Connect with us
Thursday,27-August-2026

(جنرل (عام

ڈینگو کا قہر، کارپوریشن کی لاپرواہی سے بیماری میں اضافہ

Published

on

دھولیہ: میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹرس سے لے کر عوام تک سبھی پریشان ہوگئے ہیں۔ تاناشاہی کے طرز پر دھولیہ میونسپل کارپویشن کو چلایا جارہا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلم کارپوریٹرس میں دہشت پھیل گئی ہے۔ کانگریس و این سی پی کے کارپوریٹرس بی جے پی کے امیدوار کی انتخابی تشہیر میں گھوم رہے ہیں جبکہ شہر میں ڈینگو پھیل گیا ہے، دس دنوں بعد عوام کو پانی مہیا کرایا جارہا ہے جبکہ امسال زبردست بارش سے پانجھراندی، ہرنیامال، نکانے تالاب، ڈیڈر گاؤں تلاب، تاپتی ندی، اکل پاڑا ڈیم میں پانی ہی پانی ہوگیا تھا اس کے باوجود عوام کو کئی علاقوں میں دس دنوں کے بعد پانی دیا جارہا ہے۔ غریب عوام کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے لیے لوازمات کی کمی ہے ،پانی صرف دو دنوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ کشادگی کی زندگی گزارنے والے افراد اپنے گھروں میں ۲۰۰۰؍لیٹر اور ۵۰۰۰؍لیٹر کی ٹاکی کا نظم کرتےہیں ،زیادہ دنوں بعد پانی ملےتو انہیں دور دراز کے علاقوں میںکنویں سے پانی نہ بھرنا پڑے لیکن ڈینگو کی بیماری میں ان کی صحت کو غریبوں سے زیادہ خطرہ لاحق ہوا ہے۔ ضلع کلکٹر گنگادھرن ڈی نے ڈینگو پر قابو پانے کےلیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیاتھا۔ میٹنگ میں تمام تدابیر پر غور کرنے کے بعد افسران و ملازمین کو ان کی ڈیوٹی پرتعینات کیا گیا۔ جمعہ کے روز کارپوریشن کے ملازمین نےڈینگو مہم کے تحت ۷۸۱۸؍گھروں کی جانچ کی تو ۷۳؍مکانات کو نوٹس دی گئی ،محکمہ صحت سے ملی خبر کے مطابق اب تک کل۲۷۰؍گھروں میں کارپوریشن کی نوٹس پہنچائی گئی ہے۔ اس معاملہ میںشہر کے ۹؍حصوں میں کاروائی کی گئی ہے جس میں ساکری روڈ، یشونت نگر،سائی بابانگر،سائی ایکتا نگر،گنیش کالونی شیتل کالونی ،مہالے نگر، پھولے نگر،بھوئی واڑہ ،تلسائی کا ملہ،ویکھیر نگر، راسکر نگر، رام دیو بابا نگر، حمید نگر ، گوڑی واڑہ، دلدار نگر، انصارنگر، شیواجی نگر،غریب نواز نگر ، ملت نگر،دربل گھٹک کالونی، آشیانہ کالونی ،دودام شہاداول کالونی، ہزار کھولی سہجیونگر،لکشمی واڑی علاقوں کا معائنہ کیا گیا۔ ۷۸۱۸؍گھروں میں ۲۲۱۹۸؍ پانی کے ذخائر کی جانچ کی تو ۲۸۰؍ آ بی ذخائر میں گندگی پائی گئی جس میں سے ۲۷۹؍ ذخائر کو فوری طور پر خالی کرایاگیا۔ ۹۴۲۷؍آبی ذخائر میں ادویات ملائی گئی۔ اس مہم میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور مچھروں کی افزائش کو ختم کرنے کے لیے گھروں گھر مشین کے ذریعے دھواں چھوڑا جانا ضروری ہے ،لیکن کارپوریشن محکمہ اس کام میں لاپرواہی برتنے کا کام کررہا ہے۔ مہم کے متعلق اور ضلع کلکٹر کے حکم کے بعد یہ تمام کام ضروری ہیں لیکن انتخابی مہم کی آڑ میں کارپوریٹرس خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ڈینگو کے مرض میں لاپرواہی کرنے پر جان چلی گئی تو کون ذمہ دار ہوگا؟کارپوریشن کو آبی ذخائر کی جانچ کرنے سے بہتر روزانہ یا ایک دن بعد عوام کو تازہ پانی دینا چاہیے ،لیکن کارپوریشن میں کمائی کی غرض سے ہر چیز ٹھیکہ پر دے دی جاتی ہے۔ ٹھیکیدار کام کو صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے پاتے ہیں جس کے چلتے بہت سی شکایتیں کاروریشن میں جمع ہوتی ہے لیکن عملی کاروائی میں میونسپل کارپوریشن ٹال مٹول کرتی ہے۔ آزاد نگر، فردوس نگر، بھوئی واڑہ ، غفورنگر، حاجی نگر ، انصارنگر، مولوی گنج، قلندر چوک ، چترنجن کالونی ، آشیانہ کالونی ،مسلم نگر، کامگارنگر، ہرار کھولی وغیرہ علاقوں میں فاگنگ و فوارنی نہیں کی جاتی ہے، جبکہ اس کام کا بل بدعنوانی کرکے نکال لیا جاتا ہے۔ کارپوریشن الیکشن ہونے کے بعد قریب ۱۰؍ مہینے ہورہے ہیں لیکن مذکورہ بالا علاقوں میں عوامی سہولیات کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ ۱۰۰؍ کروڑ کے فنڈز میں سڑکیں بنانے کی منظوری ملی ہے جس میں مسلم علاقوں کی سڑکیں غائب ہیں ،اپنے علاقوں میںشہر بننے والے کارپوریٹرس نے ایوان میں ہنگامہ نہ کرکے اپنے آپ کو بزدل ثابت کردیا تھا۔ ۱۹؍مسلم کارپوریٹرس مل کر اپنے خلاف ہونے والی ناانصافی کے خلاف ایوان میں ہنگامہ نہیں کریں گے توکیا عام عوام کریں گی؟ ۔کارپوریٹرس کو کیوں منتخب کرکے ہاؤس میں بھیجا گیا؟خاموش تماشائی بننے کے لیے یا وارڈ کی عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ؟ڈینگو مہم میں حصہ لینا چھوڑ کر بی جے پی کے امیدوارکے آگے پیچھے گھوم کر اپنی ساکھ کو اپنے ہاتھوں پاؤں برباد کررہے ہیں۔ ڈینگو کے متعلق لاپرواہی برتنے پراہلیان شہرمیں تشویش پائی گئی ہے،کوئی بھی ذمہ داری سے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

(جنرل (عام

کال سینٹر پر ممبئی پولیس کی بڑی کارروائی، ۹ گرفتار مزید تفتیش شروع

Published

on

ممبئی پولس نے ایک ایسے کال سینٹر کو بے نقاب کیا ہے جہاں کورئیر کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں فرنچائز کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر دھوکہ دیا جاتا تھا پولس کو اطلاع ملی کہ کمرہ نمبر 90، کرار ’’انٹرنیٹ ٹرانسفر ویزا پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘، ایکسس بینک موبائل کولنک روڈ، ملاڈ (ممبئی) میں واقع کال سینٹر چلایا جارہا ہے جس میں لوگوں سے دھوکہ دہی کی جاتی ہے اس پر پولس نے ۲۵ اگست سے ۲۶ اگست تک چھاپہ مار کارروائی کو انجام دیا ۔مذکورہ کال سینٹر میں موجود افراد مختلف کوریئر اور کامرس کمپنیوں کے نام استعمال کرکے، ممبئی اور مہاراشٹر کے شہریوں سے رابطہ کرتے تھے اور انہیں ایمیزون، فلپ کارٹ، منترہ، بلیو ڈارٹ، ڈی ٹی ڈی سی، وینا مارکیٹ وغیرہ جیسی معروف کوریئر اور کامرس کمپنیوں کے ساتھ کوریئر/فرنچائز دینے کا جھانسہ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے تھے۔

مذکورہ کارروائی کے دوران کمرہ نمبر 90 کرار پولیس اسٹیشن، ممبئی کے مقدمہ نمبر 98/26 کے تحت تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم میں ملوث کمپنی کے ڈائریکٹر سمیت 09 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ۲۸ اگست تک پولیس کسٹڈی میں رکھنے کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔ مذکورہ کارروائی کے دوران 10 ہائی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 22 لیپ ٹاپ، 30 موبائل فون، 5 ٹی وی، 100 سے زائد فراڈ کے معاہدے (ایگریمنٹ) کل مالیت 24,00,000/مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کے دوران 20 سے زائد افراد کے ساتھ فراڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مزید شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

مذکورہ کمپنی کے ذریعے جن شہریوں کے ساتھ دھوکہ باری کی گئی ہے وہ پولس سے رابطہ کر کے شکایت درج کرواسکتے ہیں ۔ مذکورہ کارروائی پولیس کمشنر، دیون بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم)، انیل کنبھارے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم)، کرشن کانت اپدھیائے، ڈی سی پی ونوناتھ ڈھولےنے انجام دی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی لال باغ پریل میں عید میلاد النبی کے جلوس سے واپسی پر تشدد

Published

on

Eid Milad-un-Nabi

ممبئی لال باغ پریل میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس سے واپسی کے دوران گزشتہ نصف شب فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے فساد برپا کرنے کا کیس درج کر کے پانچ افراد کو زیر حراست لیا ہے۔ اس کی تصدیق ممبئی پولیس کے ذرائع نے کی ہے۔ ملزمین کے خلاف بی این ایس کی دفعات 189(1), 189(2),191(1),195(1),118(1),121, مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔

لال باغ پریل علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب یہاں دو فرقوں میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس سے مسلم نوجوان اپنی موٹر سائیکلیوں سے لال باغ پریل کے راستہ سے گزر رہے تھے کہ اس وقت دوسرے فرقہ کے نوجوان جمع ہوگئے اور انہوں نے موٹرسائیکل کی آواز اور رش ڈرائیونگ پر اعتراض کیا۔ اس دوران پولیس نے بھی سختی شروع کی کئی نوجوانوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔ اسی دوران دوسرے فرقہ کے نوجوانوں نے مسلم نوجوانوں کے موٹر سائیکل پر موجود مذہبی جھنڈے کی توہین کی اور دونوں جانب سے نعرے بازی شروع ہوگئی۔ اکثریتی فرقہ کے نوجوانوں نے پہلے ہی علاقہ میں پہرہ لگا رکھا تھا اور پولیس کے سامنے ہی ان نوجوانوں نے جب مسلم نوجوانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو حالات مزید خراب ہوگئے اور یہ معاملہ تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔ پولیس نے حالات کو قابو کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا, فی الوقت یہاں کشیدگی برقرار ہے لیکن امن قائم ہے۔

لال باغ پریل تنازع کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی طرح طرح کی افواہیں گشت کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نفرتی عناصر شرپسند اسے مذہبی رنگ دے کر حالات مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لئے اب ممبئی پولیس نے سوشل میڈیا پر نظر رکھنا شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سینکڑوں ایسے نفرتی ویڈیو انسٹاگرام اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا ذرائع پر وائرل کئے گئے ہیں جن میں نفرتی عناصر نے ایک فرقہ مخصوص کو نشانہ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں بھوئیواڑہ پولیس نے فساد برپا کرنے کا کیس درج کرلیا ہے۔ اور تقریبا 5 ملزمین کو زیر حراست بھی لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس دوسرے فریق سے بھی بات کر رہی اور اس متعلق کراس ایف آئی آر درج کرنے کا امکان ہے۔ ممبئی شہر میں جس طرح سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے بعد پولیس نے یہاں الرٹ جاری کر دیا ہے۔

عید میلاد النبی کے جلوس کے دوران واپسی کے وقت مسلم نوجوانوں پر حملہ کے بعد پولیس نے تشدد اور فساد برپا کرنے کا کیس درج کر لیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے امن وامان برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے اتنا ہی نہیں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ یہ فساد شرپسندوں کی شرانگیزی کے سبب وقوع پذیر ہوا اب سوشل میڈیا پر بھی اشتعال انگیزی عام ہوگئی ہے جس پر پولیس کارروائی کر سکتی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نیپال میں سیلاب : 177 ہلاک، 800 سے زائد لاپتہ تیمور میں 21 ہندوستانیوں کو بچایا گیا۔

Published

on

نیپال کے بھوٹے کوشی دریا میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ 800 سے زائد لوگ رابطے سے باہر ہیں، نیپالی حکام نے جمعرات کو بتایا۔ نیپالی پولیس نے ایک نوٹس میں کہا کہ جمعرات کی صبح 10 بجے تک 177 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، کیونکہ آفت سے مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین کے تبت کے علاقے میں شروع ہونے والا زبردست سیلاب نیپال میں تباہی کا راستہ چھوڑتے ہوئے دریائے بھوٹے کوشی میں بہہ گیا۔

لاشیں بھوٹے کوشی اور ترشولی ندی کے نظام کے ساتھ ساتھ کئی نیچے دھارے والے اضلاع میں دریا کے کناروں سے برآمد ہوئی ہیں، جن میں رسووا، نواکوٹ، دھاڈنگ، چٹوان، گورکھا، تناہون، نوالپراسی (مشرقی) اور نوالپراسی ویسٹ شامل ہیں۔ زیادہ تر لاشیں نیپال کے جنوبی میدانی علاقے چتوان سے برآمد ہوئیں۔ نیپالی حکومت نے کہا کہ جمعرات کی صبح سے بچاؤ کی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ سیلاب سے انسانی بستیوں، ہائیڈرو پاور پراجیکٹس، کسٹم دفاتر اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر علاقوں میں 800 سے زائد افراد رابطہ سے باہر ہیں۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، نیپالی وزیر اعظم بالیندر شاہ نے کہا کہ نیپالی فوج نے جمعرات کو علی الصبح ایک ریسکیو آپریشن کیا، جس میں تیمور سے 95 نیپالی شہریوں اور 21 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکالا گیا، جو سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ ان میں سے 579 سیاح تھے، حالانکہ اتھارٹی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ غیر ملکی سیاح تھے، ملکی سیاح یا دونوں۔

اسی طرح، 48 نیپالی فوج کے اہلکار، 28 نیپال پولیس اہلکار، 13 مسلح پولیس فورس (اے پی ایف) کے اہلکار، اور رسووا اور نواکوٹ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 162 دیگر لوگ رابطہ سے باہر رہے۔ دریں اثنا، وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے کہا کہ وزیر اعظم شاہ جمعرات کی صبح نواکوٹ ضلع کے متاثرہ علاقوں میں بیدور میونسپلٹی کا معائنہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ دورے کے دوران، وزیر اعظم اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے وزیر سیلاب سے ہونے والے جسمانی نقصان کا جائزہ لیں گے اور مقامی انتظامیہ کے حکام، سیکورٹی ایجنسیوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ ریلیف، بحالی اور درہم برہم بنیادی ڈھانچے کی خدمات کی بحالی پر بات چیت کریں گے۔ ان سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ تمام متاثرہ علاقوں میں امداد کی تیزی سے فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان