Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی کی اپیل

Published

on

Jamiat-Ulema-i-Hind

ہر سال کی طرح سال 2021-2022 کے لئے بھی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے آج تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، اور اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں۔ یہ بات آج یہاں انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں انتہائی مسرت کا احساس ہو رہا ہے کہ ہماری اس ادنی ٰسی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے، جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی جنگ اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یا ٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس جنگ میں سرخروئی حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنا دیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا، سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی شہادت دیتی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسلمان تعلیم کے شعبہ میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ خود بخود ہوگیا یا مسلمانوں نے جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے ہمیں تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا، انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں، جو حالات ہیں ان میں مسلمانوں کو قیادت کی نہیں بلکہ ان کے اندر تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے قوم کے بااثر افراد سے یہ اپیل بھی کی کہ، جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ ایسے اسکول قائم کریں، جہاں بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، ہر شہر میں چند مسلمان مل کر کالج قائم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ، بدقسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے اس جانب ہندوستانی مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کو دوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگاکہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انھیں حالات کے پیش نظر ہم نے دیوبند میں اعلیٰ عصری تعلیم گاہیں جیسے کہ بی ایڈکالج، ڈگری کالج، لڑکے اور لڑکیوں کے لئے اسکولس اور مختلف صوبوں میں آئی ٹی آئی قائم کئے ہیں جن کا ابتدائی فائدہ بھی اب سامنے آنے لگا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور وہ ہر محاذ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں یہ مکاتیب ومدارس قائم کر رہی ہے، وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے جو روزگار فراہم کرتا ہے، روزگار فراہم کرنے والی تعلیم سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم سے ہے تاکہ جو بچے اس طرح کی تعلیم حاصل کرکے باہر نکلیں انہیں فورا روزگار اور ملازمت مل سکے، اور وہ خود کو احساس کمتری سے بھی محفوظ رکھ سکیں، انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت جمعیۃ علماء ہند ضرورت مند طلبہ کو کئی برس سے تعلیمی وظائف دینے کا اہتمام کر رہی ہے، تاکہ وسائل کی کمی یا غربت کی وجہ سے ذہین اور ہونہار بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال 2021-2022 کے وظیفے کے لئے فارم پر کرنے کی تاریخ 30 جنوری 2021، فارم ویب سائٹ www.jamiatulamaihind.com سے اپلوڈ کیا جاسکتا ہے، انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وہ طلباء جو کسی سرکاری یا معروف ادارے سے انجینئرنگ، میڈیگل، ایجوکیشن، جرنلزم سے متعلق یا کوئی بھی ٹیکنکل یا پروفیشنل کورس کر رہے ہوں اور گزشتہ امتحان میں جنہوں نے کم سے کم 70 فیصد نمبر حاصل کئے ہوں، وظیفے کے اہل ہوں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمعیۃ علماء ہند یہ کام بھی مذہب سے اوپر اٹھ کر رہی ہے، لیکن اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے ملک گیر سطح پر ایک مؤثر مہم شروع کرے گی۔ انہوں نے آگے کہاں کہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے، بلکہ اس کے لئے عملی طور پر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈونگری میں موٹرسائیکل چوری کرنے والا پیشہ ور چور گرفتار

Published

on

ممبئی : ڈونگری علاقہ سے موٹر سائیکل چوری کرنے والے چور کو پولس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ ہے اور اس کے قبضے سے مسروقہ موٹرسائیکل بھی برآمدکرلی گئی ہے۔ ڈونگری پولیس تھانہ میں 12 ستمبر کو مذکورہ بالا جرم درج کیا گیا ہے اور مذکورہ جرم کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ، مذکورہ جرم میں شکایت کنندہ وشنو نامدیو فڈترے، عمر60 سال کی ملکیت کی استعمال کی یاماہا آرایکس 100 موٹرسائیکل نمبر ایم ایچ 01 سی 7815 جو پودار بلڈنگ، نمبر 09 ڈاکٹر میشیری روڈ، ڈونگری، ممبئی اس جگہ پر پارک کی تھی وہ کسی نامعلوم چور نے چوری کرلی ۔ مذکورہ جرم کی تفتیش کرتے ہوئے پولس افسر جادھو اور کرائم ڈٹیکشن ٹیم کے اہلکاروں نے ڈونگری پولیس تھانہ کی حد میں آنے والے سینڈہرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کی تو دو نامعلوم افراد ایک موٹرسائیکل پر آ کر شکایت کنندہ کی پارک کی ہوئی موٹرسائیکل کو پیدل دھکا دے کر لے جاتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد ملزم کے آمدورفت کے راستے کی جانچ کرکے کی گئی تکنیکی تفتیش میں ملزم کا سراغ شیواجی نگر، گوونڈی علاقے میں میں ملا۔

مذکورہ جگہ پر مخبر کے ذریعے معلومات لی تو جرم میں چوری ہوئی یاماہا آرایکس 100 موٹرسائیکل نمبر ایم ایچ 01 سی 781 یہ پلاٹ نمبر 34 میں رہنے والا شخص فیروز اس کے پاس ایک یاماہا موٹرسائیکل کی معلومات ملی۔ مذکورہ شخص محمد فیروز ناصر خان، عمر32 سال، رہائشی پلاٹ نمبر 34، لائن بی، روم نمبر 25، 5 نمبر روڈ، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی اس کے رہائشی پتے پر جا کر اسے مزید پوچھ گچھ کے لیے پولیس تھانے لایا گیا۔ اس کے پاس کی گئی تفتیش میں اس نے مذکورہ موٹرسائیکل اپنے ساتھی دلشاد شاہد علی خان عرف ببلو، عمر40 سال، رہائشی روم نمبر 33، پلاٹ نمبر 29، سی لائن، روڈ نمبر 05، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی اس کے ساتھ اس نے مذکورہ موٹرسائیکل سینڈہرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے چوری کرکے لے جانے کی معلومات دی۔مذکورہ جرم میں ملزم محمد فیروز ناصر خان، عمر32 سال، رہائشی پلاٹ نمبر 34، لائن بی، روم نمبر 25، 5 نمبر روڈ، اجمیری مسجد کے پاس، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسے 22 ستمبر تک پولیس حراست سنائی گئی ہے۔مذکورہ جرم کے ملزم محمد فیروز ناصر خان، عمر- 32 سال کے پاس کی گئی تفتیش میں اس نے اپنے ساتھی دلشاد شاہد علی خان عرف ببلو، عمر- 40 سال کے ساتھ مل کر کل 04 جگہوں سے موٹرسائیکل چوری کی ہے اس کی گرفتاری سے چوری کا معمہ حل ہو گیا ہے اس کے خلاف 01) ڈونگری پولیس تھانہ، 625/2026 دفعہ 303(2)، 3(5) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔پنت نگر پولیس تھانہ، 959/2026 دفعہ 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔کوپرکھیرنے پولیس 598/2026 دفعہ 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔گوونڈی پولیس تھانہ، 303(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا۔ مذکورہ جرم کی مزید تفتیش ایڈیشنل کمشنر شلیش بلکاوڈ، ڈی سی پی زون 01، منیش کلوا نیا ڈونگری محکمہ، جناب تنویر شیخ ڈونگری پولیس تھانہ ساگر ٹلیکر کی رہنمائی میں ڈٹیکشن عملہ نے اس معمہ کو حل کر لیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی : خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا، ۶ ماہ قید بامشقت اور ۵۰۰ جرمانہ کی سزا

Published

on

Police

۲۱ ستمبر کو ایڈیشنل سیشن کورٹ، کورٹ نمبر 34، ممبئی گوونڈی پولیس 216/2018 دفعہ 353, 509, 354(ا) بی این ایس کے تحت جرم میں ملزم نامہ سروج پیشہ ڈرائیور، رہائشی کمپاؤنڈ کے سامنے، منزلہ، 11 واں روڈ، چمبور ممبئی کو قصوروار ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔ ۲۱ اگست ۲۰۱۸ کو شکایت کنندہ خاتون پولیس اہلکار ٹریفک کو رواں رکھنے کی ڈیوٹی کر رہی تھیں اس دوران ملزم نے شکایت کنندہ کو نشانہ بنا کر فحش اشارے کرکے اور فحش گالی گلوچ کرکے شکایت کنندہ سے ناروا سلوک کیا اس کے بعد متاثرہ شکایت کنندہ نے گوونڈی پولیس تھانے میں شکایت کی 216/2018 دفعہ 353, 354(ا), 509 بی این ایس کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم میں ۲۱ ستمبر ایڈیشنل سیشن عدالت، کورٹ نمبر 34 ممبئی نے ملزم سروج کو دفعہ 353 تعزیری کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ، دفعہ 354(ا) کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ نیز دفعہ 509 دفعہ کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ اور جرمانہ نہ بھرنے پر 1 مہینے کی اضافی قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ معاملے میں تفتیشی افسر سپودن پرینکا پاٹل نے کی گئی گہری تفتیش، سائنسی اور مؤثر تفتیش، مضبوط شواہد کا مجموعہ اور اس کی صحیح طریقے سے دستاویزی کارروائی، نیز سرکاری وکیل جیوتی ساونت اور پیروی افسر سب انسپکٹر اجے یادو نے عدالت کے سامنے مؤثر پیروی کر مذکورہ معاملے کا عدالتی کام کاج دیکھنے والے افسران نے سرکاری فریق کے ساتھ مناسب تال میل رکھنا اور مسلسل اور نتیجہ خیز پیروی کرنا اس کی وجہ سے ملزم کے خلاف جرم بغیر کسی شک کے فائدے کے ثابت ہو کر اسے عدالت نے سخت سزا سنائی ہے۔ مذکورہ قابل ذکر کارکردگی جناب پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر نظم و نسق منوج کمار شرما، دھننجے کلکرنی،ڈی سی پی زون 01 سمیر شیخ، کی رہنمائی میں انجام دی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان