Connect with us
Saturday,14-March-2026

سیاست

سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو لکھا خط، کورونا کے تعلق سے پیش کیا 8 نکاتی مشورہ

Published

on

(پریس ریلیز )
سونیا گاندھی نے پی ایم کو لکھے خط میں کہا کہ کووڈ-19 نے سماج کے سب سے کمزور طبقہ کے لوگوں کی روزی روٹی اور معمولات زندگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ اس مشکل وقت میں پورا ملک منظم ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہے۔
ہندوستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کئی اہم مشورے دیئے ہیں۔ انھوں خط میں لکھا ہے کہ “کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور اس وبا نے ملک بھر میں فکر، خوف اور افرا تفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ کووِڈ-19 نے لاکھوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور پورے ملک میں، خصوصاً سماج کے سب سے کمزور طبقہ کے لوگوں کی روزی روٹی اور معمولات زندگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ کورونا وبا کو روکنے و ہرانے کی جدوجہد میں پورا ملک منظم ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہے۔”
اس خط میں سونیا گاندھی مزید لکھتی ہیں کہ “کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے آپ کی حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ 21 دن کے ملک گیر لاک ڈاؤن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کی صدر کے طور پر میں یقین دلاتی ہوں کہ اس وبا کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہر قدم میں ہم حکومت کو اپنا مکمل تعاون دیں گے۔” وہ آگے لکھتی ہیں کہ “آج کے چیلنج سے بھرپور اور غیر یقینی والے وقت میں ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نجی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک اور انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ تعاون اور تنظیمی جذبہ کے ساتھ میں کچھ مشورہ دے رہی ہوں جن سے ہمیں ملک کے باشندوں کی صحت پر آئے اس زبردست بحران سے نمٹنے اور اس کے سبب ہمارے سماج کے سب سے کمزور طبقہ پر آنے والے بحران کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔” خط میں سونیا گاندھی نے 8 نکات پر مبنی مشورے پیش کیے ہیں جو اس طرح ہیں…
یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 15 ہزار کروڑ الاٹ کیا ہے جس میں ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور صحت عملہ کی ضرورتیں بھی شامل ہیں۔ میں ایک بار پھر ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور صحت عملہ کو ذاتی تحفظ اشیاء مثلاً این-95 ماسک اور ہزمت سوٹ دیئے جانے پر زور دیتی ہوں جو کہ ان کی پہلی ضرورت ہے۔ ہمیں ان سامانوں کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کی شروعات و اسکیلنگ یقینی کرنی چاہیے جس سے کسی بھی صحت اہلکار کو ‘ذاتی تحفظ اشیاء” کی عدم موجودگی کے سبب کووڈ-19 انفیکشن ہونے یا اس کا شکار ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ یکم مارچ 2020 سے چھ مہینے کے لیے ڈاکٹرس، نرس اور ہیلتھ عملہ کو ‘اسپیشل رِسک الاؤنس’ دیا جانا ضروری بھی ہے اور وقت کی مانگ بھی۔ صحت اہلکار اور ان کی معاون ٹیم اپنی زندگی کو جوکھم میں ڈال کر کووِڈ-19 کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے رہ کر کام کر رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی طرف سے ہر ممکن تحفظ اور انسینٹیو دیں۔
گزشتہ کچھ ہفتوں سے کووِڈ-19 کے علاج والے مقررہ اسپتالوں اور ان کے پتے، وہاں پر بیڈس کی تعداد، آئسولیشن چیمبرس، وینٹی لیٹرس، کام کرنے والی میڈیکل ٹیم، میڈیکل سپلائی وغیرہ کے بارے میں غیر یقینی کی حالت ہے۔ ایسا جانکاری موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہر مقررہ اسپتال کا پتہ اور ان کے ایمرجنسی فون لائن نمبر کے ساتھ سبھی ضروری جانکاری عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ پھیلانا ضروری ہے تاکہ اس وبا کو قابو کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ جانکاری اور دیگر اہم جانکاریاں دینے کے لیے ایک علیحدہ ویب پورٹل ہونا چاہیے۔
دنیا میں سب سے جدید اور وسیع ہیلتھ کیئر سسٹم کا انتظام بھی اس وبا سے متاثر مریضوں کے اوور لوڈ کی وجہ سے چرمرا رہی ہے۔ اس لیے جن مقامات پر مستقبل قریب میں اس وبا کے سب سے زیادہ پھیلنے کے آثار ہوں، وہاں پر مرکزی حکومت کو فوراً عارضی اسپتال کی سہولت دینے کا عمل شروع کرنا چاہیے جن میں بڑی تعداد میں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر ہوں۔ہمارے سماج کے سب سے کمزور طبقات میں دہاڑی مزدور، منریگا مزدور، فیکٹری مزدور، کنسٹرکشن اور غیر منظم سیکٹر کے مزدور، ماہی گیر، کھیت مزدور وغیرہ ہیں۔ حال میں خبر آئی ہے کہ متعدد کمپنیاں اور تاجر بھی مستقل اور عارضی ملازمین کی بڑی تعداد میں چھٹنی کر رہے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کے لیے وسیع سماجی حفاظتی چکر بنانے کی ترکیب نکالنی ہوگی۔ ایسے طبقات کے بینک کھاتوں میں سیدھے نقد مالی مدد دی جانی چاہیے تاکہ وہ اس مشکل دور کا سامنا کر سکیں۔ میں نے آگے کے نکات میں ایسی کچھ تراکیب کا مشورہ دیا ہے۔
یہ 21 دن کا لاک ڈاؤن اس وقت ہوا ہے جب کسان کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ مارچ کے آخر میں زیادہ تر ریاستوں میں فصل کی کٹائی زور و شور سے شروع ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کے ذریعہ فصل کی کٹائی اور ایم ایس پی پر فصلوں کی خرید یقینی کرنے کے لیے مکمل انتظام کرنا ضروری ہے۔ اس مشکل وقت میں کسانوں کے قرض و بقایہ رقم کی وصولی کو چھ مہینوں کے لیے روک دی جانی چاہیے اور نئے سرے سے وسیع قلب کے ساتھ کسانوں کی قرض معافی کے بارے میں فیصلہ لیا جانا چاہیے۔
میرا ماننا ہے کہ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کے ذریعہ مجوزہ ‘نیائے منصوبہ’ یعنی ‘کم از کم آمدنی گارنٹی منصوبہ’ کو نافذ کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس مشکل دور میں جن غریبوں پر اس وبا کی سب سے زیادہ معاشی مار پڑنے والی ہے، انھیں ‘نیائے منصوبہ’ سے سب سے زیادہ راحت ملے۔ یا پھر ہر ‘جن دھن’ اکاؤنٹ ہولڈر، ‘پی ایم کسان یوجنا’ اکاؤنٹ ہولڈر، سبھی بزرگوں/بیوہ خواتین/ معذوروں کے پنشن اکاؤنٹس، منریگا مزدوروں کے اکاؤنٹس میں یکمشت 7500 روپے ڈالا جانا چاہیے جس سے وہ 21 دنوں کے لاک ڈاؤن کی مدت میں اپنی اور اپنی فیملی کی پرورش کر سکیں۔ میں ہر راشن کارڈ ہولڈر کی فیملی کے ہر رکن کو پی ڈی ایس کے ذریعہ مفت 10 کلو چاول یا گیہوں کی تقسیم کا مشورہ دیتی ہوں، تاکہ وہ اگلے 21 دنوں کے مشکل دور سے گزر سکیں۔
تنخواہ پانے والے ملازمین بھی اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدام سے متاثر ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ ان کی ای ایم آئی کو چھ مہینوں کے لیے روکا جا سکتا ہے۔ اس مدت میں بینکوں کے ذریعہ لیے جا رہے سود کو معاف کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے سبھی قرض قسطوں کی کٹوتی کو بھی چھ مہینے کے لیے روکا جائے۔
سبھی تاجر، خصوصاً مائیکرو، اسمال اور میڈیم تاجر اس وبا کے پھیلنے سے پہلے ہی زبردست بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس وبا نے ان کی مشکل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مرکزی حکومت کو ہر سیکٹر کے لیے خصوصی راحت پیکیجز کا اعلان کرنا چاہیے اور انھیں ضروری ٹیکس بریک، سود معافی اور قرضوں پر چھوٹ دینا ضروری ہے۔
آخر میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آفت کے اس وقت میں ہمارے ملک کے ہر شہری کو ہماری مدد، تعاون اور تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ان خصوصی ترکیبوں کو نافذ کرنے سے ہمارے شہریوں کے تئیں ہماری ذمہ داریاں اور عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ اپنے ملک کے باشندوں کی صحت اور معاشی تحفظ کی اس لڑائی میں اپنے اجتماعی وسائل کا صحیح استعمال کرنے کا یہ مناسب وقت ہے۔ کانگریس پارٹی ملک پر آئے اس مشکل وقت کے دوران اپنے ملک کے ہر شہری کے ساتھ کھڑی ہے اور اس مشکل چیلنج سے نمٹنے کی ہر کوشش میں ملک کے باشندوں اور حکومت کو اپنا پورا تعاون و حمایت دے گی۔”

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

Published

on

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ، راشن ڈسٹری بیوشن ڈیپارٹمنٹ نے اسٹاک ضبط کر لیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی میں فوڈ ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ گھریلو اور تجارتی گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ایک مہم چلا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ورلی علاقہ میں گیس سلنڈروں کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا ہے جس سے گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ انتظامیہ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے ورلی ناکہ پر گنپتراؤ کدم مارگ پر واقع سورج ولبھ داس چاول علاقے میں گیس سلنڈروں کو غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا جا رہا ہے اور اسے زیادہ قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فوڈ ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ اور پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا اور غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے سلنڈروں کو ضبط کرلیا۔ دیگر گیس کمپنیوں کے بھرے سلنڈروں کے ساتھ چھ بھرے اور 58 خالی پانچ کلو گرام ایچ پی سلنڈر ضبط کر لیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ ان سلنڈروں کو غیر قانونی طور پر ری فل کرکے بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ضبط کیے گئے سلنڈروں کو ورلی پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایسے رہائشی علاقوں میں سلنڈر رکھنا اور انہیں غیر قانونی طور پر فروخت کرنا انتہائی خطرناک ہے اور اس سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انتظامیہ نے خبردار بھی کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محکمہ کی ٹیمیں 24 گھنٹے الرٹ ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل اور پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس سے کمرشل گیس سمیت گھریلو گیس سلنڈروں کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کافی ذخائر موجود ہیں۔ اس کے باوجود ملک بھر میں گیس سلنڈر کی بلیک مارکیٹنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لوگ گیس سلنڈر کے حصول کے لیے کئی مقامات پر لائنوں میں کھڑے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان