Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

نااہل عوامی نمائندوں کے مقابل متحرک نوجوانوں کی یلغار نئے انقلابوں کی آمد کا اشارہ !!!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
مالیگاؤں بلدیہ کو جس دن سے کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے کارپوریشن یکے بعد دیگرے معاشی تنزلی کا شکار ہوتے جارہی ہے. ٹیکسوں کی وصولی کا گراف گرتا جارہا ہے وہیں تعمیری اقدامات بھی روز بروز پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں. شہری لیڈران نے شہریان کو تعمیر و ترقی کا خواب دکھاتے ہوئے اپنا خود کا فائدہ تو حاصل کر لیا لیکن شہر کو پستی میں ڈھکیلنے کی کوشش کرتے ہوئے کھنڈر میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے. اقتدار کی تبدیلی بھی شہر کے حق میں نفع بخش ثابت نہیں ہو سکی ہے. شہر کی خستہ حال سڑکیں, چوک چوراہے, گلیاں اور دیگر تعمیرات بھی آہ و فغاں کرتے ہوئے اپنی تعمیروں پر ماتم کناں ہیں. خستہ حال تعمیروں کی ہر پکار آج صدا بصحرا ثابت ہوتی جارہی ہے. یہ سب دیکھتے ہوئے شہر کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل “مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ “نامی تنظیم نے نیند کے شہر میں آواز کا پہلا پتھر پھنیکتے ہوئے اپنی موجودگی کا گونجدار اشارہ دیا ہے . اس تنظیم نے بےحس عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کو بے حسی کی نیند سے نکالنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی ہے. اس تنظیم کی پہلی ہی گونجدار دستک سے کارپوریشن کی پتھریلی دیواریں, عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کے عالیشان قصر لرزہ براندام ہوئے لیکن ان کی یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت واپس لوٹ آئی. یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت شہر میں گونج ہی رہی تھی کہ مالیگاؤں کے نوجوان وکلاء کا ایک متحرک گروپ بھی شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے بے خطر میدان عمل میں اپنی موجودگی ثبت کر گیا.
نوجوان وکلاء کا یہ گروپ شہر کی تعمیر و ترقی کا مسئلہ لے کر میونسپل کمشنر دیپک کاسار سے ملنے کی کوشش کی لیکن ان کی غیر موجودگی میں ڈپٹی کمشنر نتن کاپڑنیس سے ملاقات کرکے انھیں شہر کی خستہ حالی کی جانب متوجہ کیا. اس گروپ نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے دستیاب شدہ فنڈ اور مالیگاؤں کے حاصل کردہ ٹیکسوں کی حصول یابی کا اوسط طلب کرتے ہوئے گفت و شنید کی. وکلاء کے اس گروپ نے نائب کمشنر کو شہر کی خستہ حال سڑکوں اور صاف صفائی کے ناقص انتظامات کی جانب بھی متوجہ کیا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ اور نوجوان وکلاء کے گروپ پر مشتمل نوجوانوں کا میدان عمل میں آنا ایک نئے انقلابوں کا اشارہ و استعارہ ثابت ہو سکتا ہے. ان نوجوانوں کے تیور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اب یہ قافلہ کسی بھی صورت کہیں بھی رکنے والا نہیں ہے. ان بلند حوصلہ نوجوانوں کا گروپ شہر کے لئے کتنا فیض رساں ثابت ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ طے ہے کہ نئے انقلابوں کا یہ نیا اشارہ شہر کی خستہ حالی کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا کیونکہ آج شہر کے ہاتھوں میں کھونے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہا اور پانے کے لئے سب کچھ ہے.
آج شہر کو صرف اور صرف میدان عمل میں آتے ہوئے بغاوتوں کا پرچم لہرانا ہے. ساتھ ہی شہر کی خستہ حالی دور کرنے کے علاوہ تعمیر و ترقی کے نئے در “وا “کرنے کے لئے فلک شگاف ایسے نعرے لگانے کی ضرورت ہے جو پتھریلی اور اے سی آفسوں میں موجود خطیر تنخواہ حاصل کرنے والے سرکاری آفیسران اور عوامی نمائندگان کو بےحسی کی نیندوں سے جگانے کا سبب جائیں. آج شہر کو ضرورت ہے کہ ایسے بلند حوصلہ نوجوانوں کی پذیرائی کرتے ہوئے دو چار قدم ان کے ساتھ چلتے جائیں تاکہ یہ نوجوان اپنے بلند حوصلوں کے ساتھ شہر کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کا ذریعہ بن جائیں.
دیکھئے…….. چند نوجوانوں پر مشتمل مفلوک الحال نوجوانوں کا قافلہ بلند شگاف نعرہ لگاتے ہوئے رواں دواں نظر آرہا ہے. یہ تمام نوجوان کھنڈر بنتے ہوئے مالیگاؤں کی عظمت رفتہ واپس لانے کا خواب سجائے ہوئے عملی طور پر اپنے خستہ حال مکانوں سے نکل کر جوق در جوق نئی منزلوں کی تلاش میں پا برہنہ نکل کھڑے ہوئے ہیں. ان سب کا ایک ہی خواب ہے کہ مالیگاؤں سنگا پور اور شنگھائی نہ سہی وہ مالیگاؤں بن جائے جسے ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے سینچا تھا. یہ ناممکن نہیں ممکن ہو سکتا ہے اگر شہریان اپنے کشکول میں جھوٹے وعدوں کی خیرات کی بجائے عملی اقدامات کی تعبریں طلب کرنا شروع کردیں. آج کے موجودہ لیڈران سے نالاں شہریان نئے انقلابوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ایک نا ایک دن ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں ضرور بہ ضرور کامیاب و کامران ہوں گے بس ضرورت ہے کہ کھلے دل سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے. یہ حقیقت ہے کہ یہ بے لوث اور بےداغ نوجوانوں کا قافلہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی خمدار زلفوں کا اسیر نہیں بلکہ یہ تمام نوجوان مختلف سیاسی پارٹیوں کا جائزہ لینے کے بعد جب پایا تو ہر سیاسی پارٹی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار پر قابض ہو کر مالی فوائد حاصل کرنا ہے. شہر کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈران بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں یہی سبب ہے کہ انھوں نے کسی لیڈر, پارٹی اور کسی بھی قائد و سالار,قائد نسل نو, حبیب ملت, نقیب ملت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے عزم ارادے کو میر کارواں مانتے ہوئے آواز جرس بلند کی ہے. ان کا نعرہ یہی ہے کہ
نیند کے شہر میں آواز کا پتھر پھینکوں کوئی جاگے کہ نہ جاگے میں برابر پھینکوں
اسی کے ساتھ ساتھ ذی شعور شہریان کا سیاسی لیڈران اور سرکاری آفیسران سے کہنا ہے کہ اپنی مہنگی ترین کاروں میں بیٹھ کر شہر کی شاہراؤں اور چوک چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنی اپنی لگژری کاروں کے شیشے اور اپنی عینکیں اپنے مہنگے ترین رومال سے صاف کرتے ہوئے ایک نظر اوبڑ کھابڑ راستوں اور گندگی و تعفن سے اٹی ہوئی گلیوں کی طرف دیکھ لیں اور اگر یہ سب دیکھ کر ذرا بھی شرم آئے تواس کا مداوا کردیں شاید یہی کچھ میدان حشر میں ان کی بخش کا سبب جائے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سب دیکھتے ہوئے بھی وہ اپنے عالیشان مکانوں کے نرم گداز بستروں پر محو استراحت ہو کر پریوں کی آغوش اور خواب خرگوش میں گم ہو کر اپنی زنبیل سے پھر کوئی نیا تماشہ نکالتے ہوئے شہریان کو “خوش گمانیوں” کے صحراؤں میں جلنے اور جھلسنے کے لئے چھوڑ جائیں گے-

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان