Connect with us
Monday,14-September-2026

سیاست

وادی کشمیر میں تمام کالجوں میں درس وتدریس کا عمل بحال ہوا

Published

on

exam

وادی کشمیر میں پیر کے روز تمام کالجوں میں قریب ایک برس بعد تمام تر احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کے بیچ درس وتدریس کا عمل باقاعدگی سے شروع ہوا، بتادیں وادی میں سال گذشتہ کے ماہ مارچ میں ہی کورونا لاک ڈاؤن کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بند کر دئے گئے تھے، اور بعد میں تعلیم و تعلم کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

متعلقہ حکام کے مطابق وادی میں پرائمری و مڈل سطح تک کے اسکول یکم مارچ سے کھلنے والے ہیں، جبکہ صوبہ جموں میں یکم فروری سے ہی کالج کھل گئے ہیں۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار نے سری نگر میں قائم مختلف کالجوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ کالجوں میں صبح سے ہی طلباء کے جوق در جوق آنے کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء اور اساتذہ کے چہروں پر خوشیاں عیاں تھیں، اور اساتذہ طلباء کا استقبال کر رہے تھے۔

موصوف نے بتایا کہ کالجوں کو سینیٹائز کیا گیا تھا اور دیگر تمام کورونا گائیڈ لائنز پر بھی من و عن عمل کیا جا رہا تھا۔

ایک طلاب علم نے یو این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں آج جہنم سے آزاد ہوکر جنت میں داخل ہوا ہوں۔ کالج میں قدم رکھتے ہی سکون کی ایک چادر نے میرے وجود کو ڈھانپ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم آن لائن کلاسز لے کر تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے، لیکن کالج آکر اساتذہ کے کلاسوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا لطف ہی کچھ الگ بھی ہے، اور اس کے بسیار فوائد بھی ہیں۔

موصوف طالب علم نے کہا کہ کالج کھلنے سے طلباء کا ذہنی دباؤ بھی کم ہو جائے گا، جس کا شکار ہم مسلسل گھروں میں بیٹھنے سے ہوئے ہیں۔ ایک استاد نے بتایا کہ طلباء کو کلاس روم میں رو برو پڑھانے سے ہی دلی سکون اور تسلی میسر ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلباء کے بغیر کالجوں کا وجود ہی بے، معنی ہوکر رہ جاتا ہے، اور آج جب طلباء کالجوں میں حاضر ہوئے تو ان کی رونق دو بالا ہوگئی۔

والدین کا ماننا ہے کہ وادی کشمیرمیں پانچ اگست 2019 سے ہی تعلیمی ادارے بند ہیں، اگرچہ بیچ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہونے لگا تھا، لیکن پھر کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوبارہ معطل ہو کے رہ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں گذشتہ دو برسوں کے دوران طلباء کو نا قابل تلافی تعلیمی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

آبنائے ہرمز میں تعیناتی پر غور، جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی دفاعی مذاکرات

Published

on

سیئول، 14 ستمبر جنوبی کوریا اور امریکہ اس ہفتے اپنے اعلیٰ سطحی باقاعدہ دفاعی مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وزارت دفاع نے پیر کو کہا کہ سیول آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ دو سالہ کوریا-امریکہ مربوط دفاعی مذاکرات (کے آئی ڈی ڈی) جنوب مشرقی بندرگاہی شہر بوسانیم سے جمعہ تک بدھ کے روز جنوب مشرقی بندرگاہی شہر میں منعقد ہوں گے۔ پالیسی کے نائب وزیر دفاع ہانگ چیول اور مشرقی ایشیا کے لیے امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جنگ جارج لیمور دیگر اہم دفاعی اور خارجہ امور کے حکام کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کریں گے۔”میٹنگ میں بہت سے زیر التوا سیکورٹی مسائل پر بات چیت متوقع ہے، جس میں (سیئول) جنگ کے وقت کے آپریشنل کنٹرول (او پی سی او این)، مشترکہ دفاعی پوزیشن اور تعاون میں مشترکہ دفاعی عہدہ اور تعاون شامل ہیں”۔

یونہاپ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اتحادیوں نے واضح نہیں کیا، لیکن ان سے بڑے پیمانے پر آبنائے ہرمز میں سیئول کی فوجی تعیناتی کے امکان پر بات چیت کی توقع کی جا رہی ہے، واشنگٹن کی طرف سے جنوبی کوریا پر اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں شامل ہونے کے لیے۔ اس اقدام سے قیاس آرائیاں ہوئیں کہ جنوبی کوریا آبنائے میں فوجی تعیناتی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، لیکن حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ اس معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایران نے عوامی سطح پر علاقے میں کسی بھی ممکنہ فوجی روانگی کے خلاف خبردار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدام کے “سنگین نتائج” ہوں گے۔

واشنگٹن سے او پی سی او این کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سیول کے دباؤ کے معاملے پر اس ہفتے کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جنوبی کوریا 2030 میں صدر لی جے میونگ کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا اگلے سال کے اوائل میں جنگ کے وقت کی کمان دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جنوبی کوریا مشترکہ افواج کی “مکمل آپریشنل صلاحیت” کی توثیق کے دوسرے مرحلے کو مکمل کرنا چاہتا ہے اور اس موسم خزاں میں ہونے والے دفاعی سربراہان کے اجلاس میں او پی سی او این کی منتقلی کے ہدف کے سال کا اعلان کرنا چاہتا ہے۔ اتحادیوں کے درمیان اعلیٰ سطحی دفاعی اجلاس۔

مئی میں واشنگٹن میں آخری سیشن کے بعد، اس ہفتے کا اجلاس اس سال اس طرح کا دوسرا اجتماع ہے۔ کے آئی ڈی ڈی میٹنگ پہلی بار سیول یا واشنگٹن سے باہر ہو گی۔ وزارت دفاع نے کہا کہ بوسان کے انتخاب کا مقصد جہاز سازی کے تعاون کو بڑھانے کے اتحادیوں کے عزم کو ظاہر کرنا تھا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

آسٹریلیا میں شارک کے حملے کے بعد ایک شخص ہسپتال میں داخل

Published

on

سڈنی، 14 ستمبر، پیر کی صبح مغربی آسٹریلیا (ڈبلیو اے) کے ساحل پر ایک شارک کے حملے کے بعد ایک شخص کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈبلیو اے ڈیپارٹمنٹ آف پرائمری انڈسٹریز اینڈ ریجنل ڈویلپمنٹ نے اطلاع دی کہ شارک کا واقعہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 45 منٹ پر پرتھ سے 380 کلومیٹر شمال میں گلین فیلڈ بیچ پر پیش آیا۔ دو ایمبولینس کے عملے کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا اور 50 سال کے ایک شخص کو ترجیحی طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔ میٹر آف شور اور متاثرہ کی ٹانگ پر شدید چوٹیں آئیں۔

اس میں شامل شارک کی نسل یا جسامت کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ عوام کے اراکین کو علاقے میں اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا میں ماضی میں بھی ایسے ہی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ سال آسٹریلیا کے دور شمال میں شارک کے کاٹنے کے بعد ایک نوجوان کو جان لیوا زخموں کے ساتھ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور وہ تشویشناک حالت میں تھا۔ نوعمری کے وسط میں تیراکی کے دوران شارک نے حملہ کیا۔ اس نوجوان کو پیٹ میں جان لیوا زخموں کے ساتھ ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا، اس سے پہلے کہ اسے 1,000 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر کے کوئنز لینڈ کے شہر ٹاؤنس ول کے ہسپتال لے جایا گیا۔

کوئنز لینڈ ہیلتھ کے ترجمان نے بتایا کہ لڑکے کی حالت تشویشناک ہے۔ حملے میں ملوث شارک کی نسل کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ اس کے علاوہ، 6 ستمبر 2025 کو شمالی سڈنی کے ساحل پر شارک کے حملے میں ایک سرفر کی موت ہوگئی۔ پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی خدمات کو بلایا گیا تھا کہ ایک شخص شدید زخمی ہونے کی اطلاع کے لیے سنٹرل بیچ میں لانگ 16 کلومیٹر کا تھا۔ سڈنی۔

Continue Reading

جرم

’خود کو غیر محفوظ محسوس کیا‘: گڑگاؤں میں خاتون بائیکر نے فاصلہ برقرار رکھنے کو کہنے پر کار سواروں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا

Published

on

گروگرام، 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہریانہ کے گروگرام میں ایک خاتون بائیکر نے الزام لگایا ہے کہ ایک کار نے بار بار اس کا پیچھا کیا اور اس کی موٹرسائیکل کو ٹکر مار کر موقع سے فرار ہوگئی، جس سے وہ ہل گئی اور شہر میں سڑک کی حفاظت کو لے کر تشویش پیدا ہوگئی۔ “میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے، لیکن آج میں گروگرام کی سڑکوں پر خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہوں۔ ایسے لوگ لوگوں کو مارنے اور بھاگنے سے نہیں ڈرتے،” خاتون نے واقعے کے بعد کہا۔ سواری، جو اپنی شناخت سیا کے طور پر کرتی ہے اور انسٹاگرام پیج ’ریبل وہیلزسیا‘ چلاتی ہے، نے واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی اور بتایا کہ اس نے جو کچھ کہا وہ کوللی سے پہلے ہوا تھا۔

سیا کے مطابق، یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب وہ گالف کورس روڈ پر اپنی اپریلیا آر ایس 457 اسپورٹس بائیک پر اپنے بائیک گروپ کے ارکان کے ساتھ سوار تھی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ گاڑی کے اندر موجود لوگوں نے جارحانہ سلوک کیا اور اس کی موٹرسائیکل کے قریب جانے کی کوشش کی۔ سیا نے کہا کہ اس نے مسافروں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کو کہا، لیکن اس کے بجائے، انہوں نے مبینہ طور پر اسے رکنے کو کہا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرد شراب کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔ سوار نے بتایا کہ وہ گاڑی کو کاٹنے سے روکنے کی کوشش میں آگے بڑھتی رہی۔ اس کے پیچھے سوار ایک دوست نے بھی اپنی موٹرسائیکل کو اس طرح سے کھڑا کر کے مداخلت کرنے کی کوشش کی جس سے کار کو بار بار اس کے ساتھ آنے سے روکا گیا۔

اس کے باوجود سیا نے الزام لگایا کہ کار اس کا پیچھا کرتی رہی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ایک موقع پر، ڈرائیور نے اس کی موٹرسائیکل کا راستہ کاٹنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ تصادم کا شکار ہوگئی۔ اس ٹکر سے سیا اس کی موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جب کہ اس کی موٹرسائیکل سڑک کے ساتھ کئی میٹر تک گھسیٹ گئی۔ اس کے بعد کار مبینہ طور پر علاقے سے نکل گئی۔ یہ واقعہ سیا کی موٹرسائیکل میں نصب ایک ایکشن کیمرے میں قید ہو گیا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ اس کے ایک دوست نے کار کا تعاقب کیا اور ڈرائیور کو روکنے کی کوشش کی۔ گاڑی بالآخر ایک ٹریفک سگنل پر رکی، جہاں دوست کا ڈرائیور سے مقابلہ ہوا اور مبینہ طور پر اسے بتایا کہ وہ تصادم کا ذمہ دار ہے۔

تاہم، سیا کے مطابق، ڈرائیور نے حادثے کا سبب بننے سے انکار کیا اور بعد ازاں ٹریفک سگنل سے گاڑی چلا دی۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، سیا نے گروگرام پولیس سے ان موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی جو مبینہ طور پر سڑک استعمال کرنے والوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور حادثات کا باعث بن کر بھاگ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے سوار کی حمایت کا اظہار کیا اور مبینہ ڈرائیور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کئی صارفین نے دہلی پولیس، گروگرام پولیس، گروگرام ٹریفک پولیس اور ہریانہ پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے حکام سے واقعے کی تحقیقات کرنے پر زور دیا۔ کچھ صارفین نے ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جب کہ دوسروں نے گروگرام میں خاص طور پر مصروف سڑکوں پر تیز رفتار ڈرائیونگ اور موٹرسائیکلوں کی حفاظت پر تشویش کو اجاگر کیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان