Connect with us
Friday,22-May-2026
تازہ خبریں

جرم

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن نے ڈمپنگ گراؤنڈ کو چھوڑ کر گارڈن کی اراضی کو ہی بنا ڈالا غیر قانونی طور پر ڈمپنگ گراؤنڈ

Published

on

( فہیم انصاری )
شہر سے ہر روز گیلا اور سوکھا کچرا ملا کر تقریباً 500 ٹن کچرا پھینکنے کے لئے ڈمپنگ گراؤنڈز کا مسئلہ دن بدن اس لئے سنگین ہوتا جارہا ہے کہ جہاں فی الحال رام نگر میں کچرا پھینکا جا رہا ہے وہاں کے لوگ مسلسل اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ واضح ہو کہ داپوڑا میں جہاں میونسپل کارپوریشن کا اپنا خود کا ڈمپنگ گراؤنڈ ہے وہ کچھ طاقتور لوگوں کے قبضے میں ہے اور باقی میونسپل کارپوریشن کے ایک سابق کمشنر نے میونسپل کارپوریشن کو اعتماد میں لئے بغیر ہی ایم ایم آر ڈی اے کے سپرد کردیا ہے۔

واضح ہو کہ بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑے رام نگر ڈمپنگ گراؤنڈ کی اپنی ایک الگ رام کہانی ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل کھونی گرام پنچایت علاقے کے کٹئ گاؤں میں میونسپل کارپوریشن اپنی زمین پر ڈمپنگ گراؤنڈ بنا کر کچرا پھینکا کرتی تھی۔ لیکن یہاں کلورین گیس کی وجہ سے ہونے والے سانحے کے بعد ایک دہائی قبل یہاں کے لوگوں نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے اس ڈمپنگ گراؤنڈ کو بند کرادیا تھا۔ اس کے بعد ، میونسپل کارپوریشن نے رام نگر واقع گارڈن کے لئے مختص اراضی پر کچرا پھینکنا شروع کردیا تھا۔ یہاں بھی جب زبردست مخالفت ہوئی تو میونسپل کارپوریشن نے یہاں کی عوام سے کہا کہ یہاں بہت بڑا گڑھا ہے۔ لہذا ، گڑھے کو بھرنے کے لئے کچرا ڈالا جارہا ہے اور جب زمین برابر ہوجائے گی تو اس پر مٹی ڈال کر یہاں ایک بڑا اور عظیم الشان گارڈن بنایا جائے گا۔ آج یہاں کی زمین کی سطح استوار تو دور کچرے کا ایک پہاڑ کھڑا کردیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی غنیمت تھا لیکن اس ڈمپنگ گراؤنڈ پر سوچھتا ابھیان کے تحت میونسپل کارپوریشن کو ملنے والے 35 کروڑ روپے میں سے 18 کروڑ روپئے کا بایو مائیننگ کے نام سے ٹھیکے کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کا ٹینڈر بھی ہو چکا ہے۔ ذرائع سے موصول معلومات کے مطابق یہ ٹھیکہ یہاں کے بی جے پی کے ایک قدآور لیڈر کے ڈمی کو دیا گیا ہے۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر یہاں 18 کروڑ روپے پھونک کر یہاں گڑھا کھودا جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے گارڈن کے لئے مختص چاوندرا کے رام نگر واقع ریزرویشن نمبر 115 اور سٹی سروے نمبر 106 کی 15 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی طور پر 2011 سے ہی کچرا پھینکا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے چاوندرا کے رہائشی علاقے کے قریب ڈمپنگ گراؤنڈ میں ڈالے گئے کچرے کی وجہ سے اٹھنے والے تعفن سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ کچرے کے تعفن سے چاوندرا ، پوگاوں ، گائتری نگر ، رام نگر اور فاطمہ نگر کے تقریباً 50 ہزار سے زائد افراد اس کچرے کے تعفن سے متاثر ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں ، ڈمپنگ گراؤنڈ کے کچرے سے نکلنے والے گندے پانی کی وجہ سے پوگاوں اور چاوندرا علاقوں کے کسان دھان کی فصل بھی نہیں لگا پا رہے ہیں۔ کسانوں کی پریشانی اور شہریوں کی صحت کے لئے خطرہ بن چکے اس ڈمپنگ گراؤنڈ کو بند کرنے کے لئے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جانے کی وجہ سے متاثرہ علاقے کے لوگ چاوندرا ڈمپنگ گراؤنڈ کو بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

مغربی بنگال فائرنگ اور بم دھماکہ میں ملوث تین مفرور ملزمین ممبئی سے گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ۷ مئی کو مغربی بنگال ہاوڑا میں فائرنگ اور بم دھماکہ میں مطلوب تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, مغربی بنگال کے شیبوپور پولس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کی واردات انجام دی گئی تھی, اس میں مطلوب ملزمین ممبئی کے دیونار ایس آر اے کی بلڈنگ میں روپوش ہے اس بنیاد پر ۲۱ مئی کو کرائم برانچ نے یہاں چھاپہ مار کر تین مفرور ملزمین شمیم احمد عبدالرشید ۴۰ سال، جمیل اختر علی ۴۳ سالہ، آفتاب انور خورشید ۴۴ سالہ کو ممبئی میں گرفتار کر لیا۔ ان مفرور ملزمین پر شیبو پور پولس اسٹیشن میں کئی تقریبا ۵ معاملات بھی درج ہیں, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

مہاراشٹر کے ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھلے عام فائرنگ, یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا اور کہرام مچ گیا۔

Published

on

Firing

ناگپور : مہاراشٹر کے ناگپور سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائک سوار نوجوانوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر کی طرف کھلے عام فائرنگ کی۔ فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کچھ دن پہلے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے حساس زون میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ اب اس واقعہ نے سیکورٹی انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے، جب کہ ناگپور میں محل کے کوٹھی روڈ علاقے میں فائرنگ کے واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ یہ علاقہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب ہے۔ سنگھ کا ہیڈکوارٹر ریشم باغ میں واقع ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اتوار، 17 مئی کو تقریباً 11:30 بجے پیش آیا، جب چھ نامعلوم افراد تین موٹرسائیکلوں پر آئے اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر سے 1.5 کلومیٹر (کلومیٹر) دور ایک علاقے میں فائرنگ کی۔ پولیس نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روی موہتو اور گنگا کاکڑے نے شکایت کنندہ سوربھ کے ساتھ جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے علاقے میں تسلط قائم کرنے اور دہشت پھیلانے کی نیت سے فائرنگ کی۔ تفتیش کاروں کو ملزمان کے درمیان جھگڑے کا شبہ ہے۔ ریشم باغ میں آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کافی سخت ہے۔

ناگپور کے محل علاقے کے کوٹھی روڈ علاقے میں دو راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ روی موہتو، گنگا کاکڑے، اور دیگر ملزمان کے پاس منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سامان رکھنے کا سابقہ ​​مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ان کے مجرمانہ پس منظر کے پیش نظر پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد کوتوال تھانے کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعہ سے محل کے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے جس کے باعث پولیس کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پاکستانی شہزاد بھٹی لنک کیس : اے ٹی ایس نے ممبئی کے میرا روڈ، پونے، ناگپور اور مہاراشٹر میں چھاپے مارے۔ 57 نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی۔

Published

on

ATS

ممبئی : مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بدھ کو پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی اور ڈوگرہ گینگ کے نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد ان افراد کو نشانہ بنانا ہے جو پاکستان میں موجود گینگسٹر نیٹ ورکس بشمول شہزاد بھٹی گینگ اور ڈوگرہ گینگ سے وابستہ ہیں یا ان سے روابط رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق، مربوط چھاپے بدھ کی صبح آٹھ بجے مہاراشٹر کے کئی مقامات پر شروع ہوئے اور رات گئے تک جاری رہے۔ چھاپے کے دوران اے ٹی ایس نے 57 لوگوں سے پوچھ گچھ کی، جن میں ممبئی کے 17، چھترپتی سمبھاجی نگر کے 14 اور پونے اور ناسک سے آٹھ-آٹھ افراد شامل ہیں۔ اے ٹی ایس نے نالاسوپارہ، میرا روڈ، ناگپور، پونے، ممبئی، اکولا، ناندیڑ، ناسک اور جلگاؤں میں چھاپے مارے۔ یہ آپریشن ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کے اندر کام کرنے والے مبینہ گینگسٹر سے متعلق نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے اور ایسے افراد کی شناخت کرنا ہے جن کے ان گینگز کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہونے کا شبہ ہے۔

عہدیداروں نے کہا کہ اے ٹی ایس ان لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو مبینہ طور پر ان بدمعاشوں سے جڑے ہوئے ہیں، بشمول وہ لوگ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ ان کے ساتھ رابطے میں ہیں یا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان نیٹ ورکس کے پیروکار یا حامی ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق، وقتاً فوقتاً موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سرحد پار سے سرگرم گینگسٹر مبینہ طور پر مہاراشٹر کے نوجوانوں کو متاثر کرنے اور اپنے مجرمانہ نیٹ ورکس میں بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ ان گروہوں نے مبینہ طور پر مقامی نوجوانوں کو پرتعیش طرز زندگی اور مالی فوائد کے وعدے کے ساتھ لالچ دیا۔ ایسا کرکے وہ ریاست کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے تھے۔ حکام نے کہا کہ اے ٹی ایس کا آپریشن بنیادی طور پر ‘سلیپر سیلز’، مقامی آپریٹو، اور ان گینگز سے وابستہ ممکنہ سپورٹ سسٹم کی شناخت پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسلحے کی اسمگلنگ یا کسی بڑی سازش کو شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی روکا جائے۔ اے ٹی ایس کی کئی ٹیمیں فی الحال اس بڑے پیمانے پر تلاشی اور تصدیقی آپریشن میں مصروف ہیں، جو کہ ایک ساتھ مختلف شہروں اور اضلاع میں چلائی جا رہی ہے۔

چھاپوں کے دوران، اے ٹی ایس کے اہلکاروں نے جاری تفتیش کے حصے کے طور پر مشتبہ افراد سے منسلک مقامات سے لیپ ٹاپ، موبائل فون، پین ڈرائیوز اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے۔ تفتیش کار مشتبہ افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالیاتی لین دین کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا کوئی فنڈز مبینہ طور پر پاکستان یا دیگر غیر ملکی مقامات سے غیر قانونی ‘حوالہ’ چینلز کے ذریعے بھیجے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مبینہ نیٹ ورک کی حد کا تعین کرنا اور اضافی افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو ان گینگسٹرز یا ان سے منسلک دیگر ماڈیولز کے ساتھ رابطے میں ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان