Connect with us
Saturday,20-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کی فراہمی ہائیکورٹ نے کی تھی جی آر منسوخی، ابوعاصم اعظمی نے ناانصافی قرار دیا

Published

on

ممبئی 2014 میں کانگریس سرکار نے مسلم ریزرویش کو متعارف کرایا تھا لیکن نوٹیفیکشن ، آرڈیننس کبھی قانون نہیں بن سکا۔ حکومت بدل گئی، یہ عمل مکمل نہیں ہوا اور خود ہی کالعدم ہو گیا ۔اب کئی سال بعد اس غیر موثر آرڈیننس سے متعلق حکم نامہ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
سیدھا سا سوال یہ ہے کہ جب قانون کبھی نافذ ہی نہیں ہوا تھا تو آج اسے منسوخ کرنے کی رسم کیوں؟ اگر مقصد واقعی سماجی انصاف ہے تو اس نامکمل کام کو مضبوط قانونی بنیاد کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری تھا۔ یہاں بی جے پی سرکار کےمسلم ریزرویشن کو منسوخی پرسماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اسے نا انصافی قرار دیا ہے اور کہا کہ ہائیکورٹ نے پانچ فیصد مسلم ریزورویشن کو مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر برقرار رکھا تھا لیکن سرکار کی نیت صاف نہیں تھی جسٹس سچر کمیٹی اور محمود الرحمن نے بھی مسلمانوں کی معاشی اقتصادی بدحالی پر ریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی بی جے پی نے مراٹھا ریزرویشن کےلیے تو نوٹیفیکشن اور جی آر جاری کیا لیکن مسلم ریزرویشن پر کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اب اسے منسوخ کر دیا گیا جس ریزرویشن پر عمل آوری ہی نہیں کی گئی تو اس کو منسوخ کیونکر کیا گیا ؟
مہاراشٹر میں، مسلمانوں کے بہت سے ایسے طبقات ہیں جو روایتی پیشوں میں مصروف ہیں جو معاشی، تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 15(4) اور 16(4) حکومت کو سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ مسلمانوں اور طبقات کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اگر ضروری ہو تو، ریزرویشن کے فوائد کو ایس ای بی سی کے اندر اندرونی تقسیم (ذیلی درجہ بندی) کے ذریعے حقیقی طور پر پسماندہ طبقات تک فروغ دیا جائے اور وہ بھی درست اعداد و شمار اور سروے کی بنیاد پر 50% کی حد کے اندر مراعات فراہمی کی سفارش کی گئی ہے۔ آج، حکومت سے ایک ٹھوس سروے، سماجیات کا مطالعہ، یا نئی پالیسی کا خاکہ پیش کرنے کی توقع تھی۔ لیکن اس کے بجائے ایک ایسے آرڈیننس کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی غیر موثر ہو چکا ہے۔ مسئلہ تنازعات کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم سماجی انصاف کی ادھوری کہانی کو مکمل کریں گے یا محض رسمی اعلانات تک محدود رہیں گے؟ سماجی انصاف سیاسی کھیل نہیں ہے۔ یہ آئین کی روح ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ ریزرویشن کا معاملہ پہلے ہی نامکمل تھا لیکن اب بی جے پی سرکار نے اس جی آر کو ہی منسوخ کردیا جس پر کبھی اس نے خلوص کے ساتھ عمل آوری نہیں کی تھی بی جے پی سرکار نے مسلمانوں کو ریزیرویشن فراہمی پر کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا جبکہ کانگریس نے مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے یہ پالیسی کو متعارف ضرور کرایا لیکن یہ صرف سیاسی شعبدہ بازی ہی ثابت ہوئی اور ہائیکورٹ نے پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا اور کانگریس نے کبھی اس جی آر کو مستحکم کرنے کے لیے قانون نہیں بنایا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان