Connect with us
Sunday,24-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ڈینگو کا قہر، کارپوریشن کی لاپرواہی سے بیماری میں اضافہ

Published

on

دھولیہ: میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹرس سے لے کر عوام تک سبھی پریشان ہوگئے ہیں۔ تاناشاہی کے طرز پر دھولیہ میونسپل کارپویشن کو چلایا جارہا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلم کارپوریٹرس میں دہشت پھیل گئی ہے۔ کانگریس و این سی پی کے کارپوریٹرس بی جے پی کے امیدوار کی انتخابی تشہیر میں گھوم رہے ہیں جبکہ شہر میں ڈینگو پھیل گیا ہے، دس دنوں بعد عوام کو پانی مہیا کرایا جارہا ہے جبکہ امسال زبردست بارش سے پانجھراندی، ہرنیامال، نکانے تالاب، ڈیڈر گاؤں تلاب، تاپتی ندی، اکل پاڑا ڈیم میں پانی ہی پانی ہوگیا تھا اس کے باوجود عوام کو کئی علاقوں میں دس دنوں کے بعد پانی دیا جارہا ہے۔ غریب عوام کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے لیے لوازمات کی کمی ہے ،پانی صرف دو دنوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ کشادگی کی زندگی گزارنے والے افراد اپنے گھروں میں ۲۰۰۰؍لیٹر اور ۵۰۰۰؍لیٹر کی ٹاکی کا نظم کرتےہیں ،زیادہ دنوں بعد پانی ملےتو انہیں دور دراز کے علاقوں میںکنویں سے پانی نہ بھرنا پڑے لیکن ڈینگو کی بیماری میں ان کی صحت کو غریبوں سے زیادہ خطرہ لاحق ہوا ہے۔ ضلع کلکٹر گنگادھرن ڈی نے ڈینگو پر قابو پانے کےلیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیاتھا۔ میٹنگ میں تمام تدابیر پر غور کرنے کے بعد افسران و ملازمین کو ان کی ڈیوٹی پرتعینات کیا گیا۔ جمعہ کے روز کارپوریشن کے ملازمین نےڈینگو مہم کے تحت ۷۸۱۸؍گھروں کی جانچ کی تو ۷۳؍مکانات کو نوٹس دی گئی ،محکمہ صحت سے ملی خبر کے مطابق اب تک کل۲۷۰؍گھروں میں کارپوریشن کی نوٹس پہنچائی گئی ہے۔ اس معاملہ میںشہر کے ۹؍حصوں میں کاروائی کی گئی ہے جس میں ساکری روڈ، یشونت نگر،سائی بابانگر،سائی ایکتا نگر،گنیش کالونی شیتل کالونی ،مہالے نگر، پھولے نگر،بھوئی واڑہ ،تلسائی کا ملہ،ویکھیر نگر، راسکر نگر، رام دیو بابا نگر، حمید نگر ، گوڑی واڑہ، دلدار نگر، انصارنگر، شیواجی نگر،غریب نواز نگر ، ملت نگر،دربل گھٹک کالونی، آشیانہ کالونی ،دودام شہاداول کالونی، ہزار کھولی سہجیونگر،لکشمی واڑی علاقوں کا معائنہ کیا گیا۔ ۷۸۱۸؍گھروں میں ۲۲۱۹۸؍ پانی کے ذخائر کی جانچ کی تو ۲۸۰؍ آ بی ذخائر میں گندگی پائی گئی جس میں سے ۲۷۹؍ ذخائر کو فوری طور پر خالی کرایاگیا۔ ۹۴۲۷؍آبی ذخائر میں ادویات ملائی گئی۔ اس مہم میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور مچھروں کی افزائش کو ختم کرنے کے لیے گھروں گھر مشین کے ذریعے دھواں چھوڑا جانا ضروری ہے ،لیکن کارپوریشن محکمہ اس کام میں لاپرواہی برتنے کا کام کررہا ہے۔ مہم کے متعلق اور ضلع کلکٹر کے حکم کے بعد یہ تمام کام ضروری ہیں لیکن انتخابی مہم کی آڑ میں کارپوریٹرس خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ڈینگو کے مرض میں لاپرواہی کرنے پر جان چلی گئی تو کون ذمہ دار ہوگا؟کارپوریشن کو آبی ذخائر کی جانچ کرنے سے بہتر روزانہ یا ایک دن بعد عوام کو تازہ پانی دینا چاہیے ،لیکن کارپوریشن میں کمائی کی غرض سے ہر چیز ٹھیکہ پر دے دی جاتی ہے۔ ٹھیکیدار کام کو صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے پاتے ہیں جس کے چلتے بہت سی شکایتیں کاروریشن میں جمع ہوتی ہے لیکن عملی کاروائی میں میونسپل کارپوریشن ٹال مٹول کرتی ہے۔ آزاد نگر، فردوس نگر، بھوئی واڑہ ، غفورنگر، حاجی نگر ، انصارنگر، مولوی گنج، قلندر چوک ، چترنجن کالونی ، آشیانہ کالونی ،مسلم نگر، کامگارنگر، ہرار کھولی وغیرہ علاقوں میں فاگنگ و فوارنی نہیں کی جاتی ہے، جبکہ اس کام کا بل بدعنوانی کرکے نکال لیا جاتا ہے۔ کارپوریشن الیکشن ہونے کے بعد قریب ۱۰؍ مہینے ہورہے ہیں لیکن مذکورہ بالا علاقوں میں عوامی سہولیات کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ ۱۰۰؍ کروڑ کے فنڈز میں سڑکیں بنانے کی منظوری ملی ہے جس میں مسلم علاقوں کی سڑکیں غائب ہیں ،اپنے علاقوں میںشہر بننے والے کارپوریٹرس نے ایوان میں ہنگامہ نہ کرکے اپنے آپ کو بزدل ثابت کردیا تھا۔ ۱۹؍مسلم کارپوریٹرس مل کر اپنے خلاف ہونے والی ناانصافی کے خلاف ایوان میں ہنگامہ نہیں کریں گے توکیا عام عوام کریں گی؟ ۔کارپوریٹرس کو کیوں منتخب کرکے ہاؤس میں بھیجا گیا؟خاموش تماشائی بننے کے لیے یا وارڈ کی عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ؟ڈینگو مہم میں حصہ لینا چھوڑ کر بی جے پی کے امیدوارکے آگے پیچھے گھوم کر اپنی ساکھ کو اپنے ہاتھوں پاؤں برباد کررہے ہیں۔ ڈینگو کے متعلق لاپرواہی برتنے پراہلیان شہرمیں تشویش پائی گئی ہے،کوئی بھی ذمہ داری سے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان