Connect with us
Sunday,24-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

آج 6 دسمبر یوم سیاہ پر بابری مسجد مسلمانوں کو آواز دے رہی ہیں

Published

on

babri-masjid

(وفا ناہید)
بابری مسجد قطعہ اراضی پر فیصلہ آئے آج 28 دن ہوگئے. حالانکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں تھا. ناہی انصاف پر مبنی تھا. یہ فیصلہ سراسر آستھا کی بنیاد پر تھا. سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بھی جمہوریت کا قتل تھا. جمہوریت کا ایک بار قتل اس وقت ہوا تھا جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا. اتنا تو سب کو پتہ تھا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آئے گا. پھر بھی سپریم کورٹ پر , قانون پر مسلمانوں کو بھروسہ تھا. آخر مسلمانوں کے دل میں جلی آس کی وہ ننھی سی چنگاری بھی بجھ گئی. حالانکہ جمعیت علماء (ارشد مدنی) نے ریویو پٹیشن داخل کی ہے. مگر اس کا بھی وہی حشر ہوگا یہ ہم سب جانتے ہیں. جس ملک میں مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کیا جارہا ہے. اس ملک میں اس کی عبادت گاہوں کی حفاظت چہ معنی دارد. جس ملک کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں نے خون کی ندیاں بہا دی تھی. آج اسی ملک میں اس سے حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے. ان کی قدیم بابری مسجد پر ایک شازش کے تحت دھیرے دھیرے اس طرح شکنجہ کسا گیا کہ 6 دسمبر 1992 کے منحوس دن ایک منصوبہ بند شازش کے تحت بابری مسجد شہید کردی گئی. بابری مسجد شہادت کے بعد 92 ,93 کے فسادات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا. ان کی ماں بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا. اس جمہوری ملک میں جس طرح پرامن احتجاج پر مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا. وہ جمہوریت کی دھجیاں اڑانے کے لیے کافی تھا. آج پھر 6 دسمبر ہے یعنی یوم سیاہ. بابری مسجد شہادت کے بعد سے مسلمان 6 دسمبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں. مالیگاؤں میں مرحوم بزرگ رہنما ساتھی نہال احمد بازوؤں پر کالی فیت باندھ کر یوم سیاہ پر احتجاج کرتے تھے. مرحوم نے وصیت کی تھی کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے اس احتجاج کو بابری مسجد کی بازیابی تک جاری رکھا جائے . آج نہال احمد تو ہمارے درمیان نہیں ہے مگر بابری مسجد بچاؤ کمیٹی آج 6 دسمبر کو کالی فیت باندھ کر شہر میں 3 بج کر 45 منٹ پر اذان دے گی اور اپنا پرامن احتجاج کریں گی. یہاں ایک سوال قابل غور ہے کہ کچھ سیاسی و غیر سیاسی افراد اور کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہمیں قبول کرلینا چاہئے. ریویو پٹیشن سے صرف وقت ضائع ہوگا. اب ان احمقوں کی جنت میں رہتے والوں سے کون بولے کہ مسلمان جس جگہ مسجد بناکر نماز پڑھ لیں وہ جگہ تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے. مسجد اللہ کا گھر ہے. اب بابری مسجد میں لوگوں نے شیلانیاس کی یا مورتیاں رکھیں مگر ہے تو وہ مسجد ہی اور اس کی ایک اینٹ پر بھی کسی کا حق نہیں ہے. شاید خدا ہم سے ناراض ہیں اسی لئے آج ہم بابری مسجد کو دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہے. اگر ہم سچے دل سے تائب ہوکر بارگاہ خدا وندی میں بغیر کسی تفریق کے ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں تو ہمارا یہ اتحاد ہی اس زعفرانی ٹولے کے حوصلے پست کرے گا. کہتے ہیں کہ جب ہمارے گناہ بڑھ جاتے ہیں تو خدا ہم پر ایک ظالم حکمراں کو مسلط کردیتا ہے. مسلمانوں اپنے ایمان, اپنے دین کے لیے ایک ہوجاؤ تو پھر کسی شرپسند عناصر کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ تمہاری بابری مسجد تم سے چھین سکے. آقائے رحمت صلعم کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو اپنے دلوں سے کینہ کو نکال کر ایمان کی روشنی سے بھر دو اور متحد ہوجاؤ کہ تمہاری بابری مسجد تم کو آواز دے رہی ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان