Connect with us
Saturday,19-September-2026

جرم

آج مالیگاؤں کے بھکو چوک بم بلاسٹ کو 12سال مکمل!!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
2006 کو بڑا قبرستان اور مشاورت چوک بم دھماکوں کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ 29 ستمبر 2008 رمضان المبارک میں شب قدر کے موقع پر قلب شہر کے تاریخی بھکو چوک پر ایک اور بم بلاسٹ ہو گیا تھا. بم بلاسٹ کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ دور بہت دور تلک اس بلاسٹ کی گونج سن کر شہریان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے. اس بلاسٹ میں ایک 11سالہ بچی سمیت بے شمار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. کئی درجن افراد شدید طور پر مجروح بھی ہوئے تھے.یہ بم بلاسٹ رمضان کی مبارک ساعتوں اور خاص طور پر شب قدر کے موقع پر منظم سازش کے تحت کیا گیا تھا. بم بلاسٹ کا مقام انتہائی بھیڑ بھاڑ والا علاقہ رہا کرتا ہے. امت مسلمہ شب قدر کی مناسبت سے اسی علاقہ کے عظیم تبلیغی مرکز نورانی مسجد سے نماز ادا کرکے بھکو چوک پر پہنچے ہی تھے کہ بم دھماکہ ہوا. 2006 کے بم دھماکوں کے خونچکاں مناظر اور یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں تھیں. لوگوں تک جیسے جیسے یہ خبریں پہنچتی گئیں لوگ اپنے عزیز و اقرباء کی تلاش اور امداد کے لئے دوڑتے ہوئے مطلوبہ مقام تک پہنچ گئے تھے. پورے شہر میں سراسیمگی کا عالم طاری تھا. چاروں طرف خوف و ہراس پھیل گیا تھا. شہریان یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ اس بم بلاسٹ کے الزام میں ایک بار پھر شہر کے ہی بے گناہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے انھیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر آنجہانی ہیمنت کرکرے کی ایماندارانہ تفتیش نے ملک میں پہلی بار بھگوا دہشت گردوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر بھگوائی سازشوں کا پردہ فاش کردیا تھا. اس بم بلاسٹ کی خبریں عام ہوتے ہی ریاستی حکومت کے ذمہ داران وزیر داخلہ آر آر پاٹل سمیت دیگر وزراء مالیگاؤں آئے. اس بلاسٹ کے پس پردہ رہنے والے ذمہ داران کو قانون و عدلیہ کے دائرے میں لانے کے لئے اے ٹی ایس اور این آئی اے جیسے فعال محکموں کو ذمہ داریاں تقویض کی گئیں. ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اے ٹی ایس چیف آنجہانی ہیمنت کرکرے نے انتہائی ذمہ داری اور فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھگوا دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب کیا.بم بلاسٹ میں استعمال شدہ ایل ایم فریڈم موٹر سائیکل جو کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے نام پر تھی. ہیمنت کرکرے نے سادھوی پرگیہ سنگھ کو ٹارگیٹ بناتے ہوئے جب اپنی تفتیش کے دائرے وسیع کئے تو بھگوا دہشت گردوں کے سارے چہرے ایک کے بعد ایک منظر عام پر آتے گئے. ان دہشت گردوں میں ایک نمایاں نام فوج کے اعلی عہدے دار کرنل پروہت کا بھی تھا یہ وہی کرنل ہے جو ناسک کے بھونسلہ ملٹری کالج کا تربیت یافتہ کرنل تھا اور یہ بم بلاسٹ کرنے میں ماہر تھا. اس بم بلاسٹ کو 12سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن قانونی منہ شگافیوں کی بدولت بھگوا دہشت گردوں کے خلاف یہ مقدمہ شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا جارہا ہے. اس طویل ترین دورانیے میں اس بم بلاسٹ کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ قید و بند کی اذیتیں جھیلتے ہوئے زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا ہے. اب خدا معلوم یہ اذیتیں خدائی قہر ہے یا پھر سزا سے بچنے کا کوئی حربہ ہے. یہ وہی ملزمہ ہے جو بھگوا پارٹی سے رکن پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئی ہے.
ہمیں یاد ہے کہ بم بلاسٹ کے فورأ بعد وزیر داخلہ آر آر پاٹل جائے وقوع پر آن موجود ہوئے تھے تو اسی علاقے کے بےباک عوامی خادم مرحوم آصف علی ڈرائیور اور این سی پی کے صدر حاجی یوسف نیشنل کے علاوہ بے شمار سماجی خادمین نے اپنی بےباک نمائندگی سے حکومت وقت اور وزیر داخلہ کا ناطقہ بند کردیا تھا.آج بھی اس بم بلاسٹ کے متاثرین اپنے زخموں کو لے کر مجرمین کو سزا دینے کے تمنائی ہیں لیکن 12سال کے بعد انصاف کی دیوی اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹانے کو تیار نہیں ہے. اس بم بلاسٹ کے سبھی بھگوا دہشت گرد ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دندناتے گھوم رہے ہیں اور جیل کی سلاخیں پھانسی کے پھندوں کے ہمراہ ان کی منتظر ہیں. بم دھماکہ کے مقام کے سامنے واقع نثار ڈیری میں موجود دیوار گھڑی آج بھی بم بلاسٹ کے اوقات کو لے کر اول دن سے بند ہے اور شاید اس بند گھڑی کی سوئیاں اسی وقت حرکت میں آئیں جب ان بھگوا دہشت گردوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا جائے گا. ہندوستان میں راج کر رہی فسطائی پارٹی. کے طفیل اس بم بلاسٹ کے سبھی مجرمین ہو سکتا ہے کہ سزائے موت سے بچ جائیں لیکن یہاں کی عدالتوں سے بالا ایک اور عدالت بھی موجود ہے جہان ان کے کالے کارناموں کی سزا یقنأ ملے گی کیونکہ خدا کی عدالت میں دیر ہے مگر اندھیر نہیں اور ویسے بھی یہ دنیا دارالعمل ہے انسانوں کے کئے کی سزا دنیا ہی میں اسے بھگتنا پڑتی ہے. سادھوی جیسی ملزمہ کی آج جو بھی حالت ہے اسی کا نتیجہ ہے. ساری دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا ذمہ دار کہلانے والے وزیر اعظم کا انتم سنکار ہونے کے بعد ان کی نعش کیا حال ہوا تھا ہو سکتا ہے اس بم بلاسٹ کے ایک اور ملزم کرنل پروہت کی بار بار ضمانت کی عرضداشت کورٹ میں پیش کرنے میں بھی خدا کی کوئی مصلحت شامل ہو اور ہو سکتا ہے سادھوی پرگیہ سنگھ اور کرنل پروہت کا انجام بھی آنجہانی پی وی نرسہما راؤ جیسا ہو.
بہرحال یہ حقیقت ہے کہ مرحوم آصف علی ڈرائیور اور یوسف نیشنل کی بےباک نمائندگی اور ایک منظم سازش کے تحت آنجہانی ہوئے اے ٹی ایس. چیف شری ہیمنت کرکرے کی ایماندارانہ تفتیش رائیگاں نہیں جائے گی. اس بم بلاسٹ کے بھگوا دہشت گردوں پر یہ دنیا روز بروز تنگ ہوتی جائے گی اور یہ سبھی یکے بعد دیگرے کیفر کردار تک پہنچیں گے تبھی اس بم بلاسٹ میں شہید اور مجروحین کو انصاف نصیب ہوگا اور وہی دن حق و انصاف کی جیت کا دن ہوگا. شہیدوں کا خون اور مجروحین کی آہ و بقا ایک نہ ایک ضرور رنگ لائے گی کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

جرم

کار موٹر سائیکل کو 500 میٹر تک گھسیٹنے کے بعد دہلی کا 73 سالہ شخص گرفتار

Published

on

نئی دہلی، ایک 73 سالہ شخص کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب اس کی کار ایک موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اسے جنوب مغربی دہلی کے آر کے میں ایک سڑک پر تقریباً 500 میٹر تک گھسیٹ گئی۔ پورم کا علاقہ۔ جمعرات کی رات دیر گئے پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ فوٹیج میں ایک کار درختوں سے جڑی سڑک پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس کے نیچے موٹرسائیکل پھنسی ہوئی ہے۔ گاڑی سے چنگاریاں اڑتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں جب کار چلتی رہتی ہے، جب کہ اسکوٹر پر سوار ایک شخص قریب سے پیچھے پیچھے آتا ہے اور بار بار ڈرائیور سے کہتا ہے کہ وہ رکنے کا کہہ رہا ہے۔ بوڑھا ڈرائیور کار کے نیچے موٹرسائیکل کے ساتھ گاڑی چلا رہا ہے۔

کار آخر کار رک جاتی ہے۔ سکوٹر پر سوار ایک خاتون نے واقعہ ریکارڈ کیا اور گاڑی کے قریب پہنچی۔ وہ کار کا دروازہ کھولتی ہے اور ڈرائیور سے باہر نکلنے کو کہتی ہے۔ “باہر آؤ۔ ہاتھ مت جوڑو، پہلے باہر آؤ،” وہ اس سے کہتی ہے۔ مجمع میں موجود ایک اور شخص کو ڈرائیور کو “بے شرم” کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ڈرائیور جس کی شناخت وینو گوپال کے نام سے ہوئی ہے، جو وسنت کنج کا رہنے والا ہے، معافی کے اشارے میں ہاتھ جوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ پھر ایک آدمی نے اسے کالر سے پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی۔ گاڑی گوپال جیسے ہی باہر نکلا، ہجوم کے ارکان نے اس کا سامنا کیا۔

موٹرسائیکل کا سوار جس کی شناخت تاپس کے نام سے ہوئی ہے، بزرگ ڈرائیور سے اس واقعے پر پوچھ گچھ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ “اگر یہ غلطی ہوتی تو آپ روک سکتے تھے، میں مر سکتا تھا،” وہ اس سے کہتا ہے۔ ہجوم میں شامل ایک اور شخص نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر کوئی موٹرسائیکل کے نیچے پھنس جاتا تو وہ کیا کرتا۔ دہلی پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کے لیے۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاپس سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کی موٹرسائیکل کو بزرگ شخص کی طرف سے چلائی گئی نیلی کار نے ٹکر مار دی۔ کار پھر چلتی رہی، بائیک کو تقریباً 500 میٹر تک اپنے نیچے گھسیٹتی رہی۔

واقعہ کی اطلاع آر کے سے ملی۔ پورم علاقہ، اور تفتیش کار ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے تصادم جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر ہوا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کے بعد کار کے ڈرائیور کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ جانچ میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ وہ اس وقت شراب کے نشے میں تھا، حکام نے بتایا کہ واقعات کی صحیح ترتیب کو قائم کرنے اور تصادم اور اس کے بعد موٹرسائیکل کو گھسیٹنے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ گروگرام میں ایک حالیہ کیس کے حوالے سے سامنے آیا ہے جہاں ایک کار ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک خاتون کو زخمی کر دیا تھا، جس نے کلب کی رہنمائی کرنے والے شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان