Connect with us
Saturday,30-August-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

نااہل عوامی نمائندوں کے مقابل متحرک نوجوانوں کی یلغار نئے انقلابوں کی آمد کا اشارہ !!!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
مالیگاؤں بلدیہ کو جس دن سے کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے کارپوریشن یکے بعد دیگرے معاشی تنزلی کا شکار ہوتے جارہی ہے. ٹیکسوں کی وصولی کا گراف گرتا جارہا ہے وہیں تعمیری اقدامات بھی روز بروز پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں. شہری لیڈران نے شہریان کو تعمیر و ترقی کا خواب دکھاتے ہوئے اپنا خود کا فائدہ تو حاصل کر لیا لیکن شہر کو پستی میں ڈھکیلنے کی کوشش کرتے ہوئے کھنڈر میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے. اقتدار کی تبدیلی بھی شہر کے حق میں نفع بخش ثابت نہیں ہو سکی ہے. شہر کی خستہ حال سڑکیں, چوک چوراہے, گلیاں اور دیگر تعمیرات بھی آہ و فغاں کرتے ہوئے اپنی تعمیروں پر ماتم کناں ہیں. خستہ حال تعمیروں کی ہر پکار آج صدا بصحرا ثابت ہوتی جارہی ہے. یہ سب دیکھتے ہوئے شہر کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل “مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ “نامی تنظیم نے نیند کے شہر میں آواز کا پہلا پتھر پھنیکتے ہوئے اپنی موجودگی کا گونجدار اشارہ دیا ہے . اس تنظیم نے بےحس عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کو بے حسی کی نیند سے نکالنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی ہے. اس تنظیم کی پہلی ہی گونجدار دستک سے کارپوریشن کی پتھریلی دیواریں, عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کے عالیشان قصر لرزہ براندام ہوئے لیکن ان کی یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت واپس لوٹ آئی. یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت شہر میں گونج ہی رہی تھی کہ مالیگاؤں کے نوجوان وکلاء کا ایک متحرک گروپ بھی شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے بے خطر میدان عمل میں اپنی موجودگی ثبت کر گیا.
نوجوان وکلاء کا یہ گروپ شہر کی تعمیر و ترقی کا مسئلہ لے کر میونسپل کمشنر دیپک کاسار سے ملنے کی کوشش کی لیکن ان کی غیر موجودگی میں ڈپٹی کمشنر نتن کاپڑنیس سے ملاقات کرکے انھیں شہر کی خستہ حالی کی جانب متوجہ کیا. اس گروپ نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے دستیاب شدہ فنڈ اور مالیگاؤں کے حاصل کردہ ٹیکسوں کی حصول یابی کا اوسط طلب کرتے ہوئے گفت و شنید کی. وکلاء کے اس گروپ نے نائب کمشنر کو شہر کی خستہ حال سڑکوں اور صاف صفائی کے ناقص انتظامات کی جانب بھی متوجہ کیا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ اور نوجوان وکلاء کے گروپ پر مشتمل نوجوانوں کا میدان عمل میں آنا ایک نئے انقلابوں کا اشارہ و استعارہ ثابت ہو سکتا ہے. ان نوجوانوں کے تیور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اب یہ قافلہ کسی بھی صورت کہیں بھی رکنے والا نہیں ہے. ان بلند حوصلہ نوجوانوں کا گروپ شہر کے لئے کتنا فیض رساں ثابت ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ طے ہے کہ نئے انقلابوں کا یہ نیا اشارہ شہر کی خستہ حالی کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا کیونکہ آج شہر کے ہاتھوں میں کھونے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہا اور پانے کے لئے سب کچھ ہے.
آج شہر کو صرف اور صرف میدان عمل میں آتے ہوئے بغاوتوں کا پرچم لہرانا ہے. ساتھ ہی شہر کی خستہ حالی دور کرنے کے علاوہ تعمیر و ترقی کے نئے در “وا “کرنے کے لئے فلک شگاف ایسے نعرے لگانے کی ضرورت ہے جو پتھریلی اور اے سی آفسوں میں موجود خطیر تنخواہ حاصل کرنے والے سرکاری آفیسران اور عوامی نمائندگان کو بےحسی کی نیندوں سے جگانے کا سبب جائیں. آج شہر کو ضرورت ہے کہ ایسے بلند حوصلہ نوجوانوں کی پذیرائی کرتے ہوئے دو چار قدم ان کے ساتھ چلتے جائیں تاکہ یہ نوجوان اپنے بلند حوصلوں کے ساتھ شہر کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کا ذریعہ بن جائیں.
دیکھئے…….. چند نوجوانوں پر مشتمل مفلوک الحال نوجوانوں کا قافلہ بلند شگاف نعرہ لگاتے ہوئے رواں دواں نظر آرہا ہے. یہ تمام نوجوان کھنڈر بنتے ہوئے مالیگاؤں کی عظمت رفتہ واپس لانے کا خواب سجائے ہوئے عملی طور پر اپنے خستہ حال مکانوں سے نکل کر جوق در جوق نئی منزلوں کی تلاش میں پا برہنہ نکل کھڑے ہوئے ہیں. ان سب کا ایک ہی خواب ہے کہ مالیگاؤں سنگا پور اور شنگھائی نہ سہی وہ مالیگاؤں بن جائے جسے ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے سینچا تھا. یہ ناممکن نہیں ممکن ہو سکتا ہے اگر شہریان اپنے کشکول میں جھوٹے وعدوں کی خیرات کی بجائے عملی اقدامات کی تعبریں طلب کرنا شروع کردیں. آج کے موجودہ لیڈران سے نالاں شہریان نئے انقلابوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ایک نا ایک دن ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں ضرور بہ ضرور کامیاب و کامران ہوں گے بس ضرورت ہے کہ کھلے دل سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے. یہ حقیقت ہے کہ یہ بے لوث اور بےداغ نوجوانوں کا قافلہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی خمدار زلفوں کا اسیر نہیں بلکہ یہ تمام نوجوان مختلف سیاسی پارٹیوں کا جائزہ لینے کے بعد جب پایا تو ہر سیاسی پارٹی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار پر قابض ہو کر مالی فوائد حاصل کرنا ہے. شہر کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈران بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں یہی سبب ہے کہ انھوں نے کسی لیڈر, پارٹی اور کسی بھی قائد و سالار,قائد نسل نو, حبیب ملت, نقیب ملت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے عزم ارادے کو میر کارواں مانتے ہوئے آواز جرس بلند کی ہے. ان کا نعرہ یہی ہے کہ
نیند کے شہر میں آواز کا پتھر پھینکوں کوئی جاگے کہ نہ جاگے میں برابر پھینکوں
اسی کے ساتھ ساتھ ذی شعور شہریان کا سیاسی لیڈران اور سرکاری آفیسران سے کہنا ہے کہ اپنی مہنگی ترین کاروں میں بیٹھ کر شہر کی شاہراؤں اور چوک چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنی اپنی لگژری کاروں کے شیشے اور اپنی عینکیں اپنے مہنگے ترین رومال سے صاف کرتے ہوئے ایک نظر اوبڑ کھابڑ راستوں اور گندگی و تعفن سے اٹی ہوئی گلیوں کی طرف دیکھ لیں اور اگر یہ سب دیکھ کر ذرا بھی شرم آئے تواس کا مداوا کردیں شاید یہی کچھ میدان حشر میں ان کی بخش کا سبب جائے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سب دیکھتے ہوئے بھی وہ اپنے عالیشان مکانوں کے نرم گداز بستروں پر محو استراحت ہو کر پریوں کی آغوش اور خواب خرگوش میں گم ہو کر اپنی زنبیل سے پھر کوئی نیا تماشہ نکالتے ہوئے شہریان کو “خوش گمانیوں” کے صحراؤں میں جلنے اور جھلسنے کے لئے چھوڑ جائیں گے-

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com