(جنرل (عام
اسلام نے حقوق عورتوں کے زیادہ رکھے ہیں اور ذمہ داریاں مردوں کی زیادہ رکھی ہیں: اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا (دہلی) میں دو روزہ ورکشاپ
(نامہ نگار)
اسلام سے پہلے خواتین کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں تھا، مردوں کی خدمت کرنا اور ان کی ہوس پورا کرنا ہی عورت کا کام تھا، اسے منحوس اور گناہ کا دروازہ سمجھا جاتا تھا، اسلام نے عورتوں کو قریب قریب مردوں کے برابر حقوق دئیے، حقوق زیادہ عورتوں کے رکھے اور ذمہ داریاں زیادہ مردوں کی مقرر کیں؛ البتہ یہ بات افسوسناک ہے کہ شریعت میں خواتین کو جو حقوق دئیے گئے ہیں، مسلم سماج میں بھی دین سے دوری اور خدا ناترسی کی بناء پر بہت سی دفعہ وہ ان حقوق سے محروم کر دی جاتی ہیں، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے کانفرنس ہال میں ’’ خواتین کے حقوق پر‘‘ دو روزہ ورکشاپ ہوا، جس میں اسلامی تعلیمات اور موجودہ عالمی حقوق سے متعلق منشور کا جائزہ لیتے ہوئے مقررین نے ان خیالات کا اظہار کیا ، یہ ورکشاپ کل منعقد منعقد ہوا، پہلی نشست کی صدارات ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور دوسری نشست کی صدارت ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی (استاذ شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی، اور اکیڈمی کے شعبۂ علمی کے رفیق مفتی احمد نادر قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔
اس موقع پر آن لائن خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ معاشرہ میں بنیادی طور پر عورت کے تین روپ ہوتے ہیں، ماں، بیوی اور بہن، اور تینوں حیثیتوں سے اسلام میں عورت کو عزت دی گئی ہے؛ بلکہ ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا ہے، مغرب نے عورتوں کی آزادی کے نام پر عورت پر کسبِ معاش اور محنت مزدوری کی ذمہ داری رکھ دی، جس کی وجہ سے خاندانی نظام بکھر گیا اور عورتوں کو اس سے سخت نقصان پہنچا، مولانا رحمانی نے کہا کہ اکیڈمی نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے ، اس نے متعدد سیمینار اسی سے مربوط مسائل پر منعقد کئے ہیں، اور موجودہ دور میں خواتین کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی ہے۔
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے اپنے مقالہ میں دنیا کی دیگر تہذیبوں اور مذاہب میں خواتین کو دیے جانے والے حقوق اور شریعت اسلامی نے انہیں جو حقوق دئیے ہیں، اس کا تقابلی جائزہ لیا، اور بتایا کہ موجودہ دور میں مرتب ہونے والے قوانین، عورتوں کے حقوق کے معاملہ میں ابھی بھی اسلام سے پیچھے ہیں، ڈاکٹر مشتاق احمد تجاروی نے کہا کہ اسلام نے نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی ہے؛ بلکہ معاشرہ میں انہیں باوقار مقام عطا کیا ہے، زمانۂ جاہلیت ہی میں نہیں؛ بلکہ اب بھی کئی جگہوں پر لڑکیوں کو بعض لوگ زندہ درگور کر دیتے ہیں، ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی انچارج شعبہ علمی امور اکیڈمی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق منشور کی دفعہ ۱۶؍ پر تفصیل سے گفتگو کی، جو شادی سے متعلق ہے، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا، مفتی احمد نادر قاسمی رفیق شعبۂ علمی نے ملازمت اور کسبِ معاش کی جدوجہد میں خواتین کی شرکت سے متعلق اسلامی نقطۂ نظر کو پیش کیا، اور شرعی حدود کی وضاحت کی، نیز مختلف مقاصد کے تحت خواتین کے سفر کے سلسلہ میں شرعی ہدایات کو واضح کیا، مفتی امتیاز احمد قاسمی رفیق شعبۂ علمی نے اکیڈمی اور بالخصوص اکیڈمی کے سکریٹری برائے سیمینار مولانا عبیدا اللہ اسعدی صاحب کی طرف سے شکریہ ادا کیا، اس دو روزہ پروگرام میں شرکاء کے درمیان تین اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کا موقع بھی فراہم کیا گیا، اور وہ ہے، ’’ مہر کی حیثیت، حق زوجیت اخلاقی حق ہے یا قانونی؟ اور چہرہ پردہ میں شامل ہے یا نہیں؟ ‘‘ اس دو روزہ تربیتی پروگرام میں دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، مظاہر علوم سہارنپور، جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی، جامعہ ابن تیمیہ جمپارن( بہار) المعہد العالی پٹنہ، مدرسہ سبیل السلام دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، دہلی یونیورسیٹی اور معہد التخصص فی اللغۃ العربیہ کے فضلاء اور اسکالرس نے شرکت کی، پروگرام کے اخیر میں مولانا عدنان ندوی، مولانا سعد مذکر ندوی، ڈاکٹر جسیم الدین قاسمی اور مولانا فیروز اختر قاسمی نے تأثرات پیش کئے، مولانا انیس اسلم مفتاحی انچارج انتظامی امور نے انتظام کی نگرانی کی۔
(جنرل (عام
پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔
شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
