سیاست
بابری مسجد کی حفاظت میں ناکام رہنے والے سابق کانگریس وزیراعظم نرسمہاراٶ کو بھارت رتن دینے کی سفارش
(نامہ نگار)
جس طرح بابری مسجد کی شہادت کو کوٸی ایمان والا کبھی نہیں بھول سکتا ۔ ایمانی غیرت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بابری مسجد کی شہادت کی معلومات دیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس وقت مقتدر کانگریس پارٹی کے دوغلے رویہ کے بارے میں بھی آنے والی نسلوں کو بتانا بھی نہایت ضروری ہے ۔ یہ وہی کانگریس پارٹی ہے جس نے آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام کیا ہے ۔ پہلے تو سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کے ہمدرد بننے کا ڈھونگ رچایا گیا ۔ بدلے میں ستر سال تک وطن عزیز بھارت میں مسند اقتدار پر قابض رہے ۔ اور ہزاروں فسادات و سینکڑوں بم بلاسٹ کا تحفہ مسلمانوں کو ملا ۔ آج امت جن سیاسی مساٸل سے دوچار ہے اسکی ذمہ دار یہی دوغلی نام نہاد سیکولر کانگریس پارٹی ہے ۔
بابری مسجد میں رات کے اندھیرے میں مورتی رکھ دی جاتی ہے ۔ اسے ہٹانے میں کانگریس ناکام رہتی ہے بلکہ الٹا مسجد کو تالا لگا دیا جاتا ہے ۔ پھر شیلا نیاس کی اجازت بھی اسی کانگریس کے وزیراعظم کی دین ہے ۔ نماز کی اداٸیگی پر پابندی اور پوجا کے لیۓ عارضی چبوترہ بھی انہی کانگریسیوں کی دین ہے ۔ مسجد کی حفاظت کے لاکھ دعوٶں و وعدوں کے باوجود انگریس کے ہی وزیراعظم نرسمہاراٶ کے دور میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کردی جاتی ہے ۔ جس کے قصورواروں کو آج تک سزا نہیں مل سکی ۔ شہادت کے بعد بھی مسلمانوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وعدہ دے کر ٹہلایا گیا ۔
کانگریس کا دوغلا پن پھر سامنے آیا جب بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد جب بابری مسجد کی جگہ وہاں مندر بننے کے عمل کا آغاز ہوا تو یہی دوغلی چوگلی کانگریس کے نام نہاد سیکولروں نے مندر کی تعمیر کا کریڈٹ لینے کے لیۓ بڑے بڑے دعوٶں پر مشتمل بیانات جاری کیۓ ۔ مگر کانگریس میں شامل مسلمانوں کے منہ پر نہ جانے کیوں پٹی بندھی رہی ۔ اور وہ منہ میں گھگنی بھرے بیٹھے رہے ۔ اپنے سیاسی آقاٶں کی ناراضگی کے خوف سے پورے ملک کے کسی بھی کانگریسی کی زبان تک نہیں ہلی ۔ بلکہ مقامی طور سے الگ الگ پاکھنڈ رچا کر عوام کی توجہ کو ہٹانے کی کوشش کی گٸی ۔ اس وقت بھی کل ھند مجلس اتحادالمسلمین ہی تھی جس نے ببانگ دہل مسجد کے حق میں بیانات دیۓ تھے ۔
ابھی ایک مرتبہ پھر کانگریس کا دوغلا رویہ دیکھنے کو ملا ۔ تلنگانہ اسمبلی کے جاری اجلاس میں بابری مسجد کی حفاظت میں ناکام رہنے والے کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راٶ (جو کہ اب آنجہانی ہوچکے ہیں) کو بعد از مرگ بھارت رتن دینے کی تجویز پیش کی گٸی ۔ تو ابھی پھر سے ایک مرتبہ مجلس اتحادالمسلمین کے تمام ایم ایل ایز نے ہی پوری شدت سے اسکی مخالفت کی ۔ لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ کانگریس کے مسلم ایم ایل اے شبیر علی نے اس تجویز کی حمایت کی ۔ اور اسکے بعد بھی اگر تنقید کی جاتی ہے تو صرف کل ھند مجلس اتحادالمسلمین پر ہی ؟
وطن عزیز بھارت کا ہر مسلمان چاہے وہ کانگریسی ہی کیوں نہ ہو جب بھی مسلمانوں کے سیاسی ، سماجی ، و ملی مساٸل پر آفت آتی ہے تو انکے کان نیند میں بھی کل ھند مجلس اتحادالمسلمین کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی آواز کے منتظر رہتے ہیں ۔ اور بعد میں انکو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ مسلمانان وطن کو اس بارے میں غور کرنے اور اپنے پراۓ کا فرق کرنے کی موجودہ دور میں سخت ضرورت یے ۔
سیاست
بھوپال میں بی جے پی لیڈروں نے کالے کپڑے پہن کر سڑکوں پر نکل کر کانگریس کے دفتر کا گھیراؤ کیا۔

بھوپال : مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں بی جے پی رہنماؤں نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کی جانب سے دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دیے گئے دھرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ سڑکوں پر آکر کانگریس دفتر کا گھیراؤ بھی کیا۔ ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کی قیادت میں بی جے پی کارکنان دارالحکومت کے ریڈ کراس چوراہے پر جمع ہوئے۔ منگل کو دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دیے گئے دھرنے کے خلاف ریاستی صدر سمیت تمام سینئر لیڈروں نے سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ بی جے پی قائدین نے یہاں کانگریس کو آئین مخالف قرار دیا اور کارکنوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر کھنڈیلوال نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی مسلسل آئین کا قتل کر رہے ہیں۔ اسے انتخابی شکست کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس بیک ڈور انارکی کا سہارا لیتی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے کارکنوں کے ساتھ مل کر کانگریس کی اس خلاف آئین سرگرمی کے خلاف احتجاج کیا۔ کانگریس، جو انتخابات جیتنے میں ناکام رہتی ہے، بالآخر جمہوریت کو دباتی ہے اور انتشار کا سہارا لیتی ہے۔
کھنڈیلوال نے مزید کہا کہ بی جے پی کانگریس کے اس عمل کی مخالفت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنان کی بڑی تعداد ان کے دفتر کا گھیراؤ کر رہی ہے۔ راہل گاندھی کے غیر ملکی پلیٹ فارم پر دیئے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے کہا کہ راہول گاندھی جب بیرون ملک جاتے ہیں تو ہندوستان کی توہین کرتے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کی قیادت میں بی جے پی کارکنان ریڈ کراس اسکوائر سے کانگریس کے دفتر کی طرف بڑھے، لیکن پولیس کی طرف سے لگائے گئے رکاوٹوں کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکے۔ دوسری طرف کانگریس کے دفتر کے باہر کانگریسی لیڈر بی جے پی کارکنوں کے استقبال کے لیے پھولوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
سیاست
منصفانہ بحث تبھی ممکن ہے جب وزیر تعلیم استعفیٰ دیں : کھرگے

نئی دہلی : اپوزیشن نے بدھ کو پارلیمنٹ میں واضح طور پر کہا کہ ایوان میں منصفانہ بحث تبھی ممکن ہے جب مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ راجیہ سبھا میں تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصفانہ اور بامعنی بحث تبھی ہو سکتی ہے جب مرکزی وزیر تعلیم استعفیٰ دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر تعلیم کا استعفیٰ قبول کرے۔ کھرگے ایوان میں این ای ای ٹی امتحان پر بحث کرانے کی حکومت کی درخواست کا جواب دے رہے تھے۔ قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے این ای ای ٹی امتحان اور اس سے متعلق تنازعات پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اور اپوزیشن کے دیگر ارکان اسمبلی قاعدہ 267 کے تحت ایوان میں اس مسئلہ پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لئے تیار ہے، لیکن انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے اپنے مطالبہ کو بھی دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک مرکزی وزیر تعلیم استعفیٰ نہیں دیتے اس وقت تک بات چیت ممکن نہیں ہوگی۔ کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن رول 267 کے تحت اس مسئلہ پر بحث چاہتی ہے اور حکومت کو پہلے وزیر تعلیم کا استعفیٰ طلب کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ منظور کیا جائے۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے طلباء کو مارا پیٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بحث کے لیے تیار ہیں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر تعلیم کا استعفیٰ منظور کرکے ایوان میں بحث کا راستہ صاف کرے تب ہی اس معاملے پر بحث ہوگی۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ اس معاملے میں احتساب کو یقینی بنائے بغیر بحث کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔
قائد حزب اختلاف کے بیان کے بعد ایوان زوردار نعروں سے گونج اٹھا۔ ڈپٹی چیئرمین نے جو کہ صدارت میں موجود تھے، ایوان کو بتایا کہ پہلے بھی رول 267 کے تحت اہم فیصلے کیے جا چکے ہیں، جو اب بھی ایوان کی کارروائی پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس سے قبل، رول 267 کے تحت جمع کرائے گئے نوٹسز کو قبول کیا جاتا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ قاعدہ 267 کے تحت راجیہ سبھا میں دیگر تمام کارروائیاں معطل ہیں، اور صرف اس موضوع پر بحث کی جاتی ہے جس کے لیے چیئرمین کو نوٹس پیش کیا جاتا ہے۔ اس بحث میں ووٹنگ کا انتظام بھی شامل ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ اس اصول کے تحت ایوان میں فوری بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، چیئر نے واضح کیا کہ پچھلی حکومتوں کے تحت مختلف چیئرمینوں نے اس اصول کو عام طور پر نظر انداز کیا ہے اور اس سلسلے میں احکام جاری کیے گئے ہیں۔
سیاست
کیجریوال اور ادھو ٹھاکرے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حکومت کو بات چیت کرنی چاہیے۔

نئی دہلی : شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے جاری احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے طلباء کے خلاف دہلی پولیس کے ذریعہ طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ابتدائی طور پر بات چیت کا سہارا لیتی تو معاملہ اس حد تک نہ بڑھتا۔ ٹھاکرے نے کہا، “خواتین کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ بالکل ناقابل قبول ہے۔ بچوں کے کسی سے استعفیٰ مانگنے میں کیا حرج ہے؟ یہ ان کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ آپ کو انتخاب کرنا ہے، چاہے وہ فرد ہو یا بچوں کا مستقبل۔” پچھلے احتجاج کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی کے دور میں سونم وانگچک کے والد بھوک ہڑتال پر تھے، اور اندرا گاندھی نے ان سے بات کی۔ اسی طرح انا ہزارے کی تحریک کے دوران کانگریس حکومت نے بات چیت کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت میں بات چیت ضروری ہے۔ بات چیت کے بغیر اسے جمہوریت نہیں کہا جائے گا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی اور بہت اچھی بات چیت کی۔ ہم نے ملک کی موجودہ صورتحال اور بہت سے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ خاص طور پر ہم نے ملک بھر میں جاری نوجوانوں کی تحریک کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج نوجوانوں کے غصے اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ میں کل دوپہر جنتر منتر گیا تھا، اور ادھو ٹھاکرے کل رات وہاں گئے تھے۔ ہم دونوں نے لوگوں سے ملاقات کی اور احتجاج کرنے والے رہنماؤں سے بات کی۔
کیجریوال نے کہا، “حکومت سے ہماری اپیل ہے کہ یہ ہمارے ملک کے بچے اور ملک کا مستقبل ہیں۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ سوالیہ پرچے لیک ہو رہے ہیں، جانچ کا نظام ناکام ہو رہا ہے، اور تعلیم اور امتحانی نظام میں بڑا دھاندلی چل رہی ہے۔ اسے ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔” انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم مستعفی ہو جائیں اور امتحانی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ “ہم اس تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ حکومت کو طلبہ سے بات کرنی چاہیے اور اس کا بہتر حل نکالنا چاہیے۔”
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام12 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں11 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
