Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

شیوشینا اور کانگریس کے لئے خوش آئند ہے

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں موجودہ باڈی جو کہ 15 دسمبر کو اپنی ڈھائی سالہ معیاد پوری کررہی ہیں شیوشینا کانگریس کے اشتراک سے ہی وجود میں آئی تھی. جس کے میئر شیخ رشید شیخ شفیع اور ڈپٹی میئر شیوشینا کے سکھارام گھوڑکے ہے. اسی ماہ 12 دسمبر کو کارپوریشن کی دوسری معیاد کے لئے 8 ویں میئر کا چناؤ ہوگا. 4 دسمبر کو شام میں 4 بجے الیکشن پروگرام موصول ہوا. اس پروگرام کے تحت 12 دسمبر بروز جمعرات کی صبح 11 بجے میئر چناؤ کے لئے ووٹنگ ہوگی. واضح رہے کہ مالیگاؤں سے میئر چناؤ کے لئے قرعہ فال لیڈیز او بی سی نکلا ہے. میئر چناؤ کےلئے کانگریس کی جانب سے طاہرہ شیخ رشید امیدوار ہے تو مہاگٹھ بندھن کی جانب سے شان ہند چناؤ دنگل میں اپنی قسمت آزمائے گی. چونکہ میئر چناؤ میں دو رخی مقابلہ ہے. جس کی وجہ سے میئر گیم بہت دلچسپ موڑ پر داخل ہوگیا ہے. اب تک ڈپئی میئر کے لئے دونوں پارٹیوں کی جانب سے کوئی خلاصہ نہیں ہوسکا . کارپوریشن کے قیا م کے بعد سے اب تک کانگریس کے شیخ رشید خانوادہ سے 3 میئر کا انتخاب عمل میں آچکا ہے. جس میں آصف شیخ رشید, طاہرہ شیخ رشید اور شیخ رشید شامل ہے. طاہرہ شیخ رشید کو مالیگاؤں کی اولین خاتون میئر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے. اپوزیشن کی جانب سے مرحوم نہال احمد, نجم الدین کھجور والے, عبدالمالک یونس عیسی اور ابراہیم سیٹھ نیشنل کے سر مالیگاؤں کے میئر بننے کا سہرا ہے. اس طرح کارپوریشن نے اپنے 15 سال کے سفر میں مالیگاؤں کو 7 میئر عطا کئے. جس میں کانگریس کے 3 اور اپوزیشن کے 4 میئر شامل ہے. مگر شہر کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا ترقی کس کی ہوئی ؟ شہر میں مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں. شہر کا فلائے اوور بریج. پہلے تو اس بریج پر خوب سیاست ہوئی. اس کے بعد فلائے اوور کی تعمیر کا آغاز ہوا. ستمبر 2019 میں فلائے اوور کی تعمیر کی معیاد مکمل ہوگئی اور آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ فلائے اوور ابھی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے. جس کے بعد سابق ایم ایل اے نے ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کردیا. دراصل مالیگاؤں میں دھرنا آندولن کی سیاست چلتی ہے. اس کی مثال بھی مل جائے گی. اب جب کہ میئر چناؤ ہے سنا جارہا ہے کہ شہر کی ناک اولڈ آگرہ روڑ کی حالت ناقابل بیان ہے. (آگرہ روڑ کی حالت شاید کانگریسی کارپوریٹرس کو اب سمجھ میں آئی ہے . کوئی بات نہیں دیر آئے درست آئے) میئر الیکشن سے قبل کانگریس کے ہی 2 کارپوریٹر انصاری محمد اسلم اور سابق کارپوریٹر شکیل جانی بیگ نے بروز جمعرات دوپہر سے شام تک کمشنر کے دفتر کے دروازے کے باہر دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ پرانے آگرہ روڈ کی فوراً درستی کی جائے ۔ اس سے پہلے کئی بار کارپوریشن کے آفیسران کو اس تعلق سے معلومات دی جاچکی ہے ۔ پربھاگ آفیسر ، باندھ کام انجینئر ، اسسٹنٹ انجینئر اور سٹی انجینئرس نے ہماری شکایت پر دھیان نہیں دیا ، ایک بھی بار اس راستے کا معائنہ نہیں کیا اور شکایت دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اس لئے انہیں دھرنا دینا پڑا۔ جب تک اس ہائی وے کا کام شروع نہیں ہوجاتا . تب تک انہوں نے دھرنا دینے کا طے کیا ہے۔ ہے نا دلچسپ اور مسالحے دار گرما گرم موضوع. ایک ہتھوڑے میں کام ہوجائے گا. کیونکہ لوہا گرم ہے. اب ہم جہاں سے چلے تھے وہی آگئے. شہر کی عوام نے تقریباً دونوں پلڑے میں توازن کو برقرار رکھا ہے. مگر اس کے باوجود شہر میں تعمیری کاموں. ک فقدان اور مسائل دیکھ کر یاد آتا ہے کہ مسائل زندہ رہیں گے تو لیڈر زندہ رہے گا. اب جناب جب کہ
شہرِ مالیگاؤں میں ایم،ایل،اے مسلمان، میئر مسلمان، اسٹینڈنگ چیئرمین مسلمان، کارپوریٹروں کی اکثریت مسلمان، سالانہ تقریباً 450 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن، قائد و سالار، قائدِ نسلِ نو، رہبرِ ملت وغیرہ وغیرہ شخصیت یہاں پر موجود ہیں ۔ تعمیر و ترقی پسند، بیت المال کی حفاظت کا نعرہ بڑے زور و شور سے گونجتا ہے باوجود اس کے جب مالیگاؤں شہر کا جائزہ لیا جائے تو غیر مسلم علاقوں کی بہ نسبت مسلم علاقوں میں بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ گندگی، دھول، مٹی، آوارہ کتّے، مچھروں کی بھرمار، کچروں کا انبار وغیرہ سے شہریان بےانتہا پریشان ہیں جراشیم کُش ادویات کا چھڑکاؤ نا ہونے کی وجہ سے پورا شہر، ڈینگو، وائرل فیور، دَمہ، جگر اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں مالیگاؤں شہر میں محکمہ حفظانِ صحت و صفائی نظام مُردہ ہوچکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبّی سہولیات کا فقدان ہے۔ بار بار اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، شوشل میڈیا و دیگر ذرائع سے اطلاعات دی جارہی ہیں مگر افسوس ،صد افسوس. مالیگاؤں شہر کے مریضوں کی اکثریت ڈینگو، ڈائریا، وائرل فیور، نمونیا وغیرہ سے پریشان ہیں۔ ان امراض کی وجہ سے مالیگاؤں شہر میں کئی اموات واقع ہوچکی ہیں لیکن ہمارےمسلم نمائندوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. اب جب کہ کارپوریشن کے 8ویں میئر کا عنقریب انتخاب عمل میں آئے گا. اس میئر کے سر پر کانٹوں کا تاج ہوگا. کیونکہ ہر لحاظ سے پچھڑے ہوئے اس شہر کی نوک پلک درست کرنے میں ہی ڈھائی سال بیت جانے گے. اگر اس نئے میئر نے اپنی دوراندیشی اور حکمت عملی سے مسائل پر قابو پایا اور شہر کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کردیا تو آنے والے کارپوریشن الیکشن میں وہی پارٹی اپنی اکثریت ثابت کریں گی. ورنہ اگر عوام سر پر بیٹھنا جانتی ہے تو سر سے اتارنا بھی جانتی ہے.

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com