Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی آگ زنی سانحہ کو دو سال مکمل لیکن متاثرین سرکاری امداد سے محروم

Published

on

(خیال اثر)
گزشتہ جعمہ کو شہر کے مضافاتی علاقہ دیانہ رمضان پورہ کے سنجری چوک پر بھیانک آگ کی لپیٹوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بیس سے زائد گھروں کو جلا کر راکھ کردیا تھا. شہر کی سبھی سماجی و ملی تنظیموں اور سیاسی لیڈران نے یہاں دورہ کرتے ہوئے نہ صرف آگ متاثرین کی داد رسی کی بلکہ اپنی بساط بھر ان کی امداد بھی کی. میونسپل اور سرکاری ذمہ داران نے آگ سے تباہ حال مکانات کا پنچ نامہ کرتے ہوئے مالی نقصانات کا تخمینہ طے کرتے ہوئے متاثرین کی باز آباد کاری کے لئے ہر ممکن تعاون کا عندیہ ظاہر کیا. رضا اکیڈمی اور مولانا سعید نوری نے مذکورہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے خاک ہوئے مکانات کی از سر نو تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھ کر مکانات کی تعمیر کرکے کے دینے کا عزم ظاہر کیا.اسی کل میونسپل کمشنر دیپک کاسار کے حکم پر ڈپٹی کمشنر شیخ قمر الدین نے سنجری چوک آگ زدہ مقامات پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا. اس موقع پر محلے کے افراد نے انھیں ایک کروڑ سے زائد کی املاک ختم ہو جانے کی جانکاری دی. اس کے برعکس غربید نگر, ایکتا نگر اور ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی جیسے علاقوں میں لگنے والی آگ سے متاثر ہونے والے سینکڑوں مکانات اور افراد کی باز آباد کاری کے لئے چند ایک مخیر حضرات کے علاوہ کسی بھی ملی تنظیم, سیاسی پارٹی اور سرکاری محکمہ نے کوئی پیش قدمی نہیں کی. حالانکہ سرکاری , سیاسی اور ملی تنظیموں نے بڑے بڑے خوش کن اعلانات کئے تھے. دیکھا جائے تو وہ سارے اعلانات طویل ترین ماہ و سال گزر جانے کے بعد بھی عمل میں آنے سے محروم رہے. نہ ہی یہاں دو سال کا طویل ترین عرصہ گزرنے کے بعد اور سرکاری پنچ نامہ ہونے کے باوجود کسی بھی طرح کی کوئی سرکاری امداد آگ متاثرین کو میسر .نہیں ہوئی. آج بھی غربید نگر, ایکتا نگر اور ناگ چھاپ جھونپڑ پٹی کے بے یار و مدگار آگ متاثرین چشم پر نم سے کسی بھی سرکاری امداد کے منتظر ہیں. گزشتہ دنوں اتحاد نیوز کے ظہور خان نے مذکورہ علاقوں کا جائزہ لیا تو انھیں معلوم ہوا کہ ان تینوں علاقوں کی عوام آج تک حکومتی امداد کے انتظار میں ہیں. شہر کی ملی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ ایسے سانحات میں متاثرین کے لئے حکومتی سطح پر ان کے نقصانات کی کچھ حد تک بھرپائی ہو جائے کہ یہی بھرپائی ان کے مرہم جاں فزا ثابت ہوگی. اس واضح فرق کو حکومت سطح پر حل کرنے کی کوشش ہونا چاہئے. دیکھنا ہے اب مذکورہ علاقوں کو سرکاری امداد و تعاون کب ملتا ہے یا پھر رمضان پورہ کے آگ متاثرین بھی سرکاری امداد سے محروم رہتے ہیں. مالیگاؤں جمیعت العلماء ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں جب بھی ایسے سانحات رونما ہوتے ہیں تو شہر و بیرون شہر سے ریلیف جمع کرتے ہوئے اپنا دست تعاون دراز کرتی ہے. کوئی سانحہ کے متاثرین باز آباد کاری کے لئے وہ کب اور کیسے اپنا دست تعاون دراز کرے گی. تمام علاقوں کے آگ متاثرین مقامی جمیعت العلماء کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اس لئے مالیگاؤں جمیعت العلماء کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ فورأ سے پیشتر آگ متاثرین کی باز آباد کاری کے لئے کوئی تسلی آمیز بیان جاری کریں تاکہ آگ متاثرین کو صبر آئے اور ان میں یہ احساس زندہ رہے کہ کوئی ملی تنظیم ان کی فکر کرنے کے لئے شہر میں موجود ہے.

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان