Connect with us
Wednesday,23-September-2026

(جنرل (عام

نااہل عوامی نمائندوں کے مقابل متحرک نوجوانوں کی یلغار نئے انقلابوں کی آمد کا اشارہ !!!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
مالیگاؤں بلدیہ کو جس دن سے کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے کارپوریشن یکے بعد دیگرے معاشی تنزلی کا شکار ہوتے جارہی ہے. ٹیکسوں کی وصولی کا گراف گرتا جارہا ہے وہیں تعمیری اقدامات بھی روز بروز پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں. شہری لیڈران نے شہریان کو تعمیر و ترقی کا خواب دکھاتے ہوئے اپنا خود کا فائدہ تو حاصل کر لیا لیکن شہر کو پستی میں ڈھکیلنے کی کوشش کرتے ہوئے کھنڈر میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے. اقتدار کی تبدیلی بھی شہر کے حق میں نفع بخش ثابت نہیں ہو سکی ہے. شہر کی خستہ حال سڑکیں, چوک چوراہے, گلیاں اور دیگر تعمیرات بھی آہ و فغاں کرتے ہوئے اپنی تعمیروں پر ماتم کناں ہیں. خستہ حال تعمیروں کی ہر پکار آج صدا بصحرا ثابت ہوتی جارہی ہے. یہ سب دیکھتے ہوئے شہر کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل “مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ “نامی تنظیم نے نیند کے شہر میں آواز کا پہلا پتھر پھنیکتے ہوئے اپنی موجودگی کا گونجدار اشارہ دیا ہے . اس تنظیم نے بےحس عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کو بے حسی کی نیند سے نکالنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی ہے. اس تنظیم کی پہلی ہی گونجدار دستک سے کارپوریشن کی پتھریلی دیواریں, عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کے عالیشان قصر لرزہ براندام ہوئے لیکن ان کی یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت واپس لوٹ آئی. یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت شہر میں گونج ہی رہی تھی کہ مالیگاؤں کے نوجوان وکلاء کا ایک متحرک گروپ بھی شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے بے خطر میدان عمل میں اپنی موجودگی ثبت کر گیا.
نوجوان وکلاء کا یہ گروپ شہر کی تعمیر و ترقی کا مسئلہ لے کر میونسپل کمشنر دیپک کاسار سے ملنے کی کوشش کی لیکن ان کی غیر موجودگی میں ڈپٹی کمشنر نتن کاپڑنیس سے ملاقات کرکے انھیں شہر کی خستہ حالی کی جانب متوجہ کیا. اس گروپ نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے دستیاب شدہ فنڈ اور مالیگاؤں کے حاصل کردہ ٹیکسوں کی حصول یابی کا اوسط طلب کرتے ہوئے گفت و شنید کی. وکلاء کے اس گروپ نے نائب کمشنر کو شہر کی خستہ حال سڑکوں اور صاف صفائی کے ناقص انتظامات کی جانب بھی متوجہ کیا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ اور نوجوان وکلاء کے گروپ پر مشتمل نوجوانوں کا میدان عمل میں آنا ایک نئے انقلابوں کا اشارہ و استعارہ ثابت ہو سکتا ہے. ان نوجوانوں کے تیور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اب یہ قافلہ کسی بھی صورت کہیں بھی رکنے والا نہیں ہے. ان بلند حوصلہ نوجوانوں کا گروپ شہر کے لئے کتنا فیض رساں ثابت ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ طے ہے کہ نئے انقلابوں کا یہ نیا اشارہ شہر کی خستہ حالی کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا کیونکہ آج شہر کے ہاتھوں میں کھونے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہا اور پانے کے لئے سب کچھ ہے.
آج شہر کو صرف اور صرف میدان عمل میں آتے ہوئے بغاوتوں کا پرچم لہرانا ہے. ساتھ ہی شہر کی خستہ حالی دور کرنے کے علاوہ تعمیر و ترقی کے نئے در “وا “کرنے کے لئے فلک شگاف ایسے نعرے لگانے کی ضرورت ہے جو پتھریلی اور اے سی آفسوں میں موجود خطیر تنخواہ حاصل کرنے والے سرکاری آفیسران اور عوامی نمائندگان کو بےحسی کی نیندوں سے جگانے کا سبب جائیں. آج شہر کو ضرورت ہے کہ ایسے بلند حوصلہ نوجوانوں کی پذیرائی کرتے ہوئے دو چار قدم ان کے ساتھ چلتے جائیں تاکہ یہ نوجوان اپنے بلند حوصلوں کے ساتھ شہر کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کا ذریعہ بن جائیں.
دیکھئے…….. چند نوجوانوں پر مشتمل مفلوک الحال نوجوانوں کا قافلہ بلند شگاف نعرہ لگاتے ہوئے رواں دواں نظر آرہا ہے. یہ تمام نوجوان کھنڈر بنتے ہوئے مالیگاؤں کی عظمت رفتہ واپس لانے کا خواب سجائے ہوئے عملی طور پر اپنے خستہ حال مکانوں سے نکل کر جوق در جوق نئی منزلوں کی تلاش میں پا برہنہ نکل کھڑے ہوئے ہیں. ان سب کا ایک ہی خواب ہے کہ مالیگاؤں سنگا پور اور شنگھائی نہ سہی وہ مالیگاؤں بن جائے جسے ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے سینچا تھا. یہ ناممکن نہیں ممکن ہو سکتا ہے اگر شہریان اپنے کشکول میں جھوٹے وعدوں کی خیرات کی بجائے عملی اقدامات کی تعبریں طلب کرنا شروع کردیں. آج کے موجودہ لیڈران سے نالاں شہریان نئے انقلابوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ایک نا ایک دن ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں ضرور بہ ضرور کامیاب و کامران ہوں گے بس ضرورت ہے کہ کھلے دل سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے. یہ حقیقت ہے کہ یہ بے لوث اور بےداغ نوجوانوں کا قافلہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی خمدار زلفوں کا اسیر نہیں بلکہ یہ تمام نوجوان مختلف سیاسی پارٹیوں کا جائزہ لینے کے بعد جب پایا تو ہر سیاسی پارٹی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار پر قابض ہو کر مالی فوائد حاصل کرنا ہے. شہر کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈران بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں یہی سبب ہے کہ انھوں نے کسی لیڈر, پارٹی اور کسی بھی قائد و سالار,قائد نسل نو, حبیب ملت, نقیب ملت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے عزم ارادے کو میر کارواں مانتے ہوئے آواز جرس بلند کی ہے. ان کا نعرہ یہی ہے کہ
نیند کے شہر میں آواز کا پتھر پھینکوں کوئی جاگے کہ نہ جاگے میں برابر پھینکوں
اسی کے ساتھ ساتھ ذی شعور شہریان کا سیاسی لیڈران اور سرکاری آفیسران سے کہنا ہے کہ اپنی مہنگی ترین کاروں میں بیٹھ کر شہر کی شاہراؤں اور چوک چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنی اپنی لگژری کاروں کے شیشے اور اپنی عینکیں اپنے مہنگے ترین رومال سے صاف کرتے ہوئے ایک نظر اوبڑ کھابڑ راستوں اور گندگی و تعفن سے اٹی ہوئی گلیوں کی طرف دیکھ لیں اور اگر یہ سب دیکھ کر ذرا بھی شرم آئے تواس کا مداوا کردیں شاید یہی کچھ میدان حشر میں ان کی بخش کا سبب جائے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سب دیکھتے ہوئے بھی وہ اپنے عالیشان مکانوں کے نرم گداز بستروں پر محو استراحت ہو کر پریوں کی آغوش اور خواب خرگوش میں گم ہو کر اپنی زنبیل سے پھر کوئی نیا تماشہ نکالتے ہوئے شہریان کو “خوش گمانیوں” کے صحراؤں میں جلنے اور جھلسنے کے لئے چھوڑ جائیں گے-

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈونگری میں موٹرسائیکل چوری کرنے والا پیشہ ور چور گرفتار

Published

on

ممبئی : ڈونگری علاقہ سے موٹر سائیکل چوری کرنے والے چور کو پولس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ ہے اور اس کے قبضے سے مسروقہ موٹرسائیکل بھی برآمدکرلی گئی ہے۔ ڈونگری پولیس تھانہ میں 12 ستمبر کو مذکورہ بالا جرم درج کیا گیا ہے اور مذکورہ جرم کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ، مذکورہ جرم میں شکایت کنندہ وشنو نامدیو فڈترے، عمر60 سال کی ملکیت کی استعمال کی یاماہا آرایکس 100 موٹرسائیکل نمبر ایم ایچ 01 سی 7815 جو پودار بلڈنگ، نمبر 09 ڈاکٹر میشیری روڈ، ڈونگری، ممبئی اس جگہ پر پارک کی تھی وہ کسی نامعلوم چور نے چوری کرلی ۔ مذکورہ جرم کی تفتیش کرتے ہوئے پولس افسر جادھو اور کرائم ڈٹیکشن ٹیم کے اہلکاروں نے ڈونگری پولیس تھانہ کی حد میں آنے والے سینڈہرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی تو دو نامعلوم افراد ایک موٹرسائیکل پر آ کر شکایت کنندہ کی پارک کی ہوئی موٹرسائیکل کو پیدل دھکا دے کر لے جاتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد ملزم کے آمدورفت کے راستے کی جانچ کرکے کی گئی تکنیکی تفتیش میں ملزم کا سراغ شیواجی نگر، گوونڈی علاقے میں میں ملا۔

مذکورہ جگہ پر مخبر کے ذریعے معلومات لی تو جرم میں چوری ہوئی یاماہا آرایکس 100 موٹرسائیکل نمبر ایم ایچ 01 سی 781 یہ پلاٹ نمبر 34 میں رہنے والا شخص فیروز اس کے پاس ایک یاماہا موٹرسائیکل کی معلومات ملی۔ مذکورہ شخص محمد فیروز ناصر خان، عمر32 سال، رہائشی پلاٹ نمبر 34، لائن بی، روم نمبر 25، 5 نمبر روڈ، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی اس کے رہائشی پتے پر جا کر اسے مزید پوچھ گچھ کے لیے پولیس تھانے لایا گیا۔ اس کے پاس کی گئی تفتیش میں اس نے مذکورہ موٹرسائیکل اپنے ساتھی دلشاد شاہد علی خان عرف ببلو، عمر40 سال، رہائشی روم نمبر 33، پلاٹ نمبر 29، سی لائن، روڈ نمبر 05، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی اس کے ساتھ اس نے مذکورہ موٹرسائیکل سینڈہرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے چوری کرکے لے جانے کی معلومات دی۔مذکورہ جرم میں ملزم محمد فیروز ناصر خان، عمر32 سال، رہائشی پلاٹ نمبر 34، لائن بی، روم نمبر 25، 5 نمبر روڈ، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسے 22 ستمبر تک پولیس حراست سنائی گئی ہے۔مذکورہ جرم کے ملزم محمد فیروز ناصر خان، عمر- 32 سال کے پاس کی گئی تفتیش میں اس نے اپنے ساتھی دلشاد شاہد علی خان عرف ببلو، عمر- 40 سال کے ساتھ مل کر کل 04 جگہوں سے موٹرسائیکل چوری کی ہے اس کی گرفتاری سے چوری کا معمہ حل ہو گیا ہے اس کے خلاف 01) ڈونگری پولیس تھانہ، 625/2026 دفعہ 303(2)، 3(5) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔پنت نگر پولیس تھانہ، 959/2026 دفعہ 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔کوپرکھیرنے پولیس 598/2026 دفعہ 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔گوونڈی پولیس تھانہ، 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔ مذکورہ جرم کی مزید تفتیش ایڈیشنل کمشنر شلیش بلکاوڈ، ڈی سی پی زون 01، منیش کلوا نیا ڈونگری محکمہ، جناب تنویر شیخ ڈونگری پولیس تھانہ ساگر ٹلیکر کی رہنمائی میں ڈٹیکشن عملہ نے اس معمہ کو حل کر لیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی : خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا، ۶ ماہ قید بامشقت اور ۵۰۰ جرمانہ کی سزا

Published

on

Police

۲۱ ستمبر کو ایڈیشنل سیشن کورٹ، کورٹ نمبر 34، ممبئی گوونڈی پولیس 216/2018 دفعہ 353, 509, 354(ا) بی این ایس کے تحت جرم میں ملزم نامہ سروج پیشہ ڈرائیور، رہائشی کمپاؤنڈ کے سامنے، منزلہ، 11 واں روڈ، چمبور ممبئی کو قصوروار ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔ ۲۱ اگست ۲۰۱۸ کو شکایت کنندہ خاتون پولیس اہلکار ٹریفک کو رواں رکھنے کی ڈیوٹی کر رہی تھیں اس دوران ملزم نے شکایت کنندہ کو نشانہ بنا کر فحش اشارے کرکے اور فحش گالی گلوچ کرکے شکایت کنندہ سے ناروا سلوک کیا اس کے بعد متاثرہ شکایت کنندہ نے گوونڈی پولیس تھانے میں شکایت کی 216/2018 دفعہ 353, 354(ا), 509 بی این ایس کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم میں ۲۱ ستمبر ایڈیشنل سیشن عدالت، کورٹ نمبر 34 ممبئی نے ملزم سروج کو دفعہ 353 تعزیری کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ، دفعہ 354(ا) کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ نیز دفعہ 509 دفعہ کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ اور جرمانہ نہ بھرنے پر 1 مہینے کی اضافی قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ معاملے میں تفتیشی افسر سپودن پرینکا پاٹل نے کی گئی گہری تفتیش، سائنسی اور مؤثر تفتیش، مضبوط شواہد کا مجموعہ اور اس کی صحیح طریقے سے دستاویزی کارروائی، نیز سرکاری وکیل جیوتی ساونت اور پیروی افسر سب انسپکٹر اجے یادو نے عدالت کے سامنے مؤثر پیروی کر مذکورہ معاملے کا عدالتی کام کاج دیکھنے والے افسران نے سرکاری فریق کے ساتھ مناسب تال میل رکھنا اور مسلسل اور نتیجہ خیز پیروی کرنا اس کی وجہ سے ملزم کے خلاف جرم بغیر کسی شک کے فائدے کے ثابت ہو کر اسے عدالت نے سخت سزا سنائی ہے۔ مذکورہ قابل ذکر کارکردگی جناب پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر نظم و نسق منوج کمار شرما، دھننجے کلکرنی،ڈی سی پی زون 01 سمیر شیخ، کی رہنمائی میں انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان