Connect with us
Tuesday,04-August-2026

جرم

آج مالیگاؤں کے بھکو چوک بم بلاسٹ کو 12سال مکمل!!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
2006 کو بڑا قبرستان اور مشاورت چوک بم دھماکوں کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ 29 ستمبر 2008 رمضان المبارک میں شب قدر کے موقع پر قلب شہر کے تاریخی بھکو چوک پر ایک اور بم بلاسٹ ہو گیا تھا. بم بلاسٹ کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ دور بہت دور تلک اس بلاسٹ کی گونج سن کر شہریان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے. اس بلاسٹ میں ایک 11سالہ بچی سمیت بے شمار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. کئی درجن افراد شدید طور پر مجروح بھی ہوئے تھے.یہ بم بلاسٹ رمضان کی مبارک ساعتوں اور خاص طور پر شب قدر کے موقع پر منظم سازش کے تحت کیا گیا تھا. بم بلاسٹ کا مقام انتہائی بھیڑ بھاڑ والا علاقہ رہا کرتا ہے. امت مسلمہ شب قدر کی مناسبت سے اسی علاقہ کے عظیم تبلیغی مرکز نورانی مسجد سے نماز ادا کرکے بھکو چوک پر پہنچے ہی تھے کہ بم دھماکہ ہوا. 2006 کے بم دھماکوں کے خونچکاں مناظر اور یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں تھیں. لوگوں تک جیسے جیسے یہ خبریں پہنچتی گئیں لوگ اپنے عزیز و اقرباء کی تلاش اور امداد کے لئے دوڑتے ہوئے مطلوبہ مقام تک پہنچ گئے تھے. پورے شہر میں سراسیمگی کا عالم طاری تھا. چاروں طرف خوف و ہراس پھیل گیا تھا. شہریان یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ اس بم بلاسٹ کے الزام میں ایک بار پھر شہر کے ہی بے گناہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے انھیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر آنجہانی ہیمنت کرکرے کی ایماندارانہ تفتیش نے ملک میں پہلی بار بھگوا دہشت گردوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر بھگوائی سازشوں کا پردہ فاش کردیا تھا. اس بم بلاسٹ کی خبریں عام ہوتے ہی ریاستی حکومت کے ذمہ داران وزیر داخلہ آر آر پاٹل سمیت دیگر وزراء مالیگاؤں آئے. اس بلاسٹ کے پس پردہ رہنے والے ذمہ داران کو قانون و عدلیہ کے دائرے میں لانے کے لئے اے ٹی ایس اور این آئی اے جیسے فعال محکموں کو ذمہ داریاں تقویض کی گئیں. ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اے ٹی ایس چیف آنجہانی ہیمنت کرکرے نے انتہائی ذمہ داری اور فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھگوا دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب کیا.بم بلاسٹ میں استعمال شدہ ایل ایم فریڈم موٹر سائیکل جو کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے نام پر تھی. ہیمنت کرکرے نے سادھوی پرگیہ سنگھ کو ٹارگیٹ بناتے ہوئے جب اپنی تفتیش کے دائرے وسیع کئے تو بھگوا دہشت گردوں کے سارے چہرے ایک کے بعد ایک منظر عام پر آتے گئے. ان دہشت گردوں میں ایک نمایاں نام فوج کے اعلی عہدے دار کرنل پروہت کا بھی تھا یہ وہی کرنل ہے جو ناسک کے بھونسلہ ملٹری کالج کا تربیت یافتہ کرنل تھا اور یہ بم بلاسٹ کرنے میں ماہر تھا. اس بم بلاسٹ کو 12سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن قانونی منہ شگافیوں کی بدولت بھگوا دہشت گردوں کے خلاف یہ مقدمہ شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا جارہا ہے. اس طویل ترین دورانیے میں اس بم بلاسٹ کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ قید و بند کی اذیتیں جھیلتے ہوئے زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا ہے. اب خدا معلوم یہ اذیتیں خدائی قہر ہے یا پھر سزا سے بچنے کا کوئی حربہ ہے. یہ وہی ملزمہ ہے جو بھگوا پارٹی سے رکن پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئی ہے.
ہمیں یاد ہے کہ بم بلاسٹ کے فورأ بعد وزیر داخلہ آر آر پاٹل جائے وقوع پر آن موجود ہوئے تھے تو اسی علاقے کے بےباک عوامی خادم مرحوم آصف علی ڈرائیور اور این سی پی کے صدر حاجی یوسف نیشنل کے علاوہ بے شمار سماجی خادمین نے اپنی بےباک نمائندگی سے حکومت وقت اور وزیر داخلہ کا ناطقہ بند کردیا تھا.آج بھی اس بم بلاسٹ کے متاثرین اپنے زخموں کو لے کر مجرمین کو سزا دینے کے تمنائی ہیں لیکن 12سال کے بعد انصاف کی دیوی اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹانے کو تیار نہیں ہے. اس بم بلاسٹ کے سبھی بھگوا دہشت گرد ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دندناتے گھوم رہے ہیں اور جیل کی سلاخیں پھانسی کے پھندوں کے ہمراہ ان کی منتظر ہیں. بم دھماکہ کے مقام کے سامنے واقع نثار ڈیری میں موجود دیوار گھڑی آج بھی بم بلاسٹ کے اوقات کو لے کر اول دن سے بند ہے اور شاید اس بند گھڑی کی سوئیاں اسی وقت حرکت میں آئیں جب ان بھگوا دہشت گردوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا جائے گا. ہندوستان میں راج کر رہی فسطائی پارٹی. کے طفیل اس بم بلاسٹ کے سبھی مجرمین ہو سکتا ہے کہ سزائے موت سے بچ جائیں لیکن یہاں کی عدالتوں سے بالا ایک اور عدالت بھی موجود ہے جہان ان کے کالے کارناموں کی سزا یقنأ ملے گی کیونکہ خدا کی عدالت میں دیر ہے مگر اندھیر نہیں اور ویسے بھی یہ دنیا دارالعمل ہے انسانوں کے کئے کی سزا دنیا ہی میں اسے بھگتنا پڑتی ہے. سادھوی جیسی ملزمہ کی آج جو بھی حالت ہے اسی کا نتیجہ ہے. ساری دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا ذمہ دار کہلانے والے وزیر اعظم کا انتم سنکار ہونے کے بعد ان کی نعش کیا حال ہوا تھا ہو سکتا ہے اس بم بلاسٹ کے ایک اور ملزم کرنل پروہت کی بار بار ضمانت کی عرضداشت کورٹ میں پیش کرنے میں بھی خدا کی کوئی مصلحت شامل ہو اور ہو سکتا ہے سادھوی پرگیہ سنگھ اور کرنل پروہت کا انجام بھی آنجہانی پی وی نرسہما راؤ جیسا ہو.
بہرحال یہ حقیقت ہے کہ مرحوم آصف علی ڈرائیور اور یوسف نیشنل کی بےباک نمائندگی اور ایک منظم سازش کے تحت آنجہانی ہوئے اے ٹی ایس. چیف شری ہیمنت کرکرے کی ایماندارانہ تفتیش رائیگاں نہیں جائے گی. اس بم بلاسٹ کے بھگوا دہشت گردوں پر یہ دنیا روز بروز تنگ ہوتی جائے گی اور یہ سبھی یکے بعد دیگرے کیفر کردار تک پہنچیں گے تبھی اس بم بلاسٹ میں شہید اور مجروحین کو انصاف نصیب ہوگا اور وہی دن حق و انصاف کی جیت کا دن ہوگا. شہیدوں کا خون اور مجروحین کی آہ و بقا ایک نہ ایک ضرور رنگ لائے گی کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

Published

on

Dhaka

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”

اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ ​​قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”

انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔

Continue Reading

جرم

تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

Published

on

Mumbra-Arrest

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔

اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔

پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔

تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان