(جنرل (عام
مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان لفظی جھڑپ
(خیال اثر)
شہر کے تعمیری ذہن رکھنے والے ترقی پسند تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تنظیم مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ نے بروز منگل 8 ستمبر 2020 کو ڈپٹی کمشنر نتین کاپڑنیس کی آفس کے اندر شام پانچ بجے سے رات ساڑھے آٹھ بجے تک زمین پربیٹھ کردھرنا دیا.
مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے شہر کی سڑکوں کی مرمت, پیچ ورک, گھڑوں اور تعمیر نو کو لیکر گزشتہ ایک ماہ سے کل چھ مطالباتی مکتوب کمشنر ٹی ڈی کا سار اور ڈپٹی کمشنر کو دیئے گئے تھے. لیکن مسلسل نظر انداز کرنے کی صورت میں ایم ڈی ایف ٹیم کے نوجوانوں نے ڈپٹی کمشنر سے جواب طلب کرنے گئے تو ڈپٹی کمشنر ناراض ہوگئے اپنا موبائل ٹیبل پر پٹھک دیا اور غصے میں آکر پولس اہلکاروں کو بلوا کر دھرنے کو روکا دیا.
احتشام بیکری والا (صدر) نے جب ڈپٹی کمشنر نے التماس کیا کہ ہمارے ساتھ ملکر شہر کا دورہ کرو تو ڈپٹی کمشنر صاحب صفائی پیش کرنے لگے کہ شہر میں ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈ نہیں ہے. انھوں نے کہا کہ شہر کے مسائل کو مہا سبھا میں جاکر اٹھاؤ. ان کے بات کرنے کے طریقے سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ انھیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں نیز شہر کے بنیادی مسائل, ترقیاتی کاموں اور بدعنوانیوں پر خاموش اختیار کرو یعنی کاروریشن صرف عوام سے ٹیکس وصول کرے گی لیکن کام کے بارے میں سوال پوچھنا عوام کا کوئی حق نہیں ہے.
عمران راشد نے بطور جرنلسٹ سوالات کئے تو جناب برا مان گئے. میڈیا والوں کو تصویر و ویڈیو نکالنے سے منع اور انھیں بار جانے کو کہا. بعد ازاں عمران راشد نے بڑے ہی ادب اور صلیقہ سے کہا کہ دیکھو ایم ڈی ایف اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تنظیم ہے جو شہر کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں لیکن اس کے برخلاف ڈپٹی کمشنر غیر زمہ دار اور غیر اخلاقی طریقہ سے پیش آئے.
اسی طرح سے اسامہ اعظمی(ترجمان) اور دیگر اراکین نے ڈپٹی کمشنر سے گزارش کی کہ شہر کی سڑکوں کی مرمت کیوں نہیں ہورہی ہے تو اس پر ڈپٹی کمشنر نے طرح طرح کے جوابات دئیے.
ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہر مالیگاؤں کی تمام سڑکوں کا تعمیری کام ہوچکا ہے. انھوں نے لفظی جواب دیا کہ بارش کے بعد کام شروع کیا جائے گا. کبھی یہ کہا کہ آپ ٹھیکیدار اور وارڈ کے کارپوریٹر سے بات کرو. ایک بار یہ کہا کہ شہر کی سڑکوں پر گڑھے ہی نہیں ہے اگر ہے تو ثبوت پیش کرو. جس پر ایم ڈی ایف بطور ثبوت چند فوٹو پیش کئے. انھوں نے سڑکوں کی مرمت و تعمیر نو کو لیکر بھی صاف الفاظ میں ڈپلومیٹک باتیں پیش کی. پہلے کہا کہ اس کا بجٹ پاس اور کام بھی ہوا ہے. بعد میں یہ بھی کہنے لگے کہ کارپوریشن کے پاس سڑکوں کی مرمت کیلئے کوئی فنڈ نہیں ہے. نیز سو سے زائد لفظی طور پر بغیر سراور پیر کی باتیں کہیں لیکن ایک حملہ بھی تحریری طور پر نہیں دیا.
ایم ڈی ایف کے اراکین باربار ڈپٹی کمشنر سے تحریری جواب کی مانگ کرتے رہے یہاں تک کے شام پانچ بجے سے رات ساڑھے آٹھ بج گئے لیکن کمشنر ٹس سے مس نہیں ہوا.
جلدہی ایم ڈی ایف کے ہمراہ کمشنر و ڈپٹی کمشنر کو شہر کا دورہ کرایا جائے گا. اس دھرنا میں احتشام بیکری والا (کمپیوٹر انجینئر), عمران راشد (ایم اے, ڈی ٹی ایڈ, ماس میڈیا), اظہر رفیق (ایم بی اے, سیفٹی انجینئر), پروفیسر حبیب الرحمن (ایم ٹیک, پی ایچ ڈی), پروفیسر ایس این انصاری (ایم ایس سی, ریسرچ اسکالر), اسامہ اعظمی (ترجمان), ابوذر غفاری (میکانیکل انجنئیر), وسیم بیگ (ایم ایس سی,بی ایڈ), محمد مدثر (میکنیکل انجینئر), شخاوت لیاقت (بی اے, بی ایڈ), ببو ماسٹر, ندیم پلمبر, رئیس عثمانی, افضال پرویز, زید اختر اور دیگر فعال نوجوانوں نے شامل رہے.
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : دادر چیتنہ بھومی پر احتجاج کے دوران اورنگ زیب کی تصویر لہرانے پر ہنگامہ، پولس کو تفتیش کا حکم، اب تک ۸ ایف آئی آر درج

ممبئی میں دادر چیتنہ بھومی پر سی جے پی کے احتجاجی مظاہرہ میں اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر للہرانے پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور اس سے حالات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ اورنگ زیب کی آڑ میں اب سیاست بھی شروع ہو گئی ہے, جبکہ پولس اس معاملہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ دلی کے جنتر منتر احتجاج کی حمایت میں مہاراشٹر اور ممبئی میں حمایت اور احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ممبئی پولس نے کارروائی میں شدت پیدا کردی ہے, اب تک مظاہرین کے خلاف تقریبا ۸ ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں چیتنہ بھومی شیواجی پارک میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مرین ڈرائیو میں ۲ آزاد میدان میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ممبئی میں اب احتجاج کے دوران اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کا پوسٹر لہرانے پر سیاست شروع ہو گئی۔ اس معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اورنگ زیب کی تصویر یہاں دادر چیتنہ بھومی میں احتجاج کے دوران لہرائی گئی جیسے بعد میں ہٹا دیا گیا, لیکن اس معاملہ میں پولس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ تصویر کس نے احتجاج میں شامل کی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا ممبئی میں اورنگ زیب کی تصویر لہرانے کے معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے اور اس معاملہ میں باقاعدہ طور پر یہ معلوم کر رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے یہ تصویر لہرائی تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ڈی سی پی مہندر پنڈت نے بتایا کہ اس معاملہ میں سوشل میڈیا کے معرفت ملزم کی شناخت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طریقے سے سڑک جام کرنے اور بلا پیشگی اجازت احتجاج کرنے پر کیس درج کیا گیا۔ اسی معاملہ میں اب یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ اورنگ زیب کی تصویر کیوں لائی گئی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا, جبکہ اس واقعہ کے بعد سیاست شروع ہو گئی ہے اور پیپر لیک کا معاملہ اورنگ زیب کے نذر ہو گیا ہے۔ ممبئی پولس کو وزارت داخلہ نے اس معاملہ میں تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے اور پولس اس معاملہ میں انکوائری کر رہی ہے۔ پولس نے اب تک جو ایف آئی آر درج کی ہے, اس میں ۶۰۰ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پیپر لیک پر پولیس کی کارروائی کے حوالے سے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو لے کر سپریم کورٹ سے مداخلت کا اعظمی کا مطالبہ

ممبئی : ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے، پیپر لیک اسکینڈل کے سلسلے میں لیے گئے جارحانہ موقف کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اعظمی نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ لال بہادر شاستری کے برعکس، جنہوں نے ایک ریلوے حادثے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا تھا، یہ حکومت متعدد طلباء کی خودکشی کے باوجود کسی قسم کا احتساب قبول کرنے سے انکاری ہے۔
اعظمی نے سونم وانگچک کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے طلبا کے مستقبل کے لئے یہ لڑائی شروع کی ہے ملک کے تعلیمی نظام میں ہونے والی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے 20 دن کی بھوک ہڑتال کی ہے۔ تاہم، انہوں نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو ان کے خلاف لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سہارا لینا کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے الفاظ – “جب سڑکیں خاموش ہو جاتی ہیں تو پارلیمنٹ خود مختار ہو جاتی ہے” کو یاد کرتے ہوئے اعظمی نے کہا کہ پارلیمنٹ اس وقت سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ایسے وقت میں شہریوں کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دیے گئے آئین کے مطابق پرامن طریقے سے سڑکوں پر نکلنے اور ناانصافی اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔
یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے اور آمریت جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کی کارروائی اور سونم وانگچک کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کا ازخود نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کرے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
محمد علی جوہر یونیورسٹی کارروائی، سیاسی انتقام کا نتیجہ، 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے بجائے اسے اہل قرار دیا جائے : ابو عاصم

ممبئی رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کیمپس کے اندر 38 عمارتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے انتظامیہ کے احکامات کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں، اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ یہ سارا آپریشن خالصتاً سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ یہ یونیورسٹی کوئی تجارتی عمارت یا شاپنگ مال نہیں ہے۔ یہ طلباء کی تعلیم کے لیے قائم ایک اہم مرکز ہے۔ تعلیم ملک اور ریاست کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آج پورے اترپردیش میں سرکاری اور پرائیویٹ عمارتوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تو اس سے یہ بات سامنے آئے گی کہ تقریباً 90 فیصد کے پاس مکمل ریگولیٹری منظوری نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ حکومت اکثر دیگر متعدد عمارتوں کو ضابطوں کے مطابق ریگولرائز کرتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کے خلاف اتنا سخت فیصلہ کیوں لیا جا رہا ہے؟
الزام ہے کہ انتظامیہ اس ادارے کو صرف اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کہ یہ ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے جسے اعظم خان نے قائم کیا تھا۔ یہ دوہرا معیارایک طرف “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” (سب کے لیے ترقی) کی تبلیغ، دوسری طرف تعلیم میں پسماندہ کمیونٹی کے لیے بنائے گئے ادارے کے خلاف بلڈوزر استعمال کرنے کی دھمکی انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہر وہ شہری جو قوم اور ریاست کی ترقی کا خواہاں ہے اس کا مطالبہ ہے کہ اگر ان عمارتوں کے حوالے سے کوئی تکنیکی یا پرمٹ سے متعلق بے ضابطگیاں ہیں تو انہیں قواعد کے مطابق فوری طور پر ریگولرائز کیا جائے۔ حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ ایک نئی یونیورسٹی بنانے کی بجائے پہلے سے قائم تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کی کوششوں کو روکے اور اس تعلیمی ادارے کے تحفظ کے لیے تمام مسماری کے احکامات واپس لے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام12 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں11 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
