Connect with us
Monday,03-August-2026

سیاست

سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو لکھا خط، کورونا کے تعلق سے پیش کیا 8 نکاتی مشورہ

Published

on

(پریس ریلیز )
سونیا گاندھی نے پی ایم کو لکھے خط میں کہا کہ کووڈ-19 نے سماج کے سب سے کمزور طبقہ کے لوگوں کی روزی روٹی اور معمولات زندگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ اس مشکل وقت میں پورا ملک منظم ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہے۔
ہندوستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کئی اہم مشورے دیئے ہیں۔ انھوں خط میں لکھا ہے کہ “کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور اس وبا نے ملک بھر میں فکر، خوف اور افرا تفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ کووِڈ-19 نے لاکھوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور پورے ملک میں، خصوصاً سماج کے سب سے کمزور طبقہ کے لوگوں کی روزی روٹی اور معمولات زندگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ کورونا وبا کو روکنے و ہرانے کی جدوجہد میں پورا ملک منظم ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہے۔”
اس خط میں سونیا گاندھی مزید لکھتی ہیں کہ “کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے آپ کی حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ 21 دن کے ملک گیر لاک ڈاؤن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کی صدر کے طور پر میں یقین دلاتی ہوں کہ اس وبا کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہر قدم میں ہم حکومت کو اپنا مکمل تعاون دیں گے۔” وہ آگے لکھتی ہیں کہ “آج کے چیلنج سے بھرپور اور غیر یقینی والے وقت میں ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نجی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک اور انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ تعاون اور تنظیمی جذبہ کے ساتھ میں کچھ مشورہ دے رہی ہوں جن سے ہمیں ملک کے باشندوں کی صحت پر آئے اس زبردست بحران سے نمٹنے اور اس کے سبب ہمارے سماج کے سب سے کمزور طبقہ پر آنے والے بحران کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔” خط میں سونیا گاندھی نے 8 نکات پر مبنی مشورے پیش کیے ہیں جو اس طرح ہیں…
یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 15 ہزار کروڑ الاٹ کیا ہے جس میں ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور صحت عملہ کی ضرورتیں بھی شامل ہیں۔ میں ایک بار پھر ہمارے ڈاکٹرس، نرس اور صحت عملہ کو ذاتی تحفظ اشیاء مثلاً این-95 ماسک اور ہزمت سوٹ دیئے جانے پر زور دیتی ہوں جو کہ ان کی پہلی ضرورت ہے۔ ہمیں ان سامانوں کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کی شروعات و اسکیلنگ یقینی کرنی چاہیے جس سے کسی بھی صحت اہلکار کو ‘ذاتی تحفظ اشیاء” کی عدم موجودگی کے سبب کووڈ-19 انفیکشن ہونے یا اس کا شکار ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ یکم مارچ 2020 سے چھ مہینے کے لیے ڈاکٹرس، نرس اور ہیلتھ عملہ کو ‘اسپیشل رِسک الاؤنس’ دیا جانا ضروری بھی ہے اور وقت کی مانگ بھی۔ صحت اہلکار اور ان کی معاون ٹیم اپنی زندگی کو جوکھم میں ڈال کر کووِڈ-19 کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے رہ کر کام کر رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی طرف سے ہر ممکن تحفظ اور انسینٹیو دیں۔
گزشتہ کچھ ہفتوں سے کووِڈ-19 کے علاج والے مقررہ اسپتالوں اور ان کے پتے، وہاں پر بیڈس کی تعداد، آئسولیشن چیمبرس، وینٹی لیٹرس، کام کرنے والی میڈیکل ٹیم، میڈیکل سپلائی وغیرہ کے بارے میں غیر یقینی کی حالت ہے۔ ایسا جانکاری موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہر مقررہ اسپتال کا پتہ اور ان کے ایمرجنسی فون لائن نمبر کے ساتھ سبھی ضروری جانکاری عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ پھیلانا ضروری ہے تاکہ اس وبا کو قابو کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ جانکاری اور دیگر اہم جانکاریاں دینے کے لیے ایک علیحدہ ویب پورٹل ہونا چاہیے۔
دنیا میں سب سے جدید اور وسیع ہیلتھ کیئر سسٹم کا انتظام بھی اس وبا سے متاثر مریضوں کے اوور لوڈ کی وجہ سے چرمرا رہی ہے۔ اس لیے جن مقامات پر مستقبل قریب میں اس وبا کے سب سے زیادہ پھیلنے کے آثار ہوں، وہاں پر مرکزی حکومت کو فوراً عارضی اسپتال کی سہولت دینے کا عمل شروع کرنا چاہیے جن میں بڑی تعداد میں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر ہوں۔ہمارے سماج کے سب سے کمزور طبقات میں دہاڑی مزدور، منریگا مزدور، فیکٹری مزدور، کنسٹرکشن اور غیر منظم سیکٹر کے مزدور، ماہی گیر، کھیت مزدور وغیرہ ہیں۔ حال میں خبر آئی ہے کہ متعدد کمپنیاں اور تاجر بھی مستقل اور عارضی ملازمین کی بڑی تعداد میں چھٹنی کر رہے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کے لیے وسیع سماجی حفاظتی چکر بنانے کی ترکیب نکالنی ہوگی۔ ایسے طبقات کے بینک کھاتوں میں سیدھے نقد مالی مدد دی جانی چاہیے تاکہ وہ اس مشکل دور کا سامنا کر سکیں۔ میں نے آگے کے نکات میں ایسی کچھ تراکیب کا مشورہ دیا ہے۔
یہ 21 دن کا لاک ڈاؤن اس وقت ہوا ہے جب کسان کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ مارچ کے آخر میں زیادہ تر ریاستوں میں فصل کی کٹائی زور و شور سے شروع ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کے ذریعہ فصل کی کٹائی اور ایم ایس پی پر فصلوں کی خرید یقینی کرنے کے لیے مکمل انتظام کرنا ضروری ہے۔ اس مشکل وقت میں کسانوں کے قرض و بقایہ رقم کی وصولی کو چھ مہینوں کے لیے روک دی جانی چاہیے اور نئے سرے سے وسیع قلب کے ساتھ کسانوں کی قرض معافی کے بارے میں فیصلہ لیا جانا چاہیے۔
میرا ماننا ہے کہ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کے ذریعہ مجوزہ ‘نیائے منصوبہ’ یعنی ‘کم از کم آمدنی گارنٹی منصوبہ’ کو نافذ کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس مشکل دور میں جن غریبوں پر اس وبا کی سب سے زیادہ معاشی مار پڑنے والی ہے، انھیں ‘نیائے منصوبہ’ سے سب سے زیادہ راحت ملے۔ یا پھر ہر ‘جن دھن’ اکاؤنٹ ہولڈر، ‘پی ایم کسان یوجنا’ اکاؤنٹ ہولڈر، سبھی بزرگوں/بیوہ خواتین/ معذوروں کے پنشن اکاؤنٹس، منریگا مزدوروں کے اکاؤنٹس میں یکمشت 7500 روپے ڈالا جانا چاہیے جس سے وہ 21 دنوں کے لاک ڈاؤن کی مدت میں اپنی اور اپنی فیملی کی پرورش کر سکیں۔ میں ہر راشن کارڈ ہولڈر کی فیملی کے ہر رکن کو پی ڈی ایس کے ذریعہ مفت 10 کلو چاول یا گیہوں کی تقسیم کا مشورہ دیتی ہوں، تاکہ وہ اگلے 21 دنوں کے مشکل دور سے گزر سکیں۔
تنخواہ پانے والے ملازمین بھی اس بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدام سے متاثر ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ ان کی ای ایم آئی کو چھ مہینوں کے لیے روکا جا سکتا ہے۔ اس مدت میں بینکوں کے ذریعہ لیے جا رہے سود کو معاف کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے سبھی قرض قسطوں کی کٹوتی کو بھی چھ مہینے کے لیے روکا جائے۔
سبھی تاجر، خصوصاً مائیکرو، اسمال اور میڈیم تاجر اس وبا کے پھیلنے سے پہلے ہی زبردست بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس وبا نے ان کی مشکل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مرکزی حکومت کو ہر سیکٹر کے لیے خصوصی راحت پیکیجز کا اعلان کرنا چاہیے اور انھیں ضروری ٹیکس بریک، سود معافی اور قرضوں پر چھوٹ دینا ضروری ہے۔
آخر میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آفت کے اس وقت میں ہمارے ملک کے ہر شہری کو ہماری مدد، تعاون اور تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ان خصوصی ترکیبوں کو نافذ کرنے سے ہمارے شہریوں کے تئیں ہماری ذمہ داریاں اور عزائم مزید مضبوط ہوں گے۔ اپنے ملک کے باشندوں کی صحت اور معاشی تحفظ کی اس لڑائی میں اپنے اجتماعی وسائل کا صحیح استعمال کرنے کا یہ مناسب وقت ہے۔ کانگریس پارٹی ملک پر آئے اس مشکل وقت کے دوران اپنے ملک کے ہر شہری کے ساتھ کھڑی ہے اور اس مشکل چیلنج سے نمٹنے کی ہر کوشش میں ملک کے باشندوں اور حکومت کو اپنا پورا تعاون و حمایت دے گی۔”

سیاست

اروند کیجریوال ای-20 پیٹرول کے خلاف 4 اگست کو پی ایم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے

Published

on

kejriwal

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ ای-20 پیٹرول پالیسی کے خلاف احتجاج کے لیے پارٹی کے 100 کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دوران وہ وزیراعظم کو عوام کی طرف سے آن لائن پٹیشن اور خطوط پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ان سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلہ پر لوگوں کے خدشات کو سنیں گے۔

اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ای-20 پیٹرول کے خلاف شروع کی گئی آن لائن مہم کو صرف چند دنوں میں 233,238 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پٹیشن پر دستخط کرنے والے لوگوں کی تعداد اس پالیسی کے بارے میں عوام کی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوپہر 12 بجے عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ انھوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر وزیراعظم کی رہائش گاہ جا کر عوام کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن اور خطوط پیش کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔ کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ای-20 پالیسی پر کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مناسب سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کیے بغیر پورے ملک میں ای-20 پیٹرول کے نفاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایندھن کے استعمال سے لوگوں کی گاڑیوں کا مائلیج متاثر ہو رہا ہے اور کئی گاڑیوں کے مالکان کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس پالیسی کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو وہ انہیں عوامی سطح پر پیش کریں۔ کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ ای-20 کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے، مواد تخلیق کرنے والوں اور اس معاملے پر سوالات اٹھانے والے عام شہریوں کو ٹرول کیا گیا، اور کچھ معاملات میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اینٹی ای-20 ٹاؤن ہال ایونٹ کو بڑی تعداد میں حمایت ملی۔ کیجریوال کے مطابق اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن بھی دیکھا۔ انہوں نے اسے ای-20 کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر ای-20 پالیسی کے پیچھے “چھپا ہوا ایجنڈا” ہونے کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیرونی دباؤ کے تحت ہندوستان پر ایتھنول پالیسی مسلط کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر ایتھنول کی درآمد کا امکان ہے اور مرکزی حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ منگل کا مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا واحد مقصد عوام کے تحفظات اور مطالبات کو وزیر اعظم تک پہنچانا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹا کر رکاوٹوں سے فٹ پاتھ پاک کرے، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی سخت ہدایات

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) ممبئی کے شہریوں کے لیے محفوظ، آسان اور رکاوٹوں سے پاک سفر کو یقینی بنانے کے مقصد کے ساتھ ‘پیڈسٹرین فرسٹ راہگیر سب سے پہلے ‘ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے۔ اس اقدام کے پہلے مرحلے کے تحت 320 کلومیٹر پر محیط فٹ پاتھوں پر سے تجاوزات ہٹا دی جائیں گی۔ چونکہ ممبئی میں روزانہ کا تقریباً 50 فیصد سفر پیدل ہوتا ہے، اس لیے پیدل چلنے والوں کی حفاظت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے تمام غیر مجاز ہاکروں، تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کے فٹ پاتھوں کو فوری طور پر صاف و پاک کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک ہیں۔ مزید برآں، فٹ پاتھوں کی بہتری، خوبصورتی اور حفاظت سے متعلق ضروری اقدامات کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ تمام انتظامی وارڈز کے اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ وارڈ کی سطح پر اس کام کا جائزہ لینا ہوگا، جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو ہفتے میں ایک بار زونل سطح کا جائزہ لینا ہوگا اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو ہر 15 دن بعد جائزہ لینا ہوگا۔ اس مہم میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمشنر بھیڈے نے انتباہ دیا ہے کہ ان احکامات کی تعمیل کرنے میں ناکام پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس طرح کی کوتاہی کے لیے جوابدہی طے کی جائے گی۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں پر مشتمل ایک جائزہ میٹنگ حال ہی میں میونسپل کمشنر کی رہنمائی میں میونسپل ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی۔

تمام اسسٹنٹ کمشنرز روزانہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں فٹ پاتھوں کا ذاتی طور پر معائنہ کریں اور انسداد تجاوزات کے اقدامات کے موثر نفاذ کو یقینی بنائیں۔ یہ عمل محض ایکشن لینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ تجاوزات کی تکرار کے ازالہ کے لیے مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ ‘پہلے’ اور ‘بعد میں’ تصاویر کے ساتھ روزانہ کی پیشرفت کی رپورٹوں کا جائزہ لینا لازمی ہے, بھیڈے نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی اہلکار اس کام میں تاخیر، لاپرواہی یا لاپرواہی کا مرتکب پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ فٹ پاتھ کو تجاوزات سے پاک رکھنا محض ایک بار کی مہم نہیں ہے بلکہ ایک جاری انتظامی ذمہ داری ہے۔ تعمیراتی مواد، ملبہ، لاوارث یا غلط طریقے سے پارک کی گئی گاڑیاں، جمع کچرے کے ڈھیر، اور ناہموار سطحیں پیدل چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس لیے، عوامی علاقوں میں فٹ پاتھوں پر ہر قسم کی تجاوزات خاص طور پر اسکولوں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں، میٹرو اسٹیشنوں، بس ڈپوز، بازاروں اور اونچی فٹ فال زونز کے قریب کو فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فٹ پاتھ محفوظ اور پیدل چلنے والوں کے لیے قابل رسائی ہیں۔

غیر مجاز اشتہاری بورڈز، ہورڈنگز، عمارتوں سے باہر کی طرف کھلنے والے دروازے، اونچے ریمپ اور فٹ پاتھ پر موجود دیگر جسمانی رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ اشونی بھیڈے نے مزید واضح کیا کہ متعلقہ عہدیداروں کو باقاعدگی سے اس بات کی تصدیق کرنی چاہئے کہ لائسنس یافتہ دکاندار اپنی فروخت کی سرگرمیوں، مواد کی ذخیرہ اندوزی، اسٹالز اور اشارے کو سختی سے اپنی مخصوص جگہوں تک محدود رکھیں۔ مزید برآں، غیر موافق یا ناہموار ریمپ کو ہٹا دیا جانا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عمارت کے داخلی راستے اور دروازے جائیداد کی حدود کے اندر اندر کی طرف کھلے ہوں۔ فٹ پاتھ میں رکاوٹ ڈالنے والی درختوں کی شاخوں کو ضرورت کے مطابق سائنسی طور پر کاٹنا چاہیے۔ فٹ پاتھ کے ڈیزائن کو مروجہ معیارات کے مطابق تیار کیا جانا چاہیے۔ نئے فٹ پاتھوں کو سختی سے مقرر کردہ معیاری ڈیزائن کے مطابق اور M-40 گریڈ کنکریٹ کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا جانا چاہیے۔ پیور بلاکس یا سٹیمپڈ کنکریٹ کا استعمال کسی بھی حالت میں سختی سے منع ہے۔ مزید برآں، فٹ پاتھوں کو خالی جگہوں، ناہموار سطحوں اور دیگر تمام جسمانی رکاوٹوں کو ختم کرکے محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ بھیڈے نے متعلقہ عہدیداروں کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ اس سلسلے میں قطعی طور پر کوئی غفلت نہ برتی جائےبھیڈے نے کہا کہ تجاوزات کو ہٹانے اور فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ اور چلنے کے قابل بنانے سے طلباء، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور عام لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت میں اضافہ ہوگا، سڑک حادثات کے واقعات میں کمی آئے گی، اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو فٹ پاتھ استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی۔ نتیجتاً، اس سے سڑک ٹریفک کی کارکردگی اور رفتار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، اس طرح ٹریفک کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ بھیڑ کم ہونے سے ہوا کے معیار میں بہتری آئے گی اور صحت عامہ پر مثبت اثر پڑے گا۔ تمام متعلقہ حکام کو فٹ پاتھوں کی ترجیحی بنیاد پر فہرست تیار کرنی چاہیے۔ تجاوزات کی تکرار کو روکنے کے لیے مسلسل فالو اپ کے ذریعے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ افسران اپنے فرائض میں غفلت نہ برتیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح کیا ہے کہ فٹ پاتھوں پر رکاوٹیں پائی جانے پر کسی اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایم آئی ڈی سی کے حدود میں بیسٹ بسوں میں مسافروں کے موبائل اچکنے والا گروہ بے نقاب 7 گرفتار، ڈی سی پی دتہ نلاوڑے

Published

on

Mobile-Thief

ممبئی : ممبئی شہر میں بیسٹ کی بسوں مسافروں کے موبائل چوری کرنے والے گروہ کو ممبئی پولیس نے بے نقاب کیا ہے, ممبئی کے ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی حدود میں مقیم جگت جیوتی مہنت 49 سالہ اندھری میں 6 جون دو پہر سپز بس اسٹاپ ایم آئی ڈی سی سے اندھیری جانے کیلئے بس روٹ نمبر 415 میں سوار ہوئے, اس دوران ان کا موبائل فون غائب ہوگیا۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے پینٹ کے جیب میں موبائل رکھا تھا اور نامعلوم شخص نے اسے چوری کیا ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے چوری کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ ایم آئی ڈی پولیس نے تفتیش کے دوران 40 سے 45 سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور ممبرا شیواجی نگر میں مقیم بیسٹ بس میں سفر کرنے والے مسافروں کے موبائل فون چھیننے والے گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 7 ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے قبضے سے 12 لاکھ سے زائد کے اسباب اور 135 موبائل فون ضبط کئے ہیں۔ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان