سیاست
کیجریوال کو تشدد زدہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے تشدد کی سخت مذمت اوراس پر زبردست غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دہلی جل رہی تھی تو وزیر اعلی اروند کیجریوال کہیں سو رہے تھے۔
عام آدی پارٹی کے کنوینر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کے تئیں سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جب عوام پر مصیبت کا وقت آیا تو وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ حالات سنیچر کی رات سے خراب ہورہے تھے جب بی جے پی کے ایک لیڈر نے دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ دہلی کے عوام نے نفرت کو مسترد کرتے ہوئے امن کو منتخب کیا تھا لیکن تشدد کے دوران امن کے پیامبر کہیں نظر نہیں آئے اور دہلی جلتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنما یہ کہکر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے کہ دہلی پولیس ان کے پاس نہیں ہے،دہلی کے ایک وزیر اعلی کی حیثیت سے یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے اوریہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس کی بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ مسٹر کیجریوال اور ان کے اراکین اسمبلی اگر سڑکوں پر اترتے تو پولیس اور انتظامیہ پر حالات کو کنٹرول کرنے کے کئے دباؤ پڑتا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اب جب کہ متعدد افراد اس تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، سیکڑوں زخمی ہیں۔ان سب کو بچایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اتوار کے روزسے ہی شرپسند عناصر سڑکوں پر ننگا ناچ رہے تھے اگر اس وقت حالات پر قابو کرلیا گیا ہوتا تو دہلی کی یہ حالت نہیں ہوتی۔
مظاہرین نے شاہین باغ مظاہرہ کو پرامن رکھنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک میں جاری مظاہرہ پرامن ہے اور ہر حال میں اسے پرامن رکھا جانا چاہئے کیوں کہ اس طرح کے حالات اس لئے پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ اس کو بدنام کیا جاسکے اور حکومت اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین پرامن طریقے سے اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ تحمل اور صبر کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول جاری رکھیں گی۔
جعفر آبادمیں خاتو ن مظاہرین نے تشدد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ شرپسند اور فسطائی طاقتیں کچھ بھی کرلیں ہم لوگ اس وقت تک احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔کل تشدد اور پتھراؤ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ظلم و تشدد ہمیں اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹاسکتا۔ ان میں سے کئی زخمی خاتون نے کہاکہ اپنے عزم کے تئیں اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگ سڑکوں پراس قانون کوواپس لینے کے لئے بیٹھی ہیں۔ اس کی واپسی کے بغیر ہم لوگ نہیں اٹھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح پولیس اور فسطائی طاقتوں نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے وہ نہایت ہی افسوسناک اور ملک کی شبیہہ کو داغدار کرنے والا ہے۔
دریں اثنا ء دہلی کے حالات پر قابو پانے کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ نے آج اعلی سطحی میٹنگ بلائی جس میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، پولیس کمشنر امولیہ پٹائک، کانگریس کے لیڈر رسبھا ش چوپڑا اور بی جے پی کے لیڈر منوج تیواری اور رام ویر سنگھ ودھوڑی شامل تھے۔ مسٹر کیجریوال نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مسٹر شاہ کی میٹنگ کو اچھا قدم بتاتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دارالحکومت میں تشدد رکے۔میٹنگ میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں دہلی میں امن بحال کرنے میں تعاون کریں ۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
خوریجی میں خاتون مظاہرین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں،کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ کل مشہورسماجی کارکن شبنم ہاشمی سمیت متعدد لوگوں نے شرکت کرکے اظہار خیال کیا تھا۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی،سیلم پور فروٹ مارکیٹ، موج پوری،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، شاشتری پارک، کردم پوری، مصطفی آباد، کھجوری، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
بزنس
ایچ ڈی ایف سی بینک نے اتانو چکرورتی کے استعفیٰ کی تحقیقات کے لیے بیرونی قانونی فرم کا تقرر کیا۔

ممبئی: ایچ ڈی ایف سی بینک نے کہا کہ اس کے بورڈ نے گورننس کے معیار کو مضبوط بنانے کے اقدام کے تحت، سابق پارٹ ٹائم چیئرمین اور آزاد ڈائریکٹر اتانو چکرورتی کے استعفیٰ کے خط کا جائزہ لینے کے لیے، ملکی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی بیرونی قانونی فرموں کی تقرری کو منظوری دی ہے۔ بینک نے ایک ایکسچینج فائلنگ میں کہا کہ یہ فیصلہ 23 مارچ کو بورڈ میٹنگ میں لیا گیا تھا، جس میں قانونی فرموں کو چکرورتی کے استعفیٰ کا جائزہ لینے اور ایک مناسب وقت کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ نجی بینک نے کہا کہ یہ اقدام شفافیت اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کے طریقہ کار کے لیے بینک کے عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ یہ اقدام چکرورتی کے 18 مارچ کو فوری طور پر مستعفی ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ اپنے استعفیٰ خط میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ دو سالوں میں بینک کے اندر کچھ پیش رفت ان کی ذاتی اقدار اور اخلاقیات کے مطابق نہیں تھی۔ تاہم، بینک نے واضح کیا کہ اس نے کسی خاص واقعے یا عمل کا حوالہ نہیں دیا جو اس کی اقدار کے خلاف ہو۔ چکرورتی نے عوامی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ ان کا استعفیٰ بینک کے اندر کسی بے ضابطگی یا بدانتظامی سے متعلق نہیں تھا، بلکہ نظریات اور نقطہ نظر میں اختلاف کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے 2021 میں بینک کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے استعفیٰ کے بعد، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کیکی مستری کو 19 مارچ سے شروع ہونے والے تین ماہ کی مدت کے لیے عبوری پارٹ ٹائم چیئرمین کے طور پر تقرری کی منظوری دی۔ مستری نے اشارہ کیا ہے کہ چکرورتی کے جانے کے بعد بینک کو کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔ بینک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بیرونی جائزے کا مقصد گورننس کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا اور استعفیٰ کے حالات کے بارے میں وضاحت کو یقینی بنانا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنے بیرون ملک آپریشنز کے ذریعے این آر آئی صارفین کو ہائی رسک اے ٹی 1 بانڈز کی مبینہ غلط فروخت کی اندرونی تحقیقات کے بعد، سینئر ایگزیکٹوز سمیت تین ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ منگل کو دوپہر 12 بجے ایچ ڈی ایف سی بینک کے حصص 1.79 فیصد بڑھ کر 757.45 روپے پر ٹریڈ کر رہے تھے۔ پچھلے ہفتے اسٹاک میں 9 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ فراہم کردہ صحت کی سہولیات کو مقامی سطح پر وسیع پیمانے پر تشہیر اور فروغ لازمی : ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھاگیندے

ممبئی آج ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد ہیلتھ کمیٹی کے نومنتخب ممبران کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات سے واقف کرانا ہے۔ مختلف شعبہ جات کے سربراہان جیسے بڑے ہسپتالوں، محکمہ صحت عامہ، مضافاتی اسپتال جو کہ میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت کے نظام کا حصہ ہیں ہیلتھ کمیٹی کے اراکین کے سامنے تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کیا۔ اس موقع پر ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھاگیندے نے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کو مقامی سطح پر زیادہ مؤثر طریقے سے عام کرنے اور پھیلانے کی ہدایات دیں۔
اس میٹنگ میں ہیلتھ کمیٹی کے تمام ممبران، ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) نے شرکت کی۔ شرد اُدے، ڈائرکٹر (بڑے اسپتال اور میڈیکل کالج) ڈاکٹر شیلیش موہتے، تمام بڑے اسپتالوں کے ڈینز، محکمہ صحت کے مختلف ذیلی محکموں کے متعلقہ افسران موجود تھے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام بڑے اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں، پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، مضافاتی اسپتالوں کے ذریعہ فراہم کردہ صحت کے شعبے کی خدمات کے بارے میں معلومات ایک پریزنٹیشن کے ذریعے تفصیل سے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ہیلتھ سسٹم میں ہسپتالوں کی لوکیشن، بیڈز کی تعداد، عملے کی گنجائش وغیرہ کے بارے میں معلومات پیش کی گئیں۔ اس کے ساتھ صحت کے نظام کو بااختیار بنانے کے لیے جاری انفراسٹرکچر کے ترقیاتی کاموں، ہسپتالوں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے انجینئرنگ کے کاموں، بستروں کی گنجائش میں اضافہ وغیرہ کے بارے میں پریزنٹیشن کے موقع پر معلومات فراہم کی گئیں۔ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے نظام کے ذریعے کچی آبادیوں میں فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کے بارے میں بھی معلومات پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ بلڈ پریشر، ذیابیطس، صحت بخش خوراک، یوگا کے لیے مختلف اقدامات کے بارے میں بھی اراکین کو معلومات فراہم کی گئیں۔ صحت کے اداروں میں صحت کے نظام کے ذریعے فراہم کی جانے والی مختلف طبی سہولیات کے بارے میں معلومات عام لوگوں تک پہنچائی جائیں۔ اسی مناسبت سے ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش نے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو مقامی سطح پر صحت کی سہولیات کو مزید فروغ دینے اور پھیلانے کی ہدایت دی۔تپ دق جیسی بیماریوں کے بارے میں مزید آگاہی پیدا کرتے ہوئے ہیلتھ کمیٹی کے اراکین نے تجویز پیش کی کہ کچھ وارڈز میں دستیاب سہولیات اور علاج کے ساتھ ساتھ تشخیص کے حوالے سے خصوصی کوششیں کی جائیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مالیگاؤں : بنگلہ دیشی روہنگیا کی آڑ میں بچوں کا مستقبل خطرہ میں، ابوعاصم کا کریٹ سومیا پر کارروائی کا مطالبہ

ممبئی: مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ایوان اسمبلی میں سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر اپنے نفرتی ایجنڈے کے سبب مسلم اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے سبب مالیگاؤں میں ٣٥٥ بچوں کا سرٹیفکیٹ منسو خ کردیا گیا ہے مالیگاؤں کارپوریشن میں 3 ہزار ٤ سو 11 اسناد سرٹیفکیٹ کی جانچ کی گئی جس میں 355 بچوں کی سرٹیفکیٹ منسو خ کردی گئی ہے ان بچوں کی عمر ۵ سے ۷ سال ہے ایسے میں ان بچوں کا اسکول میں داخلہ مشکل ہے اور ان کا مستقبل تاریک ہونے کا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی روہنگیا کے نام پر بی جے پی لیڈر نفرت کا ماحول تیار کر رہے ہیں جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں اس مسئلہ پر مالیگاؤں میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اور اس نے تفتیش شروع کی گئی تھی لیکن اب تک ایس آئی ٹی نے ریورٹ پیش نہیں ہے جلد ہی یہ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے ۔بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا اپنی نفرت سے بھری سیاست میں مالیگاؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صرف اس لیے کہ یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، مالیگاؤں کو دہشت گردوں اور روہنگیابنگلہ دیش دراندازوں کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ نفرت پر مبنی سیاست کرنے والے یہ کیسے بھول گئے کہ مالیگاؤں شہداء کا تاریخی شہر ہے؟بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کا اجرا روک دیا گیا ہے جس سے وہ بچہ اسکولوں میں داخلہ سے محروم ہے۔ پہلے جاری کیے گئے برتھ سرٹیفکیٹس کو بھی منسوخ کیا جا رہا ہے۔ اگر ان الزامات کی ایس آئی ٹی تحقیقات کرائی گئی ہے تو معلومات کو عام کیا جانا چاہئے اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ تاہم، ہر ایک سے پیدائشی سرٹیفکیٹ روکناناموں کی تصحیح پر پابندی عائد کرنا درست نہیں ہے اس مسئلہ پر اعظمی نے کریٹ سومیا پر بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں کریٹ سومیا پر سرکاری افسران پر دباؤ ڈالنے کا بھی الزام عائد کیا۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
