Connect with us
Sunday,30-November-2025
تازہ خبریں

سیاست

شیوشینا اور کانگریس کے لئے خوش آئند ہے

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں موجودہ باڈی جو کہ 15 دسمبر کو اپنی ڈھائی سالہ معیاد پوری کررہی ہیں شیوشینا کانگریس کے اشتراک سے ہی وجود میں آئی تھی. جس کے میئر شیخ رشید شیخ شفیع اور ڈپٹی میئر شیوشینا کے سکھارام گھوڑکے ہے. اسی ماہ 12 دسمبر کو کارپوریشن کی دوسری معیاد کے لئے 8 ویں میئر کا چناؤ ہوگا. 4 دسمبر کو شام میں 4 بجے الیکشن پروگرام موصول ہوا. اس پروگرام کے تحت 12 دسمبر بروز جمعرات کی صبح 11 بجے میئر چناؤ کے لئے ووٹنگ ہوگی. واضح رہے کہ مالیگاؤں سے میئر چناؤ کے لئے قرعہ فال لیڈیز او بی سی نکلا ہے. میئر چناؤ کےلئے کانگریس کی جانب سے طاہرہ شیخ رشید امیدوار ہے تو مہاگٹھ بندھن کی جانب سے شان ہند چناؤ دنگل میں اپنی قسمت آزمائے گی. چونکہ میئر چناؤ میں دو رخی مقابلہ ہے. جس کی وجہ سے میئر گیم بہت دلچسپ موڑ پر داخل ہوگیا ہے. اب تک ڈپئی میئر کے لئے دونوں پارٹیوں کی جانب سے کوئی خلاصہ نہیں ہوسکا . کارپوریشن کے قیا م کے بعد سے اب تک کانگریس کے شیخ رشید خانوادہ سے 3 میئر کا انتخاب عمل میں آچکا ہے. جس میں آصف شیخ رشید, طاہرہ شیخ رشید اور شیخ رشید شامل ہے. طاہرہ شیخ رشید کو مالیگاؤں کی اولین خاتون میئر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے. اپوزیشن کی جانب سے مرحوم نہال احمد, نجم الدین کھجور والے, عبدالمالک یونس عیسی اور ابراہیم سیٹھ نیشنل کے سر مالیگاؤں کے میئر بننے کا سہرا ہے. اس طرح کارپوریشن نے اپنے 15 سال کے سفر میں مالیگاؤں کو 7 میئر عطا کئے. جس میں کانگریس کے 3 اور اپوزیشن کے 4 میئر شامل ہے. مگر شہر کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا ترقی کس کی ہوئی ؟ شہر میں مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں. شہر کا فلائے اوور بریج. پہلے تو اس بریج پر خوب سیاست ہوئی. اس کے بعد فلائے اوور کی تعمیر کا آغاز ہوا. ستمبر 2019 میں فلائے اوور کی تعمیر کی معیاد مکمل ہوگئی اور آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ فلائے اوور ابھی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے. جس کے بعد سابق ایم ایل اے نے ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کردیا. دراصل مالیگاؤں میں دھرنا آندولن کی سیاست چلتی ہے. اس کی مثال بھی مل جائے گی. اب جب کہ میئر چناؤ ہے سنا جارہا ہے کہ شہر کی ناک اولڈ آگرہ روڑ کی حالت ناقابل بیان ہے. (آگرہ روڑ کی حالت شاید کانگریسی کارپوریٹرس کو اب سمجھ میں آئی ہے . کوئی بات نہیں دیر آئے درست آئے) میئر الیکشن سے قبل کانگریس کے ہی 2 کارپوریٹر انصاری محمد اسلم اور سابق کارپوریٹر شکیل جانی بیگ نے بروز جمعرات دوپہر سے شام تک کمشنر کے دفتر کے دروازے کے باہر دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ پرانے آگرہ روڈ کی فوراً درستی کی جائے ۔ اس سے پہلے کئی بار کارپوریشن کے آفیسران کو اس تعلق سے معلومات دی جاچکی ہے ۔ پربھاگ آفیسر ، باندھ کام انجینئر ، اسسٹنٹ انجینئر اور سٹی انجینئرس نے ہماری شکایت پر دھیان نہیں دیا ، ایک بھی بار اس راستے کا معائنہ نہیں کیا اور شکایت دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اس لئے انہیں دھرنا دینا پڑا۔ جب تک اس ہائی وے کا کام شروع نہیں ہوجاتا . تب تک انہوں نے دھرنا دینے کا طے کیا ہے۔ ہے نا دلچسپ اور مسالحے دار گرما گرم موضوع. ایک ہتھوڑے میں کام ہوجائے گا. کیونکہ لوہا گرم ہے. اب ہم جہاں سے چلے تھے وہی آگئے. شہر کی عوام نے تقریباً دونوں پلڑے میں توازن کو برقرار رکھا ہے. مگر اس کے باوجود شہر میں تعمیری کاموں. ک فقدان اور مسائل دیکھ کر یاد آتا ہے کہ مسائل زندہ رہیں گے تو لیڈر زندہ رہے گا. اب جناب جب کہ
شہرِ مالیگاؤں میں ایم،ایل،اے مسلمان، میئر مسلمان، اسٹینڈنگ چیئرمین مسلمان، کارپوریٹروں کی اکثریت مسلمان، سالانہ تقریباً 450 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن، قائد و سالار، قائدِ نسلِ نو، رہبرِ ملت وغیرہ وغیرہ شخصیت یہاں پر موجود ہیں ۔ تعمیر و ترقی پسند، بیت المال کی حفاظت کا نعرہ بڑے زور و شور سے گونجتا ہے باوجود اس کے جب مالیگاؤں شہر کا جائزہ لیا جائے تو غیر مسلم علاقوں کی بہ نسبت مسلم علاقوں میں بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ گندگی، دھول، مٹی، آوارہ کتّے، مچھروں کی بھرمار، کچروں کا انبار وغیرہ سے شہریان بےانتہا پریشان ہیں جراشیم کُش ادویات کا چھڑکاؤ نا ہونے کی وجہ سے پورا شہر، ڈینگو، وائرل فیور، دَمہ، جگر اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں مالیگاؤں شہر میں محکمہ حفظانِ صحت و صفائی نظام مُردہ ہوچکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبّی سہولیات کا فقدان ہے۔ بار بار اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، شوشل میڈیا و دیگر ذرائع سے اطلاعات دی جارہی ہیں مگر افسوس ،صد افسوس. مالیگاؤں شہر کے مریضوں کی اکثریت ڈینگو، ڈائریا، وائرل فیور، نمونیا وغیرہ سے پریشان ہیں۔ ان امراض کی وجہ سے مالیگاؤں شہر میں کئی اموات واقع ہوچکی ہیں لیکن ہمارےمسلم نمائندوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. اب جب کہ کارپوریشن کے 8ویں میئر کا عنقریب انتخاب عمل میں آئے گا. اس میئر کے سر پر کانٹوں کا تاج ہوگا. کیونکہ ہر لحاظ سے پچھڑے ہوئے اس شہر کی نوک پلک درست کرنے میں ہی ڈھائی سال بیت جانے گے. اگر اس نئے میئر نے اپنی دوراندیشی اور حکمت عملی سے مسائل پر قابو پایا اور شہر کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کردیا تو آنے والے کارپوریشن الیکشن میں وہی پارٹی اپنی اکثریت ثابت کریں گی. ورنہ اگر عوام سر پر بیٹھنا جانتی ہے تو سر سے اتارنا بھی جانتی ہے.

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com