سیاست
شیوشینا اور کانگریس کے لئے خوش آئند ہے
(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں موجودہ باڈی جو کہ 15 دسمبر کو اپنی ڈھائی سالہ معیاد پوری کررہی ہیں شیوشینا کانگریس کے اشتراک سے ہی وجود میں آئی تھی. جس کے میئر شیخ رشید شیخ شفیع اور ڈپٹی میئر شیوشینا کے سکھارام گھوڑکے ہے. اسی ماہ 12 دسمبر کو کارپوریشن کی دوسری معیاد کے لئے 8 ویں میئر کا چناؤ ہوگا. 4 دسمبر کو شام میں 4 بجے الیکشن پروگرام موصول ہوا. اس پروگرام کے تحت 12 دسمبر بروز جمعرات کی صبح 11 بجے میئر چناؤ کے لئے ووٹنگ ہوگی. واضح رہے کہ مالیگاؤں سے میئر چناؤ کے لئے قرعہ فال لیڈیز او بی سی نکلا ہے. میئر چناؤ کےلئے کانگریس کی جانب سے طاہرہ شیخ رشید امیدوار ہے تو مہاگٹھ بندھن کی جانب سے شان ہند چناؤ دنگل میں اپنی قسمت آزمائے گی. چونکہ میئر چناؤ میں دو رخی مقابلہ ہے. جس کی وجہ سے میئر گیم بہت دلچسپ موڑ پر داخل ہوگیا ہے. اب تک ڈپئی میئر کے لئے دونوں پارٹیوں کی جانب سے کوئی خلاصہ نہیں ہوسکا . کارپوریشن کے قیا م کے بعد سے اب تک کانگریس کے شیخ رشید خانوادہ سے 3 میئر کا انتخاب عمل میں آچکا ہے. جس میں آصف شیخ رشید, طاہرہ شیخ رشید اور شیخ رشید شامل ہے. طاہرہ شیخ رشید کو مالیگاؤں کی اولین خاتون میئر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے. اپوزیشن کی جانب سے مرحوم نہال احمد, نجم الدین کھجور والے, عبدالمالک یونس عیسی اور ابراہیم سیٹھ نیشنل کے سر مالیگاؤں کے میئر بننے کا سہرا ہے. اس طرح کارپوریشن نے اپنے 15 سال کے سفر میں مالیگاؤں کو 7 میئر عطا کئے. جس میں کانگریس کے 3 اور اپوزیشن کے 4 میئر شامل ہے. مگر شہر کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا ترقی کس کی ہوئی ؟ شہر میں مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں. شہر کا فلائے اوور بریج. پہلے تو اس بریج پر خوب سیاست ہوئی. اس کے بعد فلائے اوور کی تعمیر کا آغاز ہوا. ستمبر 2019 میں فلائے اوور کی تعمیر کی معیاد مکمل ہوگئی اور آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ فلائے اوور ابھی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے. جس کے بعد سابق ایم ایل اے نے ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کردیا. دراصل مالیگاؤں میں دھرنا آندولن کی سیاست چلتی ہے. اس کی مثال بھی مل جائے گی. اب جب کہ میئر چناؤ ہے سنا جارہا ہے کہ شہر کی ناک اولڈ آگرہ روڑ کی حالت ناقابل بیان ہے. (آگرہ روڑ کی حالت شاید کانگریسی کارپوریٹرس کو اب سمجھ میں آئی ہے . کوئی بات نہیں دیر آئے درست آئے) میئر الیکشن سے قبل کانگریس کے ہی 2 کارپوریٹر انصاری محمد اسلم اور سابق کارپوریٹر شکیل جانی بیگ نے بروز جمعرات دوپہر سے شام تک کمشنر کے دفتر کے دروازے کے باہر دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ پرانے آگرہ روڈ کی فوراً درستی کی جائے ۔ اس سے پہلے کئی بار کارپوریشن کے آفیسران کو اس تعلق سے معلومات دی جاچکی ہے ۔ پربھاگ آفیسر ، باندھ کام انجینئر ، اسسٹنٹ انجینئر اور سٹی انجینئرس نے ہماری شکایت پر دھیان نہیں دیا ، ایک بھی بار اس راستے کا معائنہ نہیں کیا اور شکایت دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اس لئے انہیں دھرنا دینا پڑا۔ جب تک اس ہائی وے کا کام شروع نہیں ہوجاتا . تب تک انہوں نے دھرنا دینے کا طے کیا ہے۔ ہے نا دلچسپ اور مسالحے دار گرما گرم موضوع. ایک ہتھوڑے میں کام ہوجائے گا. کیونکہ لوہا گرم ہے. اب ہم جہاں سے چلے تھے وہی آگئے. شہر کی عوام نے تقریباً دونوں پلڑے میں توازن کو برقرار رکھا ہے. مگر اس کے باوجود شہر میں تعمیری کاموں. ک فقدان اور مسائل دیکھ کر یاد آتا ہے کہ مسائل زندہ رہیں گے تو لیڈر زندہ رہے گا. اب جناب جب کہ
شہرِ مالیگاؤں میں ایم،ایل،اے مسلمان، میئر مسلمان، اسٹینڈنگ چیئرمین مسلمان، کارپوریٹروں کی اکثریت مسلمان، سالانہ تقریباً 450 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن، قائد و سالار، قائدِ نسلِ نو، رہبرِ ملت وغیرہ وغیرہ شخصیت یہاں پر موجود ہیں ۔ تعمیر و ترقی پسند، بیت المال کی حفاظت کا نعرہ بڑے زور و شور سے گونجتا ہے باوجود اس کے جب مالیگاؤں شہر کا جائزہ لیا جائے تو غیر مسلم علاقوں کی بہ نسبت مسلم علاقوں میں بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ گندگی، دھول، مٹی، آوارہ کتّے، مچھروں کی بھرمار، کچروں کا انبار وغیرہ سے شہریان بےانتہا پریشان ہیں جراشیم کُش ادویات کا چھڑکاؤ نا ہونے کی وجہ سے پورا شہر، ڈینگو، وائرل فیور، دَمہ، جگر اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں مالیگاؤں شہر میں محکمہ حفظانِ صحت و صفائی نظام مُردہ ہوچکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبّی سہولیات کا فقدان ہے۔ بار بار اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، شوشل میڈیا و دیگر ذرائع سے اطلاعات دی جارہی ہیں مگر افسوس ،صد افسوس. مالیگاؤں شہر کے مریضوں کی اکثریت ڈینگو، ڈائریا، وائرل فیور، نمونیا وغیرہ سے پریشان ہیں۔ ان امراض کی وجہ سے مالیگاؤں شہر میں کئی اموات واقع ہوچکی ہیں لیکن ہمارےمسلم نمائندوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. اب جب کہ کارپوریشن کے 8ویں میئر کا عنقریب انتخاب عمل میں آئے گا. اس میئر کے سر پر کانٹوں کا تاج ہوگا. کیونکہ ہر لحاظ سے پچھڑے ہوئے اس شہر کی نوک پلک درست کرنے میں ہی ڈھائی سال بیت جانے گے. اگر اس نئے میئر نے اپنی دوراندیشی اور حکمت عملی سے مسائل پر قابو پایا اور شہر کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کردیا تو آنے والے کارپوریشن الیکشن میں وہی پارٹی اپنی اکثریت ثابت کریں گی. ورنہ اگر عوام سر پر بیٹھنا جانتی ہے تو سر سے اتارنا بھی جانتی ہے.
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
سیاست
ای سی آئی نے سومیت گپتا کو شمالی کولکتہ کے لیے ضلع انتخابی افسر مقرر کیا ہے۔

کولکتہ: ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے سمیت گپتا کو شمالی کولکاتہ کے لیے ضلعی انتخابی افسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کیا ہے، ریاستی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے اتوار کو بتایا۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے سے پہلے ہی شمالی کولکتہ کے ڈی ای او کا نام فائنل کر لیا گیا تھا۔ فی الحال، آئی اے ایس افسر سمیت گپتا کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق وہ اس الیکشن کے دوران شمالی کولکتہ کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے فرائض انجام دیں گے۔ عام طور پر، الیکشن کمیشن متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ تاہم کولکتہ میں قوانین مختلف ہیں۔ چونکہ کولکتہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نہیں ہے، اس لیے یہ ذمہ داری عام طور پر کسی مخصوص سرکاری محکمے کے آئی اے ایس رینک کے افسر کو سونپی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پہلے یہ ڈیوٹی کسی مخصوص نامزد اہلکار کو نہیں سونپی گئی تھی۔ تاہم اب اس انتظام کو باقاعدہ شکل دے دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو براہ راست شمالی کولکتہ کے لیے ریٹرننگ آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے آج اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان متوقع ہے۔ تاہم، اس سے پہلے، چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کی سربراہی میں کمیشن کی ایک فل بنچ نے مغربی بنگال کا دورہ کیا۔ انہوں نے انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا اور انتظامیہ اور پولیس دونوں کے ساتھ کئی میٹنگیں کیں۔ انہوں نے ریاست کی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ میٹنگیں بھی کیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مغربی بنگال میں انتخابات دو سے تین مرحلوں میں ہو سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ اتوار کو شام 4 بجے قومی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم، انتخابات کا باضابطہ اعلان ہونے سے پہلے ہی، الیکشن کمیشن نے شمالی کولکتہ کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر (ڈی ای او) کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
