Connect with us
Tuesday,09-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں ڈیجیٹل میڈیا کے نوجوان صحافیوں سے گرین جرنالزم کی امید : امتیاز خلیل

Published

on

digital-media

مالیگاؤں (نامہ نگار ) لاک ڈاؤن کے دوران جب سب اپنے گھروں میں قید تھے اور سیاسی لیڈران اپنے حجروں سے بیان بازیاں کررہے تھے. تب انتظامیہ من مانی کررہی تھی. شہر کے تمام ہسپتال بند ہوچکے تھے اور غریب عوام لاچار و مجبور تھی. اس وقت شہریان کو شہر کے حالات سے باخبر کرنےکے لیے یوٹیوبرس جان ہتھیلی پر لئے بے لوث صحافتی خدمات انجام دے رہے تھے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا.اس وقت درپیش نازک حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یوٹیوبرس کبھی کسی سیاسی لیڈر کا مہرہ نہیں بنے البتہ انھوں نے خود غرض لیڈران کو اپنے ویڈیوز کے ذریعے بے نقاب ضرور کیا.ساتھ ہی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا اورمالیگاؤں کے کاڑھے کو مشہور کیا.

یاد رہے کہ انہیں یوٹیوبرس نے اپنے ویڈیوز کے زریعے اس وقت کے سنگین حالات کو قید کر ریاستی و ملکی سطح پر آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے تمام یوٹیوبرس کی خدمات کا اعتراف مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا گیا. پروگرام کے دوران لاک ڈاؤن میں یوٹیوبرز کی صحافتی خدمات پر مبنی ویڈیو بھی پیش کی گئی.

“جس شہر میں زرد صحافت ہوگی اس شہر کا انتظامیہ اور سیاسی لیڈران بدعنوان ہی ہونگے. صحافت ایک ذمہ داری ہے اور صحافی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ عوام تک سچ بات پہنچائے. اگر صحافی بننا ہے تو خود سے پوچھ کر صحافت میں قدم رکھو نا کہ کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اور صحافی کا کام تو ہے ہی آئینہ دکھانا.” اسطرح کا اظہار و خیال سینئر صحافی امتیاز خلیل نے الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا.

مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے زیر اہتمام جرنالزم ورکشاپ کا انعقاد پرزم کمپیوٹر اکیڈمی, امان اللہ خان ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی, یارسول اللہ مسجد کے سامنے, کسمبا روڈ پر کل شب کیا گیا تھا. اس پروگرام کی صدارت سینئر صحافی امتیاز خلیل نے کی اور بطور مقرر و مہمانان خصوصی انصاری احسان الرحیم (سینئر صحافی), آصف عبداللہ (ایڈیٹر, سچ بات) شکیل حنیف (اولین بلاگر ہمارا مالیگاؤں), وسیم رضا خان (ایڈیٹر, ہیڈ لائن پوسٹ), اظہر مرزا (نمائندہ, انقلاب ممبئی), اشرف اسرائیل (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد), نعمان انصاری (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد) و دیگر نے شرکت کی.

امتیاز خلیل نے شہر مالیگاؤں کے یوٹیوبرس, بلاگرز اینڈ سوشل میڈیا رائٹرز کو صحافی مان کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جو کام کررہے ہیں وہ صحافت ہی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بنیادی صحافتی اصولوں, زبان و بیان اور پیشہ ورانہ صحافت سیکھیں . انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کی جانے والی صحافت, الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا طریقہ کار بہت الگ ہے. موصوف نے مختلف مثالیں دیکر ڈیجیٹل جرنالزم میں کام کرنے کا طریقہ پیش کیا. نیز اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں نوجوان صحافیوں کی رہنمائی بھی کی. موصوف نے کہا کہ انھیں مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے وجود میں آنے سے گرین جرنالزم کی امید ہے.

مدعو کردہ مقرر وسیم رضا خان نے مالیگاؤں شہر کے تمام الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد کو مشورہ دیا کہ پہلے اپنے چینل یا پورٹل کو کسی طرح رجسٹرڈ کر لیں، اس کے بعد میدان صحافت میں کھل کر کام کریں اور انتظامیہ و سرکاری افسران سے سوالات بھی کریں. موصوف نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں.

شکیل حنیف نے موجودہ صحافت کے جدید طریقوں پر نوجوان صحافیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کس شعبہ میں آپ نےکام کرنا ہے. یوٹیوب یا بلاگ کس مقصد کے تحت بنانا ہے. جیسے نیوز, اسپورٹس, فٹنیس, کھانا بنانا, ادب, کلچرل و دیگر مختلف شعبوں کا انتخاب کریں. کم ویوز اور منفی کمنٹس ملنے پر احساس کمتری کا شکار ہرگز نہ ہوں. اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق مسلسل محنت و لگن سے معیاری کام کریں، کامیابی ضرورآپ کے قدم چومے گی.

انصاری احسان الرحیم نے اس صحافتی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کر کے نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی. انھوں نے کہا کہ انہوں نے اس عمر میں بھی سینیئر ہونے کے باوجود جدید صحافت کو سیکھنے کی غرض سے اس ورکشاپ میں شرکت کی. نیز موصوف نےنوجوان صحافیوں کے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات بھی پیش کیں.

اظہر مرزا نے کہا کہ مالیگاؤں میں ابھی ابھی جس صحافت نے جنم لیا ہے اسے ڈیجیٹل جرنلزم کہتے ہیں. جس میں صحافی یوٹیوب چینلز, بلاگس اور نیوز پورٹلس کا استعمال کر رہے ہیں. موصوف نے اپنے تاثرات میں کہا کہ جو نئے یوٹیوبرز اور بلاگرز ہیں وہ بہت ساری غلطیاں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں غلط پیغام جارہا ہے. انھیں چاہئے کہ ان غلطیوں کو درست کریں. یوٹیوبرز صرف ویوز کیلئے ویڈیوس نہ بنائیں بلکہ اچھی مثبت خبریں پیش کریں اور صحافت کے ساتھ انصاف کریں یا پھر شعبہ صحافت چھوڑ دیں.

حیدرآباد شہر سے تشریف لائے صحافی اشرف اسرائیل اور نعمان انصاری کا اس پروگرام میں خصوصی استقبال کیا گیا. نیز دونوں صحافیوں نے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے بعد پیشہ ورانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دینے تک کی رہنمائی پیش کی.

اس کامیاب ورکشاپ کے اغراض و مقاصد کو سینئر صحافی منصور اکبرنے پیش کیا اور نظامت کے فرائض رضوان ربانی نے بخوبی نبھائے.پروگرام کا آغاز عمار انصاری کی قرأت سے ہوا اور اخیر میں کوآرڈینٹر فرنود رومی نے تمام معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا. اس پروگرام میں مشتاق احمد مشتاق, احمد نعیم, آصف فیضی, پرنس رحمان, عمران راشد, جابر شاہ, جاوید شیخ, ریحان اختر, عبداللہ انصاری, عبدالاحد انصاری, شعیب مسعود, محسن حمید اور دیگر یوٹیوبرز, بلاگز اور سوشل میڈیا رائٹرز نے اپنی شرکت درج کروائی.غرضیکہ یہ پروگرام انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : میگھواڑی، لال باغ، پریل علاقوں میں اسکولوں اور تفریحی میدانوں کے لیے مختص پلاٹوں پر تعمیرات کی بے دخلی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی کارروائی

Published

on

Demuletion

ممبئی : میونسپل کارپوریشن کے ایف (جنوبی) ڈویژن کی طرف سے کی گئی ایک جرات مندانہ کارروائی میں، میگھواڑی، لال باغ، پریل علاقوں میں اسکولوں اور تفریحی میدانوں کے لیے مختص پلاٹوں پر 4 تعمیرات کو آج (9 جون 2026) کو بے دخل کر دیا گیا۔ مذکورہ پلاٹوں کو خالی کرانے کے لیے گزشتہ 12 سال سے کوششیں جاری تھیں۔ اس کے ساتھ ہی میگھواڑی، لال باغ، پریل اور کالا چوکی علاقوں کے 50 ہزار سے زائد شہریوں کے لیے تفریحی میدان کھل جائیں گے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی، ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے کی رہنمائی میں، یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر (ایف ساؤتھ زون) وروشالی انگولے کی قیادت میں کی گئی۔ ڈیولپمنٹ پلاننگ پلان -2034 کے مطابق، میگھواڑی، لال باغ، پریل اور کالاچوکی علاقوں میں خالی اراضی نمبر 1/118، 1بی/118، 2/118، 3/118، 4/118 اور 7/118 کو تفریحی میدان اور میونسپل اسکول کے طور پر عوامی مقاصد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس پلاٹ کا کل رقبہ 7 ہزار 872.14 مربع میٹر ہے۔ جن میں سے 13 خالی پلاٹ ہولڈرز تقریباً 274 مربع میٹر کے رقبے پر رہائش پذیر تھے۔ مذکورہ کرایہ داروں کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن ہولڈرز کو میونسپل کارپوریشن کی مروجہ پالیسی کے مطابق مقامی ریڈی ریکنر ریٹ کے مطابق متبادل فلیٹ یا مالی معاوضے کا انتخاب کرنے کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ اس کے مطابق، انہیں متعلقہ تعمیرات کو خالی کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ان 13 تعمیرات میں سے 07 تعمیرات کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔ تاہم باقی ماندہ 06 تعمیرات کی بے دخلی کی کارروائی جلد کی جائے گی۔ مذکورہ پلاٹ کو خالی کرانے کے لیے گزشتہ 12 سال سے کوششیں جاری تھیں۔ اس کے ساتھ ہی تفریحی میدان میگھواڑی، لال باغ، پریل اور کالا چوکی علاقوں کے 50 ہزار سے زیادہ شہریوں کے لیے کھلا رہے گا۔

تجاوزات کے خاتمے کے لیے 02 جے سی بیز، 01 ڈمپر، 01 ایمبولینس اور دیگر آلات کی مدد سے یہ بے دخلی کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران میونسپل کارپوریشن کے 45 افسران و ملازمین کے ساتھ مناسب پولیس فورس تعینات کی گئی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ میونسپل کارپوریشن کی ۹ مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائی، حالات کشیدہ لیکن امن برقرار، پولس سیکورٹی سخت ۴ افراد زیر حراست

Published

on

JCB

ممبئی مہاراشٹر میں غیر قانونی مذہبی مقامات منادر اور مساجد کے خلاف انتظامیہ نے کاروائی تیز کردی ہے۔ پونہ کے چکھلی پمپڑی چنچوڑ میں ۹ مذہبی مقامات منادر اور مساجد پر انہدامی کارروائی کے دوران یہاں واقعہ چشتیہ مسجد پر انہدامی کارروائی کے دوران پر پولس پر پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے, پولس نے حالات کو قابو میں کرتے ہوئے ۴ افراد کو زیر حراست لیا۔ اب حالات پرامن ضرور ہے, لیکن کشیدگی برقرار ہے پولس نے یہاں اضافی بندوبست بھی تعینات کردیا ہے۔ پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن نے ۹ مئی کو رات 02:30 سے ​​5.30 بجے تک چکھلی پولیس اسٹیشن کے تحت کدل واڑی، چکھلی میں غیر مجاز تعمیرات کو بے دخل کرنے کی کارروائی کی۔ مذکورہ غیر مجاز بے دخلی کی کارروائی میں پانچ مساجد اور پانچ مندروں، مذہبی مقامات پر کارروائی کی گئی ہے۔

غیر مجاز تعمیرات کے 10 مذہبی مقامات مندر اور مسجدوں میں مسجد نعیم گروپ نمبر 692، وسوا چوک چکھلی آر سی سی پترشیڈ 12 میٹر x 30 میٹر، مسجد ابوہریرہپلاٹ نمبر 879، نیرہ پٹرول پمپ کے قریب، کدلواڑی، چکھلی آر سی سی(جی) + پہلی منزل کا کاغذی شیڈ 8m × 20m، چشتیہ مسجدگروپ نمبر۔ 878/879، نائرہ پیٹرول پمپ کے بالمقابل، کدلواڑی، چکھلی آر سی سی + لیٹر شیڈ (جی+1) 22m x 12m آر سی سی 32m x 18m لیٹر شیڈ، حضرت شبیر بخاری بابا درگاہ- لاٹ نمبر 896، نزد موہنیشور مہادیو مندر روڈ، کدلواڑی، چکھلی پونے پترشیڈ 2m X 2m،رائل کالونی مسجد گروپ نمبر۔ 903، 904، کستوری فلورا کے بالمقابل، کدلواڑی، چکھلی پونے پتراشیڈ 6 میٹر x 12 میٹر اورشری کاشی کا گروجی مندر موئی پل کے قریب، چکھلی گاؤں آر سی سی(جی) 2.5m X 2.5mشری وٹھل رکمنی مندر – چکھلی اکورڈی روڈ، چکھلی آر سی سی(جی) 2.5m x 2.5m، شری تلجا بھوانی مندر – Sec.No. 16، فائر اسٹیشن کے قریب، چکھلی آر سی سی(جی)، پترا شیڈ 18mx18m سے اوپر،شری ویروبا مندرگروپ نمبر 824، سدھی ونائک اسپتال کے قریب، یادو نگر، چکھلی آر سی سی(جی) 2mx2m

شری ہنومان مندر – گروپ نمبر 908، پدروستی، چکھلی اینٹوں کی تعمیر (جی) 3m x 3m شامل ہے۔ ایک مقام کو چھوڑ کر باقی نو مقامات پر انہدامی کارروائی کو پرامن طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے, جبکہ اس انہدامی کارروائی کے دوران چشتیہ مسجد پر کارروائی کے دوران تشدد پھوٹ پڑا اور پولیس پر پتھراؤ کی واردات انجام دی گئی۔ چشتیہ مسجد گروپ نمبر 878,879 نائرہ پیٹرول پمپ بالمقابل کدلواڑی، چکھلی پترا شیڈ نکالنے کے دوران، کچھ افراد نے اندھیرے کا فائدہ اٹھایا اور آپریشن کرنے والے افراد پر پتھراؤ کیا۔

مذکورہ پتھراؤ اندھیرے میں اچانک ہوا اور جس میں تین سے چار پولیس والوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ چار سے پانچ پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر پتھراؤ کرنے والوں میں تھانہ چکھلی نے چار افراد کو حراست میں لے لیا۔ جوائنٹ کمشنر آف پولیس پمپری چنچواڑ نے جائے وقوعہ پر حالات پر قابو پالیا اور جائے وقوعہ پر پولیس کارروائی کی اور چار لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ بے دخلی کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ یہ کارروائی ساڑھے پانچ بجے تک مکمل کرلی گئی ہے۔ چشتیہ مسجد کدلواڑی کے علاقے میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فساد مخالف دستہ کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ پولس نے اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر نگرانی بھی شروع کردی ہے اور شرپسندوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے, پتھراؤ کی واردات میں مزید کتنے افراد شریک تھے, اس کی جانچ بھی جاری ہے۔ پولس نے اس معاملہ میں مزید نامعلوم ملزمین کی گرفتاری سے بھی انکار نہیں کیا ہے محلہ کمیٹی اور امن کمیٹی کی میٹنگ بھی شروع ہے علاقہ میں امن وامان برقرار ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر حکومت کی کابینہ میں دیویندر فڈنویس کا اہم فیصلہ, محروم سابقہ کسانوں کی قرض معافی کو منظوری

Published

on

CM-Fadnavis

ممبئی : ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ آج (9 جون) کو وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقد ہوئی, جس میں بقیہ کسانوں کی قرض معافی کو منظوری دیدی گئی ہے۔ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ کا فیصلہ دیویندر فڑنویس ایکناتھ شندے سنیترا پوار نے کابینہ کی میٹنگ میں بڑا فیصلہ لیا۔ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ کا فیصلہ, ریاستی حکومت کی کابینہ کی میٹنگ آج (9 جون) کو وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کابینہ کے اس اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ (مہاراشٹر حکومت) کابینہ اجلاس میں کسانوں کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ وہ کسان جو پچھلی قرض معافی اسکیم سے محروم تھے, اب انہیں بھی قرض معافی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے لیے تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں, بہت سے کسان 2017 اور 2019 کی قرض معافی میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔ ان کسانوں کو قرض معافی کا فائدہ دلانے کے لیے بار بار مطالبہ کیا جا رہا تھا لہذا، آج ریاستی حکومت نے کابینہ کی میٹنگ میں 5 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے لیے ایک اہم فیصلہ لیا ہے, جو 2017 اور 2019 کے قرض معافی سے محروم تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان