Connect with us
Thursday,18-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو لکھا خط، کورونا کے تعلق سے پیش کیا 8 نکاتی مشورہ

Published

on

(پریس ریلیز )
سونیا گاندھی نے پی ایم کو لکھے خط میں کہا کہ کووڈ-19 نے سماج کے سب سے کمزور طبقہ کے لوگوں کی روزی روٹی اور معمولات زندگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ اس مشکل وقت میں پورا ملک منظم ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہے۔
ہندوستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کئی اہم مشورے دیئے ہیں۔ انھوں خط میں لکھا ہے کہ “کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور اس وبا نے ملک بھر میں فکر، خوف اور افرا تفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ کووِڈ-19 نے لاکھوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور پورے ملک میں، خصوصاً سماج کے سب سے کمزور طبقہ کے لوگوں کی روزی روٹی اور معمولات زندگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ کورونا وبا کو روکنے و ہرانے کی جدوجہد میں پورا ملک منظم ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہے۔”
اس خط میں سونیا گاندھی مزید لکھتی ہیں کہ “کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے آپ کی حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ 21 دن کے ملک گیر لاک ڈاؤن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کی صدر کے طور پر میں یقین دلاتی ہوں کہ اس وبا کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہر قدم میں ہم حکومت کو اپنا مکمل تعاون دیں گے۔” وہ آگے لکھتی ہیں کہ “آج کے چیلنج سے بھرپور اور غیر یقینی والے وقت میں ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نجی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک اور انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ تعاون اور تنظیمی جذبہ کے ساتھ میں کچھ مشورہ دے رہی ہوں جن سے ہمیں ملک کے باشندوں کی صحت پر آئے اس زبردست بحران سے نمٹنے اور اس کے سبب ہمارے سماج کے سب سے کمزور طبقہ پر آنے والے بحران کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔” خط میں سونیا گاندھی نے 8 نکات پر مبنی مشورے پیش کیے ہیں جو اس طرح ہیں…
یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 15 ہزار کروڑ الاٹ کیا ہے جس میں ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور صحت عملہ کی ضرورتیں بھی شامل ہیں۔ میں ایک بار پھر ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور صحت عملہ کو ذاتی تحفظ اشیاء مثلاً این-95 ماسک اور ہزمت سوٹ دیئے جانے پر زور دیتی ہوں جو کہ ان کی پہلی ضرورت ہے۔ ہمیں ان سامانوں کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کی شروعات و اسکیلنگ یقینی کرنی چاہیے جس سے کسی بھی صحت اہلکار کو ‘ذاتی تحفظ اشیاء” کی عدم موجودگی کے سبب کووڈ-19 انفیکشن ہونے یا اس کا شکار ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ یکم مارچ 2020 سے چھ مہینے کے لیے ڈاکٹرس، نرس اور ہیلتھ عملہ کو ‘اسپیشل رِسک الاؤنس’ دیا جانا ضروری بھی ہے اور وقت کی مانگ بھی۔ صحت اہلکار اور ان کی معاون ٹیم اپنی زندگی کو جوکھم میں ڈال کر کووِڈ-19 کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے رہ کر کام کر رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی طرف سے ہر ممکن تحفظ اور انسینٹیو دیں۔
گزشتہ کچھ ہفتوں سے کووِڈ-19 کے علاج والے مقررہ اسپتالوں اور ان کے پتے، وہاں پر بیڈس کی تعداد، آئسولیشن چیمبرس، وینٹی لیٹرس، کام کرنے والی میڈیکل ٹیم، میڈیکل سپلائی وغیرہ کے بارے میں غیر یقینی کی حالت ہے۔ ایسا جانکاری موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہر مقررہ اسپتال کا پتہ اور ان کے ایمرجنسی فون لائن نمبر کے ساتھ سبھی ضروری جانکاری عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ پھیلانا ضروری ہے تاکہ اس وبا کو قابو کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ جانکاری اور دیگر اہم جانکاریاں دینے کے لیے ایک علیحدہ ویب پورٹل ہونا چاہیے۔
دنیا میں سب سے جدید اور وسیع ہیلتھ کیئر سسٹم کا انتظام بھی اس وبا سے متاثر مریضوں کے اوور لوڈ کی وجہ سے چرمرا رہی ہے۔ اس لیے جن مقامات پر مستقبل قریب میں اس وبا کے سب سے زیادہ پھیلنے کے آثار ہوں، وہاں پر مرکزی حکومت کو فوراً عارضی اسپتال کی سہولت دینے کا عمل شروع کرنا چاہیے جن میں بڑی تعداد میں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر ہوں۔ہمارے سماج کے سب سے کمزور طبقات میں دہاڑی مزدور، منریگا مزدور، فیکٹری مزدور، کنسٹرکشن اور غیر منظم سیکٹر کے مزدور، ماہی گیر، کھیت مزدور وغیرہ ہیں۔ حال میں خبر آئی ہے کہ متعدد کمپنیاں اور تاجر بھی مستقل اور عارضی ملازمین کی بڑی تعداد میں چھٹنی کر رہے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کے لیے وسیع سماجی حفاظتی چکر بنانے کی ترکیب نکالنی ہوگی۔ ایسے طبقات کے بینک کھاتوں میں سیدھے نقد مالی مدد دی جانی چاہیے تاکہ وہ اس مشکل دور کا سامنا کر سکیں۔ میں نے آگے کے نکات میں ایسی کچھ تراکیب کا مشورہ دیا ہے۔
یہ 21 دن کا لاک ڈاؤن اس وقت ہوا ہے جب کسان کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ مارچ کے آخر میں زیادہ تر ریاستوں میں فصل کی کٹائی زور و شور سے شروع ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کے ذریعہ فصل کی کٹائی اور ایم ایس پی پر فصلوں کی خرید یقینی کرنے کے لیے مکمل انتظام کرنا ضروری ہے۔ اس مشکل وقت میں کسانوں کے قرض و بقایہ رقم کی وصولی کو چھ مہینوں کے لیے روک دی جانی چاہیے اور نئے سرے سے وسیع قلب کے ساتھ کسانوں کی قرض معافی کے بارے میں فیصلہ لیا جانا چاہیے۔
میرا ماننا ہے کہ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کے ذریعہ مجوزہ ‘نیائے منصوبہ’ یعنی ‘کم از کم آمدنی گارنٹی منصوبہ’ کو نافذ کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس مشکل دور میں جن غریبوں پر اس وبا کی سب سے زیادہ معاشی مار پڑنے والی ہے، انھیں ‘نیائے منصوبہ’ سے سب سے زیادہ راحت ملے۔ یا پھر ہر ‘جن دھن’ اکاؤنٹ ہولڈر، ‘پی ایم کسان یوجنا’ اکاؤنٹ ہولڈر، سبھی بزرگوں/بیوہ خواتین/ معذوروں کے پنشن اکاؤنٹس، منریگا مزدوروں کے اکاؤنٹس میں یکمشت 7500 روپے ڈالا جانا چاہیے جس سے وہ 21 دنوں کے لاک ڈاؤن کی مدت میں اپنی اور اپنی فیملی کی پرورش کر سکیں۔ میں ہر راشن کارڈ ہولڈر کی فیملی کے ہر رکن کو پی ڈی ایس کے ذریعہ مفت 10 کلو چاول یا گیہوں کی تقسیم کا مشورہ دیتی ہوں، تاکہ وہ اگلے 21 دنوں کے مشکل دور سے گزر سکیں۔
تنخواہ پانے والے ملازمین بھی اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدام سے متاثر ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ ان کی ای ایم آئی کو چھ مہینوں کے لیے روکا جا سکتا ہے۔ اس مدت میں بینکوں کے ذریعہ لیے جا رہے سود کو معاف کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے سبھی قرض قسطوں کی کٹوتی کو بھی چھ مہینے کے لیے روکا جائے۔
سبھی تاجر، خصوصاً مائیکرو، اسمال اور میڈیم تاجر اس وبا کے پھیلنے سے پہلے ہی زبردست بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس وبا نے ان کی مشکل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مرکزی حکومت کو ہر سیکٹر کے لیے خصوصی راحت پیکیجز کا اعلان کرنا چاہیے اور انھیں ضروری ٹیکس بریک، سود معافی اور قرضوں پر چھوٹ دینا ضروری ہے۔
آخر میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آفت کے اس وقت میں ہمارے ملک کے ہر شہری کو ہماری مدد، تعاون اور تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ان خصوصی ترکیبوں کو نافذ کرنے سے ہمارے شہریوں کے تئیں ہماری ذمہ داریاں اور عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ اپنے ملک کے باشندوں کی صحت اور معاشی تحفظ کی اس لڑائی میں اپنے اجتماعی وسائل کا صحیح استعمال کرنے کا یہ مناسب وقت ہے۔ کانگریس پارٹی ملک پر آئے اس مشکل وقت کے دوران اپنے ملک کے ہر شہری کے ساتھ کھڑی ہے اور اس مشکل چیلنج سے نمٹنے کی ہر کوشش میں ملک کے باشندوں اور حکومت کو اپنا پورا تعاون و حمایت دے گی۔”

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

قومی خبریں

دہلی ہائی کورٹ نے ٹیلی گرام پر پابندی پر فیصلہ محفوظ رکھا، کہا کہ طریقہ کار اور ہنگامی اختیارات کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے قومی اہلیت کے ساتھ داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی) سے پہلے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر عائد عارضی پابندی کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس تیجس کریا کی سربراہی والی بنچ نے ٹیلی گرام کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ سکریٹری کی سربراہی میں نظرثانی کمیٹی نے ٹیلیگرام کے عہدیداروں کو سنا اور ان کے دلائل کو ریکارڈ پر لیا گیا۔

ٹیلیگرام کے فریق نے دلیل دی کہ قانون اس طرح کی تفریق فراہم نہیں کرتا ہے۔ عدالت نے جواب دیا، “ٹیلی گرام کی دلیل سیدھی ہے: اگر آدھار کو ہی ختم کر دیا جاتا ہے، تو اس کی بنیاد پر دیا گیا حکم برقرار نہیں رہ سکتا۔” ہم حتمی حکم پر بھی غور کریں گے، اس لیے دونوں پہلوؤں پر بحث کرنا بہتر ہوگا۔

ٹیلی گرام نے مرکزی حکومت کے حکم کو قانونی خامیوں سے بھرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے متفقہ طور پر عبوری حکم کی تصدیق کی سفارش کی ہے۔

ٹیلیگرام کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل دھرو مہتا نے دلیل دی، “کیا یہ حکم ہندوستان کی سالمیت اور خودمختاری کے مفاد میں ہے؟ کیا این ای ای ٹی جیسے امتحانات ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کو متاثر کریں گے؟” انہوں نے مزید بتایا کہ کاروباری سرگرمیوں سمیت دیگر سینکڑوں سرگرمیاں جاری ہیں۔ لوگ واٹس ایپ پر مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔

عدالت نے پھر کہا، “ہم سب جانتے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔ بہت سے طلباء متاثر ہوئے تھے۔ دوسرا، کیا آپ اس ایک واقعے کو روکنے کے لیے پورے پلیٹ فارم کو بلاک کر سکتے ہیں؟ دفعہ 69A کے تحت طاقت ہے۔” وہ طاقت استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اسے کتنا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی نمائندگی کرنے والے تشار مہتا نے ٹیلی گرام کی پرائیویسی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “ٹیلیگرام کی پرائیویسی پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کرنے سے اس میں محفوظ تمام ڈیٹا، پیغامات اور میڈیا حذف ہو جائیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے ایک پسندیدہ پلیٹ فارم ہے اور اس کا تعمیراتی ڈیزائن دیگر شعبوں میں بھی چیلنجز کا باعث ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ “ہم 150 ملین لوگوں کے حقوق کو صرف اس لیے کیسے محدود کر سکتے ہیں کہ کچھ شہری امتحان دے رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کسی اور کے حقوق کو کسی اور کے تحفظ کے لیے محدود کر سکتے ہیں؟”

اس پر تشار مہتا نے جواب دیا، ’’جب کسی ریاست یا ریاست کے کسی حصے میں انٹرنیٹ پر پابندی لگائی جاتی ہے تو صرف 10 فیصد لوگ ہی شرارتی ہوسکتے ہیں۔‘‘

عدالت نے مزید کہا، “اگر امن و امان کی صورتحال ہے تو اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہاں، یہ تناسب کا امتحان ہے (جب دو چیزیں اس طرح جڑی ہوں کہ اگر ایک بدل جائے تو دوسری بھی بدل جاتی ہے)”۔

تشار مہتا نے دلیل دی کہ اس پلیٹ فارم پر بہت سارے گروپس اور چینلز کام کر رہے ہیں کہ شاید انہوں نے دوسرے پلیٹ فارمز پر اس طرح کے چینلز کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہوگا۔ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ ہم طلباء کے جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ٹیلیگرام پر ایک فیچر کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، “ٹیلیگرام میں تاریخ اور وقت میں ترمیم کرنے کا فیچر ہے۔ فرض کریں، 21 جون کو امتحان ختم ہونے کے بعد، ہر کسی کے پاس پیپر ہے، کوئی اسے 22 جون کو ٹیلی گرام پر پوسٹ کر سکتا ہے اور، تاریخ اور وقت کو تبدیل کر کے، یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسے 18 جون کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ یہ 2024 میں ہوا جس سے آپ کو 2024 کے درمیان سٹرائیک کے توازن کو نقصان پہنچا۔ اور عوامی نقصان یہ ہے کہ اگر اس پلیٹ فارم پر کچھ ہوتا ہے تو ذمہ داری کون لے گا؟

سالیسٹر جنرل نے کہا، “طلبہ پریشان ہیں، اور یہ قابل فہم ہے۔ لیکن قومی سطح کے امتحان کی پوری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے، اور اسی لیے میں پوچھ رہا ہوں کہ عدالت اس مرحلے پر مداخلت نہ کرے۔ اس کا واحد مقصد لاکھوں طلبہ کو گمراہ ہونے سے بچانا ہے۔”

حکومت نے کہا کہ اس کا حکم خود ساختہ ہے۔ یہ پلیٹ فارم، اپنے فن تعمیر کی وجہ سے، ایک فرینکنسٹین (ٹکڑوں سے بنا، غیر منظم، اور عجیب) ہے۔ اگر ہمارا جیسا ملک احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر سکتا تو ہم کہاں جائیں؟ پیسے کے لیے بنایا گیا پلیٹ فارم تناسب کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ ہم نے کسی دوسرے ثالث کو ہاتھ نہیں لگایا، اگرچہ وہ زیادہ طاقتور ہیں، لیکن ہم نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے کیونکہ ان کے اپنے فلٹریشن کے طریقے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ہم طریقہ کار کو دیکھیں گے لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا آپ کا فن تعمیر کافی نہیں تھا اور اسی لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔ طاقتوں کی ضرورت تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے این ای ای ٹی امتحان سے قبل ٹیلی گرام ایپ پلیٹ فارم پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ٹیلیگرام کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان