Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں پاور لوم کی گڑگڑاہٹ جاگ اٹھی, زندگی رواں دواں، سال کے 365 دنوں میں سے جمعہ اور تہواروں کے 65 دن پاورلوم کارخانے مکمل بند رکھے جائیں

Published

on

malegaon-loom

مالیگاؤں (خیال اثر)
گزشتہ منگل سے مالیگاؤں کے لاکھوں پاور 7 دنوں کے لئے مکمل طور پر بند کردئیے گئے تھے جس کی وجہ سے شہر کا ہر تجارتی مرکز سناٹوں کی آمجگاہ بنا ہوا تھا. ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے تو شہر کے مختلف شعبہ حیات بھی بری طرح متاثر ہوئے. آج بروز پیر سے ایک بار پھر پاور لوم کی گڑگڑاہٹ سنائی دی اور زندگی رواں دواں ہو گئی. بتایا جاتا ہے کہ شہرِ عزیز مالیگاؤں کی ریڑھ کی ھڈی کہلانے والی پاورلوم صنعت گذشتہ 8 سالوں سے زبردست خسارے اور مندی کا شکار ہےـ اس خسارے اور مندی کی سب سے بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ کپڑوں کا تیار ہونا ہےـ خسارے اور مندی پر قابو پانے اور کپڑوں کی پیداوار پر قابو پانے کیلئے بنکر حضرات سال بھر میں 2 سے 3 مرتبہ 7 دونوں کیلئے پاورلوم کارخانے اجتماعی طور پر مکمل بند رکھ کر اپنے نقصانات اور خسارے کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن کارخانے دوبارہ جاری ہونے کے بعد وہی بنکر حضرات بلاناغہ ہفتہ بھر اپنے کارخانے جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اگر کوئی مزدور کام پر نہ آئے تو پھر زیادہ اجرت اور بندی پگار والے روکڑا مزدوروں سے بدلی چلوا کر زیادہ سے زیادہ کپڑے تیار کرتے ہیں اور نتیجتاً شہر کے صنعتی حالات 10 سے 15 دنوں کے اندر دوبارہ خراب ہوجاتے ہیں- پھر خراب صنعتی حالات میں بنکر حضرات اپنی استطاعت کے مطابق 3 دن، 4 دن اور 5 دن اپنے کارخانے جاری رکھ کر کپڑوں کی پیداوار اور نقصانات پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں. بنکروں کیجانب سے مندی اور خسارے کے نام پر تحریک کی شکل میں اجتماعی طور پر پاورلوم کارخانے بند رکھ کر کپڑوں کی پیداوار اور خسارے پر قابو پانے کی کوششیں گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل کی جا رہی ہیں لیکن پاورلوم صنعت کے حالات مزید بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں.اس تعلق سے سماجی کارکن نوید پریم نے کہا کہ پاورلوم صنعت کو مزید تباہی و بربادی سے بچانے کیلئے اب ضروری ہوگیا ہے کہ سال کے 365 دنوں میں سے جمعہ اور تہواروں کے 65 دن تمام پاورلوم کارخانے مکمل بند رکھے جائیں- 6 دن کارخانے جاری رکھ کر جمعہ کے دن تمام مزدوروں کو چھُٹی اور آرام کا موقع دیا جائے اور بنکر حضرات خود بھی جمعہ کے دن مارکیٹ نہ جاتے ہوئے ایک دن اپنے اہل و عیال کے درمیان گذاریں، کیونکہ جمعہ کے دن کارخانے جاری رکھنے کیلئے بنکروں کو بیحد تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جمعہ کے دن کارخانے بمشکل 8 گھنٹے جاری رہتے ہیں- مزدور حضرات اپنی بہن، بیٹی، بیوی اور بچوں کو سسرال پہنچانے و سسرال سے لانے اور کھانا کھانے کے نام پر تقریباً 2 گھنٹے کارخانے سے باہر گذارتے میں یعنی جمعہ کے دن ایک مزدور 6 گھنٹے مزدوری کرتا ہے اور ایکسٹرا کے نام پر بنکروں سے 100 سے 150 روپے وصول کرتا ہے، اگر جمعہ کے دن کام کرلے تو پھر سنیچر کے دن ڈیوٹی پر لیٹ آتا ہے یا بدلی دے دیتا ہےـ جمعہ کے دن اگر روکڑا بدلی والا مزدور کام کرے اور اگر بھیم کٹ جائے تو روکڑا بدلی والے مزدور لوم پر بھیم نہیں رکھتے اور سنیچر کے دن جاتو مزدور حضرات بنکر کے سامنے بھیم کی پنچایت پہلے رکھ دیتے ہیں اور اگر بھیم رکھی بھی رہے تو پھر بھیم جوڑنے والے بنارسی حضرات جمعہ کے دن بھیم نہیں جوڑتےـ جمعہ کے دن ٹیکسٹائل مل اسٹورس بند رہتی ہیں، جمعہ کے دن مستری کی دکانیں بند رہتی ہیں، جمعہ کے دن ورکشاپ بند رہتے ہیں، جمعہ کے دن الیکڑک کی دکانیں بند رہتی ہیں، یہاں تک کہ پاورلوم کارخانوں کے درمیان جاری رہنے والی پان دکانیں، ہوٹلیں اور کھانے پینے کی دکانیں بھی بند رہتی ہیں- اتنی ساری تکالیف اور مندی و خسارے کے باوجود بنکر حضرات کا جمعہ کے دن پاورلوم کارخانے جاری رکھنا نہایت احمقانہ فیصلہ ہےـ
خدا کو بھول گئے لوگ فکر روزی میں
خـیالِ رزق ہے رزاق کا خیال نہیں

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان