Connect with us
Sunday,26-July-2026

(جنرل (عام

آج 6 دسمبر یوم سیاہ پر بابری مسجد مسلمانوں کو آواز دے رہی ہیں

Published

on

babri-masjid

(وفا ناہید)
بابری مسجد قطعہ اراضی پر فیصلہ آئے آج 28 دن ہوگئے. حالانکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا. ناہی انصاف پر مبنی تھا. یہ فیصلہ سراسر آستھا کی بنیاد پر تھا. سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بھی جمہوریت کا قتل تھا. جمہوریت کا ایک بار قتل اس وقت ہوا تھا جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا. اتنا تو سب کو پتہ تھا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آئے گا. پھر بھی سپریم کورٹ پر , قانون پر مسلمانوں کو بھروسہ تھا. آخر مسلمانوں کے دل میں جلی آس کی وہ ننھی سی چنگاری بھی بجھ گئی. حالانکہ جمعیت علماء (ارشد مدنی) نے ریویو پٹیشن داخل کی ہے. مگر اس کا بھی وہی حشر ہوگا یہ ہم سب جانتے ہیں. جس ملک میں مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کیا جارہا ہے. اس ملک میں اس کی عبادت گاہوں کی حفاظت چہ معنی دارد. جس ملک کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں نے خون کی ندیاں بہا دی تھی. آج اسی ملک میں اس سے حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے. ان کی قدیم بابری مسجد پر ایک شازش کے تحت دھیرے دھیرے اس طرح شکنجہ کسا گیا کہ 6 دسمبر 1992 کے منحوس دن ایک منصوبہ بند شازش کے تحت بابری مسجد شہید کردی گئی. بابری مسجد شہادت کے بعد 92 ,93 کے فسادات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا. ان کی ماں بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا. اس جمہوری ملک میں جس طرح پرامن احتجاج پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا. وہ جمہوریت کی دھجیاں اڑانے کے لیے کافی تھا. آج پھر 6 دسمبر ہے یعنی یوم سیاہ. بابری مسجد شہادت کے بعد سے مسلمان 6 دسمبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں. مالیگاؤں میں مرحوم بزرگ رہنما ساتھی نہال احمد بازوؤں پر کالی فیت باندھ کر یوم سیاہ پر احتجاج کرتے تھے. مرحوم نے وصیت کی تھی کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے اس احتجاج کو بابری مسجد کی بازیابی تک جاری رکھا جائے . آج نہال احمد تو ہمارے درمیان نہیں ہے مگر بابری مسجد بچاؤ کمیٹی آج 6 دسمبر کو کالی فیت باندھ کر شہر میں 3 بج کر 45 منٹ پر اذان دے گی اور اپنا پرامن احتجاج کریں گی. یہاں ایک سوال قابل غور ہے کہ کچھ سیاسی و غیر سیاسی افراد اور کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہمیں قبول کرلینا چاہئے. ریویو پٹیشن سے صرف وقت ضائع ہوگا. اب ان احمقوں کی جنت میں رہتے والوں سے کون بولے کہ مسلمان جس جگہ مسجد بناکر نماز پڑھ لیں وہ جگہ تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے. مسجد اللہ کا گھر ہے. اب بابری مسجد میں لوگوں نے شیلانیاس کی یا مورتیاں رکھیں مگر ہے تو وہ مسجد ہی اور اس کی ایک اینٹ پر بھی کسی کا حق نہیں ہے. شاید خدا ہم سے ناراض ہیں اسی لئے آج ہم بابری مسجد کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہے. اگر ہم سچے دل سے تائب ہوکر بارگاہ خدا وندی میں بغیر کسی تفریق کے ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں تو ہمارا یہ اتحاد ہی اس زعفرانی ٹولے کے حوصلے پست کرے گا. کہتے ہیں کہ جب ہمارے گناہ بڑھ جاتے ہیں تو خدا ہم پر ایک ظالم حکمراں کو مسلط کردیتا ہے. مسلمانوں اپنے ایمان, اپنے دین کے لیے ایک ہوجاؤ تو پھر کسی شرپسند عناصر کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ تمہاری بابری مسجد تم سے چھین سکے. آقائے رحمت صلعم کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو اپنے دلوں سے کینہ کو نکال کر ایمان کی روشنی سے بھر دو اور متحد ہوجاؤ کہ تمہاری بابری مسجد تم کو آواز دے رہی ہے.

(جنرل (عام

کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا، کہتے ہیں حکومت نے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔

Published

on

CJP

نئی دہلی : کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ہفتہ کو حکومت کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ ملاقات کے بعد چیف جسٹس نے بڑا اعلان کر دیا۔ چیف جسٹس نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جنتر منتر سے احتجاج واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے، اور وہ احتجاج کو واپس لے رہے ہیں۔ حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد، کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا، “ہم نے حکومتی وفد کے ساتھ تین دور کی بات چیت کی۔ جنتر منتر پر ہمارے احتجاج کے تین اہم مطالبات تھے: مرکزی وزیر تعلیم کے طور پر دھرمیندر پردھان کا استعفی؛ مظاہرین اور منتظمین کے خلاف تمام قانونی مقدمات یا ایف آئی آر واپس لینے؛ احتجاج کرنے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر واپس نہ لیا جائے۔”

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ این ای ای ٹی امتحان ملتوی ہونے کے بعد اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کو 1 کروڑ کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔ دھرمیندر پردھان نے کچھ ہی دیر پہلے استعفیٰ دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ نہ صرف دہلی بلکہ بی جے پی کی حکومت والی اور بی جے پی کی اتحادی ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں۔ حکومت نے بھی اس مطالبے کو مان لیا ہے۔ ایف آئی آرز جلد واپس لی جائیں گی۔

سورو داس نے کہا کہ حکومت نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ درج کی گئی تمام ایف آئی آر کی کاپیاں شیئر کرے گی۔ ہماری پچھلی معلومات کے مطابق دہلی میں 15 سے 20 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ہمیں وہ کاپیاں تین سے چار دنوں میں کسی بھی قیمت پر مل جائیں گی۔ حکومت نے بھی ہمیں یقین دلایا ہے کہ ایف آئی آر جلد واپس لے لی جائیں گی۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ منگل تک ہمارے ساتھ ان کا اشتراک کرے گی۔ ہمیں امید ہے کہ منگل تک ہمیں ان ایف آئی آرز اور آئندہ کی کارروائی کے حوالے سے حکومتی ضمانت مل جائے گی۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سورو داس نے کہا، “کاکروچ جنتا پارٹی اعلان کرتی ہے کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ ایجی ٹیشن واپس لے رہے ہیں، اس سمجھ کے ساتھ کہ طے شدہ شرائط کو مقررہ وقت کے اندر پورا کیا جائے گا۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت : ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورما لاونگیرے

Published

on

Prajakta-Verma

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورمالاونگیرے نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے زون 5 کے تحت آنے والے علاقوں جیسے مانخورد، شیواجی نگر، کرلا اور چیمور میں پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کی فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان درخواستوں کی منظوری کے لیے سٹیزن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔ آج (25 جولائی 2026)، لاونگرے نے چیمبور میں بی ایم سی کے ایم ویسٹ وارڈ آفس میں زون 5 کے انتظامی وارڈوں میں محکمہ صحت کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میٹنگ میں موجود ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون 5) سندھیا شامل تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ایسٹ) اجول انگولے، اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ویسٹ) شنکر بھوسلے، اور ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر (محکمہ صحت عامہ) ڈاکٹر دکشا شاہ۔ای

ایم ایل وراڈ ایسٹ ویسٹ وارڈز میں پیدائشی سرٹیفکیٹ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ ورمالاونگیرے نے ہدایت دی کہ شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک شہری سہولت مراکز پر درخواستیں قبول کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کے لیے یہ مراکز اتوار کو بھی کھلے رہیں۔ انتظامی وارڈ کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کو شہریوں کی درخواستوں کو نمٹانے کے لیے اضافی افرادی قوت کا تقرر کرنا چاہیے، اس طرح درخواستوں کی ایک بڑی تعداد کو نمٹانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ ورمالاونگرے نے ہدایت کی کہ درخواستوں کو جمع کرنے کے بعد کم سے کم وقت کے اندر اندر کارروائی اور حل کیا جائے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی طرف سے نئے برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے درخواستوں کو سنبھالنے اور موجودہ میں تصحیح کے لیے سافٹ ویئر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ سافٹ ویئر درخواست کی تفصیلات جمع کرانے اور متعلقہ دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے میں سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس میں ڈیش بورڈ بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی درخواست کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سافٹ ویئر اور ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تعلیمی معاملات سے متعلق درخواستوں کو ترجیح دی جائے۔ بیرون ملک تعلیم اور ویزا پروسیسنگ کے لیے درکار کیو آر کوڈ پر مبنی برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

آج کی میٹنگ کے دوران، ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورمالاونگرے نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پروجیکٹوں، مانسون سے متعلق بیماریوں کے واقعات، اور میٹرنٹی ہومز اور مضافاتی اسپتالوں میں صلاحیت میں توسیع اور مرمت کے کاموں کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال (سائن)، گوونڈی شتابدی اسپتال، اور ما اسپتال (چیمبور) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔پراجکتا ورما-لاونگیرے نے محکمہ کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ صحت کے انتظامیہ کے کاموں میں شفافیت اور شہری مسائل کے جلد حل کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جائزہ لیں۔ انہوں نے زون کے اندر اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ سائٹ کا دورہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں طلبا کی فتح پر ‘جشن فتح’… طلبا پر تشدد برپا کرنے والے پولس والوں پر کارروائی کا مطالبہ ابھی نامکمل : ادھو ٹھاکرے

Published

on

Raj-&-Uddhav

ممبئی میں طلبا کی تاریخی فتح پر ‘جشن فتح’ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دلی جنتر منتر پر دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد بھی احتجاج جاری رہے گا۔ یہ موقف کاکروچ جنتا پارٹی لیڈر ابھجیت دیپکے نے جاری کیا ہے۔ ممبئی میں ترنگا مارچ کے ساتھ اب ‘جشن فتح’ منایا جائے گا یہ اعلان یہاں پریس کانفرنس میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شیواجی پارک کے پاس ہی اسٹیج تیار کیا جائے گا اور وہاں پر ہی مجمع جمع ہو گا۔ سدھی ونائک تک مارچ نہیں ہو گا۔ راج ٹھاکرے نے بتایا کہ یہ طلبا کے لئے بڑی کامیابی ہے, اس کا جشن منانے کے لیے یہ مارچ منعقد کیا گیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیا گیا ہے۔ ان کا استعفی لینے کے بعد ان کا محکمہ تو تبدیل نہیں کیا گیا یہ اب تک واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استعفیٰ پر ہی طلبا مطمئن نہیں ہے۔ جن پولس اہلکاروں و افسران نے طلبا پر تشدد کیا ان پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کا مطالبہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے, جس طرح سے طلبا پر بربریت کی گئی وہ سراسر غلط ہے, لیکن طلبا ثابت قدم تھے اتنا ہی نہیں انہوں نے احتجاج کے دوران تکالیف برداشت کی اور یہی وجہ کہ سرکار کو ان طلبا کے سامنے جھکنا پڑا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے سرکار نے یہ سمجھا تھا کہ وہ کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی, لیکن طلبا نے اسے مجبور کر دیا۔ ممبئی میں طلبا کے ساتھ اظہار ہمددردی کے لیے ‘جشن فتح’ منایا جائے گا اور روایتی طریقے سے ترنگا ریلی منعقد ہو گی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ابھیجیت دپیکے سے بات کر کے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان