا کہ جون تک چار اسپتال کے ایم، سائن، کوپر نائر میں ایم آر آئی مشین شروع ہوگی, اس کے سسٹم کے لیے دو ماہ کا وقت درکار ہے۔ چار اسپتال میں اکتوبرمیں ایم آر آئی دستیاب ہوگی, دیگر مقامات پر سرکاری فیس میں ایم آر آئی جاری ہے۔ ۱۶ اسپتالوں میں پی پی ماڈل میں ایم آر آئی کی مشین اور دیگر مشین کی تنصیب کے بعد سرکاری فیس پر جانچ ہو گی۔ اسپتالوں میں ضروری اقدامات کی بھی وزیر نے یقین دہانی کروائی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر میں دو ماہ کی توسیع، بی ایل اوز کو مکمل سہولیات اور شکایات کے ازالے جیسے اہم مطالبات کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا یقین دلایا۔

Published

on

Election-Commission

ممبئی : فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس (ایف ایم ایم) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج چیف الیکٹورل آفیسر، مہاراشٹر سے ملاقات کرکے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران عوام کو درپیش مسائل اور انتخابی عمل کو مزید شفاف، منصفانہ اور عوام دوست بنانے کے لیے ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔وفد نے بتایا کہ فیڈریشن نے یس آئی آر کے آغاز ہی سے ریاست بھر میں آگاہی مہم اور سہولت مراکز قائم کیے ہیں، جہاں رضاکار شہریوں کو اندراج (گنتی) کے عمل میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں اور بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان مراکز اور مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی عوامی شکایات اور تجاویز کی بنیاد پر یہ یادداشت تیار کی گئی۔

یادداشت میں سب سے پہلے موجودہ اندراجی مرحلے کی مدت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے شدید بارشوں، زرعی بوائی، تعمیرِ نو اور انہدامی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی اور دیگر عملی مشکلات کے پیش نظر اندراج کی مدت میں کم از کم دو ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا گیا، کیونکہ ریاست میں فی الحال کوئی فوری انتخاب متوقع نہیں ہے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ بوتھ لیول آفیسرز پر اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے انہیں عارضی طور پر غیر انتخابی سرکاری فرائض سے مستثنیٰ کیا جائے، جہاں ضرورت ہو اسسٹنٹ بی ایل اوز مقرر کیے جائیں، تمام بی ایل اوز کو ریفریشر ٹریننگ دی جائے، ان کے رابطہ نمبر، دفاتر اور دائرۂ کار کی تازہ ترین معلومات عوام کے لیے دستیاب کرائی جائیں، اور انہیں واضح ہدایات دی جائیں کہ وہ شہریوں کی ایناملیز اور دیگر مسائل کے حل میں عملی تعاون کریں۔

یادداشت میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بڑی تعداد میں شہری اب تکسر کے طریقۂ کار، آخری تاریخوں اور مطلوبہ دستاویزات سے ناواقف ہیں، خصوصاً بزرگ شہری، خواتین، مہاجر مزدور، معاشی طور پر کمزور طبقات اور دیہی آبادی۔ اس لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر کثیر لسانی بیداری مہم چلانے، سہولت مراکز کو مضبوط بنانے اور موبائل تصدیقی یونٹس قائم کرنے کی درخواست کی گئی۔

وفد نے دستاویزات اور میپنگ کے عمل میں پائی جانے والی الجھنوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مختلف اقسام کی ایناملیز اور ان کے لیے درکار دستاویزات کے بارے میں جامع عوامی رہنما ہدایات جاری کی جائیں، جہاں پرانے ریکارڈ دستیاب نہ ہوں وہاں دستاویزی تقاضوں میں آسانی پیدا کی جائے، مہاکاوی نمبر اور نام کی قانونی تبدیلیوں کو میپنگ میں مناسب اہمیت دی جائے، قابلِ قبول دستاویزات کی فہرست میں توسیع کی جائے اور ڈپلیکیٹ اندراجات سے متعلق یکساں تحریری ہدایات تمام فیلڈ افسران کو جاری کی جائیں۔

فیڈریشن نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض ایسے شہری جنہوں نے 2024 کے انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا، موجودہ عمل میں اپنے نام یا مہاکاوی ریکارڈ تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ ایسے ووٹروں کو بلاجواز دوبارہ نئے اندراج کا پابند نہ بنایا جائے اور اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے حذف ہو گیا ہو تو مناسب تصدیق کے بعد ایک آسان اور فوری اصلاحی طریقۂ کار کے ذریعے اس کا نام بحال کیا جائے۔

یادداشت میں شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے نوٹس جاری کرنے، دستاویزی تقاضوں اور نام حذف کرنے کے اصولوں سے متعلق مفصل اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) شائع کرنے، مؤثر، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر شکایات کے ازالے کا نظام قائم کرنے، ڈیٹا انٹری اور تصدیقی عمل کی نگرانی کے لیے مضبوط آڈٹ اور سپروائزری نظام نافذ کرنے اور پورے ایس آئی آر عمل کی آزادانہ نگرانی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہایس آئی آر کا اصل مقصد ہر اہل ووٹر کو انتخابی عمل میں شامل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی، تکنیکی یا طریقۂ کار کی خامیوں کے باعث کسی شہری کو اس کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا۔ اس لیے تمام انتخابی افسران کو شہری دوست رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی جانی چاہیے۔

اس موقع پر بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہمراہ مولانا حافظ اقبال چونا والا (رکن شوریٰ، دارالعلوم دیوبند وقف)، مولانا ظہیر عباس رضوی (نائب صدر، شیعہ پرسنل لا بورڈ)، فرید شیخ (صدر، امن کمیٹی ممبئی)، شاکر شیخ اور عبدالمجیب شیخ بھی وفد میں شامل تھے۔

وفد کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر، مہاراشٹر نے یادداشت میں پیش کیے گئے تمام نکات کو نہایت سنجیدگی سے سنا، ان تجاویز کو تعمیری قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ عوامی مفاد اور انتخابی عمل کی شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام مطالبات پر مناسب غور کرکے ضروری اقدامات کیے جائینگے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی کی سازش ناکام, مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آپریشن شروع, ۱۱۲ مشتبہ نوجوانوں سے پوچھ گچھ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی ڈان اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ایجنٹ شہزاد بھٹی کی سازش کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور اس گینگ سے آن لائن رابطہ کاروں سے تفتیش شروع کر دی ہے, جس سے ملک میں شہزاد بھٹی کی سازش کو اے ٹی ایس نے بے اثر کرکے بے نقاب کیا ہے۔

مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی سے وابستہ ۱۱۲ نوجوانوں سے باز پرس کی ہے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں اے ٹی ایس نے اس سے قبل بھی کریک ڈاؤن کیا تھا اور ۵۷ نوجوان سے باز پرس کی تھی آج صبح ۷ بجے اے ٹی ایس کی ۱۴ یونٹ نے شہزاد بھٹی گینگ کے آنلائن رابطہ کاروں سے باز پرس کی ہے ۱۱۲ نوجوانوں کو اے ٹی ایس نے اس وقت زیر حراست لے کر باز پرس کی جب اے ٹی ایس کو ان سے متعلق یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ آن لائن طریقے سے شہزاد بھٹی گینگ کے رابطہ میں ہے اور ان نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے ان نوجوانوں کو ملک مخالف سرگرمیوں اور بغاوت کےلیے آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا تھا اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کو ملک میں بدامنی اور تشدد کےلیے ورغلایا جارہا تھا اس سازش کو اے ٹی ایس نے ناکام بنا دیا ہے اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان نوجوانوں کو آن لائن رابطہ میں رکھ کر بیرون ملک کے ہینڈلر انہیں ورغلایا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی یہ ہینڈلر کے بھی رابطے میں آجاتے ہیں ایسے میں اے ٹی ایس مہاراشٹرمیں آپریشن شہزاد بھٹی میں شدت پیدا کردی ہے ۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے اس کی تصدیق کی ہے ۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر : سنجے راوت نے اسکول کٹ کی خریداری میں کروڑوں کے گھپلے کا کیا دعویٰ، تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا

Published

on

ممبئی : شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے جمعہ کو پمپری-چنچواڑ میونسپل کارپوریشن (پی سی ایم سی) میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے سنگین الزامات لگائے۔ 9 جولائی 2026 کو مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کو لکھے ایک سرکاری خط میں، راؤت نے الزام لگایا کہ ای ٹینڈرنگ کے لازمی عمل کی پیروی نہیں کی گئی اور سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے اس معاملے میں کابینہ کے ایک سینئر وزیر اور میونسپل افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خط کے مطابق، پمپری-چنچواڑ کے کئی مقامی کونسلروں نے راؤت سے ملاقات کی اور انہیں پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے طلباء کے لیے یونیفارم، سویٹر، موزے، رین کوٹ اور اسکول بیگ کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ریاستی قوانین کے مطابق 3 لاکھ روپے سے زیادہ کی کوئی بھی سرکاری خریداری ای ٹینڈرنگ کے عمل کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ تاہم، راؤت نے الزام لگایا کہ سولاپور کی جگدمبا ریڈی میڈ ڈریسس کوآپریٹیو سوسائٹی کو بغیر کسی مسابقتی بولی کے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دیا گیا۔

راؤت نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا، جس نے اسکول کٹس کی خریداری کے لیے 239 روپے فی یونٹ کی شرح مقرر کی تھی۔ تاہم، راؤت نے الزام لگایا کہ پی سی ایم سی انتظامیہ نے 814 روپے فی یونٹ کی زیادہ شرح پر ٹھیکہ دیا۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے 575 فی کٹ کی اضافی ادائیگی ہوئی۔ راوت نے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ گھوٹالے کی کل رقم تقریباً 400 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے ریاستی کابینہ کے ایک سینئر وزیر پر اس سودے کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالنے کا براہ راست الزام لگایا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے انسداد بدعنوانی کے نعرے “میں نہیں کھاؤں گا، دوسروں کو کھانے نہیں دوں گا” کا حوالہ دیتے ہوئے راوت نے لکھا، “آپ کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے میونسپل کمشنر پر دباؤ ڈالا کہ وہ بغیر کسی ٹینڈر کے عمل کے اس فرم کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دے دیں۔”

راوت نے الزام لگایا کہ یہ دباؤ مفاد عامہ کے لیے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لیے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 50 سے 55 کروڑ روپے کی بڑی رقم متعلقہ وزراء تک پہنچی۔ انہوں نے بچوں کے لیے اسکول کے سامان کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی کو ’انتہائی شرمناک‘ قرار دیا۔ خط کو ختم کرتے ہوئے، راؤت نے چیف منسٹر فڑنویس پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کریں اور مبینہ طور پر ملوث وزیر اور پی سی ایم سی کے عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے متعلق تمام دستاویزی ثبوت تحقیقات کے لیے وزیر اعلیٰ آفس میں جمع کرادیئے گئے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان