Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

عالمی اردو ٹرسٹ کا بے مثال کارنامہ: سر سیّد کی کلیّات مرتب، اجرا یوم سر سید کے موقع پر

Published

on

علیگڑھ تحریک اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سیّد احمد خاں کی 25 جلدوں پر مشتمل کلیات کی پہلی اور 25 ویں جلد کا اجرا یوم سر سید کے موقع پر17 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ یہ مژدہ عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین اے رحمان نے آج سنایا۔
مسٹر رحمان نے بتایا کہ دونوں جلدیں طباعت کے مراحل سے گذر چکی ہیں۔ پہلی جلد خطبات احمدیہ بشمول جلا القلوب اور ازواجِ مطہرات پر مشتمل ہے جبکہ آخری جلد میں مذہبیات اور عقائد پر مبنی مضامین شامل ہیں۔ مسٹررحمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اپریل 2021 تک یعنی آئندہ چھ ماہ میں کلیّات کی تمام پچیس جلدیں طبع ہو کر سامنے آ جائیں گی۔
تعلیمی میدان کے علاوہ صحافت، ترجمہ اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والی عبقری شخصیت سر سید کو جدید اردو نثر کا قافلہ سالارکہا جاتا ہے۔ ان کی مستقل تصانیف کی تعداد اکتیس ہے جس میں سیرۃالنبی پر لکھی گئی ”خطباتِ احمدیہ“ اور ’تفسیر القران‘ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی ترجمے کئے، تزکِ جہانگیری، تاریخِ فیروز شاہی اور آئینِ اکبری جیسی کتابوں کی تصحیح کی اورعلیگڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نیز اپنے مشہورِ زمانہ جریدے ”تہذیب الاخلاق“ میں مختلف موضوعات پر درجنوں مضامین لکھے۔
ان کی بعض کتابوں کے ترجمے ان کی زندگی میں ہی انگریزی،فرانسیسی اور فارسی میں ہونے لگے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کے مکتوبات کا مجموعہ بھی دو جلدوں میں شائع ہوا تھا۔ان کے تئیں مسلمانوں کی عموماً اور علیگیرین حضرات کی خصوصاً عقیدت کو دیکھتے ہوئے یہ حیرت کی بات ہی کہی جائے گی کہ ان کی کلیّات مرتّب نہیں کی گئی جبکہ اس سلسلے میں چہار اطراف سے فرمائشیں اورتقاضے بھی ہوتے رہے۔
عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین نے یہ بتاتے ہوئے کہ 1961میں شیخ اسمعیل پانی پتی نے سر سیّد کی کچھ تحاریر کو جمع کیا اور مقالاتِ سرسیّد کے عنوان سے سولہ جلدوں میں مجلس ترقّی ادب لاہور سے شائع کیا۔ ان جلدوں میں بہر حال سر سیّد کی تقریباً ساٹھ فیصد تحریریں ہی احاطہ کی جا سکا۔ اس کے بعد1972میں اسمعیل پانی پتی نے مجلس ترقّی ادب لاہورسے ہی ”خطباتِ سر سیّد“ کا نام سے اایک اور کتاب شائع کی جو سر سیّد کے خطبات کا انتخاب تھا لیکن ان کے مکمّل کام کا احاطہ پھر بھی نہ ہو سکا۔
مسٹر رحمان نے کہا کہ ان دونوں کتابوں کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ انہیں کانٹے کی چھپائی میں طبع کیا گیا۔ اس چھپائی کا پڑھنا عام آدمی کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے۔
2017 میں سرسیّد کے دو سو سالہ جشنِ پیدائش کی تقریبات عالمی پیمانے پر منعقد کی گئیں۔اس سلسلے میں دلی کی علیگڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے بھی جامعہ ملّیہ کے شعبہئ انجینئیرنگ کے آڈیٹوریم میں ایک شاندار تقریب کاا نعقاد کیا۔ اس موقعے پر عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین اے رحمان نے جو خود بھی علیگیرین ہیں، یہ اعلان کیا کہ سر سیّد کی کلیّات عالمی اردو ٹرسٹ کے ذریعے شائع کی جائے گی۔ کلیّات کی ترتیب و تدوین کا ذمّہ خود انہوں نے اپنے سر لیا۔ اس طرح تین سال کی شب و روز محنت کے بعد سر سیّد کا تمام تصنیفی، تالیفی اور ترجمہ شدہ کام سترہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل پچیس جلدوں میں مع حواشی و مقدمہ ترتیب دیا جا سکا جو کمپیوٹر کمپوزنگ کے بعد اب کلیّات سر سیّد کے عنوان سے زیرِ طبع ہیں۔
مو جودہ سال علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ جشنِ تاسیس کا سال ہے اور سر سیّد ڈے (یومِ سر سیّد) یعنی آئندہ سترہ اکتوبر کو کلیّات کی پہلی اور پچیسویں یعنی آخری جلد کا جرا کیا جائے گا۔ یہ دونوں جلدیں طباعت کے مراحل سے گذر چکی ہیں۔ پہلی جلد خطبات احمدیہ بشمول جلا القلوب اور ازواجِ مطہرات پر مشتمل ہے جبکہ آخری جلد میں مذہبیات اور عقائد پر مبنی مضامین شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان