(جنرل (عام
مالیگاؤں ڈیجیٹل میڈیا کے نوجوان صحافیوں سے گرین جرنالزم کی امید : امتیاز خلیل

مالیگاؤں (نامہ نگار ) لاک ڈاؤن کے دوران جب سب اپنے گھروں میں قید تھے اور سیاسی لیڈران اپنے حجروں سے بیان بازیاں کررہے تھے. تب انتظامیہ من مانی کررہی تھی. شہر کے تمام ہسپتال بند ہوچکے تھے اور غریب عوام لاچار و مجبور تھی. اس وقت شہریان کو شہر کے حالات سے باخبر کرنےکے لیے یوٹیوبرس جان ہتھیلی پر لئے بے لوث صحافتی خدمات انجام دے رہے تھے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا.اس وقت درپیش نازک حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یوٹیوبرس کبھی کسی سیاسی لیڈر کا مہرہ نہیں بنے البتہ انھوں نے خود غرض لیڈران کو اپنے ویڈیوز کے ذریعے بے نقاب ضرور کیا.ساتھ ہی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا اورمالیگاؤں کے کاڑھے کو مشہور کیا.
یاد رہے کہ انہیں یوٹیوبرس نے اپنے ویڈیوز کے زریعے اس وقت کے سنگین حالات کو قید کر ریاستی و ملکی سطح پر آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے تمام یوٹیوبرس کی خدمات کا اعتراف مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا گیا. پروگرام کے دوران لاک ڈاؤن میں یوٹیوبرز کی صحافتی خدمات پر مبنی ویڈیو بھی پیش کی گئی.
“جس شہر میں زرد صحافت ہوگی اس شہر کا انتظامیہ اور سیاسی لیڈران بدعنوان ہی ہونگے. صحافت ایک ذمہ داری ہے اور صحافی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ عوام تک سچ بات پہنچائے. اگر صحافی بننا ہے تو خود سے پوچھ کر صحافت میں قدم رکھو نا کہ کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اور صحافی کا کام تو ہے ہی آئینہ دکھانا.” اسطرح کا اظہار و خیال سینئر صحافی امتیاز خلیل نے الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا.
مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے زیر اہتمام جرنالزم ورکشاپ کا انعقاد پرزم کمپیوٹر اکیڈمی, امان اللہ خان ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی, یارسول اللہ مسجد کے سامنے, کسمبا روڈ پر کل شب کیا گیا تھا. اس پروگرام کی صدارت سینئر صحافی امتیاز خلیل نے کی اور بطور مقرر و مہمانان خصوصی انصاری احسان الرحیم (سینئر صحافی), آصف عبداللہ (ایڈیٹر, سچ بات) شکیل حنیف (اولین بلاگر ہمارا مالیگاؤں), وسیم رضا خان (ایڈیٹر, ہیڈ لائن پوسٹ), اظہر مرزا (نمائندہ, انقلاب ممبئی), اشرف اسرائیل (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد), نعمان انصاری (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد) و دیگر نے شرکت کی.
امتیاز خلیل نے شہر مالیگاؤں کے یوٹیوبرس, بلاگرز اینڈ سوشل میڈیا رائٹرز کو صحافی مان کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جو کام کررہے ہیں وہ صحافت ہی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بنیادی صحافتی اصولوں, زبان و بیان اور پیشہ ورانہ صحافت سیکھیں . انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کی جانے والی صحافت, الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا طریقہ کار بہت الگ ہے. موصوف نے مختلف مثالیں دیکر ڈیجیٹل جرنالزم میں کام کرنے کا طریقہ پیش کیا. نیز اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں نوجوان صحافیوں کی رہنمائی بھی کی. موصوف نے کہا کہ انھیں مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے وجود میں آنے سے گرین جرنالزم کی امید ہے.
مدعو کردہ مقرر وسیم رضا خان نے مالیگاؤں شہر کے تمام الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد کو مشورہ دیا کہ پہلے اپنے چینل یا پورٹل کو کسی طرح رجسٹرڈ کر لیں، اس کے بعد میدان صحافت میں کھل کر کام کریں اور انتظامیہ و سرکاری افسران سے سوالات بھی کریں. موصوف نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں.
شکیل حنیف نے موجودہ صحافت کے جدید طریقوں پر نوجوان صحافیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کس شعبہ میں آپ نےکام کرنا ہے. یوٹیوب یا بلاگ کس مقصد کے تحت بنانا ہے. جیسے نیوز, اسپورٹس, فٹنیس, کھانا بنانا, ادب, کلچرل و دیگر مختلف شعبوں کا انتخاب کریں. کم ویوز اور منفی کمنٹس ملنے پر احساس کمتری کا شکار ہرگز نہ ہوں. اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق مسلسل محنت و لگن سے معیاری کام کریں، کامیابی ضرورآپ کے قدم چومے گی.
انصاری احسان الرحیم نے اس صحافتی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کر کے نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی. انھوں نے کہا کہ انہوں نے اس عمر میں بھی سینیئر ہونے کے باوجود جدید صحافت کو سیکھنے کی غرض سے اس ورکشاپ میں شرکت کی. نیز موصوف نےنوجوان صحافیوں کے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات بھی پیش کیں.
اظہر مرزا نے کہا کہ مالیگاؤں میں ابھی ابھی جس صحافت نے جنم لیا ہے اسے ڈیجیٹل جرنلزم کہتے ہیں. جس میں صحافی یوٹیوب چینلز, بلاگس اور نیوز پورٹلس کا استعمال کر رہے ہیں. موصوف نے اپنے تاثرات میں کہا کہ جو نئے یوٹیوبرز اور بلاگرز ہیں وہ بہت ساری غلطیاں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں غلط پیغام جارہا ہے. انھیں چاہئے کہ ان غلطیوں کو درست کریں. یوٹیوبرز صرف ویوز کیلئے ویڈیوس نہ بنائیں بلکہ اچھی مثبت خبریں پیش کریں اور صحافت کے ساتھ انصاف کریں یا پھر شعبہ صحافت چھوڑ دیں.
حیدرآباد شہر سے تشریف لائے صحافی اشرف اسرائیل اور نعمان انصاری کا اس پروگرام میں خصوصی استقبال کیا گیا. نیز دونوں صحافیوں نے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے بعد پیشہ ورانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دینے تک کی رہنمائی پیش کی.
اس کامیاب ورکشاپ کے اغراض و مقاصد کو سینئر صحافی منصور اکبرنے پیش کیا اور نظامت کے فرائض رضوان ربانی نے بخوبی نبھائے.پروگرام کا آغاز عمار انصاری کی قرأت سے ہوا اور اخیر میں کوآرڈینٹر فرنود رومی نے تمام معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا. اس پروگرام میں مشتاق احمد مشتاق, احمد نعیم, آصف فیضی, پرنس رحمان, عمران راشد, جابر شاہ, جاوید شیخ, ریحان اختر, عبداللہ انصاری, عبدالاحد انصاری, شعیب مسعود, محسن حمید اور دیگر یوٹیوبرز, بلاگز اور سوشل میڈیا رائٹرز نے اپنی شرکت درج کروائی.غرضیکہ یہ پروگرام انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
(جنرل (عام
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔
اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔
اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا