Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی آگ زنی سانحہ کو دو سال مکمل لیکن متاثرین سرکاری امداد سے محروم

Published

on

(خیال اثر)
گزشتہ جعمہ کو شہر کے مضافاتی علاقہ دیانہ رمضان پورہ کے سنجری چوک پر بھیانک آگ کی لپیٹوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بیس سے زائد گھروں کو جلا کر راکھ کردیا تھا. شہر کی سبھی سماجی و ملی تنظیموں اور سیاسی لیڈران نے یہاں دورہ کرتے ہوئے نہ صرف آگ متاثرین کی داد رسی کی بلکہ اپنی بساط بھر ان کی امداد بھی کی. میونسپل اور سرکاری ذمہ داران نے آگ سے تباہ حال مکانات کا پنچ نامہ کرتے ہوئے مالی نقصانات کا تخمینہ طے کرتے ہوئے متاثرین کی باز آباد کاری کے لئے ہر ممکن تعاون کا عندیہ ظاہر کیا. رضا اکیڈمی اور مولانا سعید نوری نے مذکورہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے خاک ہوئے مکانات کی از سر نو تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھ کر مکانات کی تعمیر کرکے کے دینے کا عزم ظاہر کیا.اسی کل میونسپل کمشنر دیپک کاسار کے حکم پر ڈپٹی کمشنر شیخ قمر الدین نے سنجری چوک آگ زدہ مقامات پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا. اس موقع پر محلے کے افراد نے انھیں ایک کروڑ سے زائد کی املاک ختم ہو جانے کی جانکاری دی. اس کے برعکس غربید نگر, ایکتا نگر اور ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی جیسے علاقوں میں لگنے والی آگ سے متاثر ہونے والے سینکڑوں مکانات اور افراد کی باز آباد کاری کے لئے چند ایک مخیر حضرات کے علاوہ کسی بھی ملی تنظیم, سیاسی پارٹی اور سرکاری محکمہ نے کوئی پیش قدمی نہیں کی. حالانکہ سرکاری , سیاسی اور ملی تنظیموں نے بڑے بڑے خوش کن اعلانات کئے تھے. دیکھا جائے تو وہ سارے اعلانات طویل ترین ماہ و سال گزر جانے کے بعد بھی عمل میں آنے سے محروم رہے. نہ ہی یہاں دو سال کا طویل ترین عرصہ گزرنے کے بعد اور سرکاری پنچ نامہ ہونے کے باوجود کسی بھی طرح کی کوئی سرکاری امداد آگ متاثرین کو میسر .نہیں ہوئی. آج بھی غربید نگر, ایکتا نگر اور ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی کے بے یار و مدگار آگ متاثرین چشم پر نم سے کسی بھی سرکاری امداد کے منتظر ہیں. گزشتہ دنوں اتحاد نیوز کے ظہور خان نے مذکورہ علاقوں کا جائزہ لیا تو انھیں معلوم ہوا کہ ان تینوں علاقوں کی عوام آج تک حکومتی امداد کے انتظار میں ہیں. شہر کی ملی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ ایسے سانحات میں متاثرین کے لئے حکومتی سطح پر ان کے نقصانات کی کچھ حد تک بھرپائی ہو جائے کہ یہی بھرپائی ان کے مرہم جاں فزا ثابت ہوگی. اس واضح فرق کو حکومت سطح پر حل کرنے کی کوشش ہونا چاہئے. دیکھنا ہے اب مذکورہ علاقوں کو سرکاری امداد و تعاون کب ملتا ہے یا پھر رمضان پورہ کے آگ متاثرین بھی سرکاری امداد سے محروم رہتے ہیں. مالیگاؤں جمیعت العلماء ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں جب بھی ایسے سانحات رونما ہوتے ہیں تو شہر و بیرون شہر سے ریلیف جمع کرتے ہوئے اپنا دست تعاون دراز کرتی ہے. کوئی سانحہ کے متاثرین باز آباد کاری کے لئے وہ کب اور کیسے اپنا دست تعاون دراز کرے گی. تمام علاقوں کے آگ متاثرین مقامی جمیعت العلماء کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اس لئے مالیگاؤں جمیعت العلماء کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ فورأ سے پیشتر آگ متاثرین کی باز آباد کاری کے لئے کوئی تسلی آمیز بیان جاری کریں تاکہ آگ متاثرین کو صبر آئے اور ان میں یہ احساس زندہ رہے کہ کوئی ملی تنظیم ان کی فکر کرنے کے لئے شہر میں موجود ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان